30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اہم معلومات
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ’’عالِم بنانے والی کتاب‘‘ کے 17حروف کی نسبت سے ’’بہارشریعت‘‘ کو پڑھنے کی 17 نیّتیں از: شیخ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ فرمانِ مصطفیٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم: نِیَّۃُ الْمُؤمِنِ خَیْرٌ مِّنْ عَمَلِہِ۔ ترجمہ: ’’مسلمان کی نیّت اس کے عمل سے بہترہے۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبراني، الحدیث: ۵۹۴۲، ج۶، ص۱۸۵) دو مدنی پھول: (۱) بغیر اچھی نیت کے کسی بھی عملِ خیر کا ثواب نہیں ملتا۔ (۲) جتنی اچھی نیتیں زیادہ، اتنا ثواب بھی زیادہ۔ …1اِخلاص کے ساتھ مسائل سیکھ کر رِضائے الٰہی عَزَّوَجَل کا حقدار بنوں گا۔ …2حتَّی الوسع اِس کا با وُضُو اور …3قبلہ رُو مطالَعہ کروں گا۔ …4اِس کے مطالعے کے ذریعے فرض علوم سیکھوں گا ۔ …5اپناوضو،غسل ،نماز وغیرہ دُرُست کروں گا۔ …6جو مسئلہ سمجھ میں نہیں آئے گا اس کے لیے آیتِ کریمہ فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ۰۰۴۳ (پ۱۴،النحل: ۴۳)-- ترجمۂ کنزالایمان: ’’تو اے لوگو علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں ‘‘ پر عمل کرتے ہوئے علماء سے رجوع کروں گا۔ …7(اپنے ذاتی نسخے پر) عند الضرورت خاص خاص مقامات پر انڈر لائن کروں گا۔ …8(ذاتی نسخے کے) یاد داشت والے صفحہ پر ضروری نکات لکھوں گا۔ …9جس مسئلے میں دشواری ہو گی اُس کو بار بار پڑھوں گا۔ -- …10زندگی بھر عمل کرتا رہوں گا۔ …11جو نہیں جانتے انھیں سکھاؤں گا ۔ …12جو علم میں برابر ہو گا اس سے مسائل میں تکرار کروں گا۔ …13یہ پڑھ کر عُلمائے حقّہ سے نہیں اُلجھوں گا۔ …14دوسروں کو یہ کتاب پڑھنے کی ترغیب دلاؤں گا۔ …15(کم از کم ۱۲ عدد یا حسبِ توفیق) یہ کتاب خرید کر دوسروں کو تحفۃً دوں گا۔ …16اس کتاب کے مُطالَعہ کا ثواب ساری امّت کو اِیصال کروں گا۔ …17کتابت وغیرہ میں شرعی غلطی ملی تو ناشِرین کو مطلع کروں گا۔ غمِ مدینہ و بقیع و مغفرت وبے حساب جنّت الفردوس میں آقا کے پڑوس کا طالب ۶ ربیع الغوث ۱۴۲۷ھ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِالمد ینۃ العلمیۃ
از:شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت ،بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطاؔر قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ --الحمد للّٰہ علٰی اِحْسَا نِہٖ وَ بِفَضْلِ رَسُوْلِہٖ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلمتبلیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ’’دعوتِ اسلامی‘‘نیکی کی دعوت، اِحیائے سنّت اور اشاعتِ علمِ شریعت کو دنیا بھر میں عام کرنے کا عزمِ مُصمّم رکھتی ہے، اِن تمام اُمور کو بحسنِ خوبی سر انجام دینے کے لئے متعدَّد مجالس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جن میں سے ایک مجلس ’’المدینۃ العلمیۃ‘‘بھی ہے جو دعوتِ اسلامی کے عُلماء و مُفتیانِ کرام کَثَّرَ ھُمُ اللہُ تعالٰی پر مشتمل ہے، جس نے خالص علمی، تحقیقی او راشاعتی کام کا بیڑا اٹھایا ہے۔ اس کے مندرجہ ذیل چھ شعبے ہیں : (۱)شعبۂ کتُبِ اعلیٰحضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (۲)شعبۂ تراجمِ کتب (۳)شعبۂ درسی کُتُب (۴)شعبۂ اصلاحی کُتُب (۵)شعبۂ تفتیشِ کُتُب (۶)شعبۂ تخریج --’’ا لمد ینۃ العلمیۃ‘‘کی اوّلین ترجیح سرکارِ اعلیٰحضرت اِمامِ اَہلسنّت،عظیم البَرَکت،عظیمُ المرتبت، پروانۂ شمعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین و مِلَّت، حامیٔ سنّت ، ماحیٔ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت، پیرِ طریقت،باعثِ خَیْر و بَرَکت، حضرتِ علاّمہ مولیٰنا الحاج الحافِظ القاری الشّاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی گِراں مایہ تصانیف کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق حتَّی الْوَسعَ سَہْل اُسلُوب میں پیش کرنا ہے۔ تمام اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں اِس عِلمی ،تحقیقی اور اشاعتی مدنی کام میں ہر ممکن تعاون فرمائیں اورمجلس کی طرف سے شائع ہونے والی کُتُب کا خود بھی مطالَعہ فرمائیں اور دوسروں کو بھی اِ س کی ترغیب دلائیں ۔ --اللہ عزوجل ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کی تمام مجالس بَشُمُول’’المد ینۃ العلمیۃ‘‘ کو دن گیارہویں اور رات بارہویں ترقّی عطا فرمائے اور ہمارے ہر عملِ خیر کو زیورِ اِخلاص سے آراستہ فرماکر دونو ں جہاں کی بھلائی کا سبب بنائے۔ہمیں زیرِ گنبدِ خضرا شہادت،جنّت البقیع میں مدفن اور جنّت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے ۔ --آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم رمضان المبارک ۱۴۲۵ھپہلے اسے پڑھ لیجئے
قراٰن مجید میں ہے ؛ وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا(پ۱،البقرۃ:۳۱) ترجمہ کنزالایمان :اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام نام سکھائے ۔ --حضرت ِ سیدناامام فخر الدین رازی علیہ رحمۃ ُاللہ ِ الھادِی اپنی مایہ ناز تفسیر ’’تفسیر کبیر ‘‘میں اس آیتکے تحت لکھتے ہیں : سرکارِ دوعالم ،نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ وسلم ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے محوِ گفتگو تھے کہ آپ پر وحی آئی کہ اس صحابی کی زندگی کی ایک ساعت (یعنی گھنٹہ بھر زندگی) باقی رہ گئی ہے ۔ یہ وقت عصر کا تھا ۔ رحمت ِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ وسلمنے جب یہ بات اس صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہکو بتائی تو انہوں نے مضطرب ہوکر التجاء کی : ’’یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ وسلم ! مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو اس وقت میرے لئے سب سے بہتر ہو۔‘‘ تو آپ نے فرمایا :’’علمِ دین سیکھنے میں مشغول ہوجاؤ ۔‘‘ چنانچہ وہ صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہعلم سیکھنے میں مشغول ہوگئے اور مغرب سے پہلے ہی ان کا انتقال ہوگیا ۔ راوی فرماتے ہیں کہ اگر علم سے افضل کوئی شے ہوتی تو رسولِ مقبول صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہٖ وسلم اسی کا حکم ارشاد فرماتے ۔(تفسیر کبیر ، ج۱،ص۴۱۰) --میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !علم کی روشنی سے جہالت اور گمراہی کے اندھیروں سے نجات ملتی ہے ۔جو خوش نصیب مسلمان علمِ دین سیکھتا ہے اس پر رحمتِ خداوندی کی چھماچھم برسات ہوتی ہے ۔ جو شخص علم دین حاصل کرنے کے لیے سفر کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اسے جنت کے راستوں میں سے ایک راستے پر چلاتا ہے اور طالب علم کی رضا حاصل کرنے کے لیے فرشتے ا پنے پروں کو بچھا دیتے ہیں اور ہر وہ چیز جو آسمان و زمین میں ہے یہاں تک کہ مچھلیاں پانی کے اندر عالم کے لیے دعائے مغفرت کرتی ہیں اورعالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی چودھویں رات کے چاند کی فضیلت ستاروں پر، اور علماء انبیائے کرام علیہم السلام کے وارث و جانشین ہیں ۔علم سیکھنا فرض ہے
--حضرتِ سیِّدُنا اَنس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللّٰہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ارشاد فرماتے ہیں :’’ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍیعنی علم کا حاصل کرناہر مسلمان مرد (وعورت) پر فرض ہے۔‘‘ (شعب الإیمان،باب في طلب العلم، الحدیث: ۱۶۶۵، ج۲، ص۲۵۴) --میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہر مسلمان مرد عورت پر علم سیکھنا فرض ہے، (یہاں )علم سے بَقَدَرِ ضرورت شرعی مسائل مُراد ہیں لہٰذا روزے نماز کے مسائلِ ضرور یہ سیکھنا ہر مسلمان پر فرض، حیض و نفاس کے ضروری مسائل سیکھنا ہر عورت پر، تجارت کے مسائل سیکھنا ہر تاجِر پر،حج کے مسائل سیکھنا حج کو جانے والے پر عین فرض ہیں لیکن دین کا پورا عالم بننا فرضِ کفایہ کہ اگر شہر میں ایک نے ادا کر دیا تو سب بری ہو گئے۔ ( ماخوذ از مراٰۃ المناجیح،ج۱،ص۲۰۲)امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کا ایک مکتوب
--شیخِ طریقت امیرِ اہلِسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں :’’میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! افسوس! آج کل صِر ف و صِرف دنیاوی عُلوم ہی کی طرف ہماری اکثریت کا رُجحان ہے ۔ علمِ دین کی طرف بَہُت ہی کم مَیلان ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے : طَلَبُ العِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ ۔ یعنی عِلم کا طَلَب کرنا ہرمسلمان مرد (و عورت) پرفرض ہے ( سنن ابن ماجہ ج۱ ص ۱۴۶ حدیث ۲۲۴) اِس حدیثِ پاک کے تحت میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن نے جو کچھ فرمایا،اس کا آسان لفظوں میں مختصراً خُلاصہ عرض کرنے کی کوشِش کرتا ہوں ۔ سب میں اولین و اہم ترین فرض یہ ہے کہ بُنیادی عقائد کا علم حاصِل کرے ۔ جس سے آدمی صحیح العقیدہ سُنّی بنتا ہے اور جن کے انکار و مخالَفَت سے کافِر یا گُمراہ ہو جاتا ہے۔ اِس کے بعد مسائلِ نَماز یعنی اِس کے فرائض و شرائط و مُفسِدات ( یعنی نماز توڑنے والی چیزیں ) سیکھے تاکہ نَماز صحیح طور پر ادا کر سکے۔ پھر جب رَمَضانُ الْمبارَک کی تشریف آوری ہو تو روزوں کے مسائل ، مالِکِ نصابِ نامی ( یعنی حقیقۃً یا حکماً بڑھنے والے مال کے نِصاب کا مالک) ہو جائے توزکوٰۃ کے مسائل، صاحِبِ اِستِطاعت ہو تو مسائلِ حج،نِکاح کرنا چاہے تو اِس کے ضَروری مسائل ،تاجِر ہو تو خرید و فروخت کے مسائل، مُزارِع یعنی کاشتکار (وزمیندار) کھیتی باڑی کے مسائل،ملازِم بننے اور ملازِم رکھنے والے پر اجارہ کے مسائل۔ وَ عَلٰی ھٰذَاالْقِیاس( یعنی اور اِسی پر قِیاس کرتے ہوئے ) ہرمسلمان عاقِل و بالِغ مردوعورت پر اُس کی موجودہ حالت کے مطابِق مسئلے سیکھنا فرضِ عین ہے۔ اِسی طرح ہر ایک کیلئے مسائلِ حلال و حرام بھی سیکھنا فرض ہے۔ نیز مسائلِ قلب( باطنی مسائل) یعنی فرائضِ قَلْبِیہ ( باطنی فرائض) مَثَلاً عاجِزی و اِخلاص اور توکُّل وغیرہا اور ان کو حاصِل کرنے کا طریقہ اور باطِنی گناہ مَثَلاً تکبُّر ، رِیاکاری، حَسَد وغیرہااور ان کا عِلاج سیکھنا ہر مسلمان پر اہم فرائض سے ہے۔ (ماخوذاز فتاوٰی رضویہ ،ج۲۳، ص ۶۲۳،۶۲۴)حصولِ علم کے ذرائع
--میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! علمِ دین کے حصول کے لئے متعدد ذرائع ہیں مثلاً(۱)کسی دارالعلوم یا جامعہ کے شعبۂ درس ِ نظامی میں داخلہ لے کر باقاعدہ طور پر علم دین حاصل کرنا ،(۲)علمائے کرام کی صحبت اختیار کرنا،(۳)دینی کتب کا مطالعہ کرنا،(۴) علمائے کرام مثلاً امیرِ اہلِ سنت مدظلہ العالی کے بیانات اور مدنی مذاکروں کی کیسٹیں سننا،(۵) راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں سفر کرنے والے عاشقان ِ رسول کے ہمراہ دعوتِ اسلامی کے مدنی قافلوں کا مسافر بنناوغیرہا ۔ ہم ان میں سے جتنے زیادہ ذرائع اپنائیں گے ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ اسی قدر ہمارے علم میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ۔عالِم بنانے والی کتاب
-- اس وقت عالِم بنانے والی کتاب بہارِ شریعت (جلد اوّل) آپ کے پیشِ نظر ہے جو صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی کی تصنیف ِ لطیف ہے۔یہ ایسی عظیم کتاب ہے، جسے فقہ حنفی کا انسائیکلو پیڈیا کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اس میں کہیں تو ایمان و اعتقاد کو مستحکم کرنے کے اصول بتائے جارہے ہیں اور کہیں بد مذہبوں کے مذموم اثرات سے عوام کے شجرِ ایمان کو بچانے کے لیے پیش بندیاں کی جارہی ہیں ، کبھی فرائض و واجبات کی اہمیت دلوں میں راسخ کی جارہی ہے تو کبھی سنن و آداب اور مستحبات کو اپنانے کی شفقت آمیز تلقین ہو رہی ہے، کہیں مسلمانوں کی زبوں حالی کے اسباب کا تذکرہ ہے تو کہیں بدعات کا قلع قمع کیا جارہا ہے۔یقیناصدر الشریعہ علیہ رحمۃ ربّ الورٰی نے بہارِ شریعت تألیف کر کے فقۂ حنفی کو عام فہم اردو زبان میں منتقل کرکے اردو دان طبقے پر احسانِ عظیم فرمایا ۔ امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی تاکید -- شیخِ طریقت امیرِ اہلسنت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ اس کتاب کی اہمیت کے پیشِ نظر اپنے تمام متعلقین و مریدین کو تمام بہارِ شریعت بالعموم اور اس کے مخصوص حصّے پڑھنے کی ترغیب دلاتے رہتے ہیں ۔ چنانچہ آپ دامت برکاتہم العالیہ نے’’ مَدَنی انعامات ‘‘ ۱؎ میں 70واں اور72واں مَدَنی انعام یہ بھی عطا کیا ؛(70)کیا آپ نے اس سال کم از کم ایک مرتبہ بہار شریعت حصہ9سے مرتد کا بیان، حصہ 2 سے نجاستوں کا بیان اور کپڑے پاک کرنے کا طریقہ ،حصہ16سے خرید وفروخت کا بیان،والدین کے حقوق کا بیان (اگر شادی شدہ ہیں تو)حصہ7 سے محرمات کا بیان اور حقوق الزوجین حصہ8سے بچوں کی پرورش کا بیان،طلاق کابیان ،ظہار کا بیان اورطلاق کنایہ کابیان پڑھ یا سن لیا؟(72)کیا آپ نے بہارِ شریعت یا رسائل عطاریہ حصہ اوّل سے پڑھ یا سن کر اپنے وضو، غسل اور نماز درست کرکے کسی سنی عالم یا ذمہ دار مبلغ کو سنا دیئے ہیں ؟
۱؎ :مسلمانوں کی دنیا و آخِرت بہتر بنانے کیلئے سوالنامے کی صورت میں امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی طرف سے اسلامی بھائیوں کیلئے 72، اسلامی بہنوں کیلئے 63، دینی طَلَبہ کیلئے 92 اور دینی طالبات کیلئے 83 جبکہ مَدَنی مُنّوں اور مُنّیوں کیلئے 40 مَدَنی انعامات پیش کئے گئے ہیں ۔ ان میں دئیے ہوئے سوالات کے جوابا ت لکھنے کی عادت بنانا، اصلاحِ عقائد و اعمال کا بہترین ذریعہ ہے۔مدنی انعامات کا رسالہ مکتبۃ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے ھدیۃً حاصل کیا جاسکتا ہے ۔بہارِ شریعت اور المدینۃ العلمیۃ (دعوتِ اسلامی)
--صدر الشریعہ علیہ رحمۃ ربِّ الورٰی نے اپنی عظیم الشّان تصنیف ’’بہارِ شریعت‘‘۱۳۶۲ھ میں مکمل کی اور تادمِ تحریر(۱۴۲۹ھ)66سال کے عرصے میں ’’بہارِ شریعت ‘‘پاک وہند میں غالباً درجنوں بار طبع ہوئی اور لاکھوں کی تعداد میں لوگوں تک پہنچی ۔ فی الوقت بھی متعدد ناشرین اسے شائع کر رہے ہیں ،ہر ایک نے اس کتاب کو بہتر سے بہتر انداز میں شائع کرنے کی اپنی سی کوشش کی اور انہیں اس میں کامیابی بھی ہوئی لیکن بعض ناشرین کی ناتجربہ کاری اور بے احتیاطی کے باعث یہ کتاب کتابت کی غلطیوں سے محفوظ نہ رہ سکی اوربعض مقامات پر تو جائز کو ناجائز اور ناجائز کو جائز بھی لکھ دیا گیا نیز کسی ایڈیشن میں دوچار مسئلے رہ جاناگویا ناشر کے نزدیک کوئی بات ہی نہ تھی،مسائل تو ایک طرف رہے، آیاتِ قرآنیہ تک میں اغلاطِ کتابت نظرآئیں ۔مفتی جلال الدین امجدی علیہ رحمۃ اللہ القوی ’’فتاوٰی فیض الرسول‘‘ جلد1صفحہ476 (مطبوعہ دہلی ) میں بہار شریعت کی طباعت میں پائی جانے والی اغلاط کے بارے میں لکھتے ہیں : ’’مجھ کو صرف پہلے تین حصوں میں چھوٹی بڑی 626غلطیاں ملی ہیں ۔‘‘ ایسے حالات میں ’’بہارِ شریعت ‘‘کے ایسے نسخے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی تھی جس میں کتابت کی غلطیاں نہ ہونے کے برابر ہوں ،مشکل الفاظ کے معنی درج ہوں ، مشکل جملوں کی تسہیل کی گئی ہو،آیات واحادیث اور فقہی مسائل کے مکمل حوالہ جات ہوں ، پیچیدہ مقامات پر حواشی ہوں ،علاماتِ ترقیم کا اہتمام ہو ، الغرض ہروہ چیز ہوجو کتاب کے حسن اور اِفادے میں اِضافہ کرے ۔اِسی ضرورت کے تحت تبلیغِ قراٰن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ’’د عوت اسلامی‘‘ کی مجلس ’’المد ینۃ العلمیۃ‘‘ نے شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانامحمد الیاس قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ کی خواہش پر بہارِ شریعت کو تخریج و تسہیل وحواشی کے ساتھ پوری آن بان سے شائع کرنے کا بیڑا اٹھایا اور 2003ء مطابق ۱۴۲۴ھ میں اس کام کا آغاز کردیا گیا ۔یہ کام عظیم ترین ہونے کے ساتھ ساتھ مشکل ترین بھی تھا اس کی دُشواریوں کا اندازہ وہی کرسکتا ہے جو اس راہِ پُر پیچ پر سفر کرچکا ہو۔بہارِ شریعت کی پہلی جلد
--اب تک ’’بہارِ شریعت‘‘کے 1 تا6 اور سولہواں حصہ مع تخریج و تسہیل ’’مکتبۃ المد ینہ‘‘سے شائع ہوکر منظر عام پر آچکے ہیں ۔ اب امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ ، ذمّہ دارانِ دعوتِ اسلامی اوردیگر اسلامی بھائیوں کے پُرزور اصرار پر پہلے 6 حصوں کو یکجا ’’جلد اول ‘‘ کی صورت میں پیش کیا جارہا ہے ۔ اس جلد میں عقائد ،نماز،زکوۃ ،روزہ اور حج وغیرہ کے احکام بیان کئے گئے ہیں ۔طباعتِ اوّل میں جو معمولی خامیاں رہ گئی تھیں بحمداللہ تعالیٰ حتی الامکان انہیں دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی شفقت
-- مجلس المدینۃ العلمیۃ (دعوتِ اسلامی)کی درخواست پرامیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے گوناگوں مصروفیات کے باوجود مَدَنی مٹھاس سے تربتر اندازِ تحریر میں 21صفحات پر مشتمل ’’تذکرۂ صدرالشریعہ‘‘لکھ کر عطا فرمایا جسے بہارِ شریعت کی پہلی جلد میں شامل کیا جارہا ہے ۔اللہ تعالیٰ امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کو جزائے خیر عطافرمائے ۔ابتدائی 6حصوں کی اہمیت
--بہارِ شریعت کے ابتدائی چھ حصوں کے متعلق صدرالشریعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :’’اس میں روز مرہ کے عام مسائل ہیں ۔ان چھ حصوں کا ہر گھر میں ہونا ضروری ہے تاکہ عقائد ،طہارت ،نماز ،زکوۃاور حج کے فقہی مسائل عام فہم سلیس اردو زبان میں پڑھ کر جائز وناجائز کی تفصیل معلوم کی جائے۔‘‘بہارِ شریعت پر کام کا طریقہ کار
بہارِ شریعت پر دعوتِ اسلامی کے علمی وتحقیقی ادارے المدینۃ العلمیۃ نے جس انداز سے کام کیااس کی تفصیل مُلاحظہ کیجئے؛ کام کرنے والوں کا اِنْتِخَاب:اس کام لئے ابتدائی طور پر جامعۃ المدینہ (دعوتِ اسلامی ) کے فارغ التحصیل 3 ذہین مَدَنی علماء دامت فیوضھم کو منتخب کیا گیاجن کی تعداد بعد میں 12تک بھی پہنچی ،ان میں وہ علماء بھی شامل ہیں جنہوں نے اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت کے عربی حاشئے جَدُّالْمُمْتَار عَلٰی رَدِّالْمُحْتَار پر بھی کام کیا ہے ۔ اِن سب کا ذمہ دار اُن مَدَنی عالم دین دام ظلہ المبین کو بنایا گیا جو حوالہ جات کی تخریج ،مقابلہ ، پروف ریڈنگ وغیرہ میں قابلِ قدر مہارت وتجربہ رکھتے ہیں ۔ اس کے بعد مشاورت کا پورا نظام ترتیب دیا گیا(یہ بھی دعوتِ اسلامی کی برکتوں میں سے ایک برکت ہے) جس میں کام کے اسلوب،اس میں پیش آنے والی رکاوٹوں کے حل، کتب کی دستیابی اورحواشی وغیرہ کے حوالے سے مشورے ہوتے ہیں ۔ اِس مشاورت کے نگران (جودعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شورٰی کے رُکن بھی ہیں )کی کاوشیں بھی لائقِ تحسین ہیں ،جنہوں نے بھرپور دلچسپی لے کر بہارِ شریعت کے اس کام کو بہترسے بہتر انداز میں کرنے کی کوشش فرمائی ۔بہارِ شریعت پر اس طرز سے کام کرنے میں جہاں مَدَنی علماء دامت برکاتہم العالیہ کی توانائیاں خرچ ہوئیں وہیں کُتُب ، کمپیوٹرزاور تنخواہوں کی مدّ میں دعوتِ اسلامی کا زرِّکثیر بھی خرچ ہوا ۔ کتابت:سب سے پہلے بہارِ شریعت کی مکمل کتابت(کمپوزنگ) کروائی گئی ۔ مصنف علیہ رحمۃ اللہ القوی کے رسم الخط کو حتی الامکان برقرار رکھنے کوشش کی گئی ہے، صفحہ نمبر ۴۱،۴۲ پر بہار شریعت میں آنے والے مختلف الفاظ کے قدیم وجدید رسم الخط کو آمنے سامنے لکھ دیا گیا ہے ۔جہاں پرنبی اکرم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اسمِ گرامی کے ساتھ ’’صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم‘‘ اور اللّٰہ عزوجل کے نام کے ساتھ ’’عزوجل‘‘ لکھا ہو انہیں تھا وہاں بریکٹ میں اس انداز میں (عزوجل)، (صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم) لکھنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ہر حدیث و مسئلہ نئی سطر سے شروع کرنے کا التزام کیا گیاہے اور عوام وخواص کی سہولت کے لئے ہر مسئلے پر نمبر لگانے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ آیاتِ قرآنیہ کو منقش بریکٹ { }، کتابوں کے نام اور دیگر اہم عبارات کو Inverted Commas ’’ ‘‘ سے واضح کیا گیاہے۔ مقابلہ: مقابلے کے لئے ان مکاتب کے 9نسخے حاصل کئے گئے{مکتبہ رضویہ باب المدینہ کراچی ،ضیاء القراٰن مرکزالاولیاء لاہور، شمع بک ایجنسی مرکزالاولیاء لاہور،مکتبۂ اعلیٰ حضرت مرکزالاولیاء لاہور،مکتبہ اسلامیہ مرکزالاولیاء لاہور،جہیز ایڈیشن مکتبہ رضویہ باب المدینہ کراچی ،غلام علی اینڈ سنز مرکزالاولیاء لاہور، المجمع المصباحی مبارکپور ہند،شبیر برادرز مرکزالاولیاء لاہور} جن میں سے بعض کے حصول کے لئے پاکستان اور ہندوستان کے متعدد علماء اور اداروں سے بذریعہ ای میل وفون باربار رابطہ کیا گیا ۔ پھر ان تمام نُسخوں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد مکتبہ رضویہ آرام باغ، باب المدینہ کراچی کے مطبوعہ نسخہ کو معیار بنا کر مَدَنی علماء سے مقابلہ کروایا گیا،جو در حقیقت ہندوستان سے طبع شدہ قدیم نسخہ کا عکس ہے لیکن صرف اسی پر انحصار نہیں کیا گیا بلکہ دیگر شائع کردہ نسخوں سے بھی مدد لی گئی ہے۔ تخریج:بہارِ شریعت کے پہلے حصے میں حوالہ جات درج نہیں ،جبکہ دوسرے حصے میں صرف احادیث اور بقیہ حصوں میں احادیث وفقہی مسائل کے مصادر درج تھے مگر وہ صرف کتابوں کے نام کی حد تک تھے ،جلد وصفحہ نمبر وغیرہ درج نہ تھا۔جس کی وجہ سے بہار شریعت میں درج احادیث وفقہی مسائل کے اصل ماٰخذ تک پہنچنے کے لئے علماء کرام و مفتیان عِظام دامت فیوضھم کاکافی وقت صرف ہوجاتا تھا ۔ چنانچہ آیاتِ قراٰنی ، احادیثِ مبارکہ اور فقہی مسائل کے مکمل حوالہ جات ‘کتاب ،جلد،باب ،فصل اور صفحہ نمبر کی قید کے ساتھ تلاش کئے گئے اور انہیں حاشیے میں درج کیا گیا ہے جس کی وجہ سے اب درسِ نظامی کے ابتدائی درجات کا طالب علم بھی ان مسائل کو عربی کتب میں بآسانی تلاش کرسکتا ہے ۔حوالہ جات کے لئے فردِ واحد پر تکیہ نہیں کیا گیا بلکہ ان کی صحت یقینی بنانے کے لئے یہ طریقہ کار اپنایا گیا کہ ایک مَدَنی اسلامی بھائی نے تخریج کی تو دوسرے مَدَنی اسلامی بھائی سے اس کے لکھے ہوئے حوالہ جات کی تفتیش کروائی گئی ،پھر کمپوزنگ کے بعد ان حوالہ جات کو بہار شریعت کے حاشئے میں لکھنے کے بعد بھی مقابلہ کروایا گیا ،اگرچہ اس طریقہ کار کی وجہ سے کافی وقت صرف ہوا لیکن غلطی کا امکان کم سے کم رہ گیا۔الحمدللّٰہعَزَّوَجَلَّ !2سال کے قلیل عرصے میں بہار شریعت کے 20حصوں کی تخریج مکمل کر لی گئی ہے ۔چونکہ کتابوں کے نام باربار استعمال ہوتے تھے لہٰذا ہرکتاب کا مطبوعہ حوالے میں درج کرنے کے بجائے آخر میں ماٰخذ ومراجع کی فہرست مصنفین و مؤلفین کے ناموں ، ان کی سنِ وفات ، مطابع اورسن طباعت کے ساتھ ذکر کر دی گئی ہے۔ مشکل الفاظ کے معانی واعراب :پڑھنے والوں کی آسانی کے لئے کتاب کے شروع میں حروف تہجی کے اعتبار سے حلِّ لغت کی ایک فہرست کا اہتمام کیا گیا ہے جسے تیار کرنے کے لئے لغت کی مختلف کتب کاسہارا لیاگیاہے اور اس بات کوپیش نظر رکھاگیاہے کہ اگر لفظ کاتعلق براہِ راست قرآن پاک سے تھاتواس کو مختلف تفاسیرکی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کی گئی، براہِ راست حدیث پاک کے ساتھ تعلق ہونے کی صورت میں حتی الامکان احادیث کی شروحات کومدنظر رکھاگیااور فقہ کے ساتھ تعلق کی بناپر حتی المقدورفقہ کی کتب سے استفادہ کیاگیاہے ۔چند مقامات پرعبارت کی تسہیل (یعنی آسانی)کے لئے مشکل الفاظ کے معانی حاشیے میں لکھ دئیے گئے ہیں تاکہ صحیح مسئلہ ذہن نشین ہوجائے اور کسی قسم کی الجھن باقی نہ رہے ۔ پھر بھی اگر کوئی بات سمجھ نہ آئے تو علماء کرام دامت فیوضھم سے رابطہ کیجئے ۔ اِصطلاحات کی وضاحت :-- اس جلد میں جہاں جہاں فقہی اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں ،ان کوایک جگہ اکٹھابیان کردیاگیاہے ۔اس سلسلے میں حتی المقدور کوشش کی گئی ہے کہ اگراس اصطلاح کی وضاحت مصنف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خود اسی جگہ یا بہارشریعت میں کسی دوسرے مقام پرکی ہوتو اسی کوحتی المقدور آسان الفاظ میں ذکرکیاگیاہے اوراگرکسی اصطلاح کی تعریف بہارِ شریعت میں نہیں ملی تو دوسری معتبر کتابوں سے عام فہم اورباحوالہ اصطلاحات ذکرکردی گئی ہیں ۔علاوہ ازیں بہارشریعت کی پہلی جلدمیں جو مشکل اعلام(مختلف چیزوں کے نام )مذکور ہیں لغت کی مختلف کتب سے تلاش کرکے ان کوبھی آسان ا نداز میں حصوں کے مطابق اصطلاحات کے آخر میں ذکرکردیاگیاہے ۔ پروف ریڈنگ:اس جلد کو آپ تک پہنچانے سے پہلے کم از کم 4مرتبہ پروف ریڈنگ کی گئی ہے۔ حواشی:صد رالشریعہ علیہ رحمۃ ربِّ الورٰی کے حواشی کوکتاب کے آخر میں دینے کے بجائے متعلقہ صفحہ ہی پر نقل کر دیا اور حسبِ سابق ۱۲ منہ بھی لکھ دیا ہے۔ اکابر مفتیان کرام اور علمائے کرام سے مشورے کے بعد اس جلد میں صفحہ نمبر351, 934, 931, 833, 741, 728, 687, 657, 644, 626, 615, 553, 550, 379, 352, 1175, 1149, 1056, 1045, 1044, 979, مسائل کی تصحیح، ترجیح، توضیح اور تطبیق کی غرض سے المدینۃ العلمیۃ (دعوتِ اسلامی) کی طرف سے بھی حاشیہ دیا گیا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں ؛ --{1}بہارشریعت حصہ3صفحہ550پر ہے ؛مستحب یہ ہے کہ باوضو قبلہ رو اچھے کپڑے پہن کر تلاوت کرے اور شروع تلاوت میں اعوذ پڑھنا مستحب ہے ۔ --المدینۃ العلمیۃ کی طرف سے اس پر یہ حاشیہ دیا گیا ہے ؛فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی ’’فتاویٰ فیض الرسول‘‘، جلد 1، صفحہ 351 پر فرماتے ہیں : کہ ’’تلاوت کے شروع میں اعوذ ب اللّٰہ پڑھنا مستحب ہے واجب نہیں ۔ اور بے شک بہارِ شریعت میں واجب چھپا ہے جس پرغنیہ کا حوالہ ہے، حالانکہ غنیہ مطبوعہ رحیمیہ ص۴۶۳ میں ہے التعوذ یستحب مرۃ واحدۃ ما لم یفصل بعمل دنیوی۔ (یعنی ایک مرتبہ تعوذ پڑھنا مستحب ہے جب تک اس تلاوت میں کوئی دنیاوی کام حائل نہ ہو۔) تو معلوم ہوا کہ بہارِ شریعت میں بہت سے مسائل جو ناشرین کی غفلتوں کی وجہ سے غلط چھپ گئے ہیں ، ان میں سے ایک یہ بھی ہے۔‘‘ اسی وجہ سے ہم نے ’’مستحب ‘‘ کر دیا ہے ۔ --{2}بہارشریعت حصہ4صفحہ728پر ہے ؛سجدہ واجب ہونے کے لیے پوری آیت پڑھنا ضروری نہیں بلکہ وہ لفظ جس میں سجدہ کا مادہ پایا جاتا ہے اور اس کے ساتھ قبل یا بعد کا کوئی لفظ ملا کر پڑھنا کافی ہے۔(ردالمحتار) -- --المدینۃ العلمیۃ کی طرف سے اس پر یہ حاشیہ دیا گیا ہے ؛اعلیٰ حضرت، امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں : سجدہ واجِب ہونے کے لئے پوری آیت پڑھنا ضَروری ہے لیکن بعض عُلَمائے مُتَأَخِّرِین کے نزدیک وہ لفظ جس میں سجدہ کا مادّہ پایا جاتا ہے اس کے ساتھ قبل یا بعد کا کوئی لفظ ملا کر پڑھاتوسجدۂ تلاو ت واجِب ہوجاتاہے لہذا اِحتیاط یِہی ہے کہ دونوں صورَتوں میں سجدۂ تلاوت کیا جائے۔ ( فتاویٰ رضویہ،ج۸،ص،۲۲۳۔۲۳۳مُلَخَّصاً) -- {3}بہارشریعت حصہ6صفحہ 1175پرہے ؛طوافِ فرض کُل یا اکثر یعنی چار پھیرے جنابت یا حیض و نفاس میں کیا تو بدنہ ہے اور بے وضو کیا تو دَم اور پہلی صورت میں طہارت کے ساتھ اعادہ واجب، اگر مکہ سے چلا گیا ہو تو واپس آکر اعادہ کرے اگرچہ میقات سے بھی آگے بڑھ گیا ہو مگر بارھویں تاریخ تک اگر کامل طور پر اعادہ کرلیا تو جرمانہ ساقط اور بارھویں کے بعد کیا تو دَم لازم، بدنہ ساقط۔ لہٰذا اگر طوافِ فرض بارھویں کے بعد کیا ہے تودم ساقط نہ ہوگا کہ بارھویں تو گزر گئی اور اگر طوافِ فرض بے وضو کیا تھا تو اعادہ مستحب پھر اعادہ سے دَم ساقط ہوگیا اگرچہ بارھویں کے بعد کیا ہو۔ (جوہرہ، عالمگیری) --المدینۃ العلمیۃ کی طرف سے اس پر یہ حاشیہ دیا گیا ہے ؛ بہار شریعت کے نسخوں میں اس جگہ’’دم‘‘کے بجائے’’ بَدَ نہ‘‘ لکھا ہے ،جو کتابت کی غلطی ہے کیونکہ ’’طوافِ فرض بارھویں کے بعد کیاتو بدنہ ساقط ہو جائے گا‘‘،ایسا ہی فتاوی عالمگیری میں ہے،اسی وجہ سے ہم نے لفظ’’دم‘‘ کر دیا ہے ۔ لہٰذا جن کے پاس بہار شریعت کے دیگر نسخے ہیں ان کو چاہیے کہ لفظ ’’بدنہ‘‘ کو قلم زد کر کے اس جگہ پر لفظ’’ دم‘‘ لکھ لیں ۔ --{4}بہارشریعت حصہ3صفحہ615پرہے ؛ سُترہ بقدر ایک ہاتھ کے اونچا اور انگلی برابر موٹا ہو اور زیادہ سے زیادہ تین ہاتھ اونچا ہو۔ (درمختار ردالمحتار)-- --المدینۃ العلمیۃ کی طرف سے اس پر یہ حاشیہ دیا گیا ہے ؛ یہ کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے۔ردالمحتار میں ہے: سنت یہ ہے کہ نمازی او ر سترہ کے درمیان فاصلہ زیادہ سے زیادہ تین ہاتھ ہو۔بہارِ شریعت حصّہ اوّل کے حواشی کا انداز
بہارِ شریعت کا پہلا حصہ جو کہ عقائد کے بیان پر مشتمل ہے اور الحمدللہ عزوجل اہلسنّت کے عقائد قراٰن وحدیث سے ثابت ہیں اس لئے پہلے حصے پر جو حواشی دئیے گئے ان کا انداز کچھ یوں ہے؛ 1…کسی بھی عقیدہ یا مسئلہ پر دلائل ذکر کرتے ہوئے سب سے پہلے آیت قرآنی کو بطور دلیل پیش کیا گیا ۔-- 2…اس کے بعد حدیث کی مستند کتب صحاح ستہ میں سے کسی کتاب سے کوئی حدیث ذکر کی گئی ہے اور ان میں نہ ملنے کی صورت میں اور دوسری کُتُبِ حدیث کی طرف رُجوع کیا گیا ۔ 3…پھر اس حدیث پاک پر محدثین کرام کی بیان کردہ شروحات میں سے کوئی شرح جو عقیدہ کے موافق ہو بیان کی جاتی ہے ۔ 4…اس کے بعدعقائد کی مستند کتب’’ فقہ اکبر‘‘ ،’’ شرح فقہ اکبر‘‘،’’ مواقف ‘‘،’’ شرح مواقف‘‘،’’ شرح مقاصد‘‘،’’ شرح عقائدنسفیہ‘‘ اور المعتقدالمنتقدو غیرہا سے موافقِ عقیدہ نص بیان کی جاتی ہے ۔ 5…اسی طرح جہاں کہیں ضمناً سیرت و تاریخ کے حوالے سے کوئی بات ذکر کی گئی ہو تو وہاں کتب سیرت و تاریخ سے مسئلہ بیان کیا گیا ہے ۔ 6…اسی طرح فقہی مسائل کے بیان میں کتب فقہیہ سے مسئلہ کی تفصیل بیان کردی گئی ہے جس میں شروحات اور فتاوی بھی شامل ہیں ۔ 7…اور پھر آخر میں عقائد و مسائل کے بیان میں مزید وضاحت کے لیے ’’فتاوی رضویہ‘‘ شریف سے تخاریج اور اقتباسات کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے ۔ کتابوں کے اصل صفحات کے عکس :’’ایمان و کفر‘‘ کی بحث کے دوران صدر الشریعہ بدر الطریقہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے بدمذہبوں کے عقائد مذمومہ انہیں کی کتابوں سے بیان کیے ہیں تاکہ سنی مسلمان بھائی اپنے عقائد کا تحفظ کرسکیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بدمذہبوں نے نئی چال چلنا شروع کردی کہ جو بُرے اور باطل عقائد ان کے اکابرین نے بیان کیے تھے قطع وبُرید کے ساتھ بلکہ بعض تو ہوشیاری اور چالاکی سے ان بُری اور قبیح باتوں کو مَحو و حذف کرکے نئے انداز میں چھاپنے لگے جس کا مقصد بھی مسلمانوں کو دھوکہ دینا تھا، الحمد للّٰہ عَزَّوَجَلَّ مختلفعلماء کرام دامت فیوضہم نے بیان و تقریر ، کتب و رسائل الغرض جس طرح ممکن ہوا، بد مذہبوں کی سازشوں سے سنی مسلمانوں کو خبردار رکھا ۔ ہم نے بدمذہبوں کی اصل عبارتیں کمپیوٹر کے ذریعے اسکین (scan) کرکے لگادی ہیں تاکہ مسلمان اِن بدمذہبوں کے دامِ فریب میں نہ آسکیں ۔علمائے کرام دامت فیوضھم کی طرف سے حوصلہ افزائی
--جب بہار شریعت کے 7حصے (پہلے 6اور 16واں ) الگ الگ شائع ہوکر یکے بعد دیگرے علمائے کرام ومفتیانِ عِظام دامت فیوضھم تک پہنچے تو انہوں نے ہمارے کام کو بہت سراہا ، اپنے تأثرات کا بذریعہ مکتوب بھی اظہار کیا اور مفید مشوروں سے بھی نوازا۔ علمائے کرام ومفتیانِ عِظام دام ظلھم کی جانب سے ذمّہ دارانِ دعوتِ اسلامی کو بھیجے جانے والے مکتوبات سے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں ؛ شیخ الحدیث مفتی محمد ابراہیم قادری مدظلہ العالی (جامعہ رضویہ سکھر ) --فقہ اسلامی کا انسائیکلو پیڈیا بہارشریعت جو حضرت صدرالشریعہ مولانا امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ کا گرانقدر علمی کارنامہ اور انکی زندہ کرامت ہے ،ماشاء اللہ ’’المدینۃ العلمیۃ‘‘ کی جانب سے اس پر تخریجی وتحقیقی کام بہت جلد منظر عام پر آرہا ہے ۔اس فقیر نے بہارشریعت جلد شانزدہم (16 )پر حاشیہ نگاری کام کو بہ نظر غائر دیکھا،بحمدہ تعالٰی اسے انتہائی مفید ،جامع ،نافع پایا۔بہار شریعت میں اگر کہیں بعض مسائل پر اجمالاً گفتگو ہوئی تو حاشیہ میں اسے مفصلاً بیان کردیا گیا ہے ۔یونہی حاشیہ میں کتاب بعض مسامحات کی نشاندہی کی گئی ہے پھر اصل مسائل کو واضح کرکے فتاوی رضویہ کی تائیدی عبارات کے ذریعہ حاشیہ کو مزین کیا گیاہے ۔میں المدینۃ العلمیۃ کے اصحاب علم و رفقاء کار کو اس شاندار کام پر ھدیۂ تبریک پیش کرتا ہوں ۔حضرت مولانامفتی گل احمد عتیقی
مدظلہ العالی ( شیخ الحدیث جامعہ رسولیہ شیرازیہ رضویہ امیر روڈ بلال گنج عقب دربار حضرت داتا لاہور) السلام علیکم خیر وعافیت مزاج عالی !آپ نے بہار شریعت اور جدالممتار پر جو تحقیقی کار نامہ سر انجام دیا ہے میں سوچتا ہوں کہ یہ خواب ہے یا خواب کی تعبیر ہے، خوشی اور مسرت سے بار بار آپ کے ارسال کردہ گرامی نا مہ کو پڑھتا ہوں اور پھر گاہے بہار شریعت کے کسی حصے کو اٹھا کر پڑھنا شروع کر دیتا ہوں اور گاہے جد الممتار کا کسی نہ کسی جگہ سے مطالعہ شروع کر دیتا ہوں ۔ دعوت اسلامی کی فعال قیادت اور ان کے رفقاء نے در پیش حالات کے نبض پر ہاتھ رکھ کر حالات کے مطابق جن جن چیزوں کی ضرورت تھی ان پر منظم اور ٹھوس طریقے سے کام شروع کر دیا ہے۔ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جن سے آپ کو آپکے رفقاء کو اور آپ کی قیادت اور آپ کے محرکین کو خراج تحسین پیش کر سکوں ۔ حضرت قبلہ مفتی اعظم پاکستان مفتی عبد القیوم ہزاروی رحمہ اللہ تعالیٰ کے عظیم کار نامے تخریج فتاوٰی رضویہ کے بعد بہار شریعت کی تخریج کا کام امیر اہلسنّت محسن اہلسنّت فخر ملت پیر طریقت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس قادری رضوی امیروبانی دعوت اسلامی کاعظیم اور منفرد کار نا مہ ہے اللہ تعالی موصوف کا سایہ اہلسنّت پر تا قیامت رکھے تاکہ آپکی کوششوں اور اخلاص کی بدولت مسلک اہلسنّت پھلتا پھولتا رہے ۔اللہ تعالیٰ تمام اہلسنّت کو خصوصا امیر اہلسنّت اور ان کے خدام کو مسلک اہلسنت کی مزید خدمت کرنے کے توفیق عطاء فرمائے۔ امین یا رب العالمین بوسیلۃ سیدالمرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ شیخ الحدیث حضرت مولانامحمد عبدالعلیم سیالوی مدظلہ العالی(جامعہ نعیمیہ لاہور) بہار شریعت کی تخریج ایک بہت بڑی کاوشِ علمی ہے ،جو مسائل کی پختگی کی طرف متوجہ کرنے کے ساتھ ساتھ علماء کے لئے کسی بھی کتبِ مأخذ سے تلاش کرنے کا باعث بنے گی اور ادارہ ’’المدینۃ العلمیۃ ‘‘کے لئے دعاؤں کا باعث ہوگی ۔ مناظر اسلام حضرت مولانا غلام مصطفے نوری قادری مدظلہ العالی (مہتمم جامعہ شرقیہ رضویہ بیرون غلہ منڈی ساہیوال) -- بہار شریعت تخریج شدہ کی صورت زیباں میں موصول ہوا جو میرے وسعت قلبی وانشراح صدور آنکھوں کی ٹھنڈک کا وسیلہ بنا ۔ آپ کی تخریج نے بہار شریعت کو چار چاند لگا دیے کہ میرے جیسے کم علم کے لیے بھی اس سے فائدہ اٹھانا بہت آسان ہو گیا ہے۔ تخریج کاکام کوئی اتنا آسان نہیں بلکہ بہت ہی مشکل اور پیچیدہ کام ہے مگر جب اللہ عزوجل اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی نظر عنایت ہو جائے۔ آپ نے اور آپ کے رفقائے معاونین حضرات گرامی قدر نے فقہ حنفی کی وہ بے مثال خدمت کی ہے جس کی جتنی بھی تعریف کر سکیں کم ہے کہ اہل نظر کی بصروبصیرت دونوں ہی اس سے روشن ہوں گی ان شاء اللہ تعالٰی۔یہ ایک بیش بہا نعمت ہے، عظیم کارِ خیر ہے جس کا اجر آپ کو اللہ عزوجل عطا فرمائے گا۔خدا وحدہ لاشریک اس قافلہ پاسبان مسلک رضا کو امیر اہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطا ر قادری رضوی دامت بر کاتہم العالیہ کی زیر قیادت جاری و ساری رکھے۔ آمین بجاہ النبی الکریم الامین و آلہ العظیم واصحابہ الکریم الجلیل اجمعین پیرزادہ اقبال احمد فاروقی مدظلہ العالی (مرکزی مجلس رضا مرکزالاولیاء لاہور) السلام علیکم ورحمۃ اللہ !آپ نے بہار شریعت کا سولہواں حصہ مرتبہ معہ تخریج کی دو جلدیں عنایت فر مائی ہیں ،شکریہ قبول فرمائیے ۔ عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کی طرف سے ایسی کتابوں کی اشاعت نہایت ہی اہم کام ہے۔ اگرچہ بہار شریعت کی اشاعت مختلف انداز میں بڑی تیزی سے ہورہی ہے مگر آپ نے حواشی اورتخریج کے ساتھ اسکی قدر وقیمت کو بڑھا دیاہے ،قارئین کو مسائل کے جاننے میں آسانی ہوگی اور جو لوگ حوالے کی تلاش میں رہتے ہیں انہیں راہنمائی ملے گی۔مزید بر آں حضرت ابو بلال امیر دعوت اسلامی علامہ محمد الیاس قادری عطار قبلہ کی زیر نگرانی جو علمی اور تصنیفی کام ہو رہا ہے اس کے دُوررس اثرات مرتب ہوں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کو ہمت دے اور کام جاری رہے ۔والسلام شماریاتی جائزہ :--بہار شریعت کی اس جلد میں 221آیاتِ قراٰنیہ، 1062احادیثِ مبارکہ، 3431فقہی مسائل اور 144عقائد شامل ہیں ۔مَدَنی گزارش
--اِن تمام تر کوششوں کے باجودہمیں دعوی کمال نہیں لہٰذا ہمارے کام میں جو خوبی نظر آئے وہ ہمارے صدرالشریعہ علیہ رحمۃ ربِّ الورٰی کے قلم کاکمال ہے، اورہمارے پیرومُرشِد امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطّاؔر قادری دامت برکاتہم العالیہ کا فیض ہے اور جہاں خامی ہووہاں ہماری غیرارادی کوتاہی کو دخل ہے۔اسلامی بھائیوں بالخصوص علمائے کرام دامت فیوضھم سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ جہاں جہاں ضرورت محسوس کریں بذریعہ مکتوب یا ای میل ہماری رہنمائی فرمائیں ۔اللہ تعالیٰ دعوتِ اسلامی کے تحقیقی واشاعتی ادارے ’’المدینۃ العلمیۃ‘‘ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ہمیں اپنی اصلاح کے لئے شیخ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری مدظلہ العالی کے عطا کردہ مدنی انعامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کے لئے 3 دن، 12 دن، 30 دن اور 12 ماہ کے لئے عاشقانِ رسول کے سفر کرنے والے مدنی قافلوں کا مسافر بنتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور دعوتِ اسلامی کی تمام مجالس بشمول مجلس ’’المد ینۃ العلمیۃ‘‘ کو دن پچیسویں رات چھبیسویں ترقی عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم -- مجلس المدینۃ العلمیۃ (دعوتِ اسلامی) E.mail:ilmia@dawateislami.net اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم طتَذْکِرَۂ صَدْرُ الشَّرِیْعَہ
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْوَرٰی(از: شیخِ طریقت ،امیرِ اہلسنّت ،با نیٔ دعوت ِاسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی ضیائی دَ امَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ) شیطان لاکھ سُستی دلائے چند اَوراق پر مشتِمل ’’ تذکرہ ٔ صدرالشَّریعہ‘‘ مکمَّل پڑھ لیجئے ان شاءَ اللہ عزوجل آپ کا دل سینے میں جھوم اُٹھے گا۔
دُرُود شریف کی فضیلت
--رسولِ اکرم،نُورِ مُجَسَّم، شاہِ بنی آدم،نبیِّ مُحتَشَمصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ معظم ہے:جس نے مجھ پر سو مرتبہ دُرُودِپاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھ دیتا ہے کہ یہ نِفاق اور جہنَّم کی آگ سے آزاد ہے اور اُسے بروزِ قیامت شُہَداء کے ساتھ رکھے گا۔(مَجْمَعُ الزَّوَائِد ج۱۰ ص۲۵۳حدیث ۱۷۲۹۸ دار الفکر بیروت) صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !---- صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّدسگِ مدینہ کے بچپن کی ایک دُھندلی یاد
--تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک ’’دعوتِ اسلامی ‘‘کے قیام سے بہت پہلے میرے عہدِطُفُولیت (یعنی بچپن یا لڑکپن)کا واقعہ ہے۔جب ہم بابُ المدینہ کے اندر گؤ گلی،اولڈ ٹاؤن میں رہائش پذیر تھے، محلّے میں بادامی مسجِد تھی جو کہ کافی آباد تھی ، پیش امام صاحِب بَہُت پیارے عالم تھے ،روزانہ نَمازِ عشاء کے بعد نَماز کے دو ایک مسائل بیان فرما یا کرتے تھے(کاش ! ہر امامِ مسجِد روزانہ کم از کم کسی ایک نَماز کے بعد اسی طرح کیا کرے) جس سے کافی سیکھنے کو ملتا تھا۔ ایک دن میں اپنے بڑے بھائی جان(مرحوم) کے ساتھ غالِباً نَمازِ ظہر اِسی بادامی مسجِد میں ادا کرکے باہَر نکلا تھا، پیشِ امام صاحِب فارِغ ہو کر مسجِد کے باہَر تشریف لا چکے تھے۔ کسی نے کوئی مسئلہ پوچھا ہو گا اِس پر انہوں نے کسی کو حکم فرمایا: بہارِ شریعت لے آؤ۔ چُنانچِہ ایک کتاب ان کے ہاتھوں میں دی گئی اُس پر جلی حُرُوف سے بہارِ شریعت لکھا تھا، سرِوَرَق پر سورج کی کرنوں کے مُشابہ خوبصورت دھاریاں بنی ہوئی تھیں ، امام صاحِب نے وَرَق گردانی شروع کی، مجھے اُس وَقت خاص پڑھنا تو آتا نہیں تھا ۔ جگہ جگہ جلی جلی حُرُوف میں لفظِ مسئلہ لکھا تھا،چُونکہ مسائل سُن کربَہُت سُکون ملتا تھا اِس لئے میرے منہ میں پانی آ رہا تھا کہ کاش! یہ کتاب مجھے حاصِل ہو جاتی ! لیکن نہ میں نے مذہبی کتابوں کی کوئی دکان دیکھی تھی نہ ہی یہ شُعُور تھا کہ یہ کتاب خریدی بھی جا سکتی ہے، خیر اگر مَول ملتی بھی تو میں کہاں سے خریدتا! اتنے پیسے کس کے پاس ہوتے تھے! بَہَرحال بہارِشریعت مجھے یاد رَہ گئی اور آخِر کار وہ دن بھی آہی گیا کہ اللہُ رَبُّ الْعِزَّتعَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے میں بہارِشریعت خریدنے کے قابل ہو گیا۔ اُن دنوں مکمَّل بہارِشریعت (دو جلدوں میں ) کا ہدِیَّہ پاکستانی 32روپیہ تھا جبکہ بِغیرجِلد کی 28 روپیہ۔ چُنانچِہ میں نے مکمَّل بہارِشریعت (غیرمُجلّد) 28 روپے میں خریدنے کی سعادت حاصِل کی۔ اُس وقت بہارِ شریعت کے 17حصے تھے البتَّہ اب 20ہیں ۔اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں نے بہارِ شریعت سے وہ فُیوض و بَرَکات حاصِل کئے کہ بیان سے باہَر ہیں ۔ -- اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھے اس کتاب کی برکات سے معلومات کا وہ اَنمول خزانہ ہاتھ آیا کہ میں آج تک اس کے گُن گاتا ہوں ۔اس عظیمُ الشّان تصنیف کے مُصَنِّفخلیفۂ اعلیٰ حضرت،صدرُ الشریعہ ،بدرُالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنیہیں ۔حضرتِ سیِّدُناسُفْیان بن عُیَیْنہرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکے فرمان: ’’عِنْدَ ذِکْرِ الصَّالِحِیْنَ تَنَزَّلُ الرَّحمَۃُیعنی نیک لوگوں کے ذِکر کے وقت رحمت نازل ہوتی ہے۔‘‘ (حِلْیَۃُ الْاولیاء،ج ۷ ص ۳۳۵رقم ۱۰۷۵۰ دارالکتب العلمیۃ بیروت) پرعمل کرتے ہوئے اپنے مُحسِن حضرت مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنیکا تذکرہ پیش کرتا ہوں ۔ دم سے ترے’’بہارِ شریعت ‘‘ ہے چار سو باطل تِرے فتاوٰی سے لرزاں ہے آج بھیابتدائی حالات
--صدرِشریعت،بدرِ طریقت ، محسنِ اہلسنّت، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، مصنفِ بہارِ شریعت حضرتِ علّامہ مولانا الحاج مفتی محمد امجد علی اعظمی رضوی سنّی حنفی قادِری برکاتی علیہ رحمۃ اللہ القوی ۱۳۰۰ھ مطابق1882ء میں مشرقی یوپی (ہند)کے قصبے مدینۃُ العُلَماءگھوسی میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والدِ ماجد حکیم جمال الدین علیہ رحمۃ اللہ المبین اور دادا حُضُور خدابخش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فنِ طِبکے ماہِر تھے ۔اِبتدائی تعلیم اپنے دادا حضرت مولانا خدا بخش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے گھر پر حاصل کی پھراپنے قصبہ ہی میں مدرَسہ ناصر العلوم میں جا کر گوپا ل گنج کے مولوی الہٰی بخش صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کچھ تعلیم حاصل کی ۔پھرجو نپورپہنچے اور اپنے چچا زاد بھائی اور اُستاذ مولانا محمد صدیق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کچھ اسباق پڑھے پھرجامع معقولات ومنقولات حضرت علّامہ ہدایت اللہ خان علیہ رحمۃ الرحمن سے علمِ دین کے چھلکتے ہوئے جام نوش کئے اور یہیں سے درسِ نظامی کی تکمیل کی ۔ پھر دورہ ٔ حدیث کی تکمیل پیلی بھیت میں اُستاذُ المحدثین حضرت مولانا وصی احمد محدث سُورَتی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے کی۔حضرت محدثِ سُورَتی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے اپنے ہونہار شاگرد کی عَبقَری(یعنی اعلی ) صلاحیتوں کا اعتراف ان الفاظ میں کیا :’’مجھ سے اگر کسی نے پڑھا تو امجد علی نے۔‘‘پیدل سفر
--صدر الشریعہ بدرالطریقہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی نے طلبِ علمِ دین کیلئے جب مدینۃُ العُلَماء گھوسی سے جونپور کا سفر اختیار کیا ،ان دنوں سفر پیدل یا بیل گاڑیوں پر ہوتا تھا ۔چُنانچِہ راہِ علم کے عظیم مسافر صدر الشریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی مدینۃ العلماء گھوسی سے پیدل سفر کرکے اعظم گڑھ آئے پھر یہاں سے اونٹ گاڑی پرسُوار ہوکر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جونپور پہنچے ۔حیرت انگیزقوتِ حافِظہ
صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی کا حافظہ بَہُت مضبوط تھا ۔ حافِظہ کی قوت، شوق و محنت اور ذِہانت کی وجہ سے تمام طلبہ سے بہتر سمجھے جاتے تھے ۔ ایک مرتبہ کتاب دیکھنے یا سننے سے برسوں تک ایسی یاد رہتی جیسے ابھی ابھی دیکھی یا سنی ہے ۔ تین مرتبہ کسی عبارت کو پڑھ لیتے تو یاد ہو جاتی ۔ ایک مرتبہ ارادہ کیا کہ’’ کافیہ‘‘ کی عبارت زَبانی یاد کی جائے تو فائدہ ہو گا تو پوری کتاب ایک ہی دن میں یاد کر لی!تدریس کا آغاز
--صوبہ بہار(ہند پَٹنہ)میں مدرسۂ اہلسنّت ایک ممتاز درس گاہ تھی جہاں مُقتَدِر (مُق۔تَ۔دِر)ہستیاں اپنے علم وفضل کے جوہر دکھا چکی تھیں ۔خود صدرالشَّریعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکے استاذِ محترم حضرت مُحدِث سُورَتی علیہ رحمۃ اللہ القوی برسوں وہاں شیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہ چکے تھے ۔مُتَولّیٔ مدرَسہ قاضی عبدالوحید مرحوم کی درخواست پر حضرت مُحدِّث سُورَتی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے مدرسۂ اہلسنّت ( پَٹنہ) کے صدر مُدَرِّس کے لئے صدرُالشَّریعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا انتخاب فرمایا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ استاذ ِمحترم کی دعاؤں کے سائے میں ’’ پٹنہ ‘‘پہنچے اور پہلے ہی سبق میں عُلوم کے ایسے دریا بہائے کہ عُلَماء وطَلَبہ اَش اَش کراُٹھے ۔قاضی عبدالوحید علیہ رحمۃُ اللہِ المجیدجو خُود بھیمُتَبَحِّر(مُ۔تَ۔بَح۔حِر) عالم تھے نیصدرُ الشریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی کی علمی وَجاہت اور انتِظامی صلاحیَّت سے مُتَأَثِّر ہوکر مدرَسہ کے تعلیمی اُمور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکے سِپُرد کر دئیے۔اعلیٰ حضرت کی پہلی زیارت
--کچھ عرصہ بعد قاضی عبدالوحید علیہ رحمۃ اللہ المجیدبانیٔ مدرسۂ اہلسنّت( پَٹنہ) شدید بیمار ہوگئے ۔ قاضی صاحب ایک نہایت دیندار ودین پر وررئیس تھے،علمِ دین سے آراستہ ہونے کے ساتھ ساتھ اِنگریزی تعلیم میں B.A تھے۔ انکے والد انھیں بیرسٹری کے امتحان کے لئے لندن بھیجنا چاہتے تھے لیکن قاضی صاحِب کے مقدس مَدَنی جذبات نے یورپ کے مُلحدانہ گندے ماحول کو سخت نا پسند کیا ۔چُنانچِہ آپ نے اس سفر سے تحریز فرمایا اور ساری زندگی خدمتِ دین ہی کو اپنا شعار بنایا۔انکی پرہیزگاری اور مَدَنی سوچ ہی کی کشِش تھی کہ میرے آقا اعلٰیحضرت،اِمامِ اَہلسنّت،ولیٔ نِعمت،عظیمُ البَرَکت، عظیمُ المَرْتَبت،پروانۂِ شمعِ رِسالت،مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، حامیِٔ سنّت ، ماحِیِٔ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت ، پیرِ طریقت،باعثِ خَیْر وبَرَکت، حضرتِ علّامہ مولیٰنا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن اورحضرت قبلہمُحدِّث سُورَتی علیہ رحمۃ اللہ القوی جیسے مصروف بُزُرگانِ دین قاضی صاحِب کی عیادت کے لئے کَشاں کَشاں روہیلکھنڈ سے پٹنہ تشریف لائے۔ اسی موقع پر حضرت صدر الشریعہ ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنینے پہلی بار میرے آقااعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کی زیارت کی ۔اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی شخصیت میں ایسی کشش تھی کہ بے اختیار صدرُ الشریعہ ،بدرالطریقہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی کا دل آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرف مائل ہوگیااور اپنے استاذِ محترم حضرت سیِّدُنا مُحدِّث سُورتی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے مشورے سے سلسلۂ عالیہ قادریہ میں اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت سے بَیعَت ہوگئے ۔میرے آقا اعلیٰ حضرت اور سیِّدی محدِث سورَتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہماکی موجودَگی میں ہی قاضی صاحب نے وفات پائی۔اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃربِّ العزّت نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور محدِّث سورَتی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے قبر میں اُتارا۔اللہُ رَبُّ الْعِزَّتعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔ ---------- --ٰٰامین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّمعِلْمِ طِبّ کی تحصیل
--قاضی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکی رِحلت کے بعد مدرسہ کا انتظام جن لوگوں کے ہاتھ میں آیا ،ان کے نامناسب اقدامات کی وجہ سے صدر الشریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی سخت کبیدہ خاطر اور دل برداشتہ ہوگئے اور سالانہ تعطیلات میں اپنے گھر پہنچنے کے بعد اپنا استعفاء بھجوادیا اور مطالعۂ کُتُب میں مصروف ہوگئے ۔پٹنہ میں مغرب زدہ لوگوں کے بُرے برتاؤ سے متاثر ہو کر ملازمت کی چپقلش سے بیزار ہوچکے تھے ۔معاش کے لئے کسی مناسب مشغلہ کی جستجو تھی ۔والد محترم کی نصیحت یاد آئی کہ ع میراثِ پدر خوا ہی علمِ پدر آموز(یعنی والد کی میراث حاصل کرنا چاہتے ہوتو والد کا علم سیکھو)خیال آیا کہ کیوں نہ علم طب کی تحصیل کر کے خاندانی پیشہ طبابت ہی کو مشغلہ بنائیں ۔چنانچہ شوال ۱۳۲۶ھ میں لکھنؤ جا کر دو سال میں علم طب کی تحصیل وتکمیل کے بعد وطن واپس ہوئے اور مطب شروع کر دیا ۔ خاندانی پیشہ اور خداداد قابلیت کی بنا پر مطب نہایت کامیابی کے ساتھ چل پڑا۔ --صدر ِ شریعت اعلیٰ حضرت کی بارگاہِ عظمت میں
--ذریعۂ معاش سے مطمئن ہوکر جُمادِی الاوُلیٰ ۱۳۲۹ھ میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکسی کام سے’’ لکھنؤ ‘‘تشریف لے گئے۔وہاں سے اپنے اُستاذِ محترم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں ’’پیلی بھیت‘‘ حاضر ہوئے ۔حضرت محدث سورتیعلیہ رحمۃ اللہ القوی کو جب معلوم ہوا کہ ان کا ہونہار شاگرد تدریس چھوڑکر مطب میں مشغول ہوگیا ہے تو انہیں بے حد افسوس ہوا۔چُونکہ صدرُ الشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی کا ارادہ بریلی شریف حاضِر ہونے کا بھی تھا چُنانچِہ بریلی شریف جاتے وقت مُحدِّث سُورَتی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے ایک خط اِس مضمون کا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی خدمت میں تحریر فرمادیا تھا کہ’’ جس طرح ممکن ہو آپ اِن (یعنی حضرت صدرُ الشریعہ ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی) کو خدمتِ دین وعلمِ دین کی طرف مُتوجِّہ کیجئے۔‘‘ جب میرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کے درِ دولت پر حاضِری ہوئی توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نہایت لطف وکرم سے پیش آئے اور ارشاد فرمایا: ’’آپ یہیں قِیام کیجئے اور جب تک میں نہ کہوں واپَس نہ جائیے۔‘‘ اور دل بستگی کے لئے کچھ تحریری کام وغیرہ سِپُرد فرما دئیے۔تقریباً دوماہ بریلی شریف میں قیام رہا اور میرے آقااعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی صحبت میں علمی اِستِفادہ اور دینی مذاکَرہ کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ رَمضانُ المبارَک قریب آگیا ۔صدر ُالشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی نے گھر جانے کی اجازت طلب کی تومیرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے ارشاد فرمایا :’’جائیے !لیکن جب کبھی میں بلاؤں تو فوراً چلے آئیے ۔ ‘‘ مُرشدِ کامل کامنظورِ نظر امجد علیاِس پہ دائم لطف فرما چشمِ حق بینِ رضا
طَبابت سے دینی خدمت کی طرف مُراجَعَت
--صدرُ الشریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی خود فرماتے ہیں : میں جب اعلیٰ حضرت امامِ اہلِسنّت مجددِ دین وملت مولانا شاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کی بارگاہ میں حاضِر ہوا تو دریافت فرمایا:مولانا کیا کرتے ہیں ؟میں نے عرض کی: مَطَب کرتا ہوں ۔اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّتنے فرمایا :’’مطب بھی اچھا کام ہے،اَلْعِلْمُ عِلْمَانِ عِلْمُ الْاَدْیَانِ وَعِلْمُ الْاَبْدَان (یعنی علم دو ہیں ؛علمِ دین اور علمِ طبّ )۔مگر مطب کرنے میں یہ خرابی ہے کہ صبح صبح قارورہ (یعنی پیشاب)دیکھنا پڑتا ہے۔‘‘ اِس ارشاد کے بعد مجھے قارورہ ( پیشاب ) دیکھنے سے انتہائی نفرت ہوگئی اور یہ اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کا کشف تھا کیونکہ میں اَمراض کی تشخیص میں قارورہ (یعنی پیشاب) ہی سے مددلیتا تھا(اور واقعی صبح صبح مریضوں کا قارورہ ( پیشاب) دیکھنا پڑ جاتا تھا)اور یہتَصَرُّفتھا کہ قارُورہ بینی یعنی مریضوں کا پیشاب دیکھنے سے نفرت ہوگئی۔بریلی شریف میں دوبارہ حاضِری
--گھر جانے کے چندماہ بعد بریلی شریف سے خط پہنچا کہ آپ فوراً چلے آئیے ۔چُنانچِہ صدر الشریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی دوبارہ بریلی شریف حاضِر ہوگئے ۔ اس مرتبہ ’’انجمن اہلسنّت ‘‘کی نظامت اور اس کے پریس کے اہتمام کے علاوہ مدرسہ کا کچھ تعلیمی کام بھی سِپُرد کیا گیا ۔گویامیرے آقا اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے بریلی شریف میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مستقل قِیام کا انتِظام فرمادیا ۔اس طرح صدرُ الشریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی نے 18سال میرے آقائے نعمت اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی صحبت بابرکت میں گزارے ۔ لئے بیٹھا تھا عشقِ مصطَفٰے کی آگ سینے میں ولایت کا جبیں پر نقش، دل میں نور وَحدت کابریلی شریف میں مصروفیات
--بریلی شریف میں دو مستقلکام تھے ایک مدرَسہ میں تدریس، دوسرے پریس کا کام یعنی کاپیوں اورپُرُوفوں کی تصحیح ، کتابوں کی روانگی، خُطوط کے جواب، آمد وخرچ کے حساب، یہ سارے کام تنہاانجام دیا کرتے تھے۔ ان کاموں کے علاوہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کے بعض مُسَوَّدات کامَبِیضہکرنا(یعنی نئے سرے سے صاف لکھنا)،فتووں کی نقل اور ان کی خدمت میں رہ کر فتوٰی لکھنا یہ کا م بھی مستقل طور پر انجام دیتے تھے ۔پھر شہر وبیرونِ شہر کے اکثر تبلیغِ دین کے جلسوں میں بھی شرکت فرماتے تھے۔روزانہ کاجَدْوَل
--صدرُ الشَّریعہ بدرُالطَّریقہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی کا روزانہ کا جَدْوَل کچھ اِس طرح تھا کہ بعد نمازِ فَجر ضَروری وظائف وتلاوتِ قراٰن کے بعد گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ پریس کا کام انجام دیتے۔پھر فوراً مدرَسہ جاکر تدریس فرماتے ۔ دوپَہَر کے کھانے کے بعد مُستَقِلا کچھ دیر تک پھر پریس کا کام انجام دیتے۔ نماز ِظہر کے بعدعَصر تک پھر مدرَسہ میں تعلیم دیتے ۔بعد نَمازِ عصر مغرِب تک اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی خدمت میں نشست فرماتے۔بعدِ مغرِب عشاء تک اور عشاء کے بعد سے بارہ بجے تک اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی خدمت میں فتوٰی نَویسی کا کام انجام دیتے ۔اسکے بعد گھر واپَسی ہوتی اور کچھ تحریری کام کرنے کے بعد تقریباً دو بجے شب میں آرام فرماتے ۔اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کے اخیر زمانۂ حیات تک یعنی کم وبیش دس برس تک روزمرَّہ کا یہی معمول رہا ۔حضرت ِصدرُ الشَّریعہ ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کی اس محنت شاقّہ وعزم واستقلال سے اُس دَور کے اکابِر علماء حیران تھے ۔اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کے بھائی حضرت ننھے میاں مولانا محمد رضاخان علیہ رحمۃاللہ الحنّان فرماتے تھے کہ مولانا امجد علی کام کی مشین ہیں اور وہ بھی ایسی مشین جو کبھی فیل نہ ہو۔ مصنِّف بھی، مقرِّر بھی، فَقیہِ عصرِ حاضِر بھی وہ اپنے آپ میں تھا اک ادارہ علم و حکمت کاترجَمۂ کنزالایمان
-- صحیح اور اَغلاط سے مُنَزَّہ(مُ۔نَز۔زَہ) احادیثِ نَبوِیّہ واقوالِ ائمّہ کے مطابِق ایک ترجَمہ کی ضَرورت محسوس کرتے ہوئے آپ نے ترجمۂ قراٰن پاک کے لئے اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی بارگاہ ِعظمت میں درخواست پیش کی توارشاد فرمایا:’’یہ تو بہت ضَروری ہے مگر چھپنے کی کیا صورت ہوگی؟ اس کیطَباعت کا کون اہتِمام کرے گا؟ باوُضو کاپیوں کو لکھنا ،باوُضو کاپیوں اور حُرُوفوں کی تصحیح کرنا اور تصحیح بھی ایسی ہو کہ اِعراب نُقطے یا علامتوں کی بھی غلطی نہ رہ جائے پھریہ سب چیزیں ہوجانے کے بعد سب سے بڑی مشکِلتو یہ ہے کہ پریس مین ہمہ وقت باوُضورہے،بِغیر وُضو نہ پتھّر کو چھوئے اور نہ کاٹے، پتھّر کا ٹنے میں بھی احتیاط کی جائے اور چھپنے میں جو جوڑیاں نکلی ہیں انکو بھی بَہُت احتیاط سے رکھا جائے ۔آپ نے عرض کی:’’اِن شاءَاللہ جو باتیں ضروری ہیں ان کو پوری کرنے کی کوشِش کی جا ئے گی، بِالفرض مان لیا جائے کہ ہم سے ایسا نہ ہو سکا تو جب ایک چیز موجود ہے تو ہو سکتا ہے آئندہ کوئی شخص اس کے طبع کرنے کا انتِظام کرے اور مخلوقِ خدا کو فائدہ پہنچانے میں کوشش کرے اور اگر اس وقت یہ کا م نہ ہوسکاتو آئندہ اس کے نہ ہو نے کا ہم کو بڑا افسوس ہو گا ۔‘‘آپ کے اس معروض کے بعد تر جَمہ کا کا م شروع کر دیا گیا بِحَمدِ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی مَساعیٔ جمیلہ سے خاطر خواہ کا میا بی ہوئی اور آج مسلمانوں کی کثیر تعداد مُجدِّداعظم، امام اہلسنّت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کے لکھے ہوئے قرآنِ پاک کے صحیح ترجمہ ’’ترجَمۂ کنزالایمان ‘‘سے مُستفید ہو کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (یعنی صدرالشریعہ)کی ممنونِ اِحسان ہے اور اِن شَائَ اللہ عَزَّوَجَلَّیہ سلسلہ قِیامت تک جاری رہے گا۔ گر اہلِ چمن فخر کریں اس پہ بجا ہے امجد تھا گلابِ چمنِ دانش و حکمتوکیلِ رضا
-- میرے آقااعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّتنے سوائے صدرُ الشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی کے کسی کو بھی حتّٰی کہ شہزادگان کو بھی اپنی بیعت لینے کے لئے وکیل نہیں بنایا تھا۔صدرُ الشَّریعہ کا خطاب کس نے دیا؟
--الملفوظ حصّہ اولصَفْحَہ183مطبوعہ مکتبۃ المدینہ میں ہے کہ میرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّتنے فرمایا: آپ مَوجودِ ین میں تَفَقُّہ (تَ۔ فَق ۔ قُہْ) جس کا نام ہے وہ مولوی امجد علی صاحِب میں زیادہ پائیے گا،اِس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اِستِفتاء سنایا کرتے ہیں اور جو میں جواب دیتا ہوں لکھتے ہیں ، طبیعت اَخّاذ ہے، طرز سے واقِفِیَّت ہوچلی ہے ۔‘‘میرے آقا اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّتنے ہی حضرت مولانا امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کو صدرُ الشَّریعہکے خطاب سے نوازا ۔ اٹھا تھا لے کے جو ہاتھوں میں پرچم اعلیٰ حضرت کا وہ مِیرِکارواں ہے کاروانِ اہلسنّت کاقاضیٔ شرع
-- ایک دن صبح تقریباً9بجے ،میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن مکان سے باہَر تشریف لائے، تخت پرقالین بچھانے کا حکم فرمایا ۔ سب حاضِرین حیرت زدہ تھے کہ حضور یہ اِہتمام کس لئے فرمارہے ہیں !پھرمیرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت ایک کرسی پر تشریف فرماہوئے اور فرمایا کہ میں آج بریلی میں دارُ القَضاء بریلی کے قِیام کی بنیاد رکھتا ہوں اور صدرُ الشریعہ کواپنی طرف بلاکر ان کا داہنا ہاتھ اپنے دستِ مبارَک میں لے کر قاضی کے منصب پر بٹھا کر فرمایا:’’میں آپ کو ہندوستان کے لئے قاضیٔ شَرع مقرَّر کرتا ہوں ۔مسلمانوں کے درمیان اگر ایسے کوئی مسائل پیدا ہوں جن کا شرعی فیصلہ قاضی ٔشَرع ہی کرسکتا ہے وہ قاضی شَرعی کا اختیار آپ کے ذمّے ہے ۔‘‘پھرتاجدارِ اہلسنّت مفتیٔ اعظم ہند حضرت مولانا مصطَفٰے رضاخان علیہ رحمۃ المنّان اوربُرہانِ ملّت حضرتِ علّامہ مفتی محمد برہانُ الحق رضوی علیہ رحمۃ القوی کو دارالقَضاء بریلی میں مفتیٔ شَرع کی حیثیَّت سے مقرر فرمایا ۔پھر دُعا پڑھ کر کچھ کلمات ارشاد فرمائے جن کا اقرار حضرتِ صدرُ الشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی نے کیا ۔ صدرُ الشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی نے دوسرے ہی دن قاضیٔ شَرع کی حیثیَّت سے پہلی نِشَست کی اور وِراثَت کے ایک معامَلہ کا فیصلہ فرمایا۔ یہ ساری برکتیں ہیں خدمتِ دینِ پیمبر کی جہاں میں ہر طرف ہے تذکرہ صدرِشریعت کا #**اعلٰی حضرت کی جنازے کے لئے وصیت
**# --وَصایا شریف صَفْحَہ24 پر ہے کہ مجدِّدِ اعظم ،اعلیٰ حضرت ،امامِ اہلِسنّت، مجدّدِ دین وملت مولانا شاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن نے اپنی نَمازِ جنازہ کے بارے میں یہ وصیَّت فرمائی تھی ۔ ’’المنّۃُ المُمْتازہ‘‘ ۱؎ میں نمازِ جنازہ کی جتنی دعائیں منقول ہیں اگر حامد رضا کویاد ہوں تو وہ میری نماز ِجنازہ پڑھائیں ورنہ مولوی امجدعلی صاحِب پڑھائیں ۔ حضرتِ حُجَّۃُ الْاِسلام(حضرت مولیٰنا حامد رضا خان) چُونکہ آپ کے’’ وَلی ‘‘تھے اسلئے انکو مقدَّم فرمایا،وہ بھی مَشرُوط طور پر اور انکے بعدمیرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی نگاہِ انتخاب اپنی نمازِ جنازہ کے لئے جس پر پڑی وہ بھی بلا شرط، وہ ذات صدرُ الشَّریعہ ، بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللہ الغنیکی تھی۔اسی سے اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کی صدر الشریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی سے مَحَبَّت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔آستانۂ مُرشد سے وفا
--ایک مرتبہ کسی صاحِب نے تاجدارِ اہلسنّت مفتی ٔاعظم ہندشہزادۂ اعلیٰ حضرت علامہ مولانا مصطفی رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کے سامنے صدر الشریعہ ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کا تذکرہ فرمایاتومفتی اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کی چشمانِ کرم سے آنسو بہنے لگے اور فرمایا کہ صدر الشریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی نے اپنا کوئی گھر نہیں بنایا بریلی ہی کو اپنا گھر سمجھا ۔ وہ صاحبِ اثر بھی تھے اور کثیر التَّعداد طَلَبہ کے اُستاذ بھی، وہ چاہتے تو بآسانی کوئی ذاتی دار العلوم ایسا کھول لیتے جس پر وہ یکہ و تنہا قابِض
۱؎یہ مبارک رسالہ فتاوی رضویہ مُخَرَّجہ ج۹ص۲۰۹ پر موجود ہے۔ رہتے مگر ان کے خلوص نے ایسا نہیں کرنے دیا۔‘‘یہ میرے مُرشِد کا کرم ہے
چنانچہ دار العلوم معینیہ عثمانیہ (اجمیر شریف) میں وہاں کے صدرُ المدَرِّسین ہو کر جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پہنچے اور وہاں کے لوگ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اندازِ تدریس سے بَہُت مُتأَثِّر ہوئے تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے رُوبرو اس کا ذِکر آیا کہ آپکی تعلیم بہت کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے یہ مرکزی دارالعلوم سر بلند ہوتا جارہا ہے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:’’یہ مجھ پر اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت کا فضل وکرم ہے۔ ‘‘ باغِ عالم کاہو منظر کیوں نہ رنگین و حَسین گوشے گوشے سے ہیں طِیب اَفشاں رِیاحینِ رضاصدرِ شریعت کی صحبت کی عظمت
--تلمیذ وخلیفۂ صدر الشریعہ حضرت مولانا سیِّد ظہیر احمد زَیدی علیہ رحمۃ اللہ الھادی لکھتے ہیں :مجھے سات سال کے عرصے میں اَن گنت بار مولانا کی خدمت میں حاضری کا موقعہ ملا لیکن میں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی مجلسوں کو ان عُیُوب سے پاک پایا جو عام طور سے بِلاامتیازِ عوام وخواص ہمارے مُعاشَرے کا جُز و بن گئے ہیں مَثَلاً غیبت،چغلی،دوسروں کی بدخواہی،عیب جوئی وغیرہ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی نہایت مقدَّس و پاکیزہ تھی، مجھے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی میں دَرَوغ بیانی(یعنی جھوٹ بولنے) کا کبھی شائبہ بھی نہیں گزرا۔جہاں تک میری معلومات ہے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکے معمولات قراٰن وسنّت کے مطابِق تھے ،گفتگو بھی نِہایت مہذَّب ہوتی ،کوئی ناشائستہ یا غیر مُہذَّب لفظ استعمال نہ فرماتے ،اسی طرح معاملات میں بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نہایت صاف تھے ۔آپ کا ہرمُعامَلہ شریعت مُطَہَّرہ کے اَحکام کے ماتحت تھا۔’’دادوں ‘‘(علی گڑھ)میں قیام کے دوران کامیں عَینی شاہد ہوں کہ آپ نے کبھی کسی کے ساتھ بدمُعامَلگی نہ کی، نہ کسی کا حق تلف کیا۔ بلندی پر ستارہ کیوں نہ ہو پھر اُس کی قسمت کا دیا امجد نے جس کو درس قانونِ شریعت کاصَبْر وتحمل
--بڑے صاحبزادے حضرت مولانا حکیم شمسُ الہُدٰی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا انتقال ہو گیا تو صدر الشریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی اُس وقت نمازِ تراویح ادا کر رہے تھے ۔اطلاع دی گئی تشریف لائے ۔’’اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَؕ ‘‘ پڑھا اور فرمایا :ابھی آٹھ رَکعت تراویح باقی ہیں ،پھر نَماز میں مصروف ہوگئے۔ #**سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خواب میں آ کر فرمایا:
**# -- آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی شہزادی ’’بنو‘‘ سخت بیمار تھیں ۔ اِس دَوران ایک دن بعد نمازِ فجر حضرت صدر الشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی نے قراٰن خوانی کے لیے طَلَبہ و حاضِرین کو روکا۔ بعدِ ختم ِقراٰنِ مجید آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجلس کو خطاب فرمایا کہ میری بیٹی’’ بنو‘‘ کی علالت(بیماری) طویل ہو گئی ، کوئی علاج کارگر نہیں ہوا اور فائدے کی کوئی صورت نہیں نکل رہی ہے، آج شب میں نے خواب دیکھاکہ سروَرِ کونین ، رحمتِ عالم روحی فداہ گھر میں تشریف لائے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ ’’بنو ‘‘کو لینے آئے ہیں ۔ سیِّدالانام حضورِ اکرمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو خواب میں دیکھنا بھی حقیقت میں بِلا شُبہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہی کو دیکھنا ہے ۔ بنو کی دنیُوَی زندگی اب پوری ہوچکی ہے ۔ مگر وہ بڑی ہی خوش نصیب ہے کہ اسے آقا و مولیٰ ، رحمتِ عالم، محبوبِ ربُّ الْعٰلمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم لینے کے لیے تشریف لائے اور میں نے خوشی سے سِپرد(سِ۔پُرد) کیا۔دعائے خیر کے بعد مجلسِ قراٰن خوانی ختم ہو گئی۔ غالباً اُسی دن یا دوسرے دن بنو کا انتِقال ہو گیا۔اللہُ رَبُّ الْعِزَّتعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔-- ----ٰٰامین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّمشہزادگان پر شفقت
--شہزادگان پر شفقت کا جو عالم تھا وہ شہزادۂ صدر الشَّریعہ،شیخ الحدیثِ وَالتفّسیر حضرتِ علامہ عبدُ المصطفے ازہری علیہ رحمۃ اللہ القوی(۱۳۶۶ھ) نے اپنے مضمون میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔چُنانچِہ آپ فرماتے ہیں : میں خدمتِ اقدس میں حاضِر تھا۔ مولانا ثَناء ُالمصطفے ،مولانابَہاء ُالمصطفے ،مولانافِداء ُالمصطفے،اس وَقت بَہُت چھوٹے بچّے تھے،وہ گنّا (گنڈیری ) لے کر آتے اور کہتے:’’ انا جی اسے گلا بنادو۔‘‘یعنی اسے چھیل کر کاٹ کر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کردیجئے۔حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بڑے پیار محبت سے مسکرا کر گنا ہاتھ میں لیکر چاقو سے اسے چھیلتے پھر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے ان لوگوں کے منھ میں ڈالتے۔گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے
--بُخاری شریف میں ہے: حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں : کَانَ یَکُوْنُ فِی مَھْنَۃِ اَہْلِہٖ نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنے گھر میں کام کاج میں مشغول رہتے یعنی گھر والوں کاکام کرتے تھے۔(صَحِیحُ البُخارِی،ج۱ص۲۴۱ ،حدیث ۶۷۶دارالکتب العلمیۃ بیروت)اِسی سنّت پر عمل کرتے ہوئے صدرُ الشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی گھر کے کام کاج سے عار(شرم) محسوس نہ فرماتے بلکہ سنّت پر عمل کرنے کی نیّت سے ان کو بخوشی انجام دیتے۔صدرُالشَّریعہ کاسنّت کے مطابِق چلنے کا انداز
--تَلمِیذ وخلیفۂ صدرِ شریعت، حافظِ ملت حضرتِ علامہ مو لانا عبد العزیز مبارَک پوری علیہ رحمۃ اللہ القوی بیان کرتے ہیں : حضورِ سیِّدِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم راستہ چلتے تو رفتار سے عظمت ووقار کا ظہور ہوتا، دائیں بائیں نگاہ نہ فرماتے ،ہر قدم قُوَّت کے ساتھ اٹھاتے، چلتے وَقت جسمِ مبارَک آگے کی طرف قَدرے جُھکا ہوتا، ایسا لگتا گویا اونچائی سے نیچے کی طرف اُ تررہے ہوں ۔ ہمارے استاذِ محترم صدرُ الشریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی سنّت کے مطابِق راستہ چلتے تھے، ان سے ہم نے علم بھی سیکھا اور عمل بھی۔ یہی حضرتِ حافِظِ ملّت فرماتے ہیں :’’ میں دس سال حضرتِ صدرُ الشریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی کی کفش برداری(یعنی خدمت) میں رہا، آپ کو ہمیشہ مُتَّبِع سنّت پایا۔ ؎ جس کی ہر ہر ادا سنّتِ مصطَفٰے ایسے صدرِ شریعت پہ لاکھوں سلامنَماز کی پابندی
--سفر ہو یا حَضَرصدرُالشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی کبھی نَماز قضاء نہ فرماتے۔ شدید سے شدید بیماری میں بھی نماز ادا فرماتے ۔ اجمیر شریف میں ایک بار شدید بُخار میں مبتَلا ہوگئے یہاں تک کہ غشی طاری ہوگئی ۔دوپَہَر سے پہلے غشی طاری ہوئی اور عصر تک رہی۔حافِظ ملّت مولانا عبدُالعزیز علیہ رحمۃ اللہ الحفیظخدمت کے لیے حاضِر تھے، صدرُ الشَّریعہ ،بدرالطریقہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی کو جب ہوش آیا تو سب سے پہلے یہ دریافت فرمایا :کیا وقت ہے ؟ ظہرکا وقت ہے یا نہیں ؟حافِظ ملّت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے عرض کی کہ اتنے بج گئے ہیں اب ظہر کا وَقت نہیں ۔یہ سن کر اتنی اَذِیَّت پہنچی کہ آنکھ سے آنسو جاری ہوگئے ۔حافِظ ملّت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّتنے دریافت کیا :کیاحُضور کو کہیں درد ہے ،کہیں تکلیف ہے ؟فرمایا:’’(بَہُت بڑی)‘‘ تکلیف ہے کہ ظہر کی نَماز قَضاء ہوگئی۔‘‘حافِظ ملّت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّتنے عرض کی :حُضور بیہوش تھے۔بیہوشی کے عالم میں نَماز قضا ہونے پر کوئی مُؤاخَذَہ (قیامت میں پوچھ گچھ)نہیں ۔فرمایا:آپ مُؤاخَذَہکی بات کررہے ہیں وقتِ مُقَررہ پر دربارِ الہٰی عزوجل کی ایک حاضِری سے تو محروم رہا۔نمازِ باجماعت کا جذبہ
--حضرتِ صدرُ الشَّریعہ ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی اس پربَہُت سختی سے پابند تھے کہ مسجد میں حاضِر ہو کر باجماعت نماز پڑھیں ۔ بلکہ اگر کسی وجہ سے مؤذِّن صاحِب وقتِ مقرَّرہ پر نہ پہنچتے تو خود اذان دیتے۔ قدیم دولت خانے سے مسجد بِالکل قریب تھی وہاں تو کوئی دِقّت نہیں تھی لیکن جب نئے دولت خانے قادِری منزل میں رہائش پذیر ہوئے تو آس پاس میں دو مسجدیں تھیں ۔ایک بازار کی مسجد دوسری بڑے بھائی کے مکان کے پاس جو’’ نوّاکی مسجد‘‘ کے نا م سے مشہور ہے ۔یہ دونوں مسجدیں فاصلے پر تھیں ۔ اس وقت بینائی بھی کمزور ہو چکی تھی ،بازار والی مسجد نِسبتاً قریب تھی مگر راستے میں بے تکی نالیاں تھیں ۔ اسلئے ’’نوا کی مسجد ‘‘نماز پڑھنے آتے تھے۔ایک دَفعہ ایسا ہوا کہ صبح کی نَماز کے لئے جا رہے تھے ،راستے میں ایک کُنواں تھا،ابھی کچھ اندھیرا تھا اور راستہ بھی ناہموار تھا ،بے خیالی میں کُنویں پر چڑھ گئے قریب تھا کہ کنویں کے غار میں قدم رکھدیتے ۔اتنے میں ایک عورت آگئی اور زور سے چِلائی !’’ارے مولوی صاحِب کُنواں ہے رُک جاؤ!ورنہ گر پڑیو!‘‘ یہ سنکر حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے قدم روک لیا اور پھر کنویں سے اتر کر مسجِد گئے۔اس کے باوُجود مسجد کی حاضِری نہیں چھوڑی۔بیماری میں بھی روزہ نہ چھوڑا
--ایک بار رَمَضانُ المبارَک میں سخت سردی کا بخار چڑھ گیا۔اس میں خوب ٹھنڈ لگتی اور شدید بخار چڑھتا ہے نیز پیاس اتنی شدّت سے لگتی ہے کہ نا قابلِ برداشت ہوجاتی ہے ۔ تقریباً ایک ہفتہ تک اِس بخار میں گرفتار رہے۔ظہر کے بعد خوب سردی چڑھتی پھر بخار آجاتا مگر قربان جایئے! اس حال میں بھی کوئی روزہ نہیں چھوڑا۔زکوٰۃ کی ادائیگی
--شارحِ بخاری حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں :میرے والِدِ ماجِد مرحوم ابتِداء نَوعُمری میں بہت بڑے تاجِر تھے اور حساب کے ماہِر،صدرالشَّریعہ ان کو بلا کر(زکوٰۃکا) پورا حساب لگواتے ۔ پھر انھیں سے کپڑے کا تھان منگا کر عورتوں کے لائق الگ مردوں بچوں کے لائق الگ اور سب کے مناسب قطع کراکے تقسیم فرماتے۔کوئی سائل کبھی دروازے سے خالی واپس نہ جاتا، بہت بڑے مہمان نواز اورعُموماً مہمان آتے رہتے سب کے شایانِ شان کھانے پینے ، اُٹھنے بیٹھنے اور آرام کا اہتمام فرماتے ۔مہمانوں کے لئے خصوصیت سے ان کی ضروریات کی چیزیں ہر وقت گھر میں رکھتے ۔دُرودِ رضویہ پڑھنے کا جذبہ
--کتنی ہی مصروفیت ہو نَمازِ فجر کے بعد ایک پارہ کی تلاوت فرماتے اور پھر ایک حزب(باب) دلائلُ الخیرات شریف پڑھتے، اس میں کبھی ناغہ نہ ہوتا ، اور بعدِنَمازِ جمعہ بلا ناغہ 100بار دُرودِ رضویہ پڑھتے ۔ حتّٰی کہ سفر میں بھی جمعہ ہوتا تو نمازِ ظہر کے بعد دُرودِ رضویہ نہ چھوڑتے، چلتی ہوئی ٹرین میں کھڑے ہو کرپڑھتے۔ ٹرین کے مسافر اِس دیوانگی پر حیرت زدہ ہوتے مگر انہیں کیا معلوم۔ ؎ دیوانے کو تحقیر سے دیوانہ نہ کہنا دیوانہ بہت سوچ کے دیوانہ بنا ہےاِصلاح کرنے کا انداز
--اولاد اور طلبہ کی عملی تعلیم وتربیت کا بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خُصُوصی خیال فرماتے تھے ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا تقویٰ وَتَدیُّن(یعنی دین داری) اس اَمر کا مُتَحَمِّل(مُ۔تَ۔حَم۔مِل) ہی نہ تھا کہ کوئی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے خِلافِ شرع کام کرے اگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے علم میں طَلَبہ یا اولاد کے بارے میں کوئی ایسی بات آتی جو احکامِ شریعت کے خِلاف ہوتی توچِہرۂ مبارَکہ کا رنگ بدل جاتا تھا،کبھی شدید ترین بَرہمی کبھی زَجروتَوبیخ(ڈانٹ ڈَپَٹ) اور کبھی تَنبِیہ وسزا اور کبھی مَوعِظۂ حَسَنہ غرض جس مقام پر جو طریقہ بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہمناسِب خیال فرماتے استِعمال میں لاتے تھے۔خواب میں آ کر رہنمائی
--خلیلِ ملّت حضرتِ مفتی محمد خلیل خان برکاتی علیہ رحمۃ الباقی فرماتے ہیں : طَلَبہ کی طرف التِفاتِ تام(یعنی بھر پور توجُّہ )کا اندازہ اس واقِعہ سے لگایئے کہ فقیر کو ایک مرتبہ ایک مسئلہ تحریرکرنے میں اُلجھن پیش آئی،الحمد للہ میرے استاذِ گرامی،حضرتِ صدرُ الشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی نے خواب میں تشریف لا کر ارشاد فرمایا:’’ بہارِ شریعت کافُلاں حصہ دیکھ لو۔‘‘ صبح کو اُٹھ کر بہارِ شریعت اٹھائی اور مسئلہ (مَس۔ئَ۔لہ)حل کر لیا۔ وصال شریف کے بعد فقیر نے خواب میں دیکھا کہ حضرتِ صدرُ الشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی درسِ حدیث دے رہے ہیں ، مسلم شریف سامنے ہے اورشَفاف لباس میں ملبوس تشریف فرما ہیں ، مجھ سے فرمایا: آؤ تم بھی مسلم شریف پڑھ لو۔ ہر طرف علم و ہنر کاآپ سے دریابہا آپ کا احسان اے صدر الشَّریعہ کم نہیںنعت شریف سنتے ہوئے اشک باری
--منقول ہے کہ جب نعت شروع ہوتی تو صدرُالشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی مُؤَدَّب بیٹھ کر دونوں ہاتھ باندھ لیتے اور آنکھیں بند کر لیتے۔انتِہائی وقار و تَمْکِنَت(تَم۔کِ۔نَت) کے ساتھ پُر سکون ہوجاتے اورپورے اِنہِماک وتوجُّہ سے سنتے ۔ پھر کچھ ہی دیر بعد آنکھوں سے سَیلِ اَشک اس طرح جاری ہوجاتے کہ تھمنے کا نام نہ لیتے ۔نعت پڑھنے والا نعت پڑھکر خاموش ہو جاتا اس کے بعد بھی کچھ دیر تک یہی خودفراموشی طاری رہتی۔ متاعِ عشقِ سرکارِ دو عالم ہو جسے حاصل کشِش اِس کیلئے کیا ہو گی دنیا کے خزینے میںحضرتِ شاہِ عالم کا تخت
--حضرتِ سیِّدُنا شاہِ عالم علیہ رَحْمَۃُ اللہ الاکرم بَہُت بڑے عالمِ دین اور پائے کے ولیُّ اللہ تھے۔مدینۃ الاولیا احمد آباد شریف(گجرات الھند) میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نہایت ہی لگن کے ساتھ علمِ دین کی تعلیم دیتے تھے ۔ ایک بار بیمار ہوکر صاحبِ فَراش ہوگئے اور پڑھانے کی چُھٹیاں ہوگئیں ۔ جس کا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکو بے حد افسوس تھا۔ تقریباً چالیس دن کے بعد صحّت یاب ہوئے اور مدرَسے میں تشریف لاکر حسبِ معمول اپنے تخت پر تشریف فرما ہوئے۔ چالیس دن پہلے جہاں سبق چھوڑا تھا وَہیں سے پڑھانا شروع کیا۔طَلَبہ نیمُتَعَجِّب ہوکر عرض کی: حضور: آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے یہ مضمون تو بَہت پہلے پڑھادیا ہے گزَشتہ کل تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فُلاں سبق پڑھایا تھا! یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فورًا مُراقِب ہوئے۔ اُسی وقت سرکارِ مدینہ ، قرارِقلب و سینہ، فیض گنجینہ، صاحِبِ معطَّر پسینہ، باعثِ نُزُولِ سکینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زِیارت ہوئی۔ سرکا ر صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے لبہائے مبارَکہ کو جنبش ہوئی، مُشکبار پھول جھڑنے لگے اور الفاظ کچھ یوں ترتیب پائے: ’’شاہِ عالم! تمہیں اپنے اَسباق رہ جانے کا بہت افسوس تھا لہٰذا تمہاری جگہ تمہاری صورت میں تخت پر بیٹھ کر میں روزانہ سبق پڑھادیا کرتا تھا۔‘‘ جس تخت پر سرکارِنامدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم تشریف فرما ہواکرتے تھے اُس پر اب حضرتِ قبلہ سیِّدُنا شاہِ عالم علیہ رَحْمَۃُ اللہ الاکرم کس طرح بیٹھ سکتے تھے لہٰذا فورًا تخت پر سے اُٹھ گئے۔ تخت کو یہاں کی مسجِد میں مُعَلَّق کردیا گیا۔ اس کے بعد حضرتِ سیِّدنا شاہِ عالم علیہ رَحْمَۃُ اللہ الاکرمکیلئے دوسرا تخت بنایا گیا ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وِصال کے بعد اُس تخت کو بھی یہاں مُعلّق کردیا گیا۔اِس مقام پر دُعاقَبول ہوتی ہے۔مدینے کا مسافر ہند سے پہنچا مدینے میں
--خلیفۂ صدرِ شریعت، پیرِطریقت حضرتِ علاّمہ مولیٰنا حافظ قاری محمد مُصلحُ الدّین صِدّیقی القادِری علیہ رحمۃ اللہ القوی سے میں (سگِ مدینہ عفی عنہ)نے سنا ہے، وہ فرماتے تھے:مُصنّفِ بہارِ شریعت حضرتِ صدرُ الشّریعۃ مولیٰنا محمد امجد علی اعظمی صاحِب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ہمراہ مجھے مدینۃ الاولیا احمدآباد شریف (ھند)میں حضرت سیّد ناشاہ عالم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دربار میں حاضِری کی سعادت حاصِل ہوئی، ان دونوں تختوں کے نیچے حاضرہوئے اوراپنے اپنے دِل کی دعائیں کرکے جب فارِغ ہوئے تو میں نے اپنے پیرومرشِد حضرتِ صدرُالشریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی سے عرض کی:حُضور! آپ نے کیا دعا مانگی؟ فرمایا:’ ’ہر سال حج نصیب ہونے کی۔‘‘ میں سمجھا حضرت کی دُعا کا مَنشا یِہی ہوگا کہ جب تک زِندہ رہوں حج کی سعادت ملے ۔ لیکن یہ دُعا بھی خوب قبول ہوئی کہ اُسی سال حج کا قَصدفرمایا۔ سفینۂ مدینہ میں سَوار ہونے کیلئے اپنے وطن مدینۃ العلماء گھوسی( ضِلع اعظم گڑھ) سے بمبئی تشریف لائے ۔یہاں آپ کو نُمونیہ ہوگیا اورسفینے میں سوار ہونے سے قبل ہی ۱۳۶۷ کے ذیقعدۃُ الحرام کی دوسری شب 12 بجکر 26 مِنَٹ پر بمطابِق6 ستمبر 1948 کوآپ وفات پاگئے۔ مدینے کا مسافِر ہند سے پہنچا مدینے میں ----قدم رکھنے کی بھی نوبت نہ آئی تھی سفینے میں --سبحٰنَ اللہمبارَک تخت کے تحت مانگی ہوئی دُعا کچھ ایسی قبول ہوئی کہ اب آپ اِن شَائَ اللہ عزّوجل قِیامت تک حج کا ثواب حاصِل کرتے رہیں گے۔ خود حضرتِ صدرالشّریعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی مشہور زمانہ کتاب بہارِ شریعت حصّہ6 صَفْحَہ 5پر یہ حدیثِ پاک نقل کی ہے:جو حج کیلئے نکلا اور فوت ہوگیا تو قِیامت تک اُس کے لئے حج کرنے والے کا ثواب لکھا جائے گا اور جو عمرہ کیلئے نکلا اور فوت ہوگیا اُس کیلئے قِیامت تک عمرہ کرنے والے کا ثواب لکھا جائے گا اور جو جہاد میں گیا اور فوت ہوگیا اس کیلئے قِیامت تک غازی کا ثواب لکھا جائے گا۔ (مسند أبي یعلی ج۵، ص۴۴۱حدیث ۶۳۲۷دارالکتب العلمیۃ بیروت) مادَّۂ تاریخ درجِ ذیل آیتِ مبارَکہ آپ کی وفات کامادَّۂ تاریخ ہے۔(پ ۱۴، الحجر۴۵) اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّ عُيُوْنٍ ۷ ۶ ۳ ۱ ھ آپ کا مزار مبارک --بعدِ وفات حضرتِ صدُر الشَّریعہ علیہ رحمۃُ ربِّ الورٰی کے وُجود ِ مسعودکو بذریعۂ ٹرین بمبئی سے مدینۃُ العُلَماء گھوسی لے جایا گیا ۔ وہیں آپ کا مزارِ مبارک مرجعِ خواص وعوام ہے۔ قَبْر شریف کی مِٹّی سے شِفاء مل گئی --مدینۃُ العلَماء گھوسی کے مولانا فخر الدّین کے والِدِ محترم مولانا نِظامُ الدّین صاحِب کے گُردے میں پتھری ہو گئی تھی۔انہوں نے ہر طرح کا علاج کیا لیکن کوئی فائدہ حاصِل نہ ہوا۔ بالآخِرصدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ علیہ رحمۃ اللہ القوی کی قبرِ انور کی مِٹی استعمال کی جس سے الحمد للہ عزوجل ان کے گردے کی پتھری نکل گئی اور شِفاء حاصِل ہو گئی۔ درِامجد سے منگتا کو برابر بھیک ملتی ہے گدا پہنچے،تونگر، یاسوالی علم و حکمت کامزار سے خوشبو
--آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دفن ہونے کے بعد کئی روز بارِش ہوتی رہی چُنانچِہ قبرِ انور پر چٹائیاں ڈال دی گئیں ۔جب 15دن کے بعد مزار تعمیر کرنے کے لئے وہ چٹائیاں ہٹائی گئیں تو خوشبو کی ایسی لپٹیں اٹھیں کہ پوری فَضا معطّر ہو گئی۔یہ خوشبو مسلسل کئی دن تک اٹھتی رہی۔ حقیقت میں نہ کیوں اللہ کا محبوب ہو جائے نہ کھویا عمر بھر جس نے کوئی لمحہ عبادت کا وفات کے بعد صدرُالشَّریعہ کابیداری میں دیدار ہو گیا! --شہزادہ صدرالشریعہ ، محدِّثِ کبیرحضرتِ علّامہ ضیاء المصطَفٰے مصباحی مدظلہ فرماتے ہیں : غالِباً 1391ھ یا1392ھ کا واقِعہ ہے کہ طویل غیر حاضری کے بعد حضرتِ مجاہدِ ملّت مولیٰنا حبیبُ الرحمن اِلہ آبادی علیہ رحمۃ الھادی عرسِ امجدی میں مدینۃ العلماء گھوسی تشریف لائے (حضرت صدرالشریعہ کے) عُرس شریف کے اجلاس میں دورانِ تقریر اپنی مسلسل غیر حاضِری کا سبب بیان کرتے ہوئے آپ ( یعنی حضرت مجاہدِ ملّت ) نے فرمایا کہ عُرس شریف کی آمدپر مجھے ہر سال الحمد للہ عزوجل صدرالشریعہ علیہ الرحمۃ کی زِیارت خواب میں ہوتی رہتی ہے جس کا صاف مطلب یہی تھا کہ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مجھے طلب فرمانا چاہتے ہیں ۔ مگر چندضَروری مصروفیات عین وَقت پر ہمیشہ رُکاوٹ بن جایا کرتی تھیں ۔ امسال بھی حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ کی خواب میں جلال بھرے انداز میں زیارت نصیب ہوئی۔ یہی معلوم ہو رہا تھا کہ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ میرا انتظار فرمارہے ہیں ۔ اِسی دَوران عرسِ امجدی کا دعوت نامہ بھی موصول ہوا ۔ اب بَہَر صورت حاضر ہونا تھا اورہو گیا ۔ ابھی سلسلۂ تقریر جاری تھا۔۔۔۔ کہ آپ( یعنی مجاہدِ ملّت ) اچانک مزار ِاقدس کی طرف مُتَوَجِّہ ہو گئے اور اشک بار آنکھوں کے ساتھ رِقّت انگیز لہجے میں صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ سے مُعافی کے خواستگا رہوئے۔ مجاہدِ ملت کا بیان ختم ہونے کے بعدحضرتِ حافظِ ملت مولیٰنا عبدالعزیز علیہ رحمۃ القوی نے تقریر شروع کی۔ دَورانِ تقریر بے ساختہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زَبان سے یہ جملہ صادر ہوا کہ حضرت ِ صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ بِلا شبہ ولی تھے وہ اب بھی اسی طرح زندہ ہیں جیسے پہلے تھے ابھی ابھی حضرت مجاہدِ ملت نے ان کا دیدار کیا۔ اتنا فرماتے ہی حضرت حافظِ ملّت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سنھبل گئے اور فورا اپنی تقریر کا رُخ موڑ دیا۔چُنانچِہ جو حضرات مُتَوَجِّہ تھے اور جنہیں حضر ت حافظِ ملت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکے کشف و کرامات نیز اندازِبیان کا علم تھا وہ عُقدہ حل کر(یعنی گُتھی سُلجھا)چکے تھے اور انہیں یقین ہو گیا کہ حافظِ ملّت اور مجاہدِ ملّترَحِمَہمااللہ تعالٰی جنہیں حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمۃسے خصوصی قُرب حاصل ہے ان دونوں حضرات کو اس وقت حضرت ِ صدر الشریعہ علیہ الرحمۃکاسر کی آنکھوں سے دیدار نصیب ہوا۔ ؎ کون کہتا ہے ولی سب مر گئے قید سے چھوٹے وہ اپنے گھر گئےبہارِ شریعت
-- صدر الشریعہ ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنیکاپاک وہندکے مسلمانوں پر بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے ضخیم عربی کُتُب میں پھیلے ہوئے فقہی مسائل کوسِلکِ تحریر میں پِرَو کر ایک مقام پر جمع کردیا ۔انسان کی پیدائش سے لے کر وفات تک درپیش ہونے والے ہزارہامسائل کا بیان بہارِ شریعت میں موجود ہے ۔ان میں بے شمار مسائل ایسے بھی ہیں جن کا سیکھنا ہر اسلامی بھائی اور اسلامی بہن پر فرضِ عَین ہے۔اس کی تصنیف کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے صدر الشریعہ علیہ رحمۃربِّ الورٰیلکھتے ہیں :’’اردو زبان میں اب تک کوئی ایسی کتاب تصنیف نہیں ہوئی جو صحیح مسائل پر مشتمل ہو اور ضَروریات کے لئے کافی ووافی ہو۔‘‘ --فقہِ حنفی کی مشہور کتاب فتاوٰی عالمگیری سینکڑوں عُلَمائے دین علیہم رحمۃ اللہ المبین نے حضرت سیِّدُنا شیخ نظام ُالدّین مُلاجِیوَن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نگرانی میں عَرَبی زَبان میں مُرَتَّب فرمائی مگر قُربان جائیے کہ صدرُ الشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی نے وُہی کام اُردُوزبان میں تنِ تنہا کردکھایا اور علمی ذَخائر سے نہ صرف مُفتیٰ بِہٖ اقوال چُن چُن کر بہارِ شریعت میں شامل کئے بلکہ سینکڑوں آیات اور ہزاروں احادیث بھی مُوضوع کی مناسَبَت سے دَرج کیں ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خُود تحدیثِ نعمت کے طور پر ارشاد فرماتے ہیں :’’اگر اَورنگزیب عالمگیر اس کتاب (یعنی بہارِ شریعت) کو دیکھتے تو مجھے سَونے سے تولتے ۔‘‘ --آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مقصد یہ تھا کہ بَرِّصَغیر کے مسلمان اپنے دین کے مسائل سے بآسانی آگاہ ہوجائیں چُنانچِہ ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں :’’اس کتاب میں حتَّی الوَسع یہ کوشش ہو گی کہ عبارت بَہُت آسان ہو کہ سمجھنے میں دِقَّت نہ ہو اور کم علم اور عورَتیں اور بچے بھی اس سے فائدہ حاصل کرسکیں ۔ پھر بھی علم بہت مشکل چیز ہے یہ مُمکِن نہیں کہ علمی دُشواریاں باِلکل جاتی رہیں ضَروربَہُت مَواقِع ایسے بھی رہیں گے کہ اہلِ علم سے سمجھنے کی حاجت ہوگی کم از کم اتنانَفع ضَرور ہو گا کہ اس کا بیان انھیں مُتَنَبِّہ (مُ۔تَ۔نَب۔بِہ۔یعنی خبردار)کرے گا اور نہ سمجھنا سمجھ والوں کی طرف رُجوع کی توجُّہ دلائے گا۔‘‘ --اِس کتاب کا عرصۂ تصنیف تقریباً ستائیس ۲۷ سال کے عرصے پرمُحیط ہے۔ یاد رہے کہ 27 سال کا یہ مطلب نہیں کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ان سالوں میں ہمہ وقت تصنیف میں مشغول رہے بلکہ تعطیلات میں دیگر اُمُور سے وقت بچا کر یہ کتاب لکھتے جس کے سبب اس کی تکمیل میں خاصی تاخیر ہو گئی چُنانچِہ آپ بہارِ شریعت حصّہ17 کے اختِتام پر بعنوان ’’عرضِ حال‘‘میں لکھتے ہیں :’’اس کی تصنیف میں عُمُوماً یہی ہوا کہ ماہ رمضان مبارَک کی تعطیلات میں جو کچھ دوسرے کاموں سے وقت بچتا اس میں کچھ لکھ لیا جاتا۔‘‘بُزُرگوں کے الفاظ بابرکت ہوتے ہیں
--صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے بہارِ شریعت میں مسائل بیان کر کے کئی جگہ فتاوٰی رضویہ شریف کا حوالہ دیا ہے بلکہ بہارِ شریعت حصّہ 6میں اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّتکا لکھا ہوا حج کے احکام پر مشتمل رسالہ’’ انورالبشارہ‘‘ پورا شامل کرلیا ہے اور عقیدت تو دیکھئے کہ کہیں بھی الفاظ میں کوئی تبدیلی نہیں کی تا کہ ایک ولیٔ کامل کے قلم سے نکلے ہوئے الفاظ کی برکتیں بھی حاصل ہوں چُنانچِہ لکھتے ہیں : اعلیٰ حضرت قبلہ قدس سرہٗ العزیز کا رسالہ’’ انورالبشارہ ‘‘پورا اس میں شامل کر دیاہے یعنی متفرق طور پر مضامین بلکہ عبارتیں داخلِ رسالہ ہیں کہ اَوَّلاً :تبرک مقصود ہے ۔دُوُم: اُن الفاظ میں جو خوبیاں ہیں فقیر سے ناممکن تھیں لہٰذا عبارت بھی نہ بدلی۔ (بہارِ شریعت حصّہ 6ص 203مکتبۃ المدینہ،باب المدینہ کراچی ) --صدرُ الشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی مسائلِ شرعِیَّہ کو بہارِ شریعت کے20 حِصّوں میں سمیٹنا چاہتے تھے مگر مکمَّل نہ کرسکے اور اس کیمُتَعَلِّق آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے’’ عرضِ حال‘‘ میں تفصیل بیان کی ہے اور یہ وصیَّت فرمائی ہے کہ : ’’اگر میری اولاد یا تَلامِذہ یا عُلَماء اہلسنّت میں سے کوئی صاحِب اس کاقلیل حصّہ جو باقی رہ گیا ہے اُس کی تکمیل فرمائیں تو میری عَین خوشی ہے۔ ‘‘ چُنانچِہ صدر الشریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی کا خواب شرمندہ ٔ تعبیر ہوااور اس کے بقیّہ تین حصّے بھی چَھپ کر منظر عام پر آ چکے ۔ --اِس تصنیف کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ا علیٰ حضرتعلیہ رحمۃ ُ ربِّ العزّت نے بہار ِشریعت کے دوسرے، تیسرے اور چوتھے حصّے کا مُطالَعَہ فرماکرجو کچھ تحریر فرمایا تھا وہ پڑھنے کے قابل ہے چُنانچِہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں :الحمدﷲ مسائلِ صَحیحہ رَجِیحَہمُحقَّقہ مُنَقَّحَہ پر مشتمل پایا ،آجکل ایسی کتاب کی ضَرورت تھی کہ عوام بھائی سَلیس اردو میں صحیح مسئلے پائیں اور گمراہی و اَغلاط کے مَصنوع ومُلَمَّع زَیوروں کی طرف آنکھ نہ اُٹھائیں ۔‘‘ جس کے دم سے بہارِشریعت ملی ایسے صدرِشریعت پہ لاکھوں سلامعالم بنانے والی کتاب,
--بہار شریعت جہیز ایڈیشن جدید مطبوعہ مکتبہ رضویہ صَفْحَہ12 پر ہے : جگر گوشۂ صدرُ الشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی ،حضرت علّامہ مولانا قاری محمد رضاء المصطفٰی اعظمی مدظلہ العالی فرماتے ہیں : صدرُ الشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی نے بہار شریعت کے ساتھ اس کتاب کانام ’’عالم بنانے والی کتاب‘‘ بھی رکھا۔ جب اِس کتاب کے ستَّرہ حصے تصنیف ہوگئے تو صدرُ الشَّریعہ علیہ رحمۃُ ر بِّ الورٰی نے فرمایا کہ: بہار شریعت کے چھ حصے جن میں روز مرّہ کے عام مسائل ہیں ۔ان چھ حصوں کا ہر گھر میں ہوناضَروری ہے تاکہ عقائد ،طہارت ،نماز ، زکوۃ،روزہ اور حج کے فِقہی مسائل عام فہم سِلیس(یعنی آسان) اردو زبان میں پڑھ کر جائز وناجائز کی تفصیل معلوم کی جائے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ دیگرعلمائے اہلسنَّت نے بھی بہارِشریعت کو’’ عالم بنانے والی کتاب ‘‘ تسلیم کیا ہے۔چُنانچِہ مُحَقِّقِ عصر حضرتِ علامہ مولیٰنا مفتی الحاج محمدنظام الدّین رضوی اطا لَ اللہُ عمرَہٗ( صدر شُعبۂ افتاء، دارالعلوم اشرفیہ مصباح العلوم ، مبارک پور ،ضلع اعظم گڑھ،یوپی ،الھند)۲۸ جمادی الاولیٰ ۱۴۲۹ھ کو جاری کردہ اپنے ایک فتوے میں اِرقام فرماتے ہیں : آج ہمارے عُرف میں جن حضرات پر عالِم، فقیہ، مفتی کا اطلاق ہوتا ہے یہ وُہی لوگ ہیں جو کثیرفُرُوعی مسائل کے حافِظ ہوں اور فِقہ کے بیشتر ضَروری اَبواب پر ان کی نظر ہو،تا کہ جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہو سمجھ جائیں کہ اس کا حکم فُلاں باب میں ملے گا، پھر اسے نکال کربِغیر دوسرے کے سمجھائے بخوبی سمجھ سکیں اور صحیح حکمِ شرعی بتا سکیں ۔ بہارِ شریعت کو’’ عالم بنانے والی کتاب‘‘ اسی لحاظ سے کہاجاتا ہے کہ جو شخص اسے اچھی طرح سمجھ کر پڑھ لے اور اس کے مسائلِ کثیرہ کو ذِہن نشین کرلے تو وہ عالم ہو جائے گا کہ وہ حافِظ فُرُوعِ کثیرہ ہے۔‘‘ --بہارِ شریعت کے اس عظیم علمی ذخیرے کومُفید سے مُفید تربنانے کے لئے اس پر دعوتِ اسلامی کی مجلس، المدینۃ العلمیۃ کے مَدَنی علماء نے تَخریج وتسہیل اور کہیں کہیں حَواشی لکھنے کی سعی کی ہے اور مکتبۃُ المدینہ سے طبع ہو کر ،تادمِ تحریر اس کے 1 تا6 اور سولہواں حصہ منظرِ عام پر آچکے ہیں ۔اب ابتِدائی 6 حصّوں کو ایک جلد میں پیش کیا جارہا ہے ۔اللّہ تعالیٰ دعوتِ اسلامی کی اس خدمت کوقَبول فرمائے اور اِس کا نفع عام فرمائے ۔ ٰٰامین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اعلیٰ حضرت کے کمالِ علم کا عکسِ جمیل-- مظہرِ یکتائی و تحقیق و تمکینِ رضا اہلِ سنّت کا وقار و افتخار اس کا وُجُود اس کی شخصیَّت پہ نازاں ہیں محبینِ رضا ------------ ------ ------------------۱۷جمادی الاخرہ۱۴۲۹ھ -------------- نَزِیل الامارات العربیۃ المتحدۃایک نظر ادھر بھی
--’’بہارشریعت‘‘ کو تصنیف ہوئے تقریباً 92سال ہوچکے ہیں ۔ بعض ناشرین نے بہار شریعت میں لکھی ہوئی اصل املا کوتبدیل کر کے جدید اردو میں تبدیل کردیا ہے ۔مگر ہم نے اس میں لکھی ہوئی املا کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ تاکہ’’ نقل مطابق اصل ‘‘ کے اصول کے تحت ہوجائے۔ لیکن فی زمانہ ان الفاظ کا عام استعمال نہ ہونے کی وجہ سے پڑھنے والے کو دشواری پیش آسکتی تھی۔ اس بات کے پیش نظرشعبۂ تخریج مجلس المدینۃ العلمیۃ (دعوتِ اسلامی) نے حتی المقدور ایسے الفاظ کوایک جگہ جمع کرکے ان کے سامنے فی زمانہ استعمال ہونے والے الفاظ کو تحریر کردیا ہے۔ نمبر شمار --قدیم الفاظ --مستعملہ جدید الفاظ --نمبر شمار --قدیم الفاظ --مستعملہ جدید الفاظ 1 --پتا --پتہ --27--کوئیں --کنویں 2 --تاگا --دھاگا --28--ناج --اناج 3 --تربز --تربوز --29--دہنی --داہنی 4 --پرند --پرندہ --30--دہنا --داہنا 5 --سپید --سفید --31--زائد --زیادہ 6 --سمجھ وال --سمجھ دار --32 --لنبی --لمبی 7 --سوئر --سور --33 --لنبا --لمبا 8 --طیار --تیار --34 --ضرور --ضروری 9 --کوآری --کنواری --35 --شبہہ --شبہ 10 --کوآں --کنواں --36 --مونھ --منہ 11--اکاسی-- اکیاسی --37--اکیانوے-- اکانوے 12--پانسو--پانچ سو----38--پروس--پڑوس 13-- پروا -- پرواہ--39--پھوپی-- پھوپھی 14--دکان--دوکان--40-- دکاندار-- دوکاندار 15--دوانی--دونی--41-- دوپٹا--دوپٹہ 16--ڈھکیل--دھکیل--42-- زن وشو--زن وشوہر 17-- کمل ----کمبل--43-- کھات--کھاد 18-- کیواڑ----کواڑ--44--گھنٹا--گھنٹہ 19--منہدی-- مہندی--45--ناشتا--ناشتہ 20-- ورثہ--ورثا--46--یوہیں --یونہی 21--اوجالا--اجالا--47--اوکھاڑنے --اکھاڑنے 22-- اوڑانا----اڑانا--48-- اُوڑ----اُڑ 23-- اولٹا--الٹا--49-- اونتیس----انتیس 24-- اون----اُن--50--اوس--اُس 25-- فَیر----فائر--51-- اوٹھائیں ----اٹھائیں 26-- اوترا----اترا--52--درم--درہمبہارشریعت کے پہلے چھ حصوں کی اصطلاحات
حصہ اول)۱) کی اصطلاحات 1--عِلْمِ ذاتی--وہ علم کہ اپنی ذات سے بغیرکسی کی عطاکے ہو(اسے’’ علم ذاتی‘‘ کہتے ہیں )،اوریہ صرف اللّٰہ عزوجل ہی کے ساتھ خاص ہے ۔ (ماخوذاز فتاوی رضویہ، ج۲۹،ص ۵۰۳) 2--عِلمِ عطائی---- وہ علم جو اللّٰہ عزوجل کی عطاسے حاصل ہو،اسے’’ علم عطائی‘‘ کہتے ہیں ۔ (ماخوذ ازفتاوی رضویہ، ج۲۹،ص ۵۰۳) 3-- مُعْجِزہ--نبی سے بعد دعویٔ نبوت خلاف عقل وعادت صادر ہونے والی چیزکوجس سے سب منکرین عاجز ہوجاتے ہیں اسے معجزہ کہتے ہیں ۔ (ماخوذازبہارشریعت، ج۱،حصہ۱،ص۵۶) 4-- مُحْکَمْ ----جس کے معنی بالکل ظاہرہوں اوروہی کلام سے مقصودہوں اس میں تاویل یاتخصیص کی گنجائش نہ ہواور نسخ یاتبدیل کااحتمال نہ ہو۔ (تفسیر نعیمی، ج۳،ص۲۵۰) 5-- مُتَشابہ --جس کی مرادعقل میں نہ آسکے اوریہ بھی امیدنہ ہوکہ رب تعالیٰ بیان فرمائے ۔(تفسیر نعیمی ،ج۳ ،ص۲۵۰) 6--اِلہام --ولی کے دل میں بعض وقت سوتے یاجاگتے میں کوئی بات اِلقاہوتی ہے(یعنی دل میں ڈالی جاتی ہے)۔اس کوالہام کہتے ہیں ۔ (بہار شریعت،ج۱، حصہ ۱،ص۳۵) 7-- وحی شیطانی--جوشیطان کی جانب سے کاہن ،ساحر،کفاروفُسّاق کے دلوں میں ڈالی جاتی ہے۔ (ماخوذازبہار شریعت ،ج۱،حصہ ۱،ص۳۶) 8-- اِرہاص--نبی سے جوبات خلافِ عادت اعلانِ نبوت سے پہلے ظاہرہواس کوارہا ص کہتے ہیں ۔(ماخوذ ازبہارشریعت،ج۱،حصہ ۱،ص۵۸) 9-- کرامت--ولی سے جوبات خلافِ عادت صادرہواس کوکرامت کہتے ہیں ۔ (ماخوذ ازبہارشریعت،ج۱، حصہ ۱،ص۵۸) 10-- مَعُونت--عام مومنین سے جوبات خلاف عادت صادرہواس کومعونت کہتے ہیں ۔(ماخوذ ازبہار شریعت،ج۱، حصہ ۱،ص۵۸) 11--اِسْتِدراج--بے باک فُجّاریاکفارسے جوبات ان کے موافق ظاہرہواس کواستدراج کہتے ہیں ۔ (ماخوذ ازبہار شریعت ،ج۱،حصہ ۱،ص۵۸) 12--اِہانت--بے باک فجاریاکفارسے جوبات ان کے خلاف ظاہرہواس کواہانت کہتے ہیں ۔ (ماخوذ ازبہار شریعت ،ج۱،حصہ ۱،ص۵۸) 13--شَفاعَت بالوجاہۃ--مُسْتَشْفَعْ اِلیہ (جس سے سفارش کی گئی ) کی بارگاہ میں شفاعت کرنے والے کوجووجاہت (عزت اورمرتبہ) حاصل ہے اس کے سبب شفاعت کا قبول ہوناشفاعت بالوجاہت ہے۔(ماخوذازشفاعت مصطفی ترجمہ تحقیق الفتوی فی ابطال الطغوی، ص ۷۲) 14--شَفاعت بالمحبۃ--وہ شفاعت جس کی قبولیت کاسببمُسْتَشْفَعْ اِلیہ (جس سے سفارش کی گئی ) کی شفاعت کرنے والے سے محبت ہے۔ (ماخوذازشفاعت مصطفی ترجمہ تحقیق الفتوی فی ابطال الطغوی، ص ۱۴۲ ) 15--شفاعت بالاذن--اس کامعنی یہ ہے کہ جس کے لیے شفاعت کی گئی ہے، شفاعت کرنے والے کومُسْتَشْفَعْ اِلیہکے سامنے اس کی شفاعت پیش کرنے کی اجازت ہو۔ ( شفاعت مصطفی ترجمہ تحقیق الفتوی فی ابطال الطغوی، ص ۱۴۰ ) 16--بَرزخ--دنیااورآخرت کے درمیان ایک اورعالَم ہے جس کو برزخ کہتے ہیں ۔ (بہارشریعت ،ج۱،حصہ ۱،ص۹۸) 17--ایمان--سچے دل سے ان سب باتوں کی تصدیق کرناجوضروریاتِ دین سے ہیں ایمان کہلاتاہے۔(ماخوذ ازبہارشریعت ،ج۱،حصہ ۱،ص۱۷۲) 18--ضروریاتِ دین--اس سے مرادوہ مسائل دین ہیں جن کوہرخاص وعام جانتے ہوں ،جیسے اللّٰہ عزوجل کی وَحْدَانِیَّت،انبیاء علیھم السلام کی نبوت ،جنت ودوزخ وغیرہ۔(ماخوذ ازبہارشریعت ،ج۱،حصہ ۱،ص۱۷۲) 19--ماترید یہ--اہلسنت کاوہ گروہ جو فروعی عقائدمیں امام علم الہدی حضرت ابومنصورمَاتُریْدِی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کا پیروکارہے وہ ماتریدیہ کہلاتا ہے ۔ (ماخوذ ازبہارشریعت ،ج۱،حصہ ۱،ص۱۷۹) 20--اَشاعِرہ--اہلسنت کا وہ گروہ جو فروعی عقائدمیں امام شیخ ابوالحسن اشعری رحمہ اللّٰہ تعالی کا پیروکارہے وہ اشاعرہ کہلاتا ہے۔ (ماخوذ ازبہارشریعت ،ج۱،حصہ ۱،ص۱۷۹) 21-- شرک-- اللّٰہ تبارک وتعالیٰ کی ذات وصفات میں کسی دوسرے کوشریک کرناشرک کہلاتاہے۔(وقارالفتاوی، ج۱، ص ۲۷۰) 22--جِزْیہ--وہ شرعی محصول جواسلامی حکومت اہل کتاب سے ان کی جان ومال کے تَحفُّظ کے عوض میں وصول کرے ۔(ماخوذاز تفسیر نعیمی، ج ۱۰،ص ۲۵۴) 23--تَقلید--کسی کے قول وفعل کواپنے اوپرلازم شرعی جاننا یہ سمجھ کرکہ اس کاکلام اوراس کاکام ہمارے لیے حجت ہے کیونکہ یہ شرعی محقق ہے،جیسے کہ ہم مسائل شرعیہ میں امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ تعالی عنہ کاقول وفعل اپنے لیے دلیل سمجھتے ہیں اور دلائل شرعیہ میں نظرنہیں کرتے۔ (ماخوذازجاء الحق ،ص ۲۲) ٭شرعی مسائل تین طرح کے ہیں (۱)عقائد ،ان میں کسی کی تقلید جائزنہیں (۲)وہ احکام جوصراحۃً قرآن پاک یا حدیث شریف سے ثابت ہوں اجتہاد کوان میں دخل نہیں ،ان میں بھی کسی کی تقلید جائز نہیں جیسے پانچ نمازیں ،نماز کی رکعتیں ،تیس روزے وغیرہ (۳)وہ احکام جوقرآن پاک یا حدیث شریف سے استنباط و اجتہادکرکے نکالے جائیں ،ان میں غیرمجتہد پرتقلید کرناواجب ہے ۔ (ماخوذازجاء الحق ص۲۵،۲۶) 24--قیاس--قیاس کا لغوی معنی ہے اندازہ لگانا،اور شریعت میں کسی فرعی مسئلہ کواصل مسئلہ سے علت اورحکم میں ملادینے کو قیاس کہتے ہیں ۔(ماخوذ ازجاء الحق،ص۴۳) 25--بِدعت--وہ اِعْتِقَادیا وہ اَعمال جو کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام کے زمانہ حیات ظاہری میں نہ ہوں بعد میں ایجاد ہوئے ۔ (جاء الحق، ص ۲۲۱) 26--بدعت مذمومہ--جوبدعت اسلام کے خلاف ہو یاکسی سنت کومٹانے والی ہووہ بدعت سیئہ ہے۔(جاء الحق ،ص ۲۲۶) 27--بدعت مکروہَہ--وہ نیا کام جس سے کوئی سنت چھوٹ جاوے اگرسنت غیرمؤکدہ چھوٹی تویہ بدعت مکروہ تنزیہی ہے اوراگرسنت مؤکدہ چھوٹی تویہ بدعت مکروہ تحریمی ہے۔(جاء الحق، ص ۲۲۸) 28--بدعت حَرام--وہ نیاکام جس سے کوئی واجب چھوٹ جاوے،یعنی واجب کومٹانے والی ہو۔(جاء الحق ،ص ۲۲۸) 29--بدعت مستحبہ--وہ نیاکام جوشریعت میں منع نہ ہواوراس کوعام مسلمان کارِ ثواب جانتے ہوں یاکوئی شخص اس کونیت خیرسے کرے ،جیسے محفل میلاد وغیرہ۔ (جاء الحق، ص ۲۲۶) 30--بدعت جائِز (مُبَاح)--ہروہ نیاکام جوشریعت میں منع نہ ہواوربغیرکسی نیتِ خیرکے کیاجاوے جیسے مختلف قسم کے کھانے کھاناوغیرہ۔(جاء الحق ،ص ۲۲۶) 31--بدعت واجب--وہ نیاکام جوشرعاًمنع نہ ہواور اس کے چھوڑنے سے دین میں حرج واقع ہو،جیسے کہ قرآن کے اعراب اوردینی مدارس اورعلمِ نحو وغیرہ پڑھنا۔ (جاء الحق ،ص ۲۲۸) 32--خلافتِ راشدہ--نبی کریم صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم کے بعد خلیفہ برحق وامام مطلق حضرت سیدناابوبکرصدیق ،پھرحضرت عمرفاروق،پھرحضرت عثمان غنی ،پھرحضرت مولی علی ،پھرچھ مہینے کے لیے حضرت امام حسن مجتبی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنھم ہوئے ،ان حضرات کوخلفائے راشدین اوران کی خلافت کوخلافت راشدہ کہتے ہیں ۔(بہارشریعت ،ج۱،حصہ۱،ص۲۴۱) 33--عشرہ مبشرہ--وہ دس صحابہ جن کوسرکار دوعالم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی زندگی ہی میں ان کوجنت کی بشارت دی۔حضرت ابوبکرصدیق،حضرت عمرفاروق،حضرت عثمان غنی،حضرت علی المرتضی،حضرت طلحہ بن عُبَیْد اللّٰہ ،حضرت زبیربن العوام،حضرت عبدالرحمن بن عوف،حضرت سعدبن ابی وقاص،حضرت سعیدبن زید،حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللّٰہ تعالی عنھم اجمعین ۔ (فتاوی رضویہ ،ج۲۹،ص۳۶۳) 34--خطاء مُقرر--یہ وہ خطاء اجتہادی ہے جس سے دین میں کوئی فتنہ پیدانہ ہوتاہو ،جیسے ہمارے نزدیک مقتدی کاامام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا۔-- (بہارشریعت ،ج۱،حصہ ۱،ص۲۵۶) 35--خطامُنکَر--یہ وہ خطااجتہادی ہے جس کے صاحب پر انکار کیا جائے گا کہ اس کی خطاء باعث فتنہ ہے۔ (بہارشریعت ،ج۱،حصہ ۱،ص۲۵۶) 36--نَذرشرعی---- نذراصطلاح شرع میں وہ عبادت مقصودہ ہے جوجنس واجب سے ہواوروہ خود بندہ پرواجب نہ ہو،مگربندہ نے اپنے قول سے اسے اپنے ذمہ واجب کرلیا،اوریہ اللّٰہ عزوجل کے لیے خاص ہے اس کاپورا کرناواجب ہے۔(ماخوذازفتاوی امجدیہ، حصہ ۲،ص۳۰۹،۳۱۲) 37--نذرلغوی(عرفی)--اولیاء اللّٰہ کے نام کی جونذرمانی جاتی ہے اسے نذرلغوی کہتے ہیں اس کامعنی نذرانہ ہے جیسے کہ کوئی اپنے استاد سے کہے کہ یہ آپ کی نذرہے یہ بالکل جائز ہے یہ بندوں کی ہوسکتی ہے مگراس کاپورا کرناشرعاًواجب نہیں مثلاًگیارہویں شریف کی نذراورفاتحہ بزرگان دین وغیرہ۔ (ماخوذازجاء الحق، ص ۳۱۴) اعلام 1--خوردبین --ایک آلہ جس کے ذریعے چھوٹی سے چھوٹی چیز اپنی جسامت سے کئی گنابڑی نظر آتی ہے۔ 2--گوپھن----رسی کابناہواہتھیارجس میں پتھر یامٹی کے گولے رکھ کراورہاتھ سے گردش دے کراس پتھرکوحریف(دشمن) پرمارتے ہیں ،منجنیق۔ 3--صہبا--ایک جگہ کانام ہے 4--سنکھوں --کئی سوپَدم ،سوکھرب کاایک نیل ہوتاہے اورسونیل کاایک پدم اورسوپدم کاایک سنکھ ہوتاہے۔ حصہ دوم (۲) کی اصطلاحات 1-- عبادتِ مَقْصودہ--وہ عبادت جوخودبالذات مقصود ہوکسی دوسری عبادت کے لیے وسیلہ نہ ہو، مثلاً نماز وغیرہ۔(ماخوذازبہارشریعت،ج۱ ،حصہ۵ ،ص۱۰۱۵) 2--عبادتِ غیرمقصودہ --وہ عبادت جوخودبالذات مقصودنہ ہوبلکہ کسی دوسری عبادت کے لیے وسیلہ ہو۔ (ماخوذازبہارشریعت،ج۱ ،حصہ۵ ،ص۱۰۱۵) 3--فرض--جودلیل قطعی سے ثابت ہویعنی ایسی دلیل جس میں کوئی شُبہ نہ ہو۔ (فتاوی فقیہ ملت، ج۱،ص۲۰۳) 4--دلیل قطعی--وہ ہے جس کاثبوت قرآن پاک یاحدیث متواترہ سے ہو۔ (فتاوی فقیہ ملت، ج۱،ص۲۰۴) 5-- فرض کفایہ --وہ ہوتاہے جوکچھ لوگوں کے اداکرنے سے سب کی جانب سے اداہوجاتاہے اورکوئی بھی ادانہ کرے توسب گناہ گارہوتے ہیں ۔جیسے نمازجنازہ وغیرہ۔ (وقارالفتاوی، ج ۲، ص ۵۷) 6--واجب--وہ جس کی ضرورت دلیل ظنّی سے ثابت ہو۔ (فتاوی فقیہ ملت، ج۱،ص۲۰۴) 7--دلیل ظنی--وہ ہے جس کاثبوت قرآن پاک یاحدیث متواترہ سے نہ ہو،بلکہ احادیث احاد یامحض اقوال ائمہ سے ہو۔(فتاوی فقیہ ملت ،ج۱،ص۲۰۴) 8-- سنت مؤکدہ--وہ ہے جس کوحضورصلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمیشہ کیا ہوالبتہ بیان جواز کے لیے کبھی ترک بھی کیاہو۔(فتاوی فقیہ ملت، ج۱،ص۲۰۴) 9--سنّتِغیر مؤکدہ--وہ عمل جس پر حضورِ اقدس صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مداومت(ہمیشگی) نہیں فرمائی ،اور نہ اس کے کرنے کی تاکیدفرمائی لیکن شریعت نے اس کے ترک کو ناپسند جاناہواور آپ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم نے وہ عمل کبھی کیاہو۔(ماخوذازبہارشریعت ،ج۱،حصہ۲،ص۲۸۳وفتاوی فقیہ ملت، ج۱،ص۲۰۴) 10-- مُستحب--وہ کہ نظرِ شرع میں پسند ہو مگرترک پر کچھ ناپسندی نہ ہو، خواہ خود حضورِ اقدس صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسے کیا یا اس کی ترغیب دی یا علمائے کرام نے پسند فرمایا اگرچہ احادیث میں اس کا ذکر نہ آیا۔ (بہارشریعت،ج۱، حصہ۲،ص۲۸۳) 11-- مُباح--وہ جس کا کرنا اور نہ کرنا یکساں ہو۔ (بہارشریعت،ج۱، حصہ۲،ص۲۸۳) 12--حرام قطعی-- جس کی ممانعت دلیل قطعی سے لزوماً ثابت ہو،یہ فرض کا مُقابِل ہے۔(رکن دین، ص۴،وبہارشریعت،ج۱، حصہ۲،ص۲۸۳) 13-- مکروہ تحریمی-- جس کی ممانعت دلیل ظنی سے لزوماً ثابت ہو،یہ واجب کا مقابل ہے۔(رکن دین ،ص۴ و بہارشریعت،ج۱، حصہ۲،ص۲۸۳) 14--اِسا ء ت--وہ ممنوع شرعی جس کی ممانعت کی دلیل حرام اورمکروہ تحریمی جیسی تو نہیں مگر اس کاکرنا برا ہے،یہ سنّتِ مؤکدہ کے مقابل ہے۔(ہمارااسلام ص ۲۱۵وبہارشریعت،ج۱، حصہ۲،ص۲۸۴) 15--مکروہ تنزیہی-- وہ عمل جسے شریعت ناپسندرکھے مگرعمل پرعذاب کی وعیدنہ ہو۔یہ سنّتِ غیر مؤ کدہ کے مقابل ہے۔(ماخوذازبہارشریعت ،ج۱،حصہ۲،ص۲۸۴) 16--خلاف اَولیٰ--وہ عمل جس کانہ کرنابہترہو۔یہ مستحب کا مقابل ہے۔(ماخوذازبہارشریعت ،ج۱،حصہ۲،ص۲۸۴) 17--حیض-- بالغہ عورت کے آگے کے مقام سے جوخون عادی طور پرنکلتاہے اور بیماری یابچہ پیداہونے کے سبب سے نہ ہوتو اسے حیض کہتے ہیں ۔ (بہارشریعت ،ج۱،حصہ۲،ص۳۷۱ ) 18-- نِفاس----وہ خون ہے کہ جو عورت کے رحم سے بچہ پیداہونے کے بعد نکلتاہے اسے نفاس کہتے ہیں ۔(نورالایضاح ،ص ۴۸) 19--اِسْتحاضہ--وہ خون جوعورت کے آگے کے مقام سے کسی بیماری کے سبب سے نکلے تو اسے استحاضہ کہتے ہیں ۔(ماخوذازبہارشریعت،ج۱ ،حصہ۲،ص۳۷۱) 20--نجاست غلیظہ --وہ نجاست جس پرفقہا کااتفاق ہواوراس کاحکم سخت ہے،مثلاًگوبر،لید ،پاخانہ وغیرہ۔(بہارشریعت ،ج۱،حصہ۲،ص۳۸۹وماخوذ ازبدائع الصنائع ج ۱ص ۲۳۴) 21-- نجاست خفیفہ--وہ نجاست جس میں فقہا کااختلاف ہواوراس کاحکم ہلکاہے جیسے گھوڑے کاپیشاب وغیرہ۔(بدائع الصنائع ،ج ۱،ص ۲۳۴،وبہارشریعت،ج۱ ،حصہ۲ص۳۸۹) 22--مَنی -- وہ گاڑھا سفید پانی ہے جس کے نکلنے کی وجہ سے ذَکرکی تُنْدی اورانسان کی شہوت ختم ہوجاتی ہے۔(ماخوذ ازتحفۃ الفقہاء ج ۱، ص۲۷) 23--مَذِی--وہ سفید رقیق (پتلا)پانی جوملاعبت (دل لگی) کے وقت نکلتاہے۔ (تحفۃ الفقہاء ،ج ۱، ص۲۷) 24--وَدِی --وہ سفیدپانی جوپیشاب کے بعد نکلتاہے۔ (تحفۃ الفقہاء ،ج ۱ ،ص۲۷) 25--معذور--ہر وہ شخص جس کو کوئی ایسی بیماری ہو کہ ایک وقت پورا ایسا گزر گیا کہ وضو کے ساتھ نماز فرض ادا نہ کرسکاتووہ معذورہے۔ (بہار شریعت،ج۱، حصہ۲،ص۳۸۵) 26-- مُباشرتِ فاحشہ--مرد اپنے آلہ کو تندی کی حالت میں عورت کی شرمگاہ یاکسی مرد کی شرمگاہ سے ملائے۔یاعورت ،عورت باہم ملائیں بشرطیکہ کوئی شے حائل نہ ہو۔(بہارشریعت،ج۱، حصہ۲ ،ص۳۰۹) 27--آب جارِی--وہ پانی جو تنکے کو بہاکر لے جائے۔ (بہارشریعت،ج۱، حصہ۲ ،ص۳۳۰) 28--نجاست مرئیہ --وہ نجاست جوخشک ہونے کے بعدبھی دکھائی دے ۔جیسے پاخانہ۔ (ماخوذازبہارشریعت ،ج۱،حصہ ۲،ص۳۳۱ ،۳۳۲ ) 29-- نجاست غیرمرئیہ--وہ نجاست جوخشک ہونے کے بعد دکھائی نہ دے۔جیسے پیشاب۔(ماخوذازبہارشریعت ،ج۱،حصہ ۲،ص۳۳۱ ،۳۳۲ ) 30--مائے مُسْتعمَل--وہ قلیل پانی جس سے حدث دورکیاگیاہویادورہواہویابہ نیت تقرُّب استعمال کیاگیاہو،اوربدن سے جداہوگیاہواگرچہ کہیں ٹھہرانہیں روانی ہی میں ہو۔ (نزہۃ القاری ،ج۲،ص۵۹) 31-- اِستبراء--پیشاب کرنے کے بعد کوئی ایسا کام کرناکہ اگر کوئی قطرہ رکاہوتو گرجائے۔ (بہار شریعت ،ج۱،حصہ۲،ص۴۱۲) 32--حدثِ اصغر--جن چیزوں سے صرف وضولازم ہوتاہے ان کوحدث اصغر کہتے ہیں ۔ (بہارشریعت،ج۱ ،حصہ۲،ص۲۸۲) 33--حدثِ اکبر--جن چیزوں سے غسل فرض ہوان کوحدث اکبر کہتے ہیں ۔(بہارشریعت ،ج۱،حصہ۲،ص۲۸۲) اعلام 1--ناصُور (ناسور) --وہ زخم جوہمیشہ رِستارہتاہے۔اوراچھانہیں ہوتا،جسم میں گہراسوراخ۔ 2--کِلّی--چِچْڑی(ایک کیڑاجوگائے ،بھینس وغیرہ کاخون چوستاہے) 3--جَونک----پانی کاسرخ اورسیاہ رنگ کا ایک کیڑاجوبدن سے چمٹ جاتاہے اورخون چوستاہے ۔ 4--چَھچُوندر--ایک قسم کاچوہا جورات کے وقت نکلتاہے۔ 5--زَبَرجَد--ایک سبزرنگ کازردی مائل پتھر 6--فیروزہ----ایک پتھرجوسبز نیلاہوتاہے۔ 7--عَقیق--ایک سرخ ،زرداورسفیدرنگ کاقیمتی پتھر 8--زُمُرُّد--سبز رنگ کاقیمتی پتھر 9--یاقوت--ایک قیمتی پتھرجوسرخ ،سبز،زرداورنیلے رنگ کاہوتاہے۔ 10--عَنْبَر--ایک ٹھوس مادہ جوباریک پیسنے کے بعدمہکتاہے یاآگ پرڈالنے سے خوشبو نکلتی ہے۔ 11--کافور--سفید رنگ کاشفاف مادہ جوایک خوشبوداردرخت سے نکالا جاتاہے ۔ 12--لوبان--ایک قسم کاگوند جوآگ پررکھنے سے خوشبودیتاہے۔ 13--سِیْسَہ--ایک دھات کانام جورانگ کی قسم سے ہے۔ 14--رَانگ--ایک نرم دھات جس سے ظروف(برتنوں )پرقلعی کی جاتی ہے۔ 15--پِیْلُو--ایک درخت کانام جس کی جڑ اور شاخوں سے مسواک بناتے ہیں ۔ 16--بَرص--ایک بیماری ہے جس کی وجہ سے جسم پر سفید دھبے پیدا ہوجاتے ہیں ۔ 17--کِرمِچ--ایک قسم کاٹاٹ ۔ 18--سُوتالی--موچی کاایک اوزار جس سے چمڑے میں سوراخ کرتے ہیں اوراس کے کٹاؤ میں سوت یاچمڑے کی ڈوری ڈال کر سیتے ہیں ۔-- 19--تاڑِی--ایک سفیدی مائل رس جوتاڑکے درخت سے ٹپکتاہے ۔ 20--تَاڑ--ایک کجھورکی مانند ایک لمبے درخت کانام جس سے تاڑی نکلتی ہے ۔ 21--جِرْیان--ایک بیماری کا نام۔ 22--بَہری--شاہین کی طرح ایک شکاری پرندہ جواکثرکبوتروں کاشکارکرتاہے اورشاہین کے برخلاف نیچے سے بلندہوکرشکارکواوپرسے پکڑتاہے۔-- 23--قاز--ایک آبی پرندہ جس کارنگ خاکی اورٹانگیں پنڈلیوں سمیت لمبی ہوتی ہیں ۔ 24--شورہ--سفیدرنگ کاایک مرکب جوپانی کو ٹھنڈاکرتا ہے اور بارود میں استعمال ہوتاہے۔نمکین ہوتاہے۔ 25--گندھک----زرد رنگ کا ایک مادہ جو زمین سے نکلتاہے ۔ 26--گھونگے----ایک قسم کے دریائی کیڑے کا خول جو ہڈی کی مانند سیپی یا سنکھ کی قسم سے ہے۔ 27--سِیْپ--ایک قسم کی دریائی مخلوق جس کے اندر سے موتی نکلتے ہیں ۔ 28--زَعْفَران--ایک خوشبودارپوداجس کے پھول زردہوتے ہیں ۔ 29--مُشْک--وہ خوشبودار سیاہ رنگ کامادہ جو ہرن کی ناف سے نکلتاہے۔ 30--کَھٹائی--میل کاٹنے کے لیے تیزاب ملاہواپانی۔ 31--کَلی--مُثَلَّثِی تراش کاکپڑا جوپاجاموں اور انگرکھوں میں ڈالتے ہیں ۔ 32--گِلٹ--ایک سفید نیلگوں مرکب دھات جوقلعی اورتانبے کوملاکرتیارکی جاتی ہے۔ 33--سیندھا--پہاڑی نمک 34--نارو-- ایک مرض کا نام جس میں آدمی کے بدن پر دانے دانے ہو کر ان میں سے دھاگہ سا نکلا کرتا ہے-- حصہ سوم (۳) کی اصطلاحات 1-- مرتد--وہ شخص ہے کہ اسلام کے بعد کسی ایسے امر کاانکار کرے جوضروریات دین سے ہو یعنی زبان سے کلمۂ کفر بکے جس میں تاویل صحیح کی گنجائش نہ ہو۔یوہیں بعض افعال بھی ایسے ہیں جن سے کافر ہوجاتاہے مثلاً بت کوسجدہ کرنا،مصحف شریف کونجاست کی جگہ پھینک دینا۔ (بہارشریعت،ج۲، حصہ ۹، ص۴۵۵) 2-- شَفق--شفق ہمارے مذہب میں اس سپیدی کانام ہے جوجانب مغرب میں سرخی ڈوبنے کے بعد جنوباً شمالاً صبح صادق کی طرح پھیلی ہوئی رہتی ہے۔ (بہارشریعت،ج۱، حصہ۳،ص۴۵۱) 3--صبحِ صادق--ایک روشنی ہے کہ مشرق کی جانب جہاں سے آج آفتاب طلوع ہونے والا ہے اس کے اوپر آسمان کے کنارے میں جنوباًشمالاًدکھائی دیتی ہے اور بڑھتی جاتی ہے،یہاں تک کہ تمام آسمان پرپھیل جاتی ہے اورزمین پر اجالا ہوجاتاہے۔ (ماخوذازبہارشریعت ،ج۱،حصہ۳،ص ۴۴۷) 4--صبح کاذب--صبح صادق سے پہلے آسمان کے درمیان میں ایک دراز سفیدی ظاہر ہوتی ہے جس کے نیچے سارا افق سیاہ ہوتاہے پھر یہ سفیدی صبح صادق کی وجہ سے غائب ہوجاتی ہے اسے صبح کاذب کہتے ہیں ۔(ماخوذ از بہارشریعت،ج۱،حصہ۳، ص۴۴۸) 5-- سایہ اصلی--وہ سایہ جونصفُ النَّہارکے وقت (ہر چیزکا)ہوتاہے۔ (فتاوی امجدیہ ،حصہ۱،ص۴۷) 6-- نِصْفُ النَّہار شرعی--طلوع صبح صادق سے غروب آفتاب تک کے نصف کونِصْفُ النَّہار شرعی کہتے ہیں ۔(فتاوی فقیہ ملت، ج۱، ص۸۵) 7--نِصْفُ النَّہار حقیقی(عرفی)--طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کے نصف کو نصف النہارحقیقی کہتے ہیں ۔(فتاوی فقیہ ملت،ج۱، ص۸۵) 8-- ضحوہ ٔکُبریٰ--نصف النہار شرعی کوہی ضحوۂ کبریٰ کہتے ہیں ۔(فتاوی فقیہ ملت،ج۱، ص۸۵) 9-- وقت اِستواء--نصف النہار کاوقت یعنی اس سے مراد ضحوۂ کبریٰ سے لے کر زوال تک پورا وقت مراد ہے۔(فتاوی رضویہ ،ج۵،ص۱۲۶، حاشیہ فتاوی امجدیہ ، حصہ۱، ص۴۹) 10--خطِ استواء--وہ فرضی دائرہ جو زمین کے بیچ وبیچ قطبوں سے برابرفاصلے پرمشرق سے مغرب کی طرف کھینچاہو اماناگیاہے،جب سورج اس خط پر آتاہے تو دن رات برابر ہو تے ہیں ۔ (ماخوذاردولغت،جلد۸،ص۵۹۷) 11--عرض بلد--خط استواء سے کسی بلد کی قریب ترین دوری کوعرض بلد کہتے ہیں ۔ 12--مثل اول--کسی چیزکاسایہ ،سایہ اصلی کے علاوہ اس چیز کے ایک مثل ہوجائے۔ 13-- مثل ثانی-- کسی چیز کاسایہ ،سایہ اصلی کے علاوہ اس چیز کے دومثل ہوجائے ۔ 14--اوقاتِ مکروہہ--یہ تین ہیں ،طلوع آفتاب سے لے کربیس منٹ بعد تک ،غروب آفتاب سے بیس منٹ پہلے اور نصف النہاریعنی ضحوہ ٔکبریٰ سے لے کرزوال تک ۔ (نماز کے احکام، ص۱۹۷) 15--صاحبِ ترتیب--وہ شخص جس کی بلوغت کے بعد سے لگاتارپانچ فرض نمازوں سے زائد کوئی نماز قضانہ ہوئی ہو۔(ماخوذازلغۃ الفقہا، ص۲۶۹) 16-- تَثویب--مسلمانوں کو اذان کے بعدنماز کے لیے دوبارہ اطلاع دیناتثویب ہے۔(ماخوذازفتاوی رضویہ ،ج۵،ص۳۶۱) 17--شرط--وہ شے جوحقیقت شیٔ میں داخل نہ ہولیکن اس کے بغیرشے موجودنہ ہو،جیسے نمازکے لیے وضو وغیرہ۔(ماخوذازفتاوی رضویہ ،ج۱۰،ص ۷۸۶) 18--خُنْثیٰ مشکِل--جس میں مردوعورت دونوں کی علامتیں پائی جائیں اور یہ ثابت نہ ہوکہ مرد ہے یاعورت۔(بہارشریعت،ج۲، حصہ۷ ،ص۴) 19--رکن--وہ چیز ہے جس پرکسی شے کاوجود موقوف ہواور وہ خود اس شے کاحصہ اور جزہوجیسے نماز میں رکوع وغیرہ۔(ماخوذ ازالتعریفات،باب الرائ، ص ۸۲) 20--خُروج بصُنْعِہ--قعدہ اخیرہ کے بعد سلام وکلام وغیرہ کوئی ایسا فعل جومنافی نماز ہوبقصد کرنا۔(بہارشریعت،ج۱، حصہ۳،ص۵۱۶) 21--تَعدِیل ارکان--رکوع وسجود وقومہ وجلسہ میں کم از کم ایک بار سبحان اللّٰہ کہنے کی قدر ٹھہرنا۔(بہارشریعت،ج۱، حصہ۳،ص۵۱۸) 22--قَومہ--رکوع کے بعد سیدھاکھڑاہونا۔ (ماخوذ ازبہارشریعت،ج۱، حصہ۳،ص۵۱۸) 23--جَلسہ--دونوں سجدوں کے درمیان سیدھابیٹھنا۔ (بہارشریعت،ج۱، حصہ۳،ص۵۱۸) 24--محال عادِی --وہ شے جس کاپایاجاناعادت کے طورپرناممکن ہواسے محال عادی کہتے ہیں ،مثلاً کسی ایسے شخص کاہوامیں اڑناجس کوعادۃً اڑتے نہ دیکھاگیاہو۔ (دیکھئے تفصیل المعتقد المنتقد،ص۲۸تا۳۲) 25--محال شرعی----وہ شے جس کاپایاجاناشرعی طورپرناممکن ہواسے محال شرعی کہتے ہیں ،مثلاً کافرکاجنت میں داخل ہوناوغیرہ۔(دیکھئے تفصیل المعتقد المنتقد،ص۲۸تا۳۲ ) 26--طوالِ مُفَصَّل--سورہ حجرات سے سورہ بروج تک طوال مفصل کہلاتاہے۔ (بہارشریعت،ج۱، حصہ۳،ص۵۴۶) 27--اوساط مُفَصَّل--سورہ بروج سے سورہ لم یکن تک اوساط مفصل کہلاتاہے۔ (بہارشریعت،ج۱، حصہ۳،ص۵۴۶) 28--قصار مُفَصَّل--سورہ لم یکن سے آخرتک قصارمفصل کہلاتاہے۔ (بہارشریعت،ج۱، حصہ۳،ص۵۴۶) 29-- اِدْغام--ایک ساکن حرف کودوسرے متحرک حرف میں اس طرح ملاناکہ دونوں حروف ایک مشددحرف پڑھا جائے ۔(علم التجوید،ص۴۱) 30-- تَرْخِیْم--منادیٰ کے آخری حرف کوتخفیفاًگرادیناترخیم کہلاتاہے ۔(ماخوذ ازتسہیل النحوص، ۷۴) 31--غُنّہ--ناک میں آواز لے جاکرپڑھنا۔ (علم التجوید،ص۳۸) 32--اِظْہار--حرف کواس کے مَخْرَج سے بغیر کسی تَغیُّر کے اورغُنّہ کے اداکرنے کوکہتے ہیں ۔ (علم التجوید،ص۴۰) 33--اِخْفاء--اظہاراور ادغام کی درمیانی حالت ۔ (علم التجوید،ص۴۱) 34--مد و لین-- واو، ی، الف ساکن اور ما قبل کی حرکت موافق ہو تو اس کو مدو لین کہتے ہیں ۔ یعنی واو کے پہلے پیش اور ی کے پہلے زیرالف کے پہلے زبر 35--عارِیت--دوسرے شخص کواپنی کسی چیز کی مَنْفعَت کابغیرعوض مالک کردیناعاریت ہے۔(ماخوذ ازبہارشریعت،ج۳، حصہ ۱۴،ص۵۴) 36--مُدْرِک--جس نے اول رکعت سے تشہُّد تک امام کے ساتھ (نماز)پڑھی اگرچہ پہلی رکعت میں امام کے ساتھ رکوع ہی میں شریک ہواہو۔ (بہارشریعت،ج۱، حصہ۳،ص۵۸۸) 37-- لَاحِق--وہ کہ( جس نے )امام کے ساتھ پہلی رکعت میں اقتداکی مگر بعد اقتدا اس کی کل رکعتیں یابعض فوت ہو گئیں ۔ (بہارشریعت،ج۱، حصہ۳،ص۵۸۸) 38-- مَسْبُوق--وہ ہے کہ امام کی بعض رکعتیں پڑھنے کے بعد شامل ہوااور آخر تک شامل رہا۔(بہارشریعت،ج۱، حصہ۳،ص۵۸۸) 39-- لاحق مسبوق--وہ ہے جس کوکچھ رکعتیں شروع میں نہ ملیں ،پھر شامل ہونے کے بعد لاحق ہوگیا۔(ماخوذ از بہارشریعت،ج۱، حصہ۳،ص۵۸۸) 40--تکبیرات تَشْرِیق--عرفہ یعنی نویں ذوالحَجّۃ الحرام کی فجر سے تیرھویں کی عصر تک ہر فرض نمازکے بعدبلند آواز کے ساتھ ایک بار اللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر،لاالہ الا اللّٰہ و اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر وللہ الحمد پڑھنا۔(ماخوذ ازنماز کے احکام ،ص ۴۴۷) 41--عملِ قلیل----جس کام کے کرنے والے کو دورسے دیکھنے والا اس شک وشبہ میں پڑ جائے کہ یہ نماز میں ہے یانہیں توعمل قلیل ہے۔(درمختار،ج۲ ،ص ۴۶۴) 42--عملِ کثیر--جس کام کے کرنے والے کودورسے دیکھنے سے ایسالگے کہ یہ نماز میں نہیں ہے بلکہ گمان بھی غالب ہوکہ نمازمیں نہیں ہے تب بھی عمل کثیرہے۔(درمختارمع ردالمحتار، ج۲، ص ۴۶۴و۴۶۵ ) 43-- تَصْفِیْق--سیدھے ہاتھ کی انگلیاں الٹے ہاتھ کی پشت پرمارنے کو تصفیق کہتے ہیں ۔( ماخوذ ازدر مختار مع ردالمحتار،ج ۲، ص ۴۸۶) 44-- اِعْتِجَار --سرپر رومال یاعمامہ اس طرح سے باندھنا کہ درمیان کا حصہ ننگارہے تویہ اعتجارہے۔(نورالایضاح، ص۹۱) 45--اِسْبَال--تہہ بند یا پائنچے کا ٹخنوں سے نیچے خصوصاً زمین تک پہنچتے رکھنااسبال کہلاتا ہے۔(ماخوذ ازفتاوی رضویہ، ج۲۱،ص ۳۷۶) اعلام 1--گُلِ خیرو--ایک نیلے رنگ کاپھول جوبطوردوااستعمال ہوتاہے۔ 2--کُشتوں --جواہرات یاپارے کی پھنکی ہوئی شکل جوراکھ ہوجاتی ہے اوراسے بطوردوااستعمال کیاجاتاہے۔ 3--گوند--ایک قسم کالیس دار مادہ جودرختوں سے نکلتاہے۔ 4--مِرگی-- ایک اعصابی مرض جس میں آدمی اچانک زمین پرگرکربے ہوش ہوجاتاہے ہاتھ پیرٹیڑھے ہوجاتے ہیں اورمنہ سے جھاگ نکلتاہے۔ 5-- چاندنی--وہ سفید چادر جودری پربچھائی جاتی ہے۔ 6--سائبان--مکان یاخیمے کے آگے دھوپ اوربارش سے بچنے کے لیے ٹین کی چادریں یاپھوس(خشک گھاس) کاچھپر ۔ 7--انگرکھے--ایک لمبامردانہ لبا س جس کے دوحصے ہوتے ہیں ،چولی اوردامن۔ 8--ساڑیاں --ساڑی کی جمع،ایک قسم کی لمبی دھوتی جسے عورتیں آدھی باندھتی اور آدھی اوڑھتی ہیں ۔ 9--بانوں --مُونج (ایک قسم کی گھاس)وغیرہ کی رسی جس سے چارپائی بُنتے ہیں ۔ 10--بلغار--ایک ملک کا نام ہے اس کے بعض علاقوں میں سال میں کچھ راتیں ایسی ہوتی ہیں جن میں عشاء کا وقت آتا ہی نہیں اور بعض دنوں میں سیکنڈوں اور منٹوں کے لئے ہوتاہے ۔ حصہ چہارم (۴) کی اصطلاحات 1--شُفْعِ اوّل شفعِ ثانی--چار رکعت والی نمازکی پہلی دو رکعتوں کو شفع اول اور آخری دو کو شفع ثانی کہتے ہیں ۔(ماخوذازبہارشریعت،ج۱، حصہ۴،ص۶۶۹) 2--اَلْمَعْرُوْفُ کالْمَشْرُوط-- یہ فقہ کاایک قاعدہ ہے کہ معروف مشروط کی طرح ہے یعنی جوچیز مشہور ہووہ طے شدہ معاملے کاحکم رکھتی ہے۔(ماخوذازفتاوی رضویہ، ج۱۹،ص ۵۲۸) 3--اَلْمَعْھُودُ کالْمَشْرُوط--یہ فقہ کاایک قاعدہ ہے کہ معہودمشروط کی طرح ہے یعنی جوبات سب کے ذہن میں ہووہ طے شدہ معاملے کاحکم رکھتی ہے۔ (ماخوذ ازوقارالفتاوی، ج۱،ص۱۹۳) 4--وطنِ اصلی--وطن اصلی سے مراد کسی شخص کی وہ جگہ ہے جہاں اس کی پیدائش ہے یااس کے گھرکے لوگ وہاں رہتے ہیں یاوہاں سَکُونت کرلی اوریہ ارادہ ہے کہ یہاں سے نہ جائے گا۔ (ماخوذازبہارشریعت ج۱،حصہ۴،ص۷۵۰) 5--وطنِ اِقامت--وہ جگہ ہے کہ مسافر نے پندرہ دن یااس سے زیادہ ٹھہرنے کاوہاں ارادہ کیاہو۔(بہارشریعت،ج۱، حصہ۴،ص۷۵۱) 6--شیخِ فَانِی--وہ بوڑھا جس کی عمر ایسی ہوگئی کہ اب روز بروز کمزورہی ہوتاجائے گاجب وہ روزہ رکھنے سے عاجز ہویعنی نہ اب رکھ سکتاہے نہ آئندہ اس میں اتنی طاقت آنے کی امید ہے کہ روزہ رکھ سکے گا(توشیخ فانی ہے)۔(بہارشریعت،ج۱، حصہ۵،ص۱۰۰۶) 7--مُکاتب-- آقااپنے غلام سے مال کی ایک مقدار مقرر کرکے یہ کہہ دے کہ اتنااداکردے توآزاد ہے اورغلام اس کوقبول بھی کرلے تو ایسے غلام کو مکاتب کہتے ہیں ۔(ماخوذ ازبہارشریعت،ج۲،حصہ ۹، ص۲۹۲) 8--ایام تشریق--یومِ نَحْر(قربانی)یعنی دس ذوالحجہ کے بعد کے تین دن(۱۱و۱۲و۱۳) کوایام تشریق کہتے ہیں ۔ (ردالمحتار،ج۳،ص ۷۱) 9--صاحبَیْن--فقۂ حنفی میں امام ابویوسف اور امام محمد رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہما کو صاحبین کہتے ہیں ۔ ( کتب فقہ) 10--اصحاب فرائض--اس سے مرادوہ لوگ ہیں جن کامعیّن حصہ قرآن وحدیث میں بیان کردیاگیاہے۔ ان کواصحاب فرائض کہتے ہیں ۔(تفصیل کے لیے دیکھئے بہارشریعت،ج۳، حصہ ۲۰،ص۱۱۱۴) 11--عَصْبہ--اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کاحصہ مقرر نہیں ،البتہ اصحاب فرائض کودینے کے بعد بچاہواما ل لیتے ہیں اوراگر اصحاب فرائض نہ ہوں تومیت کاتمام مال انھی کاہوتاہے۔(تفصیل کے لیے دیکھئے بہارشریعت،ج۳، حصہ ۲۰،ص۱۱۳۰) 12--ذَوِی الْاَرْحام--قریبی رشتہ دار،اس سے مراد وہ رشتہ دارہیں جونہ تواصحاب فرائض میں سے ہیں اورنہ ہی عصبات میں سے ہیں ۔(تفصیل کے لیے دیکھئے بہارشریعت،ج۳، حصہ ۲۰،ص۱۱۶۱) 13-- لَحد--قبرکھود کراس میں قبلہ کی طرف میّت کے رکھنے کی جگہ بنانے کولحد کہتے ہیں ۔(ماخوذ ازبہارشریعت،ج۱، حصہ۴،ص۸۴۳) 14--شُفعہ--غیرمَنْقول جائیداد کوکسی شخص نے جتنے میں خریدااُتنے ہی میں اس جائیدادکے مالک ہونے کاحق جودوسرے شخص کوحاصل ہوجاتاہے اس کو شفعہ کہتے ہیں ۔ (بہارشریعت، ج۳حصہ ۱۵، ص۲۳۳) 15--جماعت نوافل بِالتّد اعِیْ --تداعی کالغوی معنی ہے ایک دوسرے کوبلانا جمع کرنا،اورتداعی کے ساتھ جماعت کامطلب ہے کہ کم ازکم چار آدمی ایک امام کی اقتداکریں ۔(دیکھئے تفصیل فتاوی رضویہ، ج۷،ص ۴۳۰۔۴۳۷) 16--دارُالْحَرب--وہ دار جہاں کبھی سلطنت اسلامی نہ ہوئی یاہوئی اورپھرایسی غیرقوم کا تسلُّط ہوگیاجس نے شعائراسلام مثل جمعہ وعیدین واذان واقامت وجماعت یک لَخْت اٹھادئیے اورشعائرکُفرجاری کردئیے ،اورکوئی شخص اَمان اول پرباقی نہ رہے اوروہ جگہ چاروں طرف سے دارالاسلام میں گِھری ہوئی نہیں تووہ دارالحرب ہے۔(ماخوذازازفتاو ی رضویہ، ج۱۶، ص۳۱۶،ج۱۷،ص۳۶۷) ٭دارالاسلام کے دارالحرب ہونے کی شرائط : دارالاسلام کے دارالحرب ہونے کی تین شرطیں ہیں (۱)اہل شرک کے احکام علی الاعلان جاری ہوں اور اسلامی احکام بالکل جاری نہ ہوں (۲)دارالحرب سے اس کااِتّصال ہوجائے(۳)کوئی مسلم یاذمی امان اول پر باقی نہ ہو۔ (فتاوی امجدیہ ،حصہ۳، ص۲۳۲) 17--دَارُالاسلام--وہ ملک ہے کہ فی الحال اس میں اسلامی سلطنت ہویااب نہیں توپہلے تھی اورغیرمسلم بادشاہ نے اس میں شعائراسلام مثل جمعہ وعیدین واذان واقامت وجماعت باقی رکھے ہوں تووہ دارالاسلام ہے۔(فتاوی رضویہ ،ج۱۷،ص ۳۶۷) 18--صلٰوۃُ الاَوَّابِین--نمازِ مغرب کے بعدچھ رکعت نفل پڑھنا۔ (ماخوذازبہارشریعت ،ج۱،حصہ۴،ص۶۶۶) 19--تَحیَّۃُ الْمَسْجد--کسی شخص کا مسجد میں داخل ہوکربیٹھنے سے پہلے دویاچاررکعت نمازپڑھنا۔ (ماخوذازبہارشریعت،ج۱، حصہ۴،ص۶۷۴ ) 20--تحیّۃُالوضو--وضوکے بعداعضاء خشک ہونے سے پہلے دورکعت نمازپڑھنا۔ (ماخوذازبہارشریعت،ج۱، حصہ۴،ص۶۷۵) 21--نمازِاِشراق--فجر کی نماز پڑھ کر سورج طلوع ہونے کے کم ازکم ۲۰منٹ بعد دو رکعت نفل ادا کرنا۔ 22--نمازِچاشت--آفتا ب بلند ہونے سے زوال یعنی نصف النھارشرعی تک دویاچاریابارہ رکعت نوافل پڑھنا ۔(ماخوذاز بہار شریعت،ج۱، حصہ۴،ص۶۷۵،۶۷۶) 23--نمازواپسی سفر--سفرسے واپس آکرمسجد میں دو رکعتیں اداکرنا۔(ماخوذازبہارشریعت،ج۱، حصہ۴،ص۶۷۷) 24-- صلاۃُ اللّیل--ایک رات میں بعد نمازعشاجونوافل پڑھے جائیں ان کوصلاۃ اللیل کہتے ہیں ۔(بہارشریعت،ج۱، حصہ۴،ص۶۷۷ ) 25--نمازِتہجّد--نمازعشاپڑھ کرسونے کے بعدصبح صادق طلوع ہونے سے پہلے جس وقت آنکھ کھلے اٹھ کر نوافل پڑھنانمازتہجد ہے۔(ماخوذازفتاوی رضویہ، ج۷،ص ۴۴۶) 26--نمازِاستخارہ--جس کام کے کرنے نہ کرنے میں شک ہو اس کوشروع کرنے سے پہلے دورکعت نفل پڑھنا پھر دعائے استخارہ کرنا۔(دیکھئے تفصیل بہارشریعت،ج۱، حصہ۴،ص۶۸۱،۶۸۲) 27--صَلَاۃالتَّسْبِیْح--چاررکعت نفل جن میں تین سومرتبہ سبحان اللّٰہ والحمدللہ ولاالہ الا اللّٰہ و اللّٰہ اکبر پڑھا جاتا ہے ۔(دیکھئے تفصیل بہار شریعت،ج۱، حصہ۴،ص۶۸۳ ) 28--نمازحاجت--کوئی اہم معاملہ درپیش ہوتواس کی خاطرمخصوص طریقہ کے مطابق دویاچاررکعت نماز پڑھنا ۔ (دیکھئے تفصیل بہارشریعت،ج۱، حصہ۴،ص۶۸۵) 29--صَلاۃُ الْاَسْرَار(نمازغوثیہ)--غوث اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے منقول دورکعت نماز جومغرب کے بعدکسی حاجت کے لیے پڑھی جائے ۔ (دیکھئے تفصیل بہارشریعت،ج۱، حصہ۴،ص۶۸۶ ) 30--نمازتوبہ--توبہ واِسْتِغْفَارکی خاطرنوافل اداکرنا۔ (دیکھئے تفصیل بہارشریعت،ج۱، حصہ۴،ص۶۸۷) 31--صَلاۃُالرّغائِب--رجب کی پہلی شب جمعہ بعدنمازمغرب کے بارہ رکعت نفل مخصوص طریقے سے اداکرنا۔( دیکھئے تفصیل رکن دین، ص۱۳۵) 32--سجدۂ شکر--کسی نعمت کے ملنے پرسجدہ کرنا۔ (ماخوذ ازبہارشریعت ،ج۱،حصہ۴،ص۷۳۸ ) اعلام 1--مِہرگان (مہرجان)--ماہ مہر ( ساتواں شمسی مہینہ)کا سولہواں دن بعض جگہ اکیسواں درج ہے جس میں پارسی (ایرانی) جشن مناتے ہیں جوچھ دن تک جاری رہتا ہے۔ 2--نَیْروز(نوروز)--ایرانی شمسی سال کاپہلادن ،یہ ایرانیوں کی عید کادن ہے۔ 3--شور--وہ زمین جس میں نمک یاشورہ ہو،ناقابل زراعت زمین 4--کُھرپی--چھوٹاکُھرپا(گھاس کھودنے کاآلہ) 5--گوکُھرو--جنگ کاایک ہتھیارہے جولوہے وغیرہ سے بناکرمیدان جنگ میں بچھادیتے ہیں اس پرآدمی یاگھوڑاچلے تواس کے پاؤں میں گُھس جاتے ہیں ۔ 6--سِل--ایک بیماری کانام ہے۔ 7--پوستین --کھال کاکوٹ،چمڑے کاچُغہ 8--زِرہ--فولاد کاجالی دارکُرتاجولڑائی میں پہنتے ہیں ۔ 9--خَود--لوہے کی ٹوپی جولڑائی میں پہنتے ہیں ۔ 10--پَھوڑے(پَھاؤڑے)--کدال،بیلچہ،مٹی کھودنے کاآہنی آلہ ۔ 11-- کولُو (کولُھو) --تیل یارس بیلنے کاآلہ۔ 12--بیسن--چنے کاآٹا،یہ پہلے بطورصابن استعمال ہوتاتھا۔ 13--کُسُم--ایک پھول جس سے شہاب یعنی گہرا سرخ رنگ نکلتاہے اور اس سے کپڑے رنگے جاتے ہیں ۔ حصہ پنجم (۵) کی اصطلاحات 1--حاجتِ اصلیہ--زندگی بسر کرنے میں آدمی کوجس چیزکی ضرورت ہووہ حاجت اصلیہ ہے مثلاًرہنے کامکان،خانہ داری کاسامان وغیرہ۔ (ماخوذ ازبہارشریعت،ج۱، حصہ ۵،ص۸۸۰) 2--سائمہ--وہ جانور ہے جوسال کے اکثرحصہ میں چَر کرگزاراکرتاہواوراس سے مقصود صرف دودھ اوربچے لینایافَربہ کرناہو۔ (ماخوذ ازبہارشریعت،ج۱، حصہ ۵،ص۸۹۲) 3-- ثَمن--بائع اورمشتری آپس میں جوطے کریں اسے ثمن کہتے ہیں ۔(ردالمحتار، ج۷،ص۱۱۷،ماخوذازفتاوی رضویہ، ج۱۰،ص ۱۸۴) 4--قیمت--کسی چیز کی وہ حیثیت جوبازارکے نرخ کے مطابق ہواسے قیمت کہتے ہیں ۔(ماخوذازفتاوی رضویہ ،ج۱۰،ص۱۸۴) 5-- وقف--کسی شے کو اپنی مِلک سے خارج کرکے خالص اللّٰہ عزوجل کی مِلک کردینا اسطرح کہ اُس کانفع بند گانِ خدا میں سے جس کو چاہے ملتارہے۔(بہارشریعت ،ج۲،حصہ ۱۰،ص۵۲۳) 6--صاع-- ایک صاع 4کلومیں سے160گرام کم اورنصف یعنی آدھاصاع 2کلومیں سے 80گرام کم کاہوتاہے۔ 7--رِطل--بیس اِستارکاہوتاہے۔ (فتاوی رضویہ، ج۱۰،ص ۲۹۶) 8 --اِستار-- ساڑھے چارمثقال کاہوتاہے۔ (فتاوی رضویہ، ج۱۰،ص ۲۹۶) 9--مِثْقال--ساڑھے چارماشہ کاوزن (فتاوی رضویہ، ج۱۰،ص ۲۹۶) 10--ماشہ --۸ رتی کا وزن (فتاوی رضویہ، ج۱۰،ص ۲۹۸) 11--رتی --آٹھ چاول کاوزن (فتاوی رضویہ، ج۱۰،ص ۲۹۸) 12--تولہ-- بارہ ماشے کاوزن (فتاوی رضویہ، ج۱۰،ص ۲۹۶) 13--طلاق بائن--وہ طلاق جس کی وجہ سے عورت مردکے نکاح سے فوراًنکل جاتی ہے۔(ماخوذازبہارشریعت،ج۲ ،حصہ ۸، ص ۱۱۱) 14-- خُلع--عورت سے کچھ مال لے کر اس کا نکاح زائل کردیناخلع کہلاتاہے۔(ماخوذازبہارشریعت ،ج۲،حصہ ۸، ص ۱۹۴) 15-- دَینِ قوی--وہ دین جسے عرف میں دستْ گَرْدَاں کہتے ہیں جیسے قرض ،مال تجارت کاثمن وغیرہ۔(ماخوذ ازبہارشریعت ،ج۱،حصہ۵،ص۹۰۵) 16--دَینِ متوسط--وہ دین جوکسی مال غیرتجارتی کابدل ہو،مثلاًگھرکاغلہ یاکوئی اور شے حاجت اصلیہ کی بیچ ڈالی اور اس کے دام خریدار پرباقی ہیں ۔ (ماخوذ ازبہارشریعت،ج۱، حصہ۵،ص۹۰۶) 17--دَینِ ضعیف--وہ دین جوغیرمال کابدل ہومثلاًبدلِ خلع وغیرہ۔ (بہارشریعت،ج۱ ،حصہ۵،ص۹۰۶) 18--عاشِر--جسے بادشاہ اسلام نے راستہ پرمقررکردیاہوکہ تجارجواموال لے کرگزریں ،ان سے صدقات وصول کرے ۔ (بہار شریعت،ج۱ ،حصہ۵،ص۹۰۹) 19--اجارہ--کسی شے کے نفع کا عوض کے مقابل کسی شخص کومالک کردینااجارہ ہے۔(بہارشریعت ،،ج۳،حصہ ۱۴، ص۱۰۷) 20--اجارہ فاسد--اس سے مرادوہ عقد فاسد ہے جواپنی اصل کے لحاظ سے موافق شرع ہومگراس میں کوئی وصف ایساہوجس کی وجہ سے(عقد)نامشروع ہومثلاًمکان کرایہ پردینااورمرمت کی شرط مُسْتاجِر(اجرت پرلینے والے)کے لیے لگانایہ اجارہ فاسدہے۔ (ماخوذ ازبہارشریعت ،ج۳،حصہ ۱۴،ص۱۴۰،۱۴۲) 21--خیارِشرط--بائع اورمشتری کاعقد میں یہ شرط کرنا کہ اگرمنظور نہ ہوا توبیع باقی نہ رہے گی اسے خیارشرط کہتے ہیں ۔(ماخوذازبہارشریعت،ج۲ ،حصہ۱۱ ،ص۶۴۷) 22-- دَینِ مِیْعادی--ایسا قرض جس کے ادا کرنے کا وقت مقرر ہو۔(ماخوذاز فتاوی رضویہ، ج۱۰،ص ۲۴۷) 23--دَیْن مُعَجَّل--وہ قرض جس میں قرض دَہنْدہ (قرض دینے والے)کوہروقت مطالبے کااختیارہوتاہے۔(ماخوذاز فتاوی رضویہ ،ج۱۰،ص۲۴۷) 24--ایامِ مَنْہیَّہ--یعنی عیدالفطر،عیدالاضحی اورگیارہ ،بارہ ،تیرہ ذی الحجہ کے دن کہ ان میں روزہ رکھنامنع ہے اسی وجہ سے انھیں ایام منہیہ کہتے ہیں ۔ (ماخوذاز بہارشریعت،ج۱ ،حصہ۵،ص۱۰۱۵) 25-- ایام بِیْض--چاندکی۱۳،۱۴،۱۵ تاریخ کے دن۔ (ماخوذازبہارشریعت،ج۱ ،حصہ۵،ص۱۰۱۲) 26--خِیارِرؤیت--مشتری کابائع سے کوئی چیز بغیردیکھے خریدنااوردیکھنے کے بعداس چیز کے پسندنہ آنے پربیع کے فَسْخ (ختم)کرنے کے اختیار کوخیاررؤیت کہتے ہیں ۔ (ماخوذازبہارشریعت،ج۲ ،حصہ۱۱، ص۶۶۱) 27--خیارِعیب--بائع کا مبیع کو عیب بیان کئے بغیر بیچنا یامشتری کا ثمن میں عیب بیان کیے بغیر چیز خریدنااور عیب پر مطلع ہونے کے بعداس چیز کے واپس کردینے کے اختیار کو خیار عیب کہتے ہیں ۔(ماخوذازبہارشریعت،ج۲، حصہ۱۱، ص۶۷۳) 28--خراج مُقاسمہ--اس سے مرادیہ ہے کہ پیداوارکاکوئی آدھاحصہ یاتہائی یاچوتھائی وغیرہامقررہو۔ (ماخوذازفتاوی رضویہ، ج۱۰،ص ۲۳۷) 29--خراج مؤظّف--اس سے مرادیہ ہے کہ ایک مقدارمعیّن لازم کردی جائے خواہ روپے یاکچھ اورجیسے فاروق اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے مقررفرمایاتھا۔ (ماخوذازفتاوی رضویہ ،ج۱۰،ص۲۳۷) 30--ذمی --اس کافرکوکہتے ہیں جس کے جان ومال کی حفاظت کابادشاہ اسلام نے جزیہ کے بدلے ذمہ لیاہو۔(فتاوی فیض الرسول، ج۱،ص۵۰۱) 31--مستامن --اس کافر کوکہتے ہیں جسے بادشاہ اسلام نے امان دی ہو۔ (فتاوی فیض الرسول، ج۱،ص۵۰۱) 32-- بیگھہ--زمین کا ایک حصہ یا ٹکڑا جس کی پیمائش عموما تین ہزار پچیس (۳۰۲۵)گز مربع ہوتی ہے،(اردو لغت،ج۲،ص۱۵۶۰) چارکنال ،۸۰ مرلے۔ (فیروز اللغات ،ص۲۷۱) 33-- جَرِیب--جریب کی مقدارانگریزی گزسے ۳۵ گز طول اور۳۵ گزعرض ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج۱۰،ص ۲۳۹) 34--بیع وفا--اس طورپربیع کرناکہ جب بائع مشتری کوثمن واپس کرے تومشتری مبیع کوواپس کردے۔ (ماخوذ ازبہارشریعت ،ج۱،حصہ۵،ص۹۲۰) 35-- فقیر--وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ ہومگرنہ اتناکہ نصاب کوپہنچ جائے یانصاب کی مقدار ہوتواس کی حاجت اصلیہ میں استعمال ہورہا ہو۔(ماخوذ ازبہارشریعت،ج۱، حصہ۵،ص۹۲۴) 36--مسکین--وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہویہاں تک کہ کھانے اوربدن چھپانے کے لیے اس کامحتاج ہے کہ لوگوں سے سوال کرے۔ (بہارشریعت،ج۱، حصہ۵،ص۹۲۴) 37--عامِل-- وہ ہے جسے بادشاہ اسلام نے زکاۃ اورعُشروصول کرنے کے لیے مقررکیاہو۔(بہارشریعت،ج۱، حصہ۵،ص۹۲۴) 38--غارِم--اس سے مراد مدیون (مقروض)ہے یعنی اس پراتنادین ہوکہ اسے نکالنے کے بعد نصاب باقی نہ رہے۔(بہارشریعت،ج۱، حصہ۵،ص۹۲۶) 39--اِبْن سَبِیْل--ایسا مسافر جس کے پاس مال نہ رہاہو اگرچہ اس کے گھرمیں مال موجودہو۔(بہارشریعت،ج۱، حصہ۵،ص۹۲۶) 40--مہرمعجل--وہ مہر جوخَلوت سے پہلے دیناقرارپائے۔ (بہارشریعت، ج۲،حصہ۷ ،ص۷۵) 41--مہرمؤجّل--وہ مہرجس کے لیے کوئی میعاد (مدت)مقرر ہو۔ (بہارشریعت، ج۲،حصہ۷ ،ص۷۵) 42--بنی ہاشم--ان سے مراد حضرت علی وجعفروعقیل اورحضرت عباس وحارث بن عبدالمطلب کی اولادیں ہیں ۔(بہارشریعت ،ج۱،حصہ۵،ص۹۳۱) 43--امّ وَلَد--وہ لونڈی جس کے ہاں بچہ پیداہوااورمولیٰ نے اقرار کیاکہ یہ میرابچہ ہے۔(ماخوذازبہارشریعت،ج۲، حصہ ۹،ص ۲۹۴) 44--صومِ داؤد علیہ السلام--اس سے مراد ایک دن روزہ رکھنااور ایک دن افطارکرناہے۔(ماخوذازبہارشریعت،ج۱، حصہ۵،ص۹۶۶) 45--صومِ سکوت--ایسا روزہ جس میں کچھ بات نہ کرے۔ (بہارشریعت،ج۱، حصہ۵،ص۹۶۶) 46--صومِ وِصال--روزہ رکھ کرافطارنہ کرنااوردوسرے دن پھرروزہ رکھنا(صوم وصال ہے)۔(بہارشریعت،ج۱، حصہ۵،ص۹۶۶) 47--صومِ دَہر-- یعنی ہمیشہ روزہ رکھنا۔ (بہارشریعت،ج۱ ،حصہ۵،ص۹۶۶) 48--یَوْمُ الشّک--وہ دن جوانتیسویں شعبا ن سے متصل ہوتاہے اور چاندکے پوشیدہ ہونے کی وجہ سے ا س تاریخ کے معلوم ہونے میں شک ہوتاہے یعنی یہ معلوم نہیں ہوتا کہ تیس شعبان ہے یا یکم رمضان۔ اسی وجہ سے اسے یوم الشک کہتے ہیں ۔(ماخوذازنورالایضاح، کتاب الصوم،ص۱۵۴) 49-- مَسْتُور--پوشیدہ،مخفی،وہ شخص جس کاظاہرحال مطابق شرع ہو مگر باطن کاحال معلوم نہ ہو۔(ماخوذازبہارشریعت ،ج۱،حصہ۵،ص۹۷۶) 50--شہادۃ علی الشہادۃ--اس سے مرادیہ ہے کہ جس چیزکوگواہوں نے خودنہ دیکھابلکہ دیکھنے والوں نے ان کے سامنے گواہی دی اوراپنی گواہی پرانھیں گواہ کیاانھوں نے اس گواہی کی گواہی دی۔ (ماخوذازفتاوی رضویہ، ج۱۰، ص ۴۰۶) 51--اکراہِ شرعی--اکراہ شرعی یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کوصحیح دھمکی دے کہ اگر توفلاں کام نہ کرے گاتومیں تجھے مار ڈالوں گا یا ہاتھ پاؤں توڑدوں گایاناک ،کان وغیرہ کوئی عضوکاٹ ڈالوں گایاسخت مارماروں گااوروہ یہ سمجھتاہوکہ یہ کہنے والاجوکچھ کہتاہے کرگزرے گا،تویہ اکراہ شرعی ہے۔(ماخوذازبہارشریعت،ج۳، حصہ۵ا،ص۱۸۸) 52--مسجد بیت --گھرمیں جوجگہ نمازکے لیے مقررکی جائے اسے مسجدبیت کہتے ہیں ۔(ماخوذ ازفتاوی رضویہ، ج۲۲، ص۴۷۹) 53-- ظِہار--اپنی زوجہ یااس کے کسی جزوشائع یاایسے جزوکوجوکُل سے تعبیرکیاجاتاہوایسی عورت سے تَشْبِیْہ دیناجواس پرہمیشہ کے لیے حرام ہویااس کے کسی ایسے عضو سے تشبیہ دینا جس کی طرف دیکھناحرام ہو۔مثلاًکہا تومجھ پرمیری ماں کی مثل ہے یاتیراسریاتیری گردن یاتیرانصف میری ماں کی پیٹھ کی مثل ہے۔(بہارشریعت،ج۲ ،حصہ۸،ص۲۰۵) اعلام 1--گنجاسانپ--سانپ جب ہزاربرس کاہوتاہے تواس کے سر پربال نکلتے ہیں اورجب دوہزاربرس کاہوتاہے وہ بال گرجاتے ہیں ۔یہ معنی ہیں گنجے سانپ کے کہ اتناپراناہوگا۔ 2--جھاؤ--ایک قسم کاپوداجودریاؤں کے کنارے پراُگتاہے جس سے ٹوکریاں وغیرہ بنائی جاتی ہیں ۔ 3--خطمی--ایک پوداجس کے پتے بڑے اورکھردرے اورپھول سرخ ،سفیداورمختلف رنگوں کے ہوتے ہیں ،گُل خیرو 4--چُرَٹ--تمباکوکے خشک پتوں کومقررہ طریقے سے تہ بہ تہ لپیٹ کربنائی ہوئی بتی جوسگریٹ کی طرح پی جاتی ہے۔ 5--اَلسی--ایک پودااور اس کے بیج کانام اس کاتیل جلانے وغیرہ کے کام آتاہے۔ 6--علم ہیأت--وہ علم جس میں چاند ،سورج ،ستاروں ،سیاروں کے طلوع وغروب ،کیفیت ووضع ،سمت ومقام کے متعلق بحث کی جاتی ہے۔ 7-- تَوْقِیْت--وہ علم ہے جس کی مدد سے دنیاکے کسی بھی مقام کے لیے طلوع ،غروب،صبح اورعشاء وغیرہ کے اوقات معلوم کیے جاتے ہیں ۔ 8--قمری سال--وہ سال جس کے مہینے چاندکے اعتبارسے ہوتے ہیں ۔جیسے محرم الحرام ،ربیع الاول ۔ 9--ٹِیرِی (ٹیڑی)--ایک قسم کاپَردارکیڑاجواکثرزراعت کونقصان پہنچاتاہے اس کیڑے کی فوج کی فوج فصل پرحملہ کرتی ہے جسے دَل کہتے ہیں ۔ 10--اولا--بخارات کے قطرے جوبارش کے ساتھ برف کی شکل میں آسمان سے گرتے ہیں ۔ 11--ککڑی--ایک قسم کی لمبی اورسبز ترکاری 12--کُندر--ایک قسم کی ترکاری 13--میتھی --ایک قسم کاخوشبودارساگ 14--بِہی--ایک پھل کا نام ہے جو ناشپاتی کے مشابہ ہوتاہے۔ 15--بَید--ایک قسم کادرخت جس کی شاخیں نہایت لچکدار ہوتی ہیں ۔ 16--زِفت--ایک قسم کاسیاہ روغن جسے تارکول کہتے ہیں ۔ 17--نِفْط--وہ تیل جوپانی کے اوپرآجاتاہے۔ 18--جنتریوں --جنتری کی جمع،وہ کتابیں جن میں نجومی ستاروں کی گردش کاسالانہ حال تاریخ وار درج کرتے ہیں ۔ 19--بِنْتِ مخاض--اونٹ کامادہ بچہ جوایک سال کاہوچکاہو،دوسرے برس میں ہو۔ 20--بنت لَبُون--اونٹ کامادہ بچہ جودوسال کاہوچکاہواورتیسرے برس میں ہو۔ 21--حِقَّہ--اونٹنی جوتین برس کی ہوچکی ہو،چوتھے سال میں ہو۔ 22--جِذْعہ--چارسال کی اونٹنی جوپانچویں سال میں ہو۔ 23--تَبِیْع--سال بھرکابچھڑا 24--تبیعَہ--سال بھرکی بچھیا 25--مُسِن--دوسال کابچھڑا 26--مُسِنّہ--دوسال کی بچھیا حصہ ششم (۶) کی اصطلاحات 1--اشہر حج--حج کے مہینے یعنی شَوَّالُ الْمُکَرَّم وذُوالْقَعْدہ دو نوں مکمل اور ذُوالْحِجَّہ کے اِبتدائی دَس دِن ۔(رفیق الحرمین، ص۵۸) 2--احرام--جب حج یا عمرہ یا دو۲ نوں کی نیت کرکے تلبیہ پڑھتے ہیں ،تو بعض حلال چیز یں بھی حرام ہوجاتی ہیں اس کو ’’احرام ‘‘ کہتے ہیں اور مجازاً ان بغیر سلی چادرو ں کو بھی احرام کہا جاتا ہے جنھیں محرِم استعمال کرتا ہے ۔(ایضاً) 3--تَلبِیہ--یعنیلَبَّیْک ط اللھُمَّ لَبَّیْک۔۔۔ الخ پڑھنا۔(ایضاً) 4--اِضطِباع-- احرام کی اوپر والی چادر کوسیدھی بغل سے نکال کر اس طرح الٹے کندھے پر ڈالنا کہ سیدھا کندھا کھلارہے ۔(ایضاً) 5--رَمل--اَکڑ کر شانے(کندھے) ہِلاتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتے ہوئے قدرے (یعنی تھوڑا) تیزی سے چلنا۔ (ایضاً) 6--طواف-- خانۂ کعبہ کے گرد سات چکّر لگانا، ایک چکّر کو ’’شَوْط‘‘ کہتے ہیں ، جمع ’’اَشْواط‘‘۔ (ایضاً) 7--مَطاف--جس جگہ میں طواف کیا جاتا ہے ۔ (ایضاً،ص۵۹) 8--طوافِ قُدوم--مَکَّۂ مُعَظَّمہ زَادَھَا اللّٰہ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً میں داخِل ہونے پر کیا جانے والا وہ پہلا طواف جو کہ ’’اِفراد‘‘ یا ’’قِران‘‘ کی نیَّت سے حج کرنے والوں کے لئے سنّتِ مُؤَکَّدہ ہے۔ (ایضاً) 9--طوافِ زِیارۃ--اِسے طوافِ اِفاضہ بھی کہتے ہیں ، یہ حج کا رُکن ہے ، اِس کا وَقت 10ذُوالْحِجَّۃِ الحرام کی صبحِ صادق سے 12 ذُوالْحِجَّۃِ الحرام کے غُروبِ آفتاب تک ہے مگر 10ذُوالْحِجَّۃِ الحرامکو کرنا اَفضَل ہے۔(ایضاً) 10--طوافِ وداع--اسے’’ طواف ِ رخصت ‘‘ اور’’ طوافِ صَدر‘‘ بھی کہتے ہیں ۔ یہ حج کے بعد مَکَّۂ مکرّمہ زَادَھَا اللّٰہ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً سے رُخصت ہوتے وَقت ہر آفاقی حاجی پر واجِب ہے۔(ایضاً) 11--طوافِ عمر ہ -- یہ عمرہ کرنے والوں پر فر ض ہے ۔ (ایضاً) 12--اِستِلام -- حجرِا سود کو بو سہ دینا یا ہاتھ یا لکڑی سے چھو کر ہاتھ یا لکڑی کو چوم لینا یا ہاتھوں سے اس کی طر ف اشارہ کر کے انہیں چو م لینا ۔ (ایضاً) 13--سَعْی--’’صَفا‘‘اور’’مَروَہ‘‘کے مابَین(یعنی درمیان) سات پھیرے لگا نا (صَفا سے مَروہ تک ایک پھیرا ہوتا ہے یوں مَروہ پر سات چکَّر پورے ہوں گے) (ایضاً) 14--رَمْی-- جمرات (یعنی شیطانوں )پر کنکریاں مارنا۔ (ایضاً،ص۶۰) 15--حَلْق-- احرام سے باہر ہونے کے لئے حدو د حرم ہی میں پورا سر منڈوانا۔ (ایضاً) 16--قَصْر--چوتھائی(ــــ۱۴ ) سر کا ہر بال کم از کم انگلی کے ایک پورے کے برابر کتروانا۔ (ایضاً) 17--مسجدُ الْحرام--مَکَّۂ مکرّمہ زَادَھَا اللّٰہ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً کی وہ مسجِد جس میں کعبۂ مُشَرَّفہ واقِع ہے۔ (ایضاً) 18--بابُ السَّلام--مسجِدُ الحرام کا وہ دَروازۂ مُبارَکہ جس سے پہلی بار داخِل ہونا افضل ہے اور یہ جانِبِ مشرق واقع ہے۔(اب یہ عُمُوماً بند رہتا ہے) (ایضاً) 19--کعبہ--اِسے ’’بَیْتُ اللّٰہ ‘‘بھی کہتے ہیں یعنی اللّٰہ عزوجل کاگھر۔ یہ پوری دُنیا کے وَسط(یعنی بیچ) میں واقع ہے اور ساری دُنیا کے لوگ اِسی کی طرف رُخ کرکے نَماز ادا کرتے ہیں اور مسلمان پروانہ وار اِس کا طواف کرتے ہیں ۔(ایضاً) 20--رکنِ اَسْوَد--جُنُوب و مشرق (SOUTH EAST) کے کونے میں واقِع ہے، اِسی میں جنَّتی پتَّھر ’’حَجرِ اَسْوَد‘‘ نَصْب ہے۔(ایضاً) 21--رکنِ عِراقی--یہ عراق کی سَمْت شِمال مشرقی (NORTH-EASTERN) کونا ہے ۔ (ایضاً) 22--رکن شامی --یہ ملکِ شام کی سمت شمال مغرِبی (NORTH-WESTERN) کو نا ہے۔ (ایضاً) 23--رکنِ یَمانی--یہ یَمَن کی جانِب مغرِبی(WESTERN )کو نا ہے۔ (ایضاً،ص۶۱) 24--بابُ الکعبہ-- رکن اسودا ور رکن عراقی کے بیچ کی مشرقی دیوار میں زمین سے کافی بلند سو نے کا دروازہ ہے ۔ (ایضاً) 25--مُلْتَزَم-- رکن اسوداور باب الکعبہ کی درمیانی دیوار ۔ (ایضاً) 26--مُسْتَجار-- رکن یمانی او رشامی کے بیچ میں مغربی دیوار کا وہ حصہ جو ’’ملتزم‘‘ کے مقابل یعنی عین پیچھے کی سیدھ میں واقع ہے۔(ایضاً) 27--مُسْتَجاب--رُکنِ یَمانی اور رُکنِ اَسْوَد کے بیچ کی جُنُوبی دیوار یہاں ستَّر ہزار فِرِشتے دُعاپر اٰمین کہنے کے لئے مقرَّر ہیں ۔ اِسی لئے سَیِّدی اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰننے اِس مقام کانام ’’مُستَجاب‘‘ (یعنی دُعا کی مقبولیَّت کی جگہ)رکھا ہے۔ (ایضاً) 28--حَطِیم--کعبۂ مُعَظَّمہ زَادَھَا اللّٰہ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً کی شمالی دیوار کے پاس نِصف (یعنی آدھے )دائرے(HALF CIRCLE) کی شکل میں فَصِیل (یعنی باؤنڈری ) کے اندر کا حصَّہ۔’’حطیم‘‘کعبہ شریف ہی کاحصَّہ ہے اور اُس میں داخِل ہونا عَین کعبۃُ اللّٰہ شریف میں داخِل ہونا ہے۔ (ایضاً) 29--مِیْزاب رَحْمت--سونے کا پَرنالہ یہ رُکنِ عراقی وشامی کی شمالی دیوارکی چھت پر نَصب ہے اِس سے بارِش کاپانی’’حطیم‘‘میں نچھاوَر ہوتا ہے۔ (ایضاً) 30--مَقامِ اِبراھیم--دروازۂ کَعْبہ کے سامنے ایک قُبَّے(یعنی گنبد) میں وہ جنَّتی پتھر جس پر کھڑے ہو کر حضرتِ سَیِّدُنا اِبراہیم خلیلُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کَعبہ شریف کی عمارَت تعمیر کی اور یہ حضرتِ سَیِّدُنا اِبراہیم خلیلُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا زِندہ مُعجِزہ ہے کہ آج بھی اِس مُبارَک پتَّھر پر آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے قَدَمَین شَرِیفَین کے نَقش موجود ہیں ۔ (ایضاً، ص۶۲) 31--بِیرِزَم زَم--مَکَّۂ مُعَظَّمہ زَادَھَا اللّٰہ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً کا وہ مقدَّس کُنواں جو حضرتِ سَیِّدُنا اِسمٰعیل عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے عالم طُفُولِیَّت(یعنی بچپن شریف ) میں آپ کے ننھّے ننھّے مُبارَک قدموں کی رَگڑ سے جاری ہوا تھا۔(تفسیرِ نعیمی ج۱ ص۶۹۴ ) اِس کا پانی دیکھنا، پینا اور بدن پرڈالنا ثواب اور بیماریوں کے لئے شِفا ہے۔یہ مُبارَک کنواں مقامِ ابراہیم سے جُنُوب میں واقِع ہے۔( اب کُنویں کی زیارت نہیں ہو سکتی) (رفیق الحرمین ص۶۱) 32--بابُ الصَّفا-- مسجد الحرام کے جنوبی دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے ۔جس کے نزدیک ’’کوہ صفا ہے ‘‘۔(ایضاً) 33--کوہِ صَفا--کَعْبۂ مُعَظَّمہ زَادَھَا اللّٰہ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً کے جُنُوب میں واقع ہے۔ (ایضاً) 34--کوہ مَروہ-- کوہ صفا کے سامنے واقع ہے ۔ (ایضاً) 35--مِیْلَیْن اَخْضَرَیْن--یعنی ’’دو سَبز نِشان‘‘۔ صَفا سے جانِبِ مروہ کچھ دُور چلنے کے بعد تھوڑے تھوڑے فاصِلے پر دونوں طرف کی دیواروں اور چھت میں سَبْز لائٹیں لگی ہوئی ہیں ۔ان دونوں سَبز نشانوں کے دَرمِیان دَورانِ سَعی مَردوں کو دوڑنا ہوتا ہے۔(ایضاً،ص۶۳) 36--مَسْعٰی-- میلین اخضر ین کا درمیانی فاصلہ جہاں دوران سعی مرد کو دوڑنا سنت ہے ۔ (ایضاً) 37--مِیقات--اُس جگہ کو کہتے ہیں کہمَکَّۂ مُعَظَّمہ زَادَھَا اللّٰہ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً جانے والے آفاقی کو بِغیراِحرام وہاں سے آگے جانا جائز نہیں ، چاہے تجارت یا کسی بھی غرض سے جاتاہو، یہاں تک کہمَکَّۂ مکرَّمہ زَادَھَا اللّٰہ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً کے رہنے والے بھی اگر مِیقات کی حُدُود سے باہَر (مَثَلاً طائِف یا مدینہ مُنَوَّرَہ)جائیں تو اُنھیں بھی اَب بِغیر اِحرام مَکَّۂ پاک زَادَھَا اللّٰہ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً آنا ناجائز ہے۔ (ایضاً) 38--ذُوالْحُلَیْفَہ--مدینہ شریف سے مَکَّۂ پاک کی طرف تقریباً10 کلومیٹر پر ہے جو مدینۂ مُنَوَّرَہ زَادَھَا اللّٰہ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً کی طرف سے آنے والوں کے لئے ’’مِیْقات‘‘ہے۔ اَب اِس جگہ کانام ’’اَبیارِ علی‘‘کَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ہے۔(ایضاً) 39--ذاتِ عِرق-- عراق کی جانب سے آنے والوں کے لئے میقات ہے ۔ (ایضاً،ص۶۴) 40--یَلَمْلَم--یہ اہلِ یمن کی میقات ہے اورپاک وہندوالوں کے لئے میقات یَلَمْلَم کی مَحاذات ہے۔ (ایضاً) 41--جُحْفَہ-- ملک شام کی طر ف سے آنے والوں کیلئے میقات ہے ۔ (ایضاً) 42--قَرْنُ الْمَنازِل-- نجد (موجودہ ریاض)کی طرف آنے والوں کے لئے میقات ہے ۔ یہ جگہ طائف کے قریب ہے ۔ (ایضاً) 43--آفاقی-- وہ شخص جومیقات کی حدو د سے باہر رہتا ہو۔ (ایضاً) 44--تَنْعِیم--حُدودِ حرم سے خارج وہ جگہ جہاں سے مَکَّۂ مکرَّمہ زَادَھَا اللّٰہ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً میں قِیام کے دَوران عُمرے کے لئے اِحرام باندھتے ہیں اور یہ مَقام مسجِدُالحرام سے تقریباً 7 کلومیٹر جانِبِ مدینۂ مُنَوَّرہ زَادَھَا اللّٰہ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً ہے، اب یہاں مسجد ِعائشہ بنی ہوئی ہے۔ اِس جگہ کو عوام ’’چھوٹاعُمرہ‘‘کہتے ہیں ۔ (ایضاً) 45--جعرانہ--حُدودِ حرم سے خارجمَکَّۂ مکرَّمہ زَادَھَا اللّٰہ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً سے تقریباً 26 کلومیٹر دُور طائِف کے راستے پر واقِع ہے۔یہاں سے بھی دَورانِ قِیامِ مَکَّہ شریف عُمرے کا اِحرام باندھا جاتا ہے۔ اِس مقام کو عوام ’’بڑا عُمرہ‘‘کہتے ہیں ۔(ایضاً، ص۶۵) 46--حَرَم --مَکَّۂ مُعَظَّمہ زَادَھَا اللّٰہ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً کے چاروں طرف مِیلوں تک اِس کی حُدُود ہیں اور یہ زمین حُرمَت و تَقَدُّس کی وجہ سے ’’حَرَم‘‘کہلاتی ہے۔ ہر جانب اِس کی حُدُود پر نشان لگے ہیں ۔ حرم کے جنگل کا شکار کرنا نیز خود رَو دَرَخت اور تَر گھاس کاٹنا، حاجی، غیرِحاجی سب کے لئے حرام ہے۔ جو شخص حُدُودِ حَرَم میں رہتا ہو اُسے ’’حَرَمی‘‘یا ’’اَہلِ حَرَم‘‘کہتے ہیں ۔ (ایضاً، ص۶۴) 47--حِل--حُدُودِحَرَم کے باہَر سے مِیقات تک کی زمین کو ’’حِل‘‘کہتے ہیں ۔ اِس جگہ وہ چیزیں حَلال ہیں جو حَرَم کی وجہ سے حُدود حَرَم میں حرام ہیں ۔ زمینِ حِل کا رہنے والا ’’حِلّی‘‘کہلاتا ہے۔ (ایضاً) 48--مِنٰی--مسجدُالحرام سے پانچ کلو میٹر پر وہ وادی جہاں حاجی صاحِبان ایّامِ حج میں قِیام کرتے ہیں ۔ ’’مِنٰی‘‘حَرَم میں شامل ہے۔ (ایضاً،۶۵) 49--جَمَرات--مِنٰی میں واقِع تین مقامات جہاں کنکریاں ماری جاتی ہیں ۔ پہلے کا نام جَمْرَۃُ الْاُخْریٰیاجَمْرَۃُ الْعَقَبَہہے۔ اِسے بڑا شیطان بھی بولتے ہیں ۔ دوسرے کو جَمْرَۃُ الْوُسْطٰی (مَنجھلا شیطان)اور تیسرے کو جَمْرَۃُ الْاُولٰی (چھوٹا شیطان)کہتے ہیں ۔(ایضاً) 50--عَرَفات--مِنٰی سے تقریباًگیارہ کلومیٹر دُور میدان جہاں 9 ذُوالْحِجَّہکو تمام حاجی صاحِبان جمع ہوتے ہیں ۔ عَرَفات شریف حُدودِ حَرَم سے خارِج ہے۔ (ایضاً) 51--جَبَلِ رَحمت --عَرَفات شریف کا وہ مقَدَّس پہاڑ جس کے قریب وُقوف کرنا افضل ہے۔(ایضاً) 52--مُزْدَلِفَہ--’’مِنٰی‘‘سے عَرَفات کی طرف تقریباً 5 کلومیٹر پر واقِع میدا ن جہاں عَرَفات سے واپَسی پررات بسر کرنا سُنَّتِ مُؤَکدہ اور صبحِ صادِق اور طلوعِ آفتاب کے دَرمِیان کم اَز کم ایک لمحہ وُقوف واجِب ہے۔(ایضاً، ص۶۶) 53--مُحَسِّر--مُزدلِفہ سے ملاہوا میدان، یہیں اَصحابِ فیل پر عذاب نازِل ہوا تھا۔ لہٰذا یہاں سے گزرتے وقت تیزی سے گزرنا اور عذاب سے پناہ مانگنی چاہئے۔ (ایضاً) 54--بطنِ عُرَنہ--عرفات کے قریب ایک جنگل جہاں حاجی کا وقوف درست نہیں ۔ (ایضاً) 55--مَدْعٰی--مسجدِحرام اور مَکَّۂ مکرَّمہ زَادَھَا اللّٰہ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً کے قبرِستان ’’جَنَّتُ الْمَعْلٰی‘‘کے مابَیْن(کی درمیانی) جگہ جہاں دعا مانگنا مُسْتحب ہے۔ (ایضاً) 56-- دَم-- یعنی ایک بکرا (اس میں نر ، مادہ ، دنبہ ، بھیڑ ، نیز گائے یااونٹ کا ساتو اں حصہ سب شامل ہیں )۔(ایضاً، ص۲۲۸) 57-- بَدَنہ-- یعنی اونٹ یا گائے۔ یہ تمام جانور ان ہی شرائط کے ہوں جو قربانی میں ہیں ۔(رفیق الحرمین ،ص۲۲۸) 58--صدقہ-- یعنی صدقہ فطر کی مقدار(آج کل کے حساب سے دو کلو تقریباً پچاس گرام گیہوں یا اس کا آٹا یا اس کی رقم یا اس کے دگنے جو یا کھجور یا اس کی رقم )۔ (ایضاً) 59--مرضُ الْموت--کسی مرض کے مرض الموت ہونے کے لیے دوباتیں شرط ہیں ۔ایک یہ کہ اس مرض میں خوف ہلاک واندیشۂ موت قوت وغلبہ کے ساتھ ہو،دوم یہ کہ اس غلبۂ خوف کی حالت میں اس کے ساتھ موت متصل ہواگرچہ اس مرض سے نہ مرے،موت کاسبب کوئی اورہوجائے ۔ (ماخوذازفتاوی رضویہ، ج۲۵،ص ۴۵۷) 60--مُدَبَّر--وہ غلام جس کی نسبت مولیٰ نے کہاکہ تومیرے مرنے کے بعدآزادہے۔(بہارشریعت،ج۲ ،حصہ ۹ ،ص۲۹۰) 61--حجِ بدل--نیابۃً(نائب بن کر) دوسرے کی طرف سے حج فرض اداکرناکہ اس پرسے فرض کوساقط کرے۔ (ماخوذازفتاوی رضویہ، ج۱۰،ص ۶۵۹) 62--نَحر--اونٹ کوکھڑاکرکے سینے میں گلے کی انتہاپرتکبیرکہہ کرنیزہ مارنااس کونحر کہتے ہیں ۔(ماخوذازبہارشریعت،ج۱، حصہ ۶،ص۱۱۴۱) 63--اِلْمَامِ صحیح--مُتمتّع کاعمرہ کے بعد احرام کھول کراپنے وطن کوواپس جانا۔ (ماخوذ ازبہارشریعت،ج۱، حصہ ۶،ص۱۱۵۸) 64--جُرمِ غیر اختیاری --اگربیماری ،سخت سردی،سخت گرمی ،پھوڑے اورزخم یاجووں کی شدید تکلیف کی وجہ سے کوئی جرم ہوا تواسے جرم غیراختیاری کہتے ہیں ۔ (ماخوذازبہارشریعت،ج۱، حصہ ۶،ص۱۱۶۲) 65--چارپہر--اس سے مراد ایک دن یاایک رات کی مقدارہے مثلاً طلوع آفتاب سے غروب آفتاب اور غروب آفتاب سے طلوع آفتاب یادوپہر سے آدھی رات یا آدھی رات سے دوپہر تک۔ (حاشیہ فتاوی رضویہ، ج۱۰، ص ۷۵۷) 66-- مُحْصَر--جس نے حج یاعمرہ کااحرام باندھامگرکسی وجہ سے پورانہ کرسکا،اسے مُحصَر کہتے ہیں ۔(بہارشریعت،ج۱، حصہ ۶،ص۱۱۹۵) 67--ہَدِی --اس جانور کوکہتے ہیں جوقربانی کے لیے حرم کولے جایاجائے۔ (بہارشریعت، ج۱،حصہ ۶،ص۱۲۱۳) 68--مُد--ایک پیمانہ جووزن میں دورطل ہوتاہے۔ (ماخوذ ازفتاوی رضویہ، ج۱۰،ص۲۹۶) 69--حجِ قِران--حج وعمرہ (دونوں )کے احرام کی نیت کرے اسے قران کہتے ہیں اوراس حج کرنے والے کوقارِن کہتے ہیں ۔(ماخوذ ازفتاوی رضویہ، ج۱۰،ص۸۱۴) 70--حجِ تَمتُّع --مکہ معظمہ میں پہنچ کراشہرالحج (یکم شوال سے دس ذی الحجہ )میں عمرہ کرکے وہیں سے حج کا احرام باندھے۔اسے تمتع کہتے ہیں اوراس حج کرنے والے کومُتمتّع کہتے ہیں ۔(ماخوذ ازفتاوی رضویہ، ج۱۰،ص۸۱۴) 71-- حجِ افراد--جس میں صرف حج کیاجاتاہے۔اسے حج افراد کہتے ہیں اوراس حج کرنے والے کومُفرِد کہتے ہیں ۔(ماخوذازفتاوی رضویہ، ج۱۰،ص۸۱۳) 72--زادِراہ--توشہ اور سواری،اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ چیزیں اُس کی حاجت یعنی مکان و لباس اور خانہ داری کے سامان وغیرہ اور قرض سے اتنی زائدہوں کہ سواری پر جائے اور وہاں سے سواری پر واپس آئے اور جانے سے واپسی تک عیال کا نفقہ اور مکان کی مرمت کے لیے کافی مال چھوڑجائے ۔ (ماخوذازبہارشریعت،ج۱، حصہ۶،ص۱۰۳۹،۱۰۴۰) 73-- جِنایت--اس سے مراد وہ فعل ہے جوحَرم یااِحْرام کی وجہ سے منع ہو۔جیسے احرام کی حالت میں شکارکرنا،حرم میں کسی جانورکوقتل کرنا۔ (ماخوذازدرمختار،ج۳،ص۶۵۰) 74--ذی الحلیفہ--مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلہ پر ایک مقام کا نام ہے ،یہی اصح ہے (مرقاۃ ) اعلام 1--قُطب نما--وہ آلہ جس سے قطب کی سمت معلوم کی جاتی ہے۔ 2--شَبری--حجاز مقدس کا ایک قسم کامَحْمَل (کَجاوا)۔ 3--پارہ--ایک رقیق اورہروقت متحرک رہنے والی دھات جوسفید اوربھاری ہوتی ہے۔ 4--مَشْعرِ حرام--مزدلفہ کے قریب ایک پہاڑکانام ہے جسے جبل قُزَح بھی کہتے ہیں ۔ 5--صَنْدل--ایک قسم کی خوشبودارلکڑی 6--بیلے--یاسمین،چنبیلی کی قسم کاایک پھول-- 7--چمیلی--(چنبیلی) ایک سفید یازردرنگ کاخوشبودارپھول۔ 8--جُوہی--چنبیلی جیسے خوشبودارپھول جواس سے ذراچھوٹے ہوتے ہیں ۔ 9--خمیرہ تمباکو--ایک قسم کاخوشبودارپینے کاتمباکو 10--گھونس--چوہے کی طرح کاایک جانورجوچوہے سے ذرابڑاہوتاہے۔ 11--بِجو--ایک قسم کاگوشت خورجانورجودن بھربِلوں میں رہتاہے اوررات کوباہرنکلتاہے اسکی آنکھیں چھوٹی ہوتی ہیں ۔ 12--تیندوا--بھیڑیئے اورچیتے کے باہم اختلاط سے پیداہوتاہے اس کامزاج چیتے جیسااورعادات کتے جیسی ہوتی ہیں ۔ 13--گُلِ بَنَفْشہ----بنفشہ کا پھول جوہلکا نیلا یااودے رنگ کا ہوتا ہے اور بطور دوا ستعمال کیا جاتا ہے۔ 14--گاؤزبان --ایک بُوٹی جس کے پتوں پر گائے کی زبان کی طرح کے ابھارہوتے ہیں ۔ 15--مُلیٹھی---- ایک درخت کی جڑجوکھانسی اورگلے کی سوزش کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ 16--ہَلِیْلہ سیاہ--سیاہ ہَڑایک قسم کاکَسیلا(تُرش)پھل کانام جسے خشک کرکے بطوردوااستعمال کرتے ہیں ۔ 17--پیپرمنٹ--سَت پودینہ(پودینہ کاعِرق) کی گولیاں 18--کُھنبی(کُھمبی)--ایک قسم کی سفید نباتات جواکثر برسات میں ازخودپیداہوجاتی ہے اوراسے تَل کرکھاتے ہیں ۔ 19-- زَنْجبیل--سونٹھ(سوکھی ادرک) 20--سُتلی--سَن(ایک پوداکانام جس کی چھال سے رسیاں بنتی ہیں ) کی باریک ڈوری،رسی۔ 21--چِیْڑ--ایک اونچا جنگلی درخت جس کی لکڑی ،عمارت ،سامان آرائش ،اورصندوق وغیرہ بنانے میں کام آتی ہے۔ 22--عِطردانہ--وہ صندوقچی یابرتن جس میں عطرکی شیشاں رکھی جاتی ہیں ۔ 23--ہَمیانی--روپیہ پیسہ رکھنے کی پتلی تھیلی خصوصا وہ تھیلی جوحالت سفرمیں کمرسے باندھی جاتی ہے 24--سینی--دھات کابناہواخوان(تھال) 25--ہَرتال--نورہ (بال صفاپوڈر) 26--قِنْدِیل--ایک قسم کافانوس جس میں چراغ جلاکر لٹکاتے ہیں ۔ 27--شَقْدَف--یعنی دوچارپائیاں جواونٹ کے دونوں طرف لٹکاتے ہیں ہرایک میں ایک شخص بیٹھتاہے۔ 28--تِلییں --تِل کی جمع ایک قسم کاتخم جس سے تیل نکلتاہے۔ 29--سُونڈیاں ----سونڈی کی جمع ایک چھوٹاکیڑا جواناج میں لگ جاتاہے۔پتوں کارس چُوسنے والاکیڑا 30--بَڑیاں --بڑی کی جمع مونگ یااُڑد(ماش) کی دال کی ٹکیاں جن سے سالن پکاتے ہیں 31--مَلا گیری--صندل کے رنگ سے مشابہ ایک رنگ جوخوشبودارہوتاہے۔ 32--کَیْسَر--زردرنگ کاایک نہایت خوشبودارپھول 33--جاوتری--جائفل(ایک پھل جودواؤں اورکھانوں میں استعمال ہوتاہے)کاپوست۔ 34--کَھلی--تِلہن(غلہ جس سے تیل نکالاجائے) یاسرسوں کاپھوک 35--نارنگی--ایک خوش رنگ پھل جو عموماً کھٹ مٹھا ہوتا ہے(سنگترے سے چھوٹا) 36--کاہو--ایک قسم کاساگ اوراس کابیج جوبہت چھوٹاہوتاہے اوراکثراس کاتیل دماغ کی خشکی کودورکرنے کے لیے دواکے طورپراستعمال کرتے ہیں ۔ 37--کامران --ایک جگہ کانام ہے۔ 38--جَنَّتُ المَعْلٰی--جنت البقیع کے بعد مکہ مکرمہ میں جَنَّتُ المعلٰی دنیا کا سب سے افضل ترین قبرستان ہے یہاں ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا اور کئی صحابہ وتابعین رضی اللّٰہ تعالی عنہ م اور اولیاء وصالحین رحمہم اللّٰہ تعالیٰ کے مزارات مقدسہ ہیں ۔ 39--وادی مُحصَّب--جَنَّتُ المعلٰیکہ مکہ معظمہ کا قبرستان ہے اس کے پاس ایک پہاڑ ہے اور دوسرا پہاڑ اس پہاڑ کے سامنے مکہ کو جاتے ہوئے داہنے ہاتھ پر نالہ کے پیٹ سے جداہے ان دونوں پہاڑوں کے بیچ کا نالہ وادی ٔ محصب ہے ۔ 40--مَسْجدُ الْجِن--یہ مسجدجَنَّتُ المعلٰی کے قریب واقع ہے۔سرکارمدینہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے نماز فجرمیں قرآن پاک کی تلاوت سن کریہاں جنات مسلمان ہوئے تھے۔ 41--جَبلِ ثَور----یہ وہ مقدس پہاڑ ہے جس کے غارمیں حضور اقدس صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنے رفیق خاص سیدنا صدیق اکبر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہجرت کے وقت تین رات قیام پذیر رہے۔یہ غار مبارک مکہ مکرمہ کی دائیں جانب مَسفلہ(ایک محلہ خانہ کعبہ کے حصہ دیوارمستجار کی جانب واقع ہے) کی طر ف کم وبیش چارکلومیٹر پرواقع ہے۔ 42--جَبل اَبِیْ قُبَیْس--یہ مقدس پہاڑ بیت اللّٰہ شریف کے بالکل سامنے کوہ صفا کے قریب واقع ہے ۔ 43--بابُ الحَذُورَہ--مسجد الحرام میں ایک دروازے کا نام ہے۔ 44--جَمْرہ--منیٰ اورمکہ کے بیچ میں تین ستون بنے ہوئے ہیں ان کوجَمْرہ کہتے ہیں ،پہلاجومنیٰ سے قریب ہے جمرۂ اولی کہلاتاہے اوربیچ کاجمرۂ وسطی اوراخیرکامکہ معظمہ سے قریب ہے جمرۃ العُقْبیٰ کہلاتاہے۔ حل لغات باعتبار حروف تہجی الف نمبرشمار--الفاظ--معانی--نمبرشمار--الفاظ --معانی 1--ابدی--جوہمیشہ رہے --55-- اِدراک--احاطہ کرنا ،پانا ،دریافت کرنا 2-- اِجمالاً-- مختصراً--56-- اُلوہیت--الٰہ ہونا، معبود ہونا 3--ازلی --جو ہمیشہ سے ہو--57-- اخلاق فاضلہ --اچھی عادتیں 4 5--اخلاق رذیلہ اوتر--بری عادتیں شمال--58-- ابوالبشر--سب انسانوں کے باپ مراد حضرت آدم علیہ السلام 6--اِسْتِہْزَا--ہنسی ،مذاق،ٹھٹھا کرنا--59--اِصلاح پذیر--اصلاح قبول کرنے والا 7--اُولُوا العزم --بلند وبالا،عزت وعظمت اورحوصلہ والے --60-- احکامِ تبلیغیہ --احکام شریعت 8--اِنس--انسان--61-- اعتقادعظمت--قدرومنزلت کاعقیدہ 9--افضل العبادات--تمام عبادتوں سے افضل --62--احکام تشریعیہ --شرعی احکام 10--اَکارت--ضائع ،برباد--63-- اَلَم--درد 11--ادّق--نہایت مشکل--64-- اجزائے اصلیہ --اصلی اجزا 12--انگشتری --انگوٹھی--65-- ابدالاباد--ہمیشہ 13--اَخبثُ الناس--لوگوں میں خبیث ترین--66--ازل--جو ہمیشہ سے ہو 14--اِعادہ--دوبارہ اداکرنا--67-- ا لتفات--متوجہ ہونا 15--اندیشہ--فکر، خوف ،خیال--68--اتّصال--ملاپ، نزدیکی 16 17--اتباع اوجھل --پیروی کرنا پوشیدہ،پردہ،غائب--69--اکڑوں بیٹھنا--تَلووں کے بَل اس طرح بیٹھناکہ گھٹنے کھڑے رہیں 18--اغل بغل--آس پاس--70--الجھن--پریشانی ،کش مکش 19--ایندھن--جلانے کی چیزیں --71-- امتیاز--فرق ،ترجیح 20--التزام--کسی بات کولازم کرلینا، ضروری قراردینا--72--استخفاف--ہلکا سمجھنا،حقیرسمجھنا 21--اشغال--کام، مشغول ہونا--73--اِرتِداد--مرتد ہونا 22--افشاں --سونے چاندی کابُرادہ یامُقَیّش کی باریک کَترن--74-- انتشار--شَہوت،تتربترہونا،فکر 23--استحقاق --حق طلب کرنا،سزاوار ہونا،حق دعوی، قابلیت--75--اُپلے--ایندھن کے لیے گوبرکی سُکھائی ہوئی ٹکیاں ،گوبر کی تھاپیاں 24--اقامت--قیام کرنا،ٹھہرنا--76--اکتفاء--کافی سمجھنا،کفایت کرنا 25--اقتدائے زن--عورتوں کامقتدی ہونا--77--پَرا--صَف 26--اَدْعِیہ -- دعائیں --78-- اجیر--اجرت پرکام کرنے والا 27--اتمام--مکمل کرنا--79--اسم جلالت-- اللّٰہ تعالیٰ کانام 28--اُمّی--ان پڑھ--80--اعانت--مدد 29--اعرابی غلطیاں --زبر،زیر ،پیش کی غلطیاں --81--اقتصار-- اکتفاء 30--اُولیٰ--پہلا--82--انحراف--پھرجانا 31--اہوال--ہول کی جمع،خوف،گھبراہٹ--83-- اَولی--بہتر 32--اِیڑ لگانا--پاؤں کی ایڑی سے گھوڑے کو دوڑنے کا اشارہ کرنا--84-- اَثنائے طبہ--خطبہ کے دوران 33--اَگر--ایک قسم کی لکڑی جوجلانے سے خوشبودیتی ہے--85--اختلاط--میل جول 34--استحباب--مستحب ہونا--86--انکھیارا--آنکھوں والا 35--اِفاقہ--مرض میں کمی --87--ازدحام--بھیڑ 36--اباحت--جائز کردینا،مباح کردینا--88--امامت زناں --عورتوں کی امامت 37--اوّل اوّل--ابتداءً،شروع میں (آگے آگے)--89--افواہ--بے اصل بات،اُڑتی خبر ------90--انجان--ناواقف ------91--اذن--اجازت ------92--ایام نحر--قربانی کے دن ------93--اوندھالیٹنا--پیٹ کے بَل لیٹنا 38--اپاہج--لُولا،لنگڑا،چلنے پھرنے سے معذور--94--انثیین--خصیے (فوطے) 39--اوراد--وظائف--95--اَثنائے اَذان-- اَذان کے دوران 40--اعادہ--لوٹانا۔ دہرانا--96--اِژدِہام-- بھیڑ۔ مجمع 41--ادنیٰ --کم از کم--97--اثنائے نماز--نماز کے دوران 42--استر--نیچے کی تہ--98--ابرا --اوپر کی تہ 43--اصطبل-- گھوڑے باندھنے کی جگہ--99--افتاں وخیزاں --گرتے پڑتے،بدحواسی کی حالت میں 46--ایمان بالغیب--غیب پرایمان لانا--100--اِتّباعِ حق--حق کی پیروی 47--اعجوبہ----انوکھی چیز ،عجیب شے--101--استمداد-- مددچاہنا 48--اصناف ----قِسْمیں --102--اجتماع وفراق--مجمع وتنہائی 49--ابر----بادل --103--امرد--وہ لڑکایامرد جس کودیکھنے یاچھونے سے شہوت پیداہوتی ہے 50--اذکار--وظائف--104--بطریق مسنون--سنت کے مطابق 51--اسمائے طیبہ --پاکیزہ نام--105--اولیائے میّت--مرنے والے ے سرپرست 52--اذکارطویلہ --بڑے بڑے وظائف--106--اوگالدان(اگال دان)--پیک دان، تھوکنے کا برتن 53--اَ عِزّہ--عزیزکی جمع رشتہ دار--107--اُچّھو --کھانسی جو سانس کی نالی میں پانی وغیرہ جانے سے آنے لگتی ہے 54--اَچکن--ایک لمبا لباس جو کپڑوں کے اوپر پہنا جاتا ہے------ آ 108--آنکھ کے کوئے--ناک کی طرف، آنکھ کا کونہ--114--آتش زدگی--آگ لگنے 109--آڑا--ترچھا ، ٹیڑھا--115--آسائش--آرام، سکون 110--آیات دعائیہ وثنائیہ--وہ آیات جن میں دعاؤں اور اللّٰہ عزوجل کی حمد وثناء کاذکرہے--116--آفتاب ڈھلکنے--زوال پذیر ہونا 111--آبرو--عزت--117--آہٹ--پاؤں کی آواز،کھٹکا 112--آمیزش--ملاوٹ--118--آلات حرب--لڑائی کے ہتھیار،اسلحۂ جنگ ------119--آفتابہ--دستہ لگاہوالوٹا 113--آلودہ--ناپاک ، نجس،لتھڑاہوا--120--آنچل--دوپٹے کا پلو ب 121--بالائی--اُوپری ،فاضل ،فالتو--152--برہان--دلیل 122--بے حس--جس کوکسی کااحساس نہ ہو،جوحرکت نہ کرسکے۔--153-- بہ نظرحقارت--توہین کی نظرسے 123--بدرجہا--بہت زیادہ،کئی درجے--154--بے آبروئی --بے عزتی،بے حیائی 124--بازپرس--پوچھ گچھ--155--براہ اختصار--مختصرکرنے کے لیے 125--بے آمیزش--ملاوٹ کے بغیر--156--بری ا لذّمہ --ذمہ داری سے بَری 126--بچی--وہ بال جونیچے کے ہونٹ اور ٹھوڑی کے بیچ میں ہوتے ہیں --157--بے ریش--داڑھی کے بغیر 127--بے باک----بے خوف،بے حیا--158--بط--بطخ 128--بالاخانہ--اوپر والاحصہ--159--بموجب--مطابق 129--بے غباروبخار--بخارات اورگردکے بغیر--160--بِلاتامُّل--بے سوچے سمجھے 130--براہ جہل--ناواقفی کی بناپر،جہالت کی بناپر --161--برا ء ت--نجات،چھٹکارا 131--بندش--گِرہ--162--بلاقرا ء ت--قرا ء ت کے بغیر 132--بھڑکا--مشتعل ہونا،تیزہونا--163--بار--بوجھ ،دشوار 133--بگوش دل--ذوق وشوق سے،توجہ سے--164--بستہ--جماہوا 134--بِدکا--ڈرکرچونکنا،ڈرنا--165--بدل کتابت--وہ مال جس کے بدلے مکاتب غلام کوآزادی ملے۔ 135--باقلا--لوبیا--166-- بھال--برچھی کاپَھل،تیرکی نوک 136--بھونک دینا--گھونپنا--167--بیرون--باہر 137--بعینہ-- اسی طرح--168--بٹا--بَل دیا،لپیٹا 138--بھوں --ابرو،آنکھ اورماتھے کے درمیانی بال--169--بَدّو--عرب کے خانہ بدوش لوگ،دیہاتی 139--بستم--بیس--170--براہ اختصار--مختصرکرنے کے لیے ------171--بادیان--سونف 140--بے دست وپا--ہاتھ پاؤں کے بغیر--172--بدِقّت--مشکل سے 141--بخوف تطویل--طوالت کے خوف سے--173--بقچی --کپڑوں کی چھوٹی گٹھڑی 142--بُلاق-- ایک زیور جو کہ ناک میں پہنتے ہیں --174--بالکل سمت راس --بالکل سر کے اوپر 143--بَم--گھوڑا گاڑی کا بانس جس میں گھوڑا جوتا جاتا ہے--175--بَہلی کا کھٹولا--بیلوں کی چھوٹی گاڑی 144--بدل خلع--وہ مال جس کے بدلے میں نکاح زائل کیا جائے--176--تملیک--مالک بنا دینا 145--بالتخصیص----خصوصیت کے ساتھ --177--بول و براز--پیشاب اور پاخانہ 146--بلاتکلف--بے روک ٹوک--178--بہائم--چوپائے 147--بشاشت--مسرت، خوشی--179--بفضلہ تعالیٰ-- اللّٰہ تعالیٰ کے فضل سے 148--بجرا--ایک قسم کی گول اور خوبصورت کشتی--180--بُندکیاں --چھینٹے 149--بالعکس--ضد ،خلاف--181--بُکا--رونا 150--بعذر --عذرکے ساتھ--182--بلاصوت--بغیرآواز 151--بیع و شرا-- خرید و فروخت--183--بیش قیمت--زیادہ قیمت ------184--بَیَّن--واضح۔ صاف ------185--بیخ کُنی کرنا--یعنی جڑ کاٹنا پ 186--پیہم--لگاتار،پے درپے--201--پیروئے شیطان--شیطان کے پیروکار 187--پچتانا(پچھتانا)--افسوس کرنا--202--پائتابہ--جُرّاب 188--پَٹ لیٹنا --پیٹ کے بل لیٹنا، اوندھا لیٹنا--203--پالتی مارنا--چارزانوبیٹھنا 189--پڑیا--کاغذ کی ایک تھیلی--204--پھوڑا--بڑی اور موٹی پھنسی،زہریلے مادے کی تھیلی 190--پے درپے--لگاتار،متواتر--205--پت جھاڑ--خزاں ،وہ موسم جس میں درختوں سے پتے جھڑجاتے ہیں 191--پائنتی--قدموں کی جانب------ 192--پاسداری--لحاظ،مروت،جانبداری------ 193--پراگندہ--پریشان ،منتشر--206-- پیادہ--پیدل چلنے والا 194--پورب--مشرق--207--پیشتر--پہلے 195--پسِ پُشت --پیچھے--208--پیال--چاول کا بھس 196--پرگنہ--ضلع کا حصہ--209-- پپوٹوں --جسم کاوہ حصہ جوآنکھ سے ملاہوتا ہے، آنکھ کاغلاف 197--پاِلیز--کھیت--210--پَیڑو --ناف سے نیچے کاحصہ 198--پُہنچیاں --پُہنچی کی جمع،کلائی، ایک زیور جو کلائی میں پہنا جاتا ہے --211--پَیر--اناج صاف کرنے کی جگہ 299--پَلی-- تیل یا گھی نکالنے کا آلہ، ٹیڑھا چمچہ--212--پرسان حا ل--حال پوچھنے والا،مددگار 200--پُھریری----روئی کاٹکڑا--213--پشت دست --ہاتھ کی پشت،ہاتھ کی الٹی طرف ت 214--تکفیر--کافرقرار دینا--232--تجہیزوتکفین--مردے کے کفن دفن کا انتظام 215--ابد--جوہمیشہ رہے--233--تسلُّط--غلبہ 216--تنعیم قبر--قبر کی نعمتیں --234--تخمینہ--اندازہ 217-- تضلیل--گمراہ قراردینا--235-- تفسیق--فاسق قرار دینا 218--تہہ نشین ہونا--نیچے بیٹھ جانا--236--ترتیل--حروف کوٹھہرٹھہرکراداکرنا 219--بہ تکلف-- تکلیف اٹھاکر کوئی کام کرنا--237-- تہلیل--لاالہ الا اللّٰہ پڑھنا 220-- تقدیم وتاخیر--آگے پیچھے --238--تذلُّل--عاجزی کرنا،اپنے آپ کوحقیر سمجھنا 221-- تُخم-- بیج--239--تعارض --دوچیزوں کاآپ س میں مخالف ہونا 222--تکیہ دار--قبرستان کی نگرانی کرنے والا--240--تحت تصرف--اختیارمیں ،زیرحکم 223--تنقیص--گھٹانا،کم کرنا،نقص نکالنا--241--تونگر--دولت، امیر، مالدار 224--توقیت دان--علم توقیت کاجاننے والا--242--تلف--ضائع 225--تعرُّض--سامنے آنا،مزاحمت،روکنا--243--تکان--تھکن 226--تارک----چھوڑنے والا--244--تندی--تیزی ،سختی،شہوت 227--تند خو--سخت مزاج--245--تند مزاج----سخت مزاج 228--توشہ--زادِراہ--246-- ترک--چھوڑنا 229--تفرقہ--فرق--247-- تلفُّظ--لفظ کامنہ سے اداکرنا 230--تقلیل--کمی کرنا--248-- تحفُّظ--حفاظت 231--تفاوُت--فرق--249--توسُّط--درمیانہ ث 250--ثقہ--معتبر--251-- ثِقل سماعت--اونچا سننے کا مرض ج 252--جمیع--تمام--269--جانگزا--جان گھٹانے والا،جان کواذیت یاتکلیف دینے والا 253--جائے امامت--امامت کی جگہ--270--جرّار--کثیرلشکر،بہادر،دلیر 254--جست--چھلانگ لگانا،اچھلنا--271--جائے نجاست--نجاست کی جگہ 255--جزدان--غلاف --272--جنبش--حرکت 256--جزع وفزع--رونا پیٹنا--273--جوق جوق--گروہ کے گروہ 257--جُتے ہوئے کھیت--وہ کھیت جس میں ہل چلایاگیاہو--274--جھری--شَگاف،سوراخ 258--جان کَنی--نزع کی حالت میں ،موت کے لمحات میں سانس اکھڑنا --275--جواہر--قیمتی پتھر 259--جہل --جہالت ،ناواقفی،بے علمی--276--جدال--جھگڑا 260--جہت--سمت--277--جُمرُک--کسٹم ہاؤس،چونگی خانہ 261--جلق--مشت زنی--278--جہر--اونچی آواز 262-- جُوا--وہ لکڑی جو گاڑی یا ہَل کے لئے بیلوں کے کندھے پر رکھی جاتی ہے--278--جمروں --جمرہ کی جمع،منٰی میں تین مقامات جہاں کنکریاں ماری جاتی ہیں 263--جنائی --دائی ۔ بچہ جنانے والی--280--جھول --گھوڑے کے اوپر ڈالنے کا کپڑا 264--جمیع ماسوی اللّٰہ -- اللّٰہ عزوجل کے سوا کائنات کی ہر چیز--281--جُنُبْ--وہ آدمی جسے جماع یااحتلام کی وجہ سے غسل کی حاجت ہو۔ 265--جِلا دینا--زندہ کرنا--282-- جبّارین --جبارکی جمع ظالم ترین 266--جَدّی مناسبت--آبائی مناسبت--283--جوارح--انسان کے ہاتھ پاؤں اوردیگر اعضاء 267--جگالی--حیوانات کااپنے چارے کومعدے میں سے نکال کر منہ میں چبانا--284--جمادات--جمادکی جمع،بے جان چیزیں جیسے دھات ،پتھروغیرہ 268-- جِرم دار--جسم رکھنے والا--285--جملۃً--سب کے سب ،یکبارگی چ 286--چولی--غلاف--293-- چِت--پیٹھ کے بل لیٹنا 287--چاہ--کنواں --294--چھدرے--فاصلے فاصلے سے 288--چپکا--خاموش--295--چابک--ہنٹر،کوڑا 289--چنچل--شوخ(شریر)وہ گھوڑا جس کی دم اور پاؤں نہ ٹھہرتے ہوں --296--چونگی--ایک محصول جو میونسپل کمیٹی کی حدود میں مال لانے پرلیاجاتاہے،ٹیکس 290--چھٹانا--چھوڑانا(آزاد کرنا)--297--چوکھونٹی--چارکونوں والی 291--چَرسے--چمڑے کا بڑا ڈول--298--چندلا--گنجا 292--چغہ--جبہ--299--چنٹیں --سلوٹیں ح 300--حادث--عدم سے وجودمیں آنا ، جو پہلے نہ ہو بعد میں وجود میں آئے--319--حفظ الٰہی -- اللّٰہ عزوجل کی حفاظت، اللّٰہ تعالٰی کی امان 301--حدوث--وجود میں آنا--320-- حیّ--زندہ 302--حسنہ --نیکی--321--حکمت بالغہ--کامل حکمت 303--حرکات وسکنات--عادت واطوار--322--حسنات--نیکیاں 304--حِکَم --حکمتیں --323--حقّانیت ----سچائی ،صداقت 305--حسبِ مراتب --مرتبہ کے مطابق--324--حق گوئی----سچ بولنا 306--حِلّت ----حلال ہونا--325--حرج----تنگی ،سختی ،نقصان 307--حتّی الوسع --جہاں تک ہوسکے --326--حائض--حیض والی عورت 308--حجاب--پردہ--327-- حَضَر --حالت اقامت، ایک جگہ قیام 309--حائل--روک ،آڑ،پردہ--328--حادثۂ عظیمہ--بڑی آفت ،بڑا سانحہ 310--حَلق--سرمنڈانا--329--حمائل----گلے میں ڈالنے کی چیز،چھوٹے سائز کا قرآن جسے گلے میں لٹکاتے ہیں ۔ 311--حَجّ مبرور--مقبول حج--330--حدثِ عمد----جان بوجھ کربے وضوہونا 312--حامیان--حامی کی جمع،حمایتی ،مددگار--331--حتَّی المقدور--جہاں تک ہوسکے 313--حقُّ العبْد--بندے کاحق--332--حَزِیں --غمگین 314--حتَّی الا مکان--جہاں تک ممکن ہو--333--حَدَث----بے وضوہونا 315--حاجت ظاہرہ--ظاہری حاجت (توشہ اورسواری)--334--حَاذِق--اپنے فن میں ماہر،تجربہ کار 316--حشفہ--آلہ تناسل کی سپاری--335--حقنہ--کسی دوا کی بتی یا پچکاری پیچھے کے مقام میں چڑھانا جس سے اجابت ہوجائے 317--حرمت نماز--کوئی ایسا کام نہ کیا ہو جو منافی نماز ہے--336--حرمت--عزت ،عظمتٍ 318--حربی--دارالحرب میں رہنے والا خ 337--خفیف--تھوڑا،ہلکا، کم--349--خلق--مخلوق 338--خسف--زمین میں دھنسنا--350--خُلّت--بے پناہ محبت ،بے حد دوستی 339--خرافات--بے ہودہ باتیں --351--خیرُالنّاس --لوگوں میں سے اچھا 340--خاسِر--نقصان اٹھانے والا--352--خفیف--کم ، تھوڑا 341-- خُسُوف--چاندگرہن--353--خاطرملحوظ--لحاظ کرتے ہوئے،آؤبھگت 342--خطرہ -- ڈر ، خوف ،وسوسہ --354--خنثٰی--ہیجڑا 343--خوش خوان--اچھی آواز سے پڑھنے والا--355-- خلقت --پیدائشی ہیئت 344--خام--کچی--356--خصومت--جھگڑا 345--خرما--کھجور،چھوہارا--357--خُدّام --خادم کی جمع،خدمت کرنے والے 346--خلائق--خلیقہ کی جمع ،مخلوق--358--خوش خُلق--اچھے اخلاق 347--خودرو--اپنے آپ اُگاہوا،جنگلی--359--خطر--خوف،خطرہ 348--خوف اورروارَوِی--خوف وگھبراہٹ--360-- خُنکی-- ٹھنڈک د 361--دست بستہ --ہاتھ باندھے--382--دُہائی--کسی کو پکار کرمددکے لیے بلانا، استغاثہ 362--دُشنام --گالی--383--دغا--دھوکہ ،فریب 363--دَموی--جس میں بہتاہواخون ہو--384--دفع--دورکرنا 364--دَل--جسامت ، موٹائی--385--دوچند--دُگنا 365--دَلدار--جس کا جسم ہو--386--دونا --دگنا،دوچند،دہرا 366-- دَبِیْز--موٹا،مضبوط--387--دہن --منہ 367--دل بٹے--دھیان دوسری طرف جائے--388--درپیش --سامنے ،رُوبرو 368--دھول --مٹی ،گَرد--389--دالان--برآمدہ 369-- داعی --بلانے والا--390--دانستہ--جان بوجھ کر 370-- دہشت ناک --بھیانک ،ڈراؤنا--391--دائیں چلانا--اناج گاہنا،کھلیان پربیلوں کوچلانا 371--دکھَّن --جنوب کی سمت --392--دلّال--سوداکرنے والا، آڑھتی 372--دستگاہ ---- مہارت--393--دردآگین--درد سے بھراہوا 373--دیوان--اشعاراورعلم عروض (اشعارکے قواعد کا علم )کی کتابیں --394--دِہقانی--دیہاتی، اس سے مراد دیہات کارہنے والا نہیں بلکہ جاہل مراد ہے چاہے وہ شہری ہی کیوں نہ ہو 374--دواءً--دواکے طورپر 375--دھول--مٹی--395--دنبل--پھوڑا 376--دَم نہیں مارسکتا --چون وچرانہیں کرسکتا،کچھ بات نہیں کہہ سکتا--396--دنیاگزشتی وگزاشتی-- دنیا ختم ہونے والی اور چھوٹنے والی 377--دِرَم(درہم)--چاندی کاایک سکہ--397-- دستی ---- ہاتھ کے ذریعہ 378--دفینہ-- دفن کیا ہوا مال--398--دھان--چاول 379--دھونکنا--تیز کرنا،جلانا--399--درکنار--ایک طرف 380--دُنْیَا وما فِیْھَا--دنیا اور جو کچھ اس میں ہے۔--400--دوچتّیاں --دوکالے نقطے 381--دَین -- قرض ڈ 401--ڈھکیل(دھکیل)--دھکا--403--ڈھیلا --مٹی کابڑاٹکڑا،آنکھ کے اندرکاگول حصہ، کُھلا 402--ڈورا--دھاگا--404-- ڈھال--پستی ذ 405--ذاکرین --ذکرکرنے والے --407--ذی عقل --عقل مند 406--ذُرّیّت--اولاد،نسل --408--ذی وجاہت--معزز،محترم ر 409--رفیع--بلند ،بڑی شان والا--426--رسل --رسول کی جمع 410--راہن-- گروی رکھنے والا--427--راست باز--ایماندار،دیانتدار 411--رَطبُ اللّسان--بہت تعریف کرنے والا،مداح--428--رفاض--رافضی 412--رینٹھ--ناک کا سفید لیس دارمادہ --429--رطوبت--تری ،نمی 413--رال--لعاب دہن،منہ کاچیپ --430--ریح--گیس،معدے کی ہوا 414--رقیق--پتلا--431--راجح--بہتر ، غالب 415--رَیخیں --منجن یاپانوں کے رنگ کے نشان جودانتوں میں پڑجاتے ہیں --432--رونگٹے--وہ چھوٹے نرم بال جوانسان کے بدن پرہوتے ہیں 416--رَفُو --پھٹی ہوئی جگہ کوبھرنا،پھٹے ہوئے کپڑے کی تاگوں سے مرمت کرنا--433--رکعت بھر----رکعت بھری سورت فاتحہ کے ساتھ کسی سورت کاملاکررکعت اداکرنا 417--رواروی----بھاگ دوڑ،عُجلت --434--روز اَبَر-- جس دن بادل چھائے ہوں 418--روشنائی--لکھنے کی سیاہی--435--راست گو--سچ بولنے والا،صاف گو 419--روندنا ----کُچلنا ----436--راہ گیر--مسافر 420--ریاح--ریح کی جمع، معدے کی ہوا--437--رقبہ ----گردن ،غلام ،لونڈی 421--ریا-- دکھلاوا--438--رائج--جاری ، عام ،رسمی 422-- رفث--فحش کلام--439--رہزن--چور ،ڈاکو 423--ریاست--سرداری --440--رفقا--رفیق کی جمع،ساتھی ،دوست 424--رُوبقبلہ--قبلہ کی جانب--441--ریتے--ریت 425--روغن----پالش،چمک ،تیل--442--رکابیاں --رکابی کی جمع تھالیاں ،طشتریاں 443--روزِ میثاق----وہ وقت جب اللّٰہ تعالیٰ نے تمام انبیاء علیھم السلام سے حضور صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم پرایمان لانے اورحضورعلیہ الصلٰوۃوالسلام کی نصرت کا پختہ عہد لیا۔ ز 444--زِچہ خانہ--وہ مقام جہاں بچہ پیداہوتاہے--449--زیادت قلیلہ--تھوڑی زیادتی 445--زائر--زیارت کرنے والا--450--زیرناف----ناف کے نیچے 446--زاری--گریہ ،روناپیٹنا--451--زمین مغصوب-- ایسی زمین جس پر زبردستی قبضہ کیا گیاہو 447--زَلّت--لغزش--452--زُوّار-- زیارت کرنے والے 448--زجر--ڈانٹ ڈپٹ،ملامت--453--زیادت--اضافہ،زیادتی س 454--ستارے گتھ گئے --ظاہرہوگئے،چھوٹے بڑے ستاروں کاظاہرہوجانا یہاں تک کہ کوئی ستارہ پوشیدہ نہ رہے--475-- سراب-- رتیلی زمین کی وہ چمک جس پر چاند سورج کی چمک سے پانی کا دھوکہ ہوتا ہے 455-- سِجِّین--جہنم میں ایک وادی کا نام--476--سنگ دلی--سخت دلی 456--سہو -- بھولنا--477--سِیون --سلائی 457--سربُریدہ --سرکٹاہوا--478--سرائے --مسافروں کے ٹھہرنے کامکان 458--سکوت--خاموشی--479-- سَیل --پانی کی رو،بہاؤ 459--سَکَت--طاقت--480--سِعایت --کوشش ،محنت ،دوڑدھوپ 460--سِیل--تری،نمی--481--سپیدداغ --برص کی بیماری 461--سکتہ --لمحہ بھر کے لئے خاموش ہونا--482--سُنَنِ رواتب --سنت موکدہ 462--ساقط-- معاف--483--ساحر--جادوگر 463--ساعی--کوشش کرنے والا--484--سکونت --رہائش 464--سیّآت --سیّئہ کی جمع ہے برائیاں --485-- سِقایہ --پانی کی سبیل 465--سنت بعدیہ --وہ سنتیں جو فرض کے بعد پڑھی جاتی ہیں --486---- سائلین--سائل کی جمع،سوال کرنے والے۔ پوچھنے والے ، مانگنے والے 466--سالم--پورا،تمام--487-- سِن--عمر 467--سُترہ--آڑ--488--سینٹھا -- سرکنڈا 468-- سنگِستان--پتھریلی زمین--489-- سہ بارہ--تیسری بار 469--سابق --پہلا،سبقت لے جانے والا--490--سمجھ وال --سمجھ دار 470--سَبّ وشتم--گالیاں --491--سُوا --موٹی سوئی ،بڑی سوئی 471--سیلان --کسی پتلی چیزیاپانی کاجاری ہونا--492--سہل-- آسان 472--سروکار --واسطہ،تعلق--493--سِپر --ڈھال،آڑ،روک 473--سمت الراس--سر سے آسمان تک کا سیدھا خط ،بلندی کی انتہاء--494--سالہائے گزشتہ -- گزرے ہوئے سال 474--سیر --سیرت کی جمع،عادتیں ،خصلتیں --495--سخت خو --سخت مزاج ش 496--شرقی--مشرقی--505--پیش گوئی --کسی بات کی پہلے خبردینا 497--شفیعوں --شفاعت کرنے والے--506--شکم--پیٹ 498--شانوں --شانہ کی جمع،کندھے--507--شعلہ زن --شعلہ مارنے والا،شعلہ نکالنے والا 499--شناخت--پہچان ،واقفیت--508--شب اسرا --معراج کی رات 500--شیرخوارگی --وہ عمر جس میں بچہ دودھ پیتاہے--509--شریر -- برا،بدذات 501--شَرُّالناس --لوگوں میں سے برا--510--شرارے-- چنگاریاں 502--شفیع --شفاعت کرنے والا--511--شامت نفس -- نفس کی نحوست،نفس کی آفت 503--شیاطینُ الاِنْس --شریرلوگ،انسانی شیطان --512--شعائر اسلام-- اسلام کی نشانیاں ،اسلام کی علامات 504--شاق--بھاری--513--شرم گاہِ زن--عورت کی شرمگاہ ص 514-- صَرْف --خرچ--523-- صراحۃ ً-- واضح طورپر،ظاہر 515--صفات ذاتیہ --ذاتی صفات--524-- صوت --آواز 516--صدہا --سینکڑوں ،بہت سے --525--صدور --واقع ہونا 517--صُحُف ملائکہ --فرشتوں کے صحیفے--526-- صفات ذمیمہ--بری صفتیں 518--صواب --درست --527-- صفی --برگزیدہ 519--صادر ہونا --واقع ہونا--528-- صریح --واضح 520--صلٰوۃوُسطٰی --نمازعصر--529-- صفرا --پیلے رنگ کاکڑوا پانی 521--صغائر --صغیرہ کی جمع،چھوٹے گناہ--530-- صَبِی--بچہ 522--صف میں منفرد-- صف میں اکیلانماز پڑھنے والا مقتدی--531--صنعت--کاریگری ،دستکاری ض 532-- ضِدَّین --دومخالف چیزیں --533--ضعیف--کمزور،لاغر ط 534--طاق عدد-- وہ عددجودوپرپورا تقسیم نہ ہومثلاً پانچ ، سات، نو وغیرہ --539--طمانینت-- اطمینان،تسلی،دل جمی،سکون 535--طاہر --پاک --540--طبق-- تھال ،بڑی رکابی 536--طبقات --طبقہ کی جمع درجے،منزلیں --541--طاری ہونا --کسی کیفیت کاغلبہ پانا 537--طشت --تھال ،ہاتھ دھونے کابرتن --542--طول--لمبائی 538--طاق-- محراب نما جگہ جودیوار میں بناتے ہیں ع 543--عصمت--پاکدامنی --558--عیوب--عیب کی جمع،نقائص 544--عطر فروش--عطر بیچنے والا--559--عطرتحقیق -- تحقیق کانچوڑ 545--علیٰ حسبِ مَراتب --مرتبہ کے مطابق--560--عالم اسباب --دنیا،جہاں ہر کام کاکوئی سبب ہوتاہو 546--عصا--ڈنڈا--561--عالَم --دنیا 547--عطائے الٰہی -- اللّٰہ تعالیٰ کی عطا--562--عُصاۃ -- عاصی کی جمع ،گناہ گارلوگ 548--عقل رسا --عقل کی پہنچ --563--علَی الاِطلاق--مطلق 549--علم سلوک--علم تصوُّف--564--علیٰ ھذا الْقیاس--اسی پرقیاس ،اسی طرح 550--عند اللّٰہ -- اللّٰہ عزوجل کے نزدیک--565-- عیب دار --عیبی ،ناقص،جس میں عیب ہو 551--عتاب--ملامت ،غصہ ،ناراضگی --566--عفو --معاف، بخشش،بخشنا 552-- عَمَداً--جان بوجھ کر--567--عبث--فضول، بے فائدہ 553--عاریۃ ً--عارضی طورپردی ہوئی چیز--568--علَی الاِتِّصال--مسلسل ،بلاناغہ 554--عکس --الٹ--569--عودکرنا --لوٹنا 555-- عمّ --چچا--570--عارض-- پیش آنے والا،عرض کرنے والا 556--عشر -- دسواں حصہ--571--عرض --چوڑائی 557--عود نہ کرے -- واپس نہ لَوٹے --572--عکسی -- فوٹو غ 573--غیب وشہادت -- پوشیدہ اورظاہر،غائب وحاضر--578--غریب الوطن--مسافر 574--غِلمان--جنت کے کم سن خادم --579--غیرمتناہی --جس کی کوئی حد نہ ہو 575--غیر مَحرم--جس سے نکاح جائز ہو--580--غیر سبیلین -- آگے اور پیچھے کے مقام کے علاوہ 576--غُلو --حدسے گزرجانا،بہت زیادہ مبالغہ کرنا--581--غَیبتِ حَشْفہ -- سرِ ذَکَرکا چھپ جانا 577--غیر جہری --وہ نمازیں جن میں پست آواز سے قراء ت کی جاتی ہے مثلاً ظہر و عصر--582--غیرمامون--جس سے امن نہ ہو،غیرمحفوظ، جوقابل اطمینان نہ ہو۔ ف 583--فُجَّار--فاجرکی جمع بدکار--593--فرداًفرداً --جداجدا،علیحدہ علیحدہ،ایک ایک کرکے 584--فُسّاق--فاسق کی جمع،گناہ گار--594--فتح باب --دروازہ کھولنا 585--فصل طویل --لمبا فاصلہ--595--فلاح دنیوی --دنیوی کامیابی 586--فہم--سمجھ--596--فسق -- نافرمانی ،جرم ،بدکاری ،گناہ 587--فساد بعض --بعض کافاسدہونا--597--فسادکل -- کل کافاسد ہونا 588--فربہ--موٹا،صحت مند--598--فال --شگون 589--فرجِ خارِج --عورت کی شرمگاہ کا بیرونی حصہ --599--فرجِ داخل --شرمگاہ کا اندرونی حصہ 590--فراخ --کشادہ --600--فاصل --جداکرنے والا،جدا 591--فیشو فیشو--پیچھے پیچھے--601-- فصد کا خون لینا -- رگ کھول کر فاسد خون نکلوانا 592--فلہذا --اسی لیے،اسی وجہ سے ق 602--قلفہ --عضوتناسل کاسرا بغیرختنہ کیے ہوئے--615--قوت و ضعف -- طاقت اور جسمانی کمزوری 603--قدیم --جوہمیشہ سے ہو --616--قضا--تقدیر 604--قوی ہیکل --مضبوط جسم ،مضبوط بدن--617--قرب -- نزدیکی 605--قلعی --صَیقل(پالش) کیا ہوا--618--قبیح--برا،معیوب 606--قَدْر --مقدار،کسی چیزکااندازہ--619--قلت --کمی ، تھوڑا 607--قصداً --جان بوجھ کر--620--قُرص -- ٹکیا،گول چیز ٹکیا کی طرح 608--قتال --جنگ --621--قاطع نماز -- نمازکو توڑنے والا 609--قیام اللیل --رات کی عبادت،رات کوعبادت کے لیے اٹھنا--622--قہقہہ--اتنی آواز سے ہنسناکہ آس پاس والے سنیں 610--قرض خواہ -- ادھاردینے والا--623--قفل --تالا 611--قطع رحم --رشتہ ناطہ توڑنا،تعلق توڑنا--624--قُرص آفتاب--سورج کی ٹکیا 612--قریہ -- گاؤں ، دیہات--625-- قبّہ --گنبد،بُرج،خیمہ،مزار 613--قرابت --رشتہ داری--626--قحطِ باراں --بارش کانہ ہونا 614--قساوت قلبی --سخت دلی ک 627--کریدکر -- کُھرچ کر --652--کریہ(کریہہ)-- قابل نفرت،بدشکل 628--کنکاش --جستجو،تلاش--653-- کوندا --بجلی کی چمک 629--کبائر --کبیرہ کی جمع،گناہ کبیرہ --654--کُلفت--رنج ،تکلیف 630--کرخت --سخت--655--کجی --ٹیڑھا پن 631--کاہن --جنوں سے دریافت کرکے غیب کی خبریں یاقسمت کاحال بتانے والا۔ --656--کچابچہ--ناتمام بچہ،وہ بچہ جوحمل کی مدت سے پہلے پیدا ہوجائے ۔ 632--کسبی عورتیں --بازاری عورتیں ،،بدکارعورتیں --657--کشائش --کشادگی ،فراخی،وسعت 633--کشادگی--فراخی،وسعت--658-- کذّاب --بڑے جھوٹے 634--کوڑھی --برص کی بیماری--659--کثیرالوقوع --کثرت سے واقع ہونے والا 635--کَندہ--لکھاہوا--660--کھوٹ --ملاوٹ، نقص ،فریب 636--کفایت --کافی ہونا ،حسب ضرورت فائدہ حاصل ہونا --661--کوکھ --پہلو،شکم،پیٹ کے نیچے کی وہ جگہ جہاں ہڈی نہیں ہوتی 637--کونچیں --وہ موٹا پٹھا جوآدمی کی ایڑی کے اوپر اور چوپایوں کے ٹخنے کے نیچے ہوتاہے--662--کھنکار--کھانسی کی آواز ،وہ آواز جوبلغم کو ہٹانے یاگلاصاف کرنے کے واسطے نکالی جائے 638--کسوف --سورج گرہن --663--کوئے--ناک کی طرف آنکھ کاکونہ 639--کُب--انسان کی پیٹھ کاجھکاؤ--664--کراہت تحریم -- مکروہ تحریمی 640--کالعدم --نہ ہونے کے برابر--665--کنگن--کلائی کاایک زیور 641--کنکھیوں --ترچھی نگاہ،نگا ہ پھیرکردیکھنا--666--کراہیت --نفرت 642-- کاٹھی--گھوڑے کی زین ،پالان ،کجاوہ --667-- کفالت -- ضمانت، گارنٹی، ذمہ داری 643--کمانی دار-- اسپرنگ والے--668--کھر--جانوروں کے پاؤں 644--کفران -- ناشکری--669-- کوڑھی--برص کی بیماری 645--کوزہ پشت --کُبڑا،کُبّا--670--کنیز --لونڈی 646--کہگل-- مٹی کی لپائی--671--کَسل--سستی،کاہلی 647--کتب شرعیہ-- تفسیر و حدیث وغیرہ--672--کجا --کہاں ،کس جگہ 648--کاہے --کس لئے !کیوں ؟کس--673--کدورت --نفرت،رنجش 649--کسم پُرسی (کَس مَپُرسِی)--ایسی حالت جس میں کوئی پُرسان حال نہ ہو۔ --674--کُوچ --روانگی،رحلت،ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا۔ 650--کٹکھنا کتا --بہت زیادہ کاٹنے والاکتا،پاگل کتا--675--کورے گھڑے -- مٹی کے نئے مٹکے، لوٹے 651--کھٹکنا --کسی چیز کااگلے دانتوں سے کاٹنا یاتوڑنا گ 676--گراں --تکلیف دہ ، دشوار،مہنگا--687--گھائیاں --انگلیوں کے درمیان کی جگہ 677--گھوڑے آپڑے -- گھوڑے روند ڈالیں --688--گِھن -- نفرت 678--گہنوں --زیور--689--گَھٹ --کم 679--گہن--سورج پرچاندکایاچاندپرزمین کا سایہ پڑنے سے ان کاسیاہ نظرآنا --690-- گوز--وہ گندی ہوا جو مقعد کی راہ سے بآواز بلند خارج ہو 680--گودنا --بدن میں سوئی سے سرمہ یانیل بھرنا --691--گرد --دھول،غبار 681-- گھائل --زخمی ہونا--692--گِرہ --گانٹھ ،گزکاسولہواں حصہ 682--گابھن --وہ جانورجس کے پیٹ میں بچہ ہو--693--گودی -- بندرگاہ کاایک حصہ 683--گدّام گدّام --آگے آگے--694--گھرسنا --کسی چیز میں اٹکا دینا،گھسیڑنا 684--گچ --چونے کا پتھر--695--گندنا-- ایک قسم کی مشہور ترکاری جو لہسن سے مشابہ ہوتی ہے 685--گوشوں --گوشہ کی جمع ،کونوں 686--گَٹوں --ٹخنوں ------ ل 696--لب کشائی--بات کرنا--705--لیسی گئی --لیپی گئی 697-- لاجَرم--لازمی ،ضرور--706--لپ --چلُّو 698-- لحن --ترنم ،قواعد موسیقی کے مطابق گانا،غلطی--707--لنگوٹ--کم عرض کپڑاجوفقراء یاپہلوان باندھتے ہیں 699--لاغر --کمزور،دبلا پتلا--708-- لغزش --خطا،سہو 700--لُنجھا --لنگڑالولا،ہاتھ پاؤں سے محروم--709-- لبریز --بھراہوا، پُر 701--لعاب --تھوک ،رال ،لیس--710--لنگ --پاؤں کانقص ،لنگڑاپن 702-- لٹھے --شہتیر،لکڑی--711-- لِتھڑ جانا --لَتھ پتھ ہونا، آلودہ ہونا 703--لگن --ٹب،طشت--712-- لُو--وہ ہوا جوموسم گرما میں چلتی ہے 704--لذات --مزے لینا--713-- لغویات --لغو کی جمع بیہودہ باتیں ،بکواس، فضول م 714--محال --ناممکن --829--محیط--گھیرے ہوئے ،احاطہ کئے ہوئے 715--محالات --محال کی جمع،ناممکنات--830--معرفت ذات --ذات کی پہچان 716--مختار --بااختیار،آزاد،اختیاردیاگیا--831--مشیت الٰہی -- اللّٰہ عزوجل کی مرضی ،تقدیرالٰہی 717--منجانب اللّٰہ -- اللّٰہ عزوجل کی طرف سے--832--ماوشما --ہم اورآپ 718--مفضول --وہ شخص جس پرکسی کوفضیلت دی جائے--833--منصب عظیم --بڑامرتبہ،بلند مقام 719--مِن جانب شیطان --شیطان کی طرف سے--834--مساوی --برابر،ہم پلہ 720-- مُرسَلین -- مُرسَل کی جمع، اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے رسول--835-- ملک گیری --ملک پرتسلُّط قائم کرنا،سلطنت کی حدود کوبڑھانا 721--مَلَک--فرشتہ--836--مَدارج ولایت-- ولایت کے درجے،ولایت کے رتبے 722--منزّہ --پاک ،عیبوں سے بری--837--مُزَیّن--آراستہ ،سجایاہوا 723--متناہی --جس کی کوئی حد ہو--838-- مادَرزاد--پیدائشی 724--ملوک --سلاطین ،بہت سے بادشاہ--839--مفضول --وہ شخص جس پرکسی کوفضیلت دی جائے 725--مفقود--ناپید،غائب --840-- مَعْ --ساتھ 726--مجال --طاقت،قدرت--841--مشتاق زیارت --زیارت کاشوق رکھنے والا 727--متعلّقین --تعلق رکھنے والے --842--متوسِّلین --نزدیکی چاہنے والے 728--محکوم --اختیارمیں ،زیرحکم،تابع--843--منصب --مرتبہ،عہدہ 729--مصالح --مصلحتیں --844-- مَنْ وتُو --میں اورتُو 730--مبغوض --قابل نفرت--845--مشاہد--حاضر،ظاہر 731--مَرگَھٹ --ہندؤوں کے مردے جلانے کی جگہ --846--متشکِّل--شکل اختیارکرنا،صورت اختیار کرنا 732--محصور --گھراہوا،قلعہ بند،مقیَّد--847--مصائب --مصیبت کی جمع پریشانیاں ،تکلیفیں 733--معاصی --گناہ--848--مقابر --مقبرہ کی جمع،قبرستان 734--مُسَخَّر --تابع کیا گیا،تسخیرکیاگیا۔--849--مدعیٔ نبوت --نبوت کادعوٰی کرنے والا 735--متّبعین --پیروی کرنے والے--850--مروّت --اخلاق،انسانیت 736--مثیل --ہم شکل ،ویساہی--851--مدائح --تعریفیں 737--مَنْقَصَتْ --کمی ،گھٹانا،نقص--852--لامذہب --جس کاکوئی مذہب نہ ہو،لادین 738--مقتدا --پیشوا،رہنما--853--مامون --محفوظ،بے خوف 739--مُفْسِدْ--جھگڑاکرنے والا،باغی،فسادی--854--ملک داری --انتظام حکومت 740--مُعانِد --دشمن--855--متصوِّف --بناوٹی صوفی،صوفی بننے والا 741--مدنظر --پیش نظر ، سامنے--856--منحصر --محدود 742--موضع فرض --جسم کاوہ حصہ جس کا دھونا فرض ہے۔--857--محیط --گھیرنے والا 743--متوسّط --درمیانہ--858--مس --چُھونا 744--موضع نجاست--نجاست کی جگہ--859--معاذ اللّٰہ -- اللّٰہ کی پناہ 745--مانع --رکاوٹ ،روکنے والا--860--مخرج --نکلنے کی جگہ 746--مترتّب --ترتیب دیاہوا --861--موقع نجاست --نجاست کے گرنے کی جگہ 747--میانی--پاجامہ کاوہ حصہ جوپیشاب گاہ کے قریب ہوتاہے --862--مقطَّعات کی انگوٹھی --وہ انگوٹھی جس پر حروف مقطعات لکھے ہوئے ہوں جیسے الم وغیرہ 748--مخفی امر--پوشیدہ معاملہ--863--مینھ--بارش 749--مانجھ لینا --صاف کرلینا--864--مجامعت --ہم بستری کرنا 750--مُتیقَّن --یقینی--865--میل کاٹنا --میل صاف کرنا 751--مِیچ لیں --بندکرلیں --866--مردہ پوست --مردہ کھال 752--متنبّہ --خبردار ،آگاہ ،ہوشیار--867--متحیّر--حیران ،ہکابکا، متعجب 753--مسدود --بند کیاگیا،روکا گیا، بند ،رکاہوا --868--مضایقہ --حرج، قباحت 754--مَحْو--مٹاہوا، فنا، معدوم--869--متّصل --پاس ،قریب ،نزدیک لگاہوا،لگاتار 755--مِسّی --ایک قسم کامنجن--870--مُول --پونجی،سرمایہ 756--مرئیہ --جس کودیکھ سکیں --871--متلی --جی متلانا،قے 757--مساحت --زمین کی پیمائش--872--مَضَرّت --نقصان ،ضرر ،زیاں 758--متجاوز --اپنی حد سے بڑھنے والا--873--مستغرق --گِھراہوا 759--منطبق --موافق،برابر--874--مغموم --غمگین ،بے ہوش 760--محاذی --سامنے،برابر--875--محاذات--آمنے سامنے ،روبرو،سیدھ 761--مواجہہ --آمنے سامنے ،روبرو--876--مخفی --پوشیدہ 762--مرتکب --ارتکاب کرنے والا ،کسی فعل کا کرنے والا --877--مشارکت --شریک ہونا،باہم شرکت کرنا، حصہ داری 763--مُجرَّب --آزمایاہوا--878--مجموعۃً--مجموعی طورپر،جمع کیاہوا 764--معظم دینی--دینی پیشوا--879--مکرر --دوبارہ،بار بار 765--متضمن --داخل ،شامل --880--ممبر --منبر 766--مَظِنَّۂ نَجاست--نجاست کاگمان--881--مبغوض --ناپسندیدہ،قابل نفرت 767--مُوجِب --واجب کرنے والا،باعث،سبب --882--مُصرَّح --واضح 768--مداومت --ہمیشگی--883--معدوم ہونا--ختم ہونا،ناپیدہونا،کم ہونا 769--متمیز--امتیاز ، جدا،الگ--884--مخروطی --گاجر نما ، گاجر کی شکل کا 770--متجزّی --تقسیم ہونا ،ٹکڑے ٹکڑے ہونا،--885--مُؤکَّد --تاکید کیاہوا 771--مصلّٰی --جائے نماز--886--موضع اقتدا--اقتداکی جگہ 772--مشتہی--قابل شہوت لڑکا،خواہش پیدا کرنے والا --887--مَحارم --مَحرم کی جمع ،جس سے نکاح ہمیشہ حرام ہو 773--مع قراء ت --قراء ت کے ساتھ--888--مُسْتَبْعَدْ--دورازقیاس،بعید 774--مُنادِی --پکارنے والا،اعلان کرنے والا--889--مشروع --شریعت کے موافق،جائز 775--محسوب --شمارکیاگیا،حساب میں لگایاگیا--890--مابقی --بقیہ،باقی بچاہوا 776--مہتمّ بالشّان--نہایت اہم ،عظیم --891--مرغوب --پسندیدہ،محبوب 777--مُراہِقَہ--وہ لڑکی جوبالغ ہونے کے قریب ہو--892--مُتمتِّع--فائدہ اٹھانا،نفع حاصل کرنا 778--مُضْطَر --تکلیف میں مبتلا،مجبور،پریشان--893--مستقَر--ٹھہرنے کی جگہ ،جائے قرار،ٹھکانہ 779-- ماذون--وہ غلام جسے تجارت کی اجازت دی گئی ہو۔--894--مرجَع --جائے پناہ،رجوع کرنے کی جگہ، جس کی طرف رجوع کیاجائے، 780--متبوع--سردار،جس کی پیروی کی جائے--895--متواتر --پے درپے،مسلسل،لگاتار 781--میکا --عورت کے والدین کاگھر--896--مصافحہ--ہاتھ ملانا 782--مورِث --وارث کرنے والا،وہ شخص جس سے ورثہ ملاہو۔--897--مرض مہلک --وہ بیماری جس میں جان جانے کااندیشہ ہو، خوفناک بیماری 783--مجوسیہ --آتش پرست (آگ کی عبادت کرنے والی) عورت --898--مَصارِف --مصرف کی جمع،خرچ کرنے کی جگہ، اخراجات 784--مَنْفِعَت --نفع،فائدہ--899--معصیت--نافرمانی،گناہ 785--مُضِر --نقصان دہ --900--مدیون--مقروض 786--مُجرا--جاری کیاگیا،کٹوتی--901--معانقہ--گلے ملنا 787--معدِنی --وہ چیزیں جوکان سے نکلیں --902--مالگذاری --زمین کالگان (ٹیکس) 788--میعاد --مدت--903--منقّیٰ --ایک قسم کی بڑی کشمش 789--مایۂ عزت --باعث عزت--904--مُعَیَّن --مقرر 790--مذبذب --متردد،ایک خیال پرقائم نہ رہنے والا--905--مُسلَّم --پورا،سب ،تسلیم کیاگیا،درست 791--معتد بہ --بہت سا،تعدادیامقدارمیں زیادہ، قابل اعتماد --906--مفلس --غریب، دیوالیہ،نادار، فراخی کے بعد تنگی کا آجانا 792--متولّی --انتظام کرنے والا، منتظم--907--مِعمار --عمارت بنانے والا،مستری 793--مملوک --مقبوضہ،ملکیت،غلام--908--معدِن --کان 794--مستعد --تیار--909--مدَّعِی --دعویٰ کرنے والا 795--معتمد --قابل اعتماد--910--مثانہ --جسم کے اندر پیشاب کی تھیلی 796--مغز --گِری ،کسی چیز کااندرونی حصہ، دماغ--911--مواخذہ --جواب طلبی ،بازپُرس 797--مِلْک --ملکیت ، مالک ہونا--912--محتاط فی الدِّین --دین کے معاملے میں احتیاط کرنے والا 798-- مساس--جسم کے کسی حصے کو شہوت ابھارنے کے لئے چھونا یا ملنا --913--مطلع --طلوع ہونے کی جگہ (چاند نظر آنے کی جگہ) 799--مبیع--بیچی گئی چیز--914--مولیٰ-- آقا،مالک،غلام 800--مُتوسِّطُ الحال --درمیانی حالت--915--مقدّمات حج--حج کے مسائل ،معاملات 801--مِحْنَتانہ --محنت کاصلہ ،وکیل کی فیس--916--موذیوں --موذی کی جمع تکلیف دینے والے 802--موئے بغل --بغل کے بال --917-- مستورات--مستورہ کی جمع پردہ نشین عورتیں 803--معطّر--خوشبومیں بَساہوا--918--مُطوِّف --طواف کرنے والا 804--مول لینا --کسی چیزکوخرید نا،اپنے سرمصیبت لینا--919--مُشوَّش --پریشان ،مضطرب،حیران 805--معا --ساتھ--920--مامور --مقرر،متعین،حکم کیاگیا،اجازت دیاگیا 806--ملال --رنج ،افسوس--921--موانع --مانع کی جمع رکاوٹ 807--متموّ ل --مال دار--922--مجرَّد --تنہا 808--مرطوب ہوا --وہ ہوا جس میں نمی ہو--923--مغلَّظات--فحش گالیاں 809--مبادا --خدانخواستہ،کہیں ایسا نہ ہو--924--میزان میزان --برابرکرنا 810--مَجرا --آداب بجالانا،سلام کرنا--925--مباہات --فخر 811--محشور --حشرکیاگیا،قیامت میں اٹھایا گیا۔--926--منقبت --بزرگان دین ،اولیاء اللّٰہ کی مدح کے اشعار 812--مَنْحَر --نحر کرنے کی جگہ--927--مبہم --پوشیدہ 813--موچنا --بال اکھیڑنے کاآلہ--928--مُونڈھے --کندھے، شانے 814--مصنوعی مُردہ سنگ --سفید رنگ کا پتھر جو دواؤں میں کام آتا ہے --929--موضع سجود و قدم کاپاک ہونا -- سجدہ اور پاؤں رکھنے کی جگہ کا پاک ہونا 815--متذکرۂ بالا -- اوپر ذکر کئے گئے --930--مصلّی--نمازی 816--متابعت-- پیروی--931--مئذنہ--مینارا 817--منحرف-- پھرا ہو--932--موضع سجدہ --سجدہ کی جگہ 818--مفترض -- فرض پڑھنے والے--933--مُطلًّا -- سونے سے آراستہ 819--متنفل-- نفل پڑھنے والے--934--مُقدَّم-- آگے 820--منصوب -- کھڑا --935--معلّق --آویزاں 821--موضع اہانت -- ذلّت کی جگہ--936--محل سجود --سجدے کی جگہ 822--مذبح-- جانور ذبح کرنے کی جگہ--937--مواضع -- جگہوں 823--مِن جہۃ العباد--بندوں کی طرف سے--938--معلّم اجیر -- اُجرت پر پڑھانے والے 824--مرتہن-- جس کے پاس چیز گروی رکھی گئی ہو--939--مؤکل-- وہ شخص جو وکیل مقرر کرے،وکیل کرنے والا 824--مستحق نار ہے -- جہنم کا حقدار ہے--940--مدیُون کا کفیل--مقروض کا ضامن 825--مرہُون-- جو چیز گروی رکھی گئی ہے--941-- مدَّعٰی علیہ -- وہ شخص جس پر دعویٰ کیا جائے 826--مستغرق -- گھیرے ہوئے--942--منقطع--جُدا 827--مواسات -- غمخواری اور بھلائی--943--مُشت -- ایک مٹھی 828--مکتوب الیہ -- جسے خط پہنچا------ ن 944--نظافت --صفائی--966--نوع اختیار--ایک طرح کااختیار 945--ناقہ --اونٹنی--967--نصرت --مدد،حمایت 946--نسیم --پچھلی رات کی نرم ومعطرہوا،صبح کی ٹھنڈی ہوا--968--نیازمند -- محتاج ،عاجزی وانکساری کااظہار کرنے والا 947--نعمت عظمیٰ --بڑی نعمت --969--نعش --لاش،میت 948--ناختنہ شدہ --جس کاختنہ نہ ہواہو--970--نیک ظنی --اچھاگمان 949--نرکل --سرکَنڈا--971--نازُ کی --نرمی،کمزور 950--نادراً --کم یاب ،عمدہ ،عجیب --972--نگہداشت --حفاظت ،نگرانی 951--نسیان --بھول چوک ،ایک مرض جس میں انسان کے ذہن سے گذشتہ واقعات محوہوجاتے ہیں ۔ --973--نگاہ خیرہ ہونا --بہت روشن اور بہت چمکتی ہوئی چیز پر نظر کرنے سے آنکھ کاپورانہ کھلنا،جھپکنے لگنا۔ 952--ناگوار --ناپسند--974--نتھنا --ناک کاسوارخ 953--نطق --گفتگو، گویائی--975--نادم--شرمندہ 954--ناآشنا --ناواقف--976--نادر --کمیاب ،قلیل 955--ناگہانی --اتفاقیہ ،اچانک --977--نصب --گاڑنا،کھڑاکرنا 956--ناگفتہ بہ --جس کانہ کہنابہترہو،ناقابل بیان،--978--نادار --غریب ،محتاج 957--نصف عشر --بیسواں حصہ--979--نامسموع --نہ سناگیا،نامقبول 958--ننگ وعار --شرم وحیا،غیرت وحمیت--980--نانبائی --روٹی پکانے والا 959--نقارہ --نَوبت ،بڑاڈھول--981--نایاب --کمیاب ،نادر 960--ناغہ --غیرحاضری --982--نشیب وفراز --پستی وبلندی(اتارچڑھاؤ) 961-- نِری --خالص--983--نہال --خوش حال،خوش وخرم 962--نِچھاور --نثار،بکھیرنا--984--نصرانی --عیسائی 963--نِیا بۃ ً--بطورنائب،قائم مقام --985--ناخُن گیر --ناخُن تراش 964--نُمو-- زیادتی --986--نواقض وضو -- وضو توڑنے والی چیزیں 965--نفقہ--روٹی کپڑے وغیرہ کا خرچ--987--ناگوار--ناپسند و 988--وصل --ملاہوا ہونا،ملانا--1000-- وُقوع کذب --جھوٹ کاواقع ہونا 989--وغیرہم --اوران کے علاوہ --1001--ورع --پرہیزگار 990--وحدانیّت -- اللّٰہ عزوجل کاایک ہونا، لاشریک ہونا--1002--واصل --پہنچنا 991--وقعت --قدرومنزلت،عزت--1003--وسعت --گنجائش 992--وارد--مذکور،پہنچنا--1004--وضع قطع --شکل وصورت 993--وحشت --گھبراہٹ،خوف--1005--ولی اَقْرَبْ --سب سے زیادہ نزدیک کارشتہ دار 994--ولی اَبْعَد --دور کارشتہ والا--1006--وثیقہ --دستاویز،اقرارنامہ ۔ 995--وسائِط --واسطہ کی جمع،واسطے، ذریعے، اسباب--1007--واجب الادا --جس کی ادائیگی ضروری ہو 996--وافر --زیادہ --1008--وراء وراء --پیچھے پیچھے 997--وسعت --کشادگی--1009--واجب الحفظ --جس کایاد کرناضروری ہو 998--وغیرہا -- اور اس کے علاوہ --1010--واجب الوجود --جس کا وجود ضروری ہو 999--وجاہت --عزت ،احترام------ ہ 1011--ہنود --ہندو--1018--ہیبت ناک --خوفناک 1012--ہادی --ہدایت دینے والا--1019--ہیأت --بناوٹ،صورت ،کیفیت 1013--ہنوز --ابھی تک،اس وقت تک--1020--ہمراہی --ساتھی ،رفیق 1014--ہیأت اولی--پہلی صورت--1021--ہلکی قراء ت --مختصرقراء ت 1015--ہبہ کردینا--تحفے میں دینا --1022-- ہڑ -- ایک دوا کا نام 1016--ہمہ تن--بالکل ،تمام--1023--ہیکل--ہار، شان وشوکت 1017--ہلال--پہلی رات کا چاند------ ی 1024--یومُ الترّوِیہ-- آٹھویں ذی الحجہ کادن--1026--یکّہ--گھوڑا گاڑی 1025--یک چشم--ایک آنکھ والا،کانا --1027--یمین--قسم .................................... سلام کے بہترین الفاظ اعلٰی حضرت،امام اَحمدرضاخان علیہ رحمۃالرحمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 22 صفحہ409 پر فرماتےہیں :کم از کم السَّلامُ علیکم اور اس سے بہتر وَرَحمَۃُ اللّٰہ ملانا اور سب سے بہتروَبَرَ کاتُہ شامل کرنا اور اس پر زِیادَت نہیں ۔پھر سلام کرنے والے نے جتنے الفاظ میں سلام کیا ہے جواب میں اتنے کا اعادہ تو ضَرور ہے اور افضل یہ ہے کہ جو اب میں زیادہ کہے ۔ اس نے السَّلامُ علیکم کہا تو یہ وَعَلَیکُمْ السَّلام وَرَحَمَۃُ اللّٰہ کہے۔اور اگر اس نے السَّلامُ علیکم وَ رَحمَۃُ اللّٰہ کہا تو یہ وَعَلیکمُ السَّلام وَرَحمَۃ اللّٰہ ِ وَبَرَکا تُہ کہےاور اس نے وبرکا تُہ تک کہا تو یہ بھی اتنا ہی کہے کہ اس سے زیادت نہیں ۔ و اللّٰہ تعالٰی اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع