رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہِ وسلَّم کے آباء و اجداد (قسط:02)

رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے آباءو اجداد

 ( قسط : 02 )

*مولانا ابو ماجد محمد شاہد عطّاری مدنی

ماہنامہ فیضانِ مدینہ اکتوبر 2023ء

 ( 3 ) حضرت ہاشم :

حضرت ہاشم کا نام عَمْرو یا عُمَر تھا مگر بلند مرتبے کی وجہ سے انہیں عَمْرُو العُلا کہا جاتا تھا۔ آپ کی والدہ عاتکہ بنتِ مُرہ بن ہلال ہیں۔ [1] حضرت ہاشم کی کنیت ابو البطحاء ، لقب سیّدُالبطحاء اور ہاشم تھا۔ ہاشم کے معنیٰ ہیں روٹیاں توڑ کر شوربے میں ملانے والا۔ آپ کو ہاشم کہنے کی وجہ یہ تھی کہ ایک مرتبہ مکہ شریف میں قَحْط سالی ہوگئی جس کی وجہ سے نوبت فاقوں تک پہنچ گئی۔ حج کے ایام تھے ، آپ شام گئے اور وہاں سے آٹا خرید کر اونٹوں پر لادکر مکہ شریف لے آئے۔ کثیر اونٹ ذبح کئے گئے ، روٹیاں پکائی گئیں ، شوربے والا سالن تیار کرکے اس میں روٹیوں کو توڑ کر ڈال دیا گیا۔ جب کھانا تیار ہوگیا تو دسترخوان بچھا کر خاص و عام سب کو کھانے کی دعوت دی گئی۔ سب نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا ، آپ نے کھانے کی اس دعوتِ عام کا سلسلہ جاری رکھا یہاں تک کہ لوگ خود کفیل ہوگئے۔ اسی لئے آپ ہاشم کے لقب سے مشہور ہوگئے۔ یہ اپنی خصوصیات اور اوصاف کی وجہ سے قبیلہ قریش کے سردار قرار پائے۔ آپ کثیرُالمال اور رئیس و سخی تھے ، مسافروں کو سواری دیتے ، لوگوں کے مالی حقوق اپنی جیب سے ادا کرتے ، انہیں پناہ دیتے ، بھوکوں کو کھانا کھلایا کرتے۔ حَسین و جمیل اور ذہین و فطین بھی تھے۔ آپ کی سخاوت ضرب المثل تھی۔ آپ کے چہرے پر نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نورتھا ، جو آپ کو دیکھتا ، اسے آپ سے محبت ہوجاتی۔ قیصر نے ان کے اوصاف انجیل میں پڑھے تھے اس لئے اپنی شہزادی کے ساتھ نکاح کاپیغام بھجوایا مگر آپ نے انکار کردیا۔[2]

آپ نے ہر سال گرمیوں میں شام   اور سردیوں میں یمن دو سفروں کا آغاز کیا۔ آپ قوم کو خطبہ دیا کرتے تھے جس میں حُسنِ اخلاق ، نیکی ، صلہ رحمی ، سخاوت ، انصاف ، اعتماد اور حُقوقُ العباد کی ادائیگی کا ذہن دیتے۔[3]آپ تجارتی سفر کے لئے شام جارہے تھے راستے میں مدینہ شریف  ( جسے اُس وقت یثرب کہا جاتا تھا )  میں بنوعدی بن نَجّار کے ہاں قبیلہ خَزْرَج کے سردار عَمْرو بن زید بن لَبِیْد خزرجی کے ہاں ٹھہرے ، عمرو نے اپنی پیاری بیٹی سلمیٰ کا نکاح اس وعدے پر آپ سے کیا کہ جب یہ اُمید سے ہوں گی تو انہیں میرے گھر لانا ہوگا تاکہ پہلے بچے کی پیدائش ننھیال میں ہو۔ نکاح کے بعد تجارتی قافلے کے ساتھ شام روانہ ہوگئے۔ واپسی پر آپ اپنی زوجہ کو لے کر مکہ آگئے۔ جب یہ اُمید سے ہوئیں تو وعدے کے مطابق انہیں مدینۂ منورہ چھوڑ کر خود تجارتی سفر میں شام روانہ ہوگئے۔ ان کے ہاں ایک بیٹے کی ولادت ہوئی جس کا نام شِیبۃُ الحمد رکھا گیا ، جو بعد میں عبد المطلب کے لقب سے مشہور ہوئے۔ حضرت ہاشم تجارتی قافلہ میں غزہ پہنچے تو بیمار ہوگئے۔ وصال وہیں ہوا ، مزار غزہ شہر میں ہے۔[4]آپ کے چار بیٹے عبدالمطب ، اسد ، ابوصَیفِیّ اور نضلہ تھے۔[5]

حضرت ہاشم کے دور میں عبدمناف اور ان کے بھائی عبدالدار کی اولادوں میں چھ منصب * سِقایہ * نَدْوہ * حِجابہ * لِواء * رِفادہ اور * قِیادہ کے بارے میں جھگڑا ہوگیا۔ قریش دو حصوں میں تقسیم ہوگئے : * ایک حصے میں مُطَیَّبُون یعنی خوشبو والے تھے ، ان میں بنو عبد مناف ، بنو زُہْرہ ، بنو اسد ، بنو تَیْم بن مُرّہ اور بنو حارث بن فِہر تھے جبکہ * دوسرے حصے میں بنو عبد الدار ، بنو مخزوم ، بنو سَہْم ، بنو جُمَح ، بنو عَدی بن کعب شامل تھے۔ مصلحت کروانے والوں کی کوشش سے طے پایا کہ رفادہ ، سقایہ اور قیادہ[6]کے منصب عبد مناف اور حجابہ ، [7]لواء[8] کے منصب عبد الدار کے پاس جبکہ دار الندوہ[9]دونوں میں مشترک ہوگا۔ المختصر رفادہ اور سقایہ کے منصب حضرت ہاشم کے پاس تھے۔[10]

 ( 4 ) حضرت عبدِ مناف :

حضرت عبدِمناف کا نام مُغِیْرہ تھا ، آپ حسین و جمیل ، عقل و فراست میں ہم زمانہ میں ممتاز تھے۔ آپ کی والدہ حُبَیّ بنت حُلیل بن حُبْشِیّہ خزاعی ہیں۔[11]حضرت عبدِ مناف کا لقب قَمَرُالبَطْحاء  ( یعنی مکہ شریف کا چاند )  تھا آپ کو قریش کا مغز اور جوہر بھی کہا جاتا تھا۔ مناف اناف سے ہے جس کا معنی شرافت و کرامت اور زیادتی و بلندی ہے ، آپ کو عبد مناف کہنے کی وجہ یہ ہے آپ اہلِ زمانہ میں سے اپنے اخلاق و اوصاف کی وجہ سےاعلیٰ و اَرفع تھے۔ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نور آپ کے چہرے پر چمکتا تھا ، آپ کے ہاتھ میں نزار کا جھنڈا اور حضرت اسماعیل علیہ السّلام کی کمان ہوا کرتی تھی۔ آپ بتوں سے نفرت کرتے تھے۔ یہی وہ خصوصیات تھیں جس کی وجہ سے آپ والد کی وفات کے بعد اُن کے جانشین مقرر ہوئے۔ لوگوں کو ایک پتھر ملا جس پر آپ کا یہ پیغام عربی میں کندہ  ( لکھا ہوا )  تھا جس کا معنی کچھ یوں ہے کہ مَیں مغیرہ بن قُصَی قریش کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ اللہ پاک سے ڈرتے رہیں اور قریبی رشتہ داروں سے اچھا سلوک کریں۔[12]حضرت عبدمناف کے چار بیٹے مشہور تھے :  ( 1 ) ہاشم  ( 2 ) عبدِ شمس  ( 3 ) نَوْفَل اور ( 4 ) مُطلب۔ انہوں نے اہلِ مکہ کے لئے مختلف بادشاہوں سے تجارتی قافلوں کے اجازت نامے لئے تھے تاکہ کاروبار کا دائرہ وسیع ہو اور حکومت ان قافلوں کی حفاظت کی ضمانت دے ، حضرت ہاشم نے شام ، روم اور غسان ، عبدشمس نے نجاشی ، نوفل نے شاہِ ایران کسریٰ اور مطلب نے حِمْیَر کے سلاطین سے اجازت نامے حاصل کئے تھے۔[13]

 ( 5 ) حضرت قُصَیّ :

حضرت قُصَیّ کا نام زید اور کنیت ابومغیرہ ہے۔ آپ کی والدہ فاطمہ بنت سعد بن سیَل ازدی ہیں۔[14]قصی کے معانی دُور ، بچھڑا ہوا اور غریب الوطن کے ہیں ، آپ کا نام قصی اس لئے مشہور ہوا کہ جب آپ کے والد حضرت کِلاب فوت ہوئے تو ان کے ورثاء میں ایک بیوہ فاطمہ بنت سعد اور دو بیٹے زہرہ اور زید تھے۔ ان کی بیوہ نے شام کے قریبی علاقے عُذرہ کے بنو قُضَاعہ کے ایک شخص ربیعہ بن حرام سے نکاح کرلیا جو مکہ شریف میں آیا ہوا تھا۔ اس وقت زہرہ جوان ہورہا تھا اور سنِ شعور یعنی سمجھدرای کی عمر کو پہنچ چکا تھا اس لئے ربیعہ جب اپنی بیوی کے ہمراہ وطن لَوٹنے لگا تو زہرہ کو تو مکہ میں چھوڑ دیا۔ جبکہ زید کم عمر تھے ، اس لئے انہیں ساتھ لے لیا۔ آپ نے اپنا پچپن عذرہ میں گزارا۔ ایک دن وہاں کے کسی بچے نے آپ کو مسافر اور غریب الوطن ہونے کا طعنہ دیا ، آپ کو بہت دُکھ ہوا اور والدہ کی اجازت سے حج کرنے کے لئے آنے والے قافلے کے ہمراہ مکہ شریف لوٹ آئے۔ مکۂ مکرمہ آکر اپنے بھائی زہرہ کے ساتھ رہنے لگے۔ کیونکہ آپ نے اپنے بچپن کا کچھ عرصہ وطن سے دور گزارا تھا اس لئے آپ قصی مشہور ہوگئے۔

حضرت قصی جوان ہوئے تو آپ کا نکاح کعبہ شریف کے متولی اور بَنُوخُزاعہ کے سردار حُلیل بن حُبْشِیّہ کی بیٹی حُبَیّ سے ہوا۔ حُلیل کی وفات کے بعد اس کا بیٹا ابُوغُبْشان مُحْتَرِش کعبہ شریف کا متولی ہوا۔ حضرت قصی بہت دانا اور ذہین تھے انہوں نے ابوغبشان سے تولیت کا حق خرید لیا۔ اِس پر اُس کے خاندان بنوخزاعہ اور بنوبکر کو اپنی فکر لاحق ہوگئی کہ ہم مکہ شریف کے دیگر مناصب سے محروم نہ کردئیے جائیں چنانچہ وہ جنگ کی تیاری کرنے لگے۔ آپ نے مدد کے لئے اپنے سوتیلے بھائیوں کو بلایا وہ اپنے خاندان بنوقضاعہ کے ساتھ مکہ پہنچ گئے۔ جب جنگ ہوئی توکوئی بھی غالب نہ آسکا۔دونوں صلح کی طرف مائل ہوئے ، بنی کنانہ کے ایک معززشخص یعمر بن عوف کو حکَم بنایا گیا اس نے فیصلہ کیا کہ ایک قبیلے کے مقتولوں کا خون بہا دوسرے قبیلے پر نہیں اور قصی کعبہ کے متولی ہوں گے۔ چنانچہ قصی نے بنوخزاعہ و بنوبکر کو مکہ سے نکال دیا اور قریش جو کہ عرب میں مختلف علاقوں میں بکھرے ہوئے تھے ان سب کو مکۂ مکرمہ میں جمع کردیا۔ قریش کا معنی جمع کرنا ہے اور قریش کو یہ نام دینے کی ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ جب حضرت قصی نے عرب میں بکھرے ہوئے اپنے قبیلے کو مکہ شریف میں جمع کیا تو اس خاندان کو قریش کہا جانے لگا۔[15]

قریش نے حضرت قصی کو اپنا حاکم تسلیم کرلیا۔ آپ نہایت ذہین ، طاقت ور ، بلند ہمت ، ثابت قدم ، بہادر اور قریش کے اہم ترین سردار تھے۔آپ تمام اہلِ عرب سے زیرک تھے۔ آپ کی رائے عمدہ اور قول سچا ہوتا تھا۔ آپ سخاوت کے دھنی  اور پاک دامن تھے۔ آپ کے کارناموں پر قریش فخر کیا کرتے تھے۔ آپ اہلِ قریش کو حاجیوں کی خدمت کی ترغیب دلاتے اور ان کے ساتھ مل کر یہ خدمت سرانجام دیتے۔ آپ ہی وہ پہلے فرد ہیں جنہوں نے حاجیوں کی آسانی کے لئے مزدلفہ میں روشنی کے لئے آگ جلائی۔ انہوں نے مکہ شریف کے کاموں کو بہتر انداز میں سرانجام دینے کے لئے یہ منصب * سقایہ * رفادہ * ندوہ * حجابہ * لواء اور * قیادہ بنائے۔ حضرت قصی کے چاربیٹے تھے :  ( 1 ) عبدمناف  ( 2 ) عبدالدار  ( 3 ) عبدالعزیٰ اور  ( 4 ) عبد بن قصی۔ وفات سے پہلے آپ نے مذکورہ مناصب اپنے بیٹوں میں یوں بانٹے کہ سقایہ اور ندوہ عبدمناف ، حجابہ اور لواء عبدالدار ، رفادہ عبدالعزیٰ کے سپرد ہوئے جبکہ وادیِ مکہ کی حفاظت  ( یعنی قیادہ )  عبد بن قصی کے حوالے کی۔آپ کا وصال مکہ شریف میں ہوا اور حجون میں دفن کئے گئے۔ بعد میں ان کے خاندان والوں کو بھی یہیں دفن کیا جانے لگا۔ آج کل اس مقام کو جنّت المعلیٰ کہا جاتا ہے۔[16]

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* رکن مرکزی مجلسِ شوریٰ ( دعوتِ اسلامی )



[1] طبقات ابن سعد ، 1 / 53

[2] سبل الہدیٰ والرشاد ، 1 / 268تا270- السیرۃ النبویۃ لدحلان ، 1 / 27 ، 28

[3] سبل الہدیٰ والرشاد ، 1 / 269 ، 270

[4] سبل الہدیٰ والرشاد ، 1 / 262

[5] السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ، ص47

[6] قیادہ کے منصب پر فائز سردار قریش تجارتی قافلوں اور جنگوں کی قیادت کیا کرتا تھا۔ یہ پہلے عبدِمناف اور پھر عبدِ شمس کو حاصل تھا۔

 ( السیرۃ النبویۃ لدحلان ، 1 / 25ماخوذاً )

[7] حجابہ کے منصب کے تحت کعبہ شریف کے انتظامی امور سرانجام دئیے جاتے تھے۔ حجابہ کا منصب بنو عبدالدار کے پاس تھا۔ فتح کے بعد بھی انہیں کے پاس رہا۔ نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے عثمان بن طلحہ کو کعبہ شریف کی چابیاں دیں ، اس کے بعد یہ ان کے بھائی شیبہ کے پاس رہا۔ اس کے بعد بنوشیبہ کو یہ منصب ملا۔ بنو عبد الدار قریش کے علم بردار بھی تھے۔ ( السیرۃ النبویۃ لدحلان ، 1 / 26 ، 27 )

[8] لواء کے منصب کے تحت جنگی معاملات کی نگرانی ہوتی تھی ، قریش کے خاندان بنو عبد الدار کے پاس یہ منصب تھا یہ لوگ جنگ میں جھنڈا پکڑتے تھے۔

 ( السیرۃ النبویۃ لدحلان ، 1 / 25 )

[9] ندوہ کے منصب کے تحت قریش اپنے سارے فیصلے کیا کرتے تھے۔حضرت قصی نے ایک عمارت بنائی جسے دارالندوہ کہا جاتا تھا۔ اس میں بھی وہ افراد مشاورت کے لئے جمع ہوتے جن کی عمر40سال سے زیادہ ہوتی تھی۔جب کوئی بچی بالغہ ہوتی تو دارالندوہ آتی اور اسے بنو عبدالدار کی جانب   سے چادر دی جاتی جس سے وہ پردے کا آغاز کرتی۔ جنگ کا جھنڈا بھی ندوہ میں باندھا جاتا تھا۔ ( السیرۃ النبویۃ لدحلان ، 1 / 25 )

[10] السیرۃ النبویہ لدحلان ، 1 / 24 ، 25

[11] طبقات ابن سعد ، 1 / 53

[12] السیرۃ النبویۃ لدحلان ، 1 / 27 ، سبل الہدیٰ والرشاد ، 1 / 271 ، 272

[13] سبل الہدیٰ والرشاد ، 1 / 269ماخوذاً

[14] طبقات ابن سعد ، 1 / 53

[15] ماخوذ از الروض الانف ، 1 / 188- طبقات ابن سعد ، 1 / 55تا57-السیرۃ النبویۃ لدحلان ، 1 / 22

[16] سبل الہدیٰ والرشاد ، 1 / 272 تا 276ماخوذاً


Share