رسول اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عافیت اندیشی

اسلام کی روشن تعلیمات

رسول اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عافیت اندیشی

*مولانا محمد آصف اقبال عطاری مدنی

ماہنامہ فیضانِ مدینہ ستمبر 2023


ایمان واسلام کی بنیاد میں امن وسلامتی کا مفہوم پورے طور پر موجود ہے اور اللہ پاک کے ہر نبی نے امن و سلامتی ہی کادرس دیا ہے اور سب سے آخری نبی محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے امن کو بہت فروغ بخشا اور ساری دنیا کو سلامتی کا درس دیا۔ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زندگی کے ہر حصہ میں عافیت اندیشی نمایاں نظر آتی ہے۔ عافیت اندیشی کہتے ہیں صحت ، سلامتی ، امن ، نیکی ، بھلائی اور خیر چاہنے کو۔ اس معنی کے اعتبار سے ہر نبی ورسول عافیت اندیش تھے مگر رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس عافیت اندیشی کو وہ عروج وکمال عطا کیا کہ رہتی دنیا تک ساری انسانیت کے لئے ایسی مثال قائم فرما دی جس کا کوئی جواب نہیں ۔

مکی زمانہ ہو یا مدنی ، نجی زندگی ہو یا معاشرتی ، سفر ہو یا حضر اور حالت امن ہو یا حالت جنگ الغرض ہر حال میں اور ہر موقع پر حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عافیت اندیشی برقرار رہی۔ حتّٰی کہ جب دشمن کی خود سری وسرکشی لاعلاج ہوجاتی اور جہادوقتال کی ضرورت پڑتی تب بھی آخری نبی محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا عافیت اندیشی والا کردار نمایاں رہتا۔ وقت کے بادشاہوں کو خط لکھے تو ”اَسْلِم تَسْلِم یعنی اسلام قبول کرو سلامت رہو گے“ کے فرمان سے عافیت اندیشی کا پیغام دیا ، ہجرتِ حبشہ وہجرتِ مدینہ بتاتی ہیں کہ تصادم  ( ٹکراؤ )  کی راہ ترک کرکے عافیت اندیشی کو اختیار کرنا چاہئے ، جنگوں میں بچّوں ، عورتوں ، بوڑھوں اور جنگ نہ کرنے والوں سے تعرض نہ کرنے اور باغات ومویشیوں کو اپنی حالت پر باقی رکھنے کے احکامات کوئی عظیم عافیت اندیش ہی دے سکتا ہے ، یونہی حدیبیہ کی صلح اور فتحِ مکّہ کے موقع پر عام معافی کا اعلان بھی نبیِّ امن وسلامتی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عافیت اندیشی کی زبردست مثالیں ہیں۔

پیشِ نظر مضمون میں واقعات وفرامینِ نبی کی روشنی میں حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عافیت اندیشی ، خیرخواہی اور امن پروری کو ملاحظہ کیجیے اور اپنی زندگی کو عافیت وبھلائی اور امن و سکون کے دائرے میں لانے کے لئےاسوۂ حسنہ کے اس خوب صورت پہلو کو اختیار کیجیے۔

عافیت کی دعا اور ترغیب دعا

عافیت اندیش رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دعائے عافیت کو بہت اہمیت دی ، نہ صرف خود یہ دعا بکثرت فرماتے بلکہ اُمّت کو بھی اس کی بہت زیاد ترغیب ارشاد فرمایا کرتے تاکہ ظاہری وباطنی اور دنیاوی و اُخروی تکالیف وآزمائشوں سے بچا جائے ، درج ذیل احادیثِ مبارکہ ملاحظہ فرمائیے :

 ( 1 ) حضرت عبداللہ بن عمر  رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم صبح و شام یہ دعائیں ترک نہ فرماتے تھے : اَللّٰهُمَّ اِنِّي اَسْاَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَاَهْلِي وَمَالِي ، اَللّٰهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِي یعنی اے میرے اللہ ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں عافیت طلب کرتا ہوں ، اے میرے اللہ ! میں تجھ سے درگزر اور اپنے دین و دنیا اور اہل و مال میں عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ اے میرے اللہ ! میرے پردے کی حفاظت فرما۔[1]

 ( 2 )  اللہ پاک کے آخری نبی محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب گرج چمک کی آواز سنتے تو دعا کرتے : اَللّٰهُمَّ لَاتَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ وَلَاتُہْلِکْنَا بِعَذَابِکَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذَلِکَ ترجمہ : اے اللہ ! ہمیں اپنے غضب سے ہلاک نہ کرنا اور نہ ہمیں اپنے عذاب سے تباہ کرنا اور ہمیں اس سے پہلے عافیت عطا فرما دینا۔[2]

 ( 3 )  ایک موقع پر حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہم نبر رسول کے پاس کھڑے ہوئے اور رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یاد کرکے رونے لگے ، پھرفرمایا : بے شک رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہجرت کے پہلے سال اسی جگہ ارشاد فرمایا : لوگو ! اللہ پاک سے عافیت کا سوال کرو  ( یہ تین مرتبہ فرمایا ) کیونکہ کسی کو ایمان کے بعد عافیت سے بہتر کوئی چیز نہیں ملی۔[3]

 ( 4 )  ایک شخص نے حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی : یارسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! سب سے افضل دعا کون سی ہے ؟   ارشادفرمایا : اپنے ربِّ کریم سے عافیت اور دنیا و آخرت کی بھلائی کا سوال کیا کرو۔ دوسرے دن بھی اس شخص نے حاضرہوکرعرض کی : یارسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! سب سے افضل دعا کون سی ہے ؟   آپ نے اسی دعا کا ارشاد فرمایا۔ تیسرے دن آکر پھر اس نے یہی سوال کیا تو رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : اگر تمہیں دنیاو آخرت میں عافیت مل جائے تو تم کامیاب ہوگئے۔  [4]

 ( 5 ) رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : بندہ اس سے افضل کوئی دعا نہیں مانگتا اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْمُعَافَاۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ ترجمہ : اے اللہ ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت کا سوال کرتاہوں۔[5]یوں ہی ارشاد فرمایا : اللہ پاک کو زیادہ پسند ہے کہ اُس سے عافیت کا سوال کیا جائے۔[6]

عبادات ومعمولات میں عافیت اندیشی

میانہ روی بھی عافیت ہی کا ایک گوشہ ہے اور عافیت اندیش نبی ، محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے عبادات ومعمولات میں اسے اپنانے کی بہت زیادہ ترغیب ارشاد فرمائی ہے کیونکہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہی محبوب تھا کہ عبادات میں بھی حتی الامکان تکلیفوں اور مشقتوں سے اُمّت کو بچایا جائے تاکہ لوگ کسی بوجھ وآزمائش کے بغیر دین پر بآسانی عمل کرسکیں ، 2 فرامینِ آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ملاحظہ فرمائیے :

 ( 1 ) اپنی جانوں پرسختی نہ کرو کہ اللہ پاک تم پر سختی فرمادے کیونکہ ایک قوم  ( یعنی عیسائیوں ) نے اپنی جانوں پر سختی کی تو اُن پر سختی کردی گئی۔[7]

 ( 2 )  ایک بارچند صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم نے حضور نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی کسی زوجہ محترمہ سے گھر میں آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عبادت کے متعلق پوچھا ، جو انہیں بتایا گیا اُسے انہوں نے کم سمجھا اور یوں کہنے لگے : ہم رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی معصوم ہستی کے سامنے کیا حیثیت رکھتے ہیں کہ خود کو ان پر قیاس کرنے لگیں ، یہ تووہ ہیں کہ جن کے سبب ان کے اگلوں اورپچھلوں کے گناہ بخش دیئے گئے۔ پھر ان میں سے ایک نے کہا : میں اب ہمیشہ ساری رات نماز پڑھوں گا۔دوسرے نے کہا : میں ساری زندگی بلاناغہ روزے رکھوں گا۔ تیسرے نے کہا : میں ہمیشہ عورتوں سے دوررہوں گا اور کبھی شادی نہیں کروں گا ۔ اسی اَثنامیں حضورآخری نبی ، محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تشریف لے آئے اورارشاد فرمایا : تم لوگوں نے ایسا ایسا کہا۔ خدا کی قسم ! میں تم سب سے زیادہ اللہ پاک سے ڈرنے والا ہوں اورتم سب سے بڑا متقی ہوں لیکن میں نفلی روزے رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں ، ( رات میں ) نمازپڑھتا ہوں اورسوتا بھی ہوں اور میں نے نکاح بھی کررکھے ہیں تو جس نے میری سنت سے روگردانی کی وہ مجھ سے نہیں۔  [8]

عام زندگی میں عافیت اندیشی

علامہ ابنِ اثیر جزری نے فرمایا : عافیت یہ ہے کہ تم بیماریوں اور مصیبتوں سے محفوظ رہو۔[9]جبکہ علامہ عبدالرؤف مناوی فرماتے ہیں : دینی لحاظ سے فتنوں اور شیطان کے فریب سے اور دنیاوی اعتبار سے دُکھوں اور بیماریوں سے محفوظ رہنے کو عافیت کہا جاتا ہے۔[10]  ہم دیکھتے ہیں کہ حضور نبیِّ دو جہان صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم عام زندگی میں عافیت کابہت زیادہ درس دیا کرتے تھے ، باربار ایسی ہدایات جاری فرماتے رہتے جن پر عمل کی صورت میں دینی ودنیاوی عافیت حاصل رہے اور لوگوں کے جان ومال محفوظ رہیں۔ یہاں بعض وہ احادیثِ مبارکہ درج کی جاتی ہیں جو حضور جانِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عافیت اندیشی ، اُمّت پر رحمت و شفقت اور ان کے ساتھ خیرخواہی کو واضح کرتی ہیں :

 ( 1 ) حضور سید ِعالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : تین شخص ہیں کہ تیرا رب ان کی دعا قبول نہیں کرتا : ایک وہ کہ ویرانے مکان میں اترے۔دوسرا وہ مسافر کہ سرِ راہ  ( یعنی سڑک سے بچ کر نہ ٹھہرے ، بلکہ خاص راستے ہی پر )  پڑاؤ ڈالے۔ تیسرا وہ جس نے خود اپنا جانور چھوڑ دیا ، اب خدا سے دعاکرتا ہے کہ اسے روک دے۔[11]

 اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان قادری حنفی رحمۃُ اللہ علیہ اس کے تحت فرماتے ہیں : ویرانے مکان میں اترنے والا اس کی مُضَرَّتوں  ( نقصانات ) سے آگاہ ہے ، پھر اگر وہاں چوری ہو یا کوئی لوٹ لے یا جِنّ ایذا پہنچائیں تو یہ باتیں خود اس کی قبول کی ہوئی ہیں ، اب کیوں ان کے رفع کی دعا کرتا ہے۔ یونہی جب راستے پر قیام کیا تو ہر قسم کے لوگ گزریں گے ، اب اگر چوری ہو جائے ، یا ہاتھی گھوڑے کے پاؤں سے کچھ نقصان  ( ہو ) ، رات کو سانپ وغیرہ سے ایذا پہنچے اس کا اپنا کیا ہوا ہے۔ نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں : شب کوسرِ راہ نہ اترو ( یعنی رات کو راستے میں پڑاؤ نہ ڈالو ) کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے جسے چاہے راہ پرپھیلنے کی اجازت دیتا ہے۔[12]

 ( 2 ) رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےارشادفرمایا : جب رات کی ابتدائی تاریکی آجائے یا یہ فرمایا کہ جب شام ہوجائے تو بچوں کو سمیٹ لو کہ اُس وقت شیاطین منتشر ہوتے ہیں پھر جب ایک گھڑی رات چلی جائے ، اب اُنھیں چھوڑ دو اور بسم اللہ کہہ کر دروازے بند کرلو کہ اس طرح جب دروازہ بند کیا جائے تو شیطان نہیں کھول سکتا اور بسم اللہ کہہ کر مَشکوں کے دہانے باندھو اور بسم اللہ پڑھ کر برتنوں کو ڈھانک دو ، ڈھانکو نہیں تو یہی کرو کہ اس پر کوئی چیز آڑی کرکے رکھ دو اور چراغوں کو بجھادو۔[13]

فضائل دعا ، ص165پر ہے کہ  ( یہ منع ہے کہ )  رات کو دروازہ کھلا چھوڑ دے یا بغیر بسم اللہ کہے بند کرے کہ شیطان اسے کھول سکتا ہے اور جب بسم اللہ کہہ کر دہنا پاؤں مکان میں رکھے تو شیطان کہ ساتھ آیا تھا باہر رہ جاتا ہے اور جب بسم اللہ کہہ کر دروازہ بند کرے تو اس کے کھولنے پر قدرت نہیں پاتا۔  ( یہ بھی منع ہے کہ ) کھانےپانی کے برتن بسم اللہ کہہ کر نہ ڈھانکے کہ بلائیں اترتی اور خراب کر دیتی ہیں ، پھر وہ کھانا وپانی بیماریاں لاتے ہیں۔

  ( 3 ) حضور نبیِّ رحمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں : برتن چھپادو ، مَشکوں کے منہ باندھ دو ، دروازے بندکردو اورشام کے وقت بچّوں کو روک لو کیونکہ اس وقت جنات منتشر ہوتے ہیں اور اُچک لیتے ہیں اور سوتے وقت چراغ بجھا دو کہ کبھی چوہا بتی گھسیٹ کر لے جاتا ہے اور گھر جل جاتا ہے۔[14]

 ( 4 ) مدینۂ منوّرہ میں ایک مکان رات میں جل گیا ، جب پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ بات بتائی گئی تو آپ نے فرمایا : یہ آگ تمہاری دشمن ہے ، جب سویا کرو تو بجھا دیا کرو۔[15]

 ( 5 ) رسول پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جب کوئی شخص سایہ میں ہو اور سایہ سمٹ جائے اور وہ کچھ سایہ میں اور کچھ دھوپ میں تو وہاں سے اٹھ جائے۔[16]

 ( 6 ) حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جو شخص ایسی چھت پر رات میں رہے ، جس پر روک ( یعنی دیوار یا منڈیر )  نہیں ہے اس سے ذمہ بری ہے۔[17]صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی اس کے تحت فرماتے ہیں : یعنی اگر رات میں چھت سے گرجائے تو اس کا ذمہ دار وہ خود ہے۔[18]

پیارے اسلامی بھائیو ! آپ نے ان تمام روایات واحادیث کو پڑھ کر بخوبی اندازہ کرلیا ہوگا کہ حضور نبیِّ رحمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم عافیت وبھلائی اور خیرخواہی کو کس قدر اہمیت وترجیح دیتے تھے ، ہرکسی کو تکلیف ومصیبت سے محفوظ رکھنے کے لئے کس قدر فکرمند رہتے تھے۔لہٰذا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ آخری نبی محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اس کائنات کے سب سے بڑے عافیت اندیش تھے۔

جنگوں میں عافیت اندیشی

اللہ پاک کے آخری نبی محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بہت بہادر اور دلیر ہونے کے باوجود انتہائی کوشش ہوتی کہ جنگ میں نقصان کم سے کم ہو ، آپ کی جنگی ہدایات اور ان مواقع کی تعلیمات آپ کی عافیت اندیشی کو خوب اجاگر کرتی ہیں۔ آئیے یہاں جنگ کے مواقع کی اُن احادیث وروایات کا مطالعہ کریں جوحضور نبیِّ رحمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عافیت اندیشی کو بیان کرتی ہیں :

 ( 1 ) رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : تم دشمنوں سے مقابلے کی تمنا نہ کرو اور اللہ پاک سے عافیت طلب کرو اور جب دشمنوں سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ پاک کو یاد کرو۔[19]

معلوم ہوا کہ ابتداء ً مسلمانوں کو جنگ یاکسی بھی آزمائش کی تمنا نہیں کرنی چاہئے لیکن جب ان پر جنگ مُسلّط ہو جائے تو اب ان پر لازم ہے کہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں اور بزدلی نہ دکھائیں ۔

 ( 2 ) کسی جنگ کے موقع پردوران لڑائی ایک شخص نے کلمہ پڑھا تو صحابی نے اس بنا پر اسے قتل کرڈالا کہ اس نے یہ کلمہ تلوار کے خوف سے پڑھا ہے۔ جب دربارِ رسالت میں یہ بات پہنچی تو حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : ہَلَّا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِہٖ یعنی کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا۔[20]

 ( 3 ) حضرت عبداللہ بن عمر  رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے  ( دورانِ جنگ )  عورتوں اور بچّوں کے قتل سے منع فرمایا۔[21]

یہ ہے مسلمانوں کا جہاد ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب حضرت یزید بن ابوسفیان  رضی اللہ عنہما کو شام کے جہاد پر بھیجا تو فرمایا کہ کفّار کے بچوں ، عورتوں ، بوڑھوں ، راہبوں ( جو گیوں ) وغیرہ کو قتل نہ کرنا صرف انہیں قتل کرنا جو تم سے لڑنے کے لیے مقابلہ میں آئیں۔[22]

 ( 4 ) ایک جنگ میں حضور نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو یہ پیغام بھجوایا کہ نہ تو کسی عورت کو قتل کریں اور نہ ہی کسی مزدور کو۔[23]

 عورت و مزدور سے مراد وہ ہی ہے جو جنگ میں حصہ نہ لیتے ہوں فوج یا کسی فوجی کی خدمت کے لئے آئے ہوں۔ان کی علامت یہ ہوتی ہوگی کہ ان پر سامان جنگ نہ ہوگا اور خدمت کے اسباب یا علامات ہوں گے۔سُبْحٰنَ اللہ ! اسلام میں کیسا عدل و انصاف ہے کہ لڑتے وقت بھی عدل کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔[24]

پیارے اسلامی بھائیو ! دیکھا آپ نے عافیت اندیش نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے میدان جہاد میں عافیت اندیشی ، خیرخواہی اور عدل کے بے مثال نقوش ثبت فرمائے ہیں ، ورنہ فاتحینِ زمانہ کی تاریخ بتاتی ہے کہ انہوں نے میدانِ جنگ میں ہرطرح کے ظلم وستم روا رکھے ، ایسے موقعوں پر وہ بھول گئے کہ عافیت کیا شے ہوتی ہے ، انہوں نے انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنائے ، انسانیت کا تقدس پامال کیا ، شہروں کے شہر خون سے رنگین کردیئے اور آج دنیا ان کو جابر و ظالم حکمران کہتی نظر آتی ہے جبکہ دوسری طرف امام الانبیا والمرسلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عظیم ذات اقدس ہے کہ جنہوں نے فتحِ مکہ کے موقع پر اپنے خون کے پیاسوں تک کے لئے عام معافی کا اعلان کردیا ، ارشادفرمایا : اِذْهَبُوا فَاَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ یعنی جاؤ ! تم آزاد ہو۔[25]

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ ، شعبہ تراجم ، المدینۃ العلمیہ  ( Islamic Research Center )



[1] ابوداؤد ، 4 / 414 ، حدیث : 5074

[2] ترمذی ، 5 / 280 ، حدیث : 3461

[3] سنن کبری للنسائی ، 6 / 221 ، حدیث : 10720

[4] ترمذی ، 5 / 305 ، حدیث : 3523

[5] ابن ماجہ ، 4 / 273 ، حدیث : 3851

[6] ترمذی ، 5 / 306 ، حدیث : 3526

[7] ابوداؤد ، 4 / 361 ، حدیث : 4904

[8] بخاری ، 3 / 421 ، حدیث : 5063

[9] النہایہ فی غریب الاثر ، 3 / 240

[10] فیض القدیر ، 2 / 195

[11] مجمع الزوائد ، 3 / 488 ، حدیث : 5297

[12] فضائل دعا ، ص161

[13] صحیح مسلم ، ص859 ، حدیث : 5250

[14] صحیح بخاری ، 2 / 408 ، حدیث : 3316

[15] صحیح بخاری ، 4 / 186 ، حدیث : 6294

[16] سنن ابو داؤد ، 4 / 337 ، حدیث : 4821

[17] ابو داؤد ، 4 / 402 ، حدیث : 5041

[18] بہارشریعت ، 3 / ص435

[19] مصنف عبد الرزاق ، 5 / 170 ، حدیث : 9581

[20] دیکھئے : مسلم ، ص62 ، حدیث : 277-سنن کبری للنسائی ، 5 / 176 ، حدیث : 8594

[21] بخاری ، 2 / 314 ، حدیث : 3015

[22] مراٰۃ المناجیح ، 5 / 518

[23] ابوداؤد ، 3 / 73 ، حدیث : 2669

[24] مراٰۃ المناجیح ، 5 / 525

[25] سنن کبریٰ للبیہقی ، 9 / 118 ، حدیث : 18739


Share

Articles

Comments


Security Code