مثبت یا منفی ؟

استاذ صاحب سبق پڑھا کر فارغ ہوئے تو طلبہ سے فرمانے لگے: پہلے میں آپ کو ایک تمثیل (فرضی کہانی) سناتا ہوں پھر اس میں موجود کرداروں پر بات کرتے ہیں، ایک کسان اپنی بیل گاڑی پر خربوزے لے کر بیٹوں کے ہمراہ گاؤں سے شہر کی طرف آرہا تھا، خربوزوں کی مقدار زیادہ تھی اور راستے کچّے پکّے! جب کہیں چڑھائی آتی تو ایک بیٹا بیل کے ساتھ مل کر زور لگاتا اور گاڑی کو آگے کی طرف کھینچتا، دوسرا پیچھے سے دھکّا لگاتا لیکن تیسرا بیٹا عجیب وغریب حرکت کرتا، وہ بیل گاڑی کے پہیّے کے باہر والے حصّے پر ہاتھ پاؤں جما کر کھڑا ہوجاتا اور گھومتے پہیّے پر خطرناک طریقے سے جُھولے لینا شروع کردیتا جس سے بیل گاڑی کو چلانے میں مشکل ہوتی جبکہ چوتھا بیٹا اس سے بھی چار ہاتھ آگے تھا وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد باپ سے نظر بچا کر ایک خربوزہ اُٹھاتا اور جھاڑیوں میں پھینک دیتا ۔

اس کے بعد استاذ صاحب نے سوالیہ نظروں سے طلبہ کو دیکھا اور پوچھا:ان میں کون مثبَت کردار ادا کررہا تھا اور کون منفی ؟ طلبہ فوراً بولے : کسان اور اس کے دوبیٹے جو بیل گاڑی کو آگے بڑھنے میں مدد دیتے تھے اور بیل، یہ مثبَت کردار تھے جبکہ پہیّے پر جُھولے لینے والافُضول اورمنفی کیونکہ وہ آگے بڑھنے سے روکتا تھا جبکہ خربوزے پھینک کر ضائع کرنے والا تو بہت ہی منفی کردار کا حامل تھا ۔

اب استاذ صاحب طلبہ سے مخاطِب ہوئے :ہم سب کو اپنے اپنے گھر،  محلّے، درس گاہ،تجارت اور ملازَمت کی جگہ پر مثبَت کردارادا کرنا چاہئے ۔

مثلاً گھریلو زندگی کی گاڑی اپنی منزل کی طرف جارہی ہے، فرض کیجئے کہ بیل سے مُراد آپ کے والد صاحب کا ذریعۂ روزگار تجارت یا نوکری وغیرہ ہے، خربوزوں سے مُراد آپ کے والد کی کمائی ہے، اگر آپ اس رقم کو بے جا خرچ کریں گے تو گویا یہ کمائی ضائع ہوگئی لیکن اگر آپ گھر میں بجلی، پانی اور گیس کا استعمال احتیاط سے کریں گے، کھانا ضائع کرنے سے بچیں گے، بے جا فرمائشیں نہیں کریں گے، گھر کی چیزوں کو توڑ یں پھوڑیں گے نہیں تو یہ کمائی کو بچانے والے کام ہیں، اس کے علاوہ اگر آپ اپنے بہن بھائیوں اور والدہ کے ساتھ عزّت ومَحبّت کا رَوَیّہ رکھیں گے تو یہ یقیناً ایک مثبَت رویّہ ہے جو آپ کے کردار کو بُلندی عطا کرے گااور اگر رویّہ اس کے برعکس ہوا تو گھر والے ہی آپ سے کترانے لگیں گے۔

اسی طرح محلّے میں بھی کسی کے لئے مسئلہ نہ بنیں، محلّے داروں سے بے وجہ اُلجھنا، بچّوں کو جھاڑنا مارنا، پان کی پیک سے دوسروں کی دیواریں رنگ دینا، آتے جاتے کان پھاڑ ہارن بجانا، یہ سب کچھ آپ کا کیسا امیج بنائے گا، یہ جاننا مشکل نہیں۔

یونہی اپنی درس گاہ، تعلیمی ادارے میں بھی وقت پر پہنچنا، کلاس وغیرہ کے ڈسپلن کا خیال رکھنا، اپنے کلاس فیلوز سے حُسنِ سلوک کرنا، وقت پڑنے پر ان کی مدد کرنا، باہمی احترام کی فضا قائم کرنے میں اپنا رول ادا کرنا ،اساتذہ کی عزّت کرنا،ان کی توقّعات پر پُورا اُترنا ، فضول بیٹھکوں سے بچ کر اپنی پڑھائی پر فوکس کرنا، اس طرح کی دیگر مثبَت خصوصیات آپ کو اچھّا اسٹوڈنٹ بننے میں کامیابی دیں گی۔

اگر کسی ادارے میں جاب کرنے کا موقَع ملے تو اپنے کام پر توجّہ رکھنا،کارکردگی کے معیار کو صرف کاغذوں میں نہیں بلکہ حقیقت میں بھی اُونچا کرنا، خود کو اچّھا ثابت کرنے کے لئے دوسروں کو ڈی گریڈ نہ کرنا، بڑوں کی عزّت چھوٹوں پر شفقت کرنا ہمیں اس ادارے کی ضرورت بنادے گا ۔

اسی طرح آپ غور کرتے چلے جائیں گے تو ہمارا مثبَت کردار ہمیں ہرجگہ کامیابی سے ہمکنار کرے گا،آزما کر دیکھ لیجئے !

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ابو رجب عطاری مدنی

٭…مدرّس مرکزی جامعۃ المدینہ عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی


Share