خود بھی خیال رکھنا ہوگا

کتابِ زندگی

خود بھی خیال رکھنا ہوگا

 ( You should also take care of yourself )

*مولانا ابورجب محمد آصف عطّاری مدنی

ماہنامہ فیضانِ مدینہ جولائی 2023

جمعرات کا دن تھا ، کلاسز میں اعلان کردیا گیا کہ آج 10 بجے دارُالحدیث  ( Darul Hadith )  میں جمع ہوجائیں ، استاذ ابوواصف مدنی بیان فرمائیں گے۔ استاذ صاحب اپنی عمر کےتقریباً 47 سال گزار چکے تھے ، 23 سال کی تدریس ( Teaching ) میں انہوں نے سینکڑوں اسٹوڈنٹس کو پڑھایا تھا جن کی صلاحیتوں ، ذہانتوں ، حافظوں ، محنتوں ، عمروں ، قد کاٹھ اور صحت کا مشاہدہ بھی ان کے تجربے کا حصہ تھا۔ آج کل وہ بڑی شدت سے یہ محسوس کررہے تھے کہ موجودہ طلبہ کی اکثریت کی جسمانی و دماغی صحت  ( Physical and mental health )  ویسی مضبوط نہیں جیسی پرانے طلبۂ کرام کی ہوا کرتی تھی جس کا اثر ان کی تعلیم پر بھی پڑتا ہے ، انہیں اس بات پر بھی تشویش تھی کہ طلبہ میں اپنی صحت کا خود خیال رکھنے کا شعور بھی کم ہے۔ اس لئے انہوں نے سوچا کہ دوچار کلاسز کے اسٹوڈنٹس کو سمجھانے کے بجائے پورے جامعہ کے طلبۂ کرام سے ہی بات کرلی جائے تاکہ فائدہ زیادہ ہو ، یوں اس بیان کا اہتمام کیا گیا تھا۔ بہرحال 500 سے زائد طلبۂ کرام 10 بجے دارُ الحدیث میں جمع ہوگئے جنہیں اندر جگہ نہ ملی وہ برآمدے میں بیٹھ گئے ، دوسرے اساتذہ بھی تشریف فرما ہوگئے۔ تلاوت اور نعت کے بعد 10 بج کر 10 منٹ پردارُ الحدیث کے منچ  ( Stage )  پر استاذ صاحب کی آمد ہوئی طلبۂ کرام نے بڑی چاہت اور جوش وخروش سے انہیں ویلکم کیا ، اس کے بعد انہوں نے بیان کیا جس کا خلاصہ یہ ہے : دُرود شریف کی فضیلت بیان کرنے کے بعد استاذ صاحب نے یہ فرمانِ مصطَفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پڑھ کر سنایا :

پانچ کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو : رحمتِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں : اِغْتَنِمْ خَمْساً قَبْلَ خَمْسٍ : شَبَابَکَ قَبْلَ ہَرَمِکَ وَصِحَّتَکَ قَبْلَ سَقَمِکَ وَغِنَاکَ قَبْلَ فَقْرِکَ وَفَرَاغَکَ قَبْلَ شُغْلِکَ وَحَیَاتَکَ قَبْلَ مَوْتِکَ ترجمہ : پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو  ( 1 ) جوانی کو بڑھاپے سے پہلے ( 2 ) صحت کو بیماری سے پہلے  ( 3 ) مالداری کوتنگدستی سے پہلے ( 4 )  فرصت کومشغولیت سے پہلے اور  ( 5 )  زندَگی کوموت سے پہلے۔

 ( مستدرک للحاکم ، 5 / 435 ، حدیث : 7916 )

اس فرمانِ عالی شان میں صحت کو بیماری سے پہلے غنیمت جاننے اور اس کی قدر کرنے کی نصیحت کی گئی ہے۔ہمارے دینی بُزرگ اپنی صحت کا بھی خیال رکھا کرتے تھے تاکہ دین کی خدمت زیادہ سے زیادہ کرسکیں ، جیسے بہارِ شریعت جیسی عظیمُ الشان کتاب کے مؤلف صدرالشریعہ حضرت مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃُ اللہ علیہ شام کے وقت باغ میں واک کرنے جایاکرتے تھے ، اسی طرح موجودہ زمانے میں دعوتِ اسلامی کے بانی ، شیخِ طریقت حضرت علّامہ محمد الیاس عطّاؔرقادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ اپنے گھر وغیرہ میں مختلف اوقات میں روزانہ واک بھی کرتے ہیں اور اپنی خوراک ایسی رکھتے ہیں کہ صحت برقرار رہے اور دین کی خدمت ہوتی رہے۔

تندرستی ہزار نعمت ہے : اگر ہم کسی بھی فیلڈ میں کامیابی چاہتے ہیں ، مزید ترقی کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے جسمانی اور دماغی طور پر صحت مند ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ ”بیمار گھوڑے کو کوئی بھی ریس میں نہیں دوڑاتا“۔ صحت مند ہونے کی ڈیمانڈ علمِ دین کی فیلڈمیں بھی ہوتی ہے کیونکہ اس میں سمجھنے سمجھانے ، غور و فکر کرنے ، باریک بینی اور یاد کرنے کا دماغی کام زیادہ ہوتا ہے اور مشہور ہے کہ صحت مند دماغ  ( Brain )  کے لئے جسم  ( Body ) کا صحت مند ہونا ضروری ہے۔ اس لئے ہمیں اپنی صحت کا لازمی خیال رکھنا چاہئے۔ اپنی بات میں ایک مثال سے سمجھاتا ہوں : جس طرح کمپیوٹر کے دو حصے ہوتے ہیں ، ہارڈ وئیر اور سافٹ وئیر ، اگر آپ اپنے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ میں اپ ڈیٹڈ ، بہترین کوالٹی کا سافٹ وئیر انسٹال کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے ہارڈ وئیر بھی جدید اور اچھا ہونا چاہئے ، اگر ہارڈ وئیر کمزور اور پرانا ہوگا تو سافٹ وئیر بھی کمزور ہی رہے گا ، یہی معاملہ ہمارے جسم اور ذہن کا بھی ہے کہ جسم گویا ہارڈ وئیر اور ذہن سافٹ وئیر ہے۔اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے ہمیں اپنے ہارڈ وئیر اور سافٹ وئیر کو ضرور چیک کرتے رہنا چاہئے کیونکہ عربی محاورہ ہے : صَاحِبُ الْبَیْتِ اَدْرٰی بِمَا فِیْہ یعنی گھر والا زیادہ جانتا ہے کہ اس کے گھر میں کیا ہے ؟

پیٹ کا سرکل : اگر ہم اپنے پیٹ کے سرکل  ( گولائی )  پر غور کریں تو اس میں بہت سی چیزیں انسٹال ہوتی ہیں جیسے معدہ ، جگر ، پھیپھڑے ، گردے ، لببلہ ، پِتّا ، مثانہ ، تلی ، چھوٹی آنت ، بڑی آنت وغیرہ۔ پیٹ کا یہ سرکل ہمارے پورے جسم کی صحت میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے ، خوراک اسی پیٹ میں پہنچ کر مختلف چیزوں خون ، کولیسٹرول ، شوگر ، یورین ، فُضلے  ( Stool ) میں تبدیل ہوتی ہے ، ان میں سے کچھ چیزیں جسم سے باہر نکل جاتی ہیں جبکہ بقیہ چیزیں ہمارے پورے جسم کو توانائی اور طاقت دیتی ہیں جس میں دل اور دماغ بھی شامل ہے۔اب ہم غور کریں کہ کیا ہمارے پیٹ کے سارے پُرزے درست حالت میں کام کررہے ہیں ، کہیں خون کے لیب ٹیسٹ میں کمی بیشی تو نہیں ، ایسا تو نہیں کہ ہمیں کھانا جلد ہضم نہ ہوتا ہو ، گیس پرابلم رہتی ہو ، پیشاب رک رک کر یا تکلیف اور جلن سے آتا ہو ، پیٹ لاک رہتا ہو یا زیادہ جاری ہوجاتا ہو ؟ اگر ہمارے پیٹ میں مسائل ہیں تو اس کی ذمہ داری ہم پر بھی آتی ہے کیونکہ ایک دلچسپ میڈیکل ریسرچ کے مطابق ہماری کھانے پینے کی عادت ( Habit )  کی وجہ سے پیٹ کے مختلف حصے ڈر جاتے ہیں جیسے معدہ  ( Stomach ) اس وقت ڈرا ہوا ہوتا ہے جب ہم صبح کا ناشتہ نہ کرتے ہوں ، گُردے  ( Kidneys ) اس وقت خوفزدہ ہوجاتے ہیں جب ہم مناسب مقدار میں پانی نہیں پیتے ، چھوٹی آنت  ( Small Intestine ) اس وقت تکلیف محسوس کرتی ہے جب ہم کولڈ ڈرنک پیتے ہیں یا باسی کھانا کھاتے ہیں ، بڑی آنت ( Large intestine )  اس وقت ڈر جاتی ہے جب ہم تلی ہوئی یا مصالحہ دار چیزیں زیادہ کھاتے ہیں ، پھیپھڑے  ( Lungs ) اس وقت بہت تکلیف محسوس کرتے ہیں جب ہم سگریٹ یا گاڑیوں کے دھویں سے آلودہ فضا میں سانس لیتے ہیں ، جگر ( Liver )  اس وقت خوفزدہ ہوجاتا ہے جب ہم تلی ہوئی ہیوی خوراک اور فاسٹ فوڈ کھاتے ہیں ، لبلبہ  ( Pancreas )  اس وقت بہت ڈرتا ہے جب ہم بہت زیادہ مٹھائی کھاتے ہیں۔

اپنی صحت کے بارے میں خود بھی سوچنا ہوگا : ویسے تو بیماری اور تندرستی زندگی کا حصہ ہے ، ہمیں تندرستی پر اللہ پاک کا شکر اور بیماری پر صبر کرنا چاہئے اور بیماری میں بھی دین کی خدمت نہیں چھوڑنی چاہئے لیکن یہ دنیا عالَمِ اسباب ہے ، اس لئے اگر ہمیں سر میں درد رہتا ہے ، بلڈپریشرہائی یا لَو رہتا ہے ، شوگر بہت کم یا زیادہ ہوجاتی ہے ، ہمیں کولیسٹرول کے مسائل ہیں ، تھوڑا چلنے کے بعد ہانپنے لگتے ہیں ، کچھ دیر کھڑے نہیں رہ سکتے ٹانگوں میں جان نہیں رہتی ، پاؤں میں سوجن ہوجاتی ہے ، گلا خراب رہتا ہے ، پیٹ میں درد رہتا ہے ، تھوڑی دیر پڑھنے کے بعد ذہن تھک جاتا ہے ، دماغ کام نہیں کرتا ، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاجاتا ہے ، آنکھیں دُکھتی ہیں ، سبق جلدی یاد نہیں ہوتا ، کمر یا بازو میں درد رہتا ہے اور گردن کے پچھلے حصے میں کھچاؤ رہتا ہے وغیرہ ، تو ہمیں سمجھ جانا چاہئے کہ سب کچھ نارمل نہیں بلکہ کہیں پرابلم ہے جس کے ذمہ دار ہم بھی ہوسکتے ہیں ، پھر ہمیں اس نیت سے علاج کی کوشش کرنی چاہئے کہ صحت بہتر ہوگی تو ہم دین کی خدمت اچھی طرح کرسکیں گے۔

علاج کے لئے کیا کریں ؟ ظاہر ہے ہمیں بیماری کی نشاندہی اور اس کا سبب جاننے کے لئے ماہر ڈاکٹر یا حکیم کو چیک اپ کروانا چاہئے ، اس کے بعد وہ جو دوا یا غذا اور پرہیز تجویز کریں اس پر عمل کرنا چاہئے۔ اس کے علاوہ ہمیں کھانے پینے میں طاقت دینے والی چیزیں گوشت ، سبزیاں ، پھل ، دودھ اور اصلی ( دیسی )  گھی یا تازہ مکھن بھی استعمال کرنا چاہئے ، پانی کم پینے پر بھی بیماریاں مہمان بن کر آجاتی ہے ، یہ بھی ڈاکٹر کے مشورے سے مناسب مقدار میں پینا چاہئے۔یاد رکھئے ! آج غذا پر خرچ نہیں کریں گے تو کل شاید دوا پر خرچ کرنا پڑے۔ اللہ پاک ہمیں تندرستی ، سلامتی اور عافیت عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

 ( صحت کے حوالے سے مکتبۃُ المدینہ کی113 صفحات پر مشتمل کتاب ”گھریلو علاج“ اور ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ میں چھپنے والے سلسلے ”مدنی کلینک“ اور ”انسان اور نفسیات“ ضرور پڑھئے۔ )

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*  اسلامک اسکالر ، رکنِ مجلس المدینۃ العلمیہ  ( اسلامک ریسرچ سینٹر ) ، کراچی


Share