صحابیِ رسول حضرت سیّدنا محمد بن مَسْلَمہ اَوْسِی انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ

مِزاج سنجیدہ ،قد لمبا ،رنگ گندمی، بہت زیادہ عبادت گزار اور تنہائی پسند بلند مرتبہ صحابیِ رسول حضرت سیّدنا محمد بن مَسْلَمہ اَوْسِی انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ حضور نبی رحمت، شفیعِ امّت، تاجدارِ ختمِ نبوت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اعلانِ نبوت سے 22 سال پہلے پیدا ہوئے۔ لقب ، کنیت و قبول ِ اسلام مشہور قول کے مطابق آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی کنیت ابو عبداللہ ہے(الاصابۃ،ج 6،ص28)جبکہ لقب” فارِسُ نبیِّ اللہ یعنی اللہ کے نبی کا شہسوار‘‘ ہے۔ (طبقات ابن سعد،ج 3،ص340) آپ کا شمار عالم فاضل صحابۂ کرام علیہِمُ الرِّضْوَان میں ہوتاہے۔ (الاصابۃ ،ج6،ص28)آپ نے حضرت سیّدنا اُسَیْد بن حُضَیْر اور حضرت سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے بھی پہلے مدینے کے پہلے مبلغ حضرت سیّدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔ (طبقات ابن سعد،ج 3،ص338) آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی زندگی دینِ اسلام کی خدمت اور مجاہدانہ کارناموں سے بھری ہوئی ہے۔ دور ِ رسالت کے کام ٭پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم آپ کو صدقات کی وصولی کیلئے بھیجا کرتے تھے (تاریخ ابن عساکر،ج 55،ص270) ٭ایک مرتبہ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بارگاہِ رسالت سے حکم پاکر اسلام قبول کرنے والے” وفدِ مھرہ‘‘ کیلئے اسلامی احکام لکھ کر دئیے۔ (طبقات ابن سعد ،ج1،ص266) ٭غزوہ بدر کا ہو یا اُحد کا ، موقع فتحِ مکہ کا ہو یا بیعتِ رضوان کا یا پھر قضاعمرےکی ادائیگی کا! ہر جگہ رحمتِ عالم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ ساتھ رہ کر خدمتیں کرتے اور خوب برکتیں لوٹتے رہے۔ ٭غزوۂ تبوک کے موقع پر سیّدِ عالم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم آپرضی اللہ تعالٰی عنہ کو مدینے میں نگران مقرر کرکے اسلامی لشکر کےساتھ جنگ پر روانہ ہوئے تھے۔ (طبقات ابن سعد،ج 3،ص338) ٭رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آپ کو کبھی 10شہسواروں پر امیر بناکر روانہ کیا توکبھی 30 افراد آپ کی ماتحتی میں دے کر جنگ پر روانہ فرمایا(طبقات ابن سعد،ج 3،ص338) ٭3ہجری ماہِ شوّالُ الْمکرّم غزوۂ اُحد کی رات آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ 50 سواروں کو لے کر مجاہدین کی حفاظت کرنے کی غرض سے لشکرِ اسلام کے گرد چکر لگارہے تھے۔ (طبقات ابن سعد،ج 2،ص30) ٭14 ربیع الاول 3 ہجری میں مشہور یہودی گستاخ شاعر کعب بن اشرف کو رات کے وقت اس کے قلعہ کے پھاٹک پر قتل کیا اور اگلے دن اس کا سر پیارےآقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قدموں میں ڈال دیا۔ (طبقات ابن سعد،ج 2،ص24، 25) ٭محرم الحرام 6ہجری میں رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ماتحتی میں 30 سواروں کا ایک لشکر نجد کی جانب روانہ فرمایاجس نے بنی حنیفہ کے سردار ثُمامَہ بن اُثال کو گرفتار کرکے بارگاہ رسالت صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم میں پیش کردیا جو بعد میں اسلام لے آئے تھے۔ (عمدۃ القاری،ج 3،ص315،تحت الحدیث:462 ) ٭سن 7 ہجری میں حضوراکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمعمرہ کی ادائیگی کے لئے مقام ذوالحلیفہ پہنچے تونبی کریم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے آ پ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو 100 شہسواروں کا علمبردار بنا کر آگےبھیجا ۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرمایا کرتے تھے: مجھ سے سیّدِ دو عالم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دور مبارک میں ہونے والی جنگوں کے بارے میں پوچھو کیونکہ کوئی جنگ ایسی نہیں ہے کہ مجھے جس میں شریک ہونے کی سعادت نہ ملی ہو یا مجھے اس کے متعلق معلوم نہ ہو۔ (طبقات ابن سعد،ج 3،ص339) زمانۂ فاروقی کے کارنامے بارگاہِ فاروقی میں آپ کو خصوصی مقام حاصل تھا جب امیر المؤمنین حضرتِ سیّدنا عمر فاروقرضی اللہ تعالٰی عنہیہ چاہتے تھے کہ کام ان کی مکمل مرضی کے مطابق ہو تو اس کام کو کرنے کے لئے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو بھیجا کرتے تھے ۔(الاصابۃ ،ج6،ص29) ٭حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نےنہ صرف آپ کو جُھَیْنَہ کی زکوٰۃ کی وصولی پر عامل مقرر کیا تھا بلکہ ٭جتنے بھی لوگ زکوٰۃ جمع کرنے پر مقرر تھے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ان سب کا نگران بھی بنادیا تھا۔ (اسد الغابۃ،ج 5،ص117) لہذا جب کسی عامل یا گورنر کی کوئی شکایت آتی تو امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ آپ کوان لوگوں کے پاس بھیج دیتے تاکہ آپ اس معاملہ کی جانچ پڑتال کرکے حضرت سیّدناعمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو صحیح اطلاع دیں۔

(اسد الغابۃ،ج 5،ص117) دروازے کو آگ لگادی ایک بار خلیفۂ ثانی حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو خبر پہنچی کہ کوفہ کے گورنر نے ایک مضبوط گھر بنایا ہے جس میں ایک دروازہ بھی ہے جو لوگوں کو گورنر کے پاس آنے جانےاور ان کے حقوق پور ےکرنے میں رکاوٹ بن رہا ہے، حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا حکم پاکر آپ مدینے سے کوفہ کی جانب روانہ ہوئے ،وہاں پہنچ کر لکڑیاں خریدیں پھر آپ گورنر کے دروازے کے پاس آئے اور دروازے کو آگ لگادی ۔ دعوت قبول نہ کی گورنر کو آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی تشریف آوری کا علم ہوا تو آپ کو یہاں قیام و طعام کی دعوت دی اور کچھ اخراجات پیش کئے مگر آپ نے اس میں سے کچھ نہ لیا اسی سفر میں واپسی کے دوران آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا زادِ راہ ختم ہوگیا تو درخت کے پتے کھا کر گزارا کیا جس کی وجہ سے مدینے پہنچ کر آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ بیمار پڑگئے۔(تاریخ ابن عساکر،ج 55،ص281) شریعت پرعمل کی اعلی مثال اسی سفر میں ایک مقام پر شدید بھوک لگ رہی تھی کہ بکریوں کے ایک ریوڑ پر نظر پڑی، غلام کو اپنا عمامہ دیا اور فرمایا: چرواہے کے پاس جاؤ اور میرے عمامے کو بیچ کر اس سے ایک بکری خرید لو، غلام بکری خرید لایا، آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے غلام نے بکری کو ذبح کرنا چاہا تو آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اسے اشارے سے منع کردیا پھر نماز مکمل کرکے فرمایا: چرواہے کے پاس دوبارہ جاؤ اگر وہ غلام ہے تو (ظاہر ہے کہ غلام کو بکریوں کی نگہبانی اور انہیں چرانے کا کام دیا جاتا ہے نہ کہ اس بات کی اجازت ہوتی ہے کہ جب چاہے جس بکری کو بیچ دے لہذا) بکری اسے واپس کردینا اور عمامہ لے لینا اور اگر وہ آزاد ہے توبکری کو واپس لے آنا ،غلام چرواہے کے پاس گیا تومعلوم ہوا کہ وہ غلام ہے اور ان بکریوں کا مالک نہیں ہے لہذا آپ کاغلام بکری واپس کرکے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا عمامہ لے آیا۔ (تاریخ ابن عساکر،ج 55،ص279) یہ واقعہ سن 17 ہجری بمطابق 638 عیسوی میں پیش آیا۔ سن 20 ہجری میں مسلمانوں کی افواج مصر میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئیں تو ان میں آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی شامل تھے۔ (النجوم الزاہرۃ،ج 1،ص20)بارگاہِ رسالت سے تحفہ اور حکم نامہ سرورِ عالم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اپنے دستِ انور سے ایک تلوا ر عطا کی اور فرمایا: جب تک مشرکین سے جنگ و جدال ہو تا رہے اس تلوار سے انہیں قتل کرنا پھر جب مسلمانوں کے دو گرہوں کو آپس میں لڑتےہوئے دیکھو تواس تلوار کو پتھر پر مار کر توڑ دینا اور اپنی زبان اور ہاتھ کو روک کر گھر میں بیٹھ جانا یہاں تک کہ ظالم کا ہاتھ تم تک پہنچ جائے یا تمہیں موت آجائے ۔ لکڑی کی تلوار سن 35 ہجری میں امیر المؤمنین حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت کے بعد مسلمانوں میں اختلاف بڑھا تو آپ نے اسی تلوار کو ایک چٹان پر مار مار کر توڑ دیا۔ (اسلام کے نام پر تَن مَن دَھن کی بازی لگانے والے یہ جانباز صحابیِ رسول رضی اللہ تعالٰی عنہ تلوار کےبغیر نہ رَہ سکے آخرِ کار )آپ نے عُود کی ایک لکڑی کو چھیل کر تلوار بنائی اور اسے نِیام (تلوار رکھنے کے غلاف )میں رکھ کر گھر میں لٹکادیا۔ (طبقات ابن سعد،ج 3،ص339) وصال مبارک 77 سال کی عمر پاکر ماہِ صفر المظفر 43 یا 44ہجری میں اس دنیائے ناپائیدار سے عالمِ بَقا کی جانب سفر اختیار فرمایا، ایک قول کے مطابق ایک شامی شخص نے آپ کو گھر میں گھس کر شہید کیا تھا۔ (الاصابۃ،ج 6،ص29) آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی قبر مبارک مدینے کے قریب مقامِ رَبَذَہ میں حضرتِ سیّدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پہلو میں ہے ۔ (الوافی بالوفیات،ج5،ص21)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…مدرس مرکزی جامعۃ المدینہ ،عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ ،باب المدینہ کراچی


Share

صحابیِ رسول حضرت سیّدنا محمد بن مَسْلَمہ اَوْسِی انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ

پیشوائے اُمّت، زاہدوں کے سردار، عارف بِاللہ حضرت سیّدنا ابراہیم بن اَدْہم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم اِمامُ الائِمّہ، سِراجُ الاُمّہ امامِ اعظم ابو حنیفہ، حضرت سفیان ثَوری اور حضرت فُضَیْل بن عِیاض رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم کے صحبت یافتہ تھے۔ آپ کی ولادت سن 100ھ کے آخر میں حج کے موقع پر مکۂ مکرمہ میں ہوئی جبکہ آپ کا تعلق بَلْخ سے تھا اور بادشاہوں کی اولاد میں سے تھے۔ ایک دن آپ شکار کے لئے گئے، وہاں آپ کو غیبی آواز آئی جس سے آپ کے دل کی دنیا بدل گئی اور آپ نے دنیا کو خیرباد کہہ دیا۔ ایک قول کے مطابق آپ کا وصال 162ھ میں ہوا اور مزارمبارک شام میں حضرت سیّدنا لوط علٰی نَبِیِّنَاوعلیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام کے مزارمبارک کے پاس ہے۔(سیر اعلام النبلاء،ج 7،ص 295،294،300، رسالہ قشیریہ، ص22، تذکرۃ الاولیاء، ص88،87) ذریعۂ آمدن آپ رزقِ حلال حاصل کرنے کے لئے چھوٹے موٹے کام کرنے میں کسی قسم کی شرم محسوس نہ کرتے تھے چنانچہ گزر اوقات کے لئے فصلیں اور کھیتیاں کاٹنے کا کام کرتے، باغات کی حفاظت کرتے، اُجرت پر لوگوں کا سامان اٹھاتے اور غلّہ پِیسا کرتے تھے۔(الاعلام للزرکلی،ج 1،ص31) ایک مرتبہ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی گردن پر لکڑیوں کا گٹھا دیکھ کر کسی نے پوچھا: اے ابو اسحٰق! ایسا کب تک ہوگا؟ حالانکہ آپ کے بھائی آپ کو کافی ہیں۔ تو آپ نے جواب دیا: اس بات کو رہنے دو! مجھے خبر پہنچی ہے کہ جو رزقِ حلال کی تلاش میں ذلت کی جگہ کھڑا ہوتا ہے اس کے لئے جنّت واجب ہوجاتی ہے۔ (احیاء العلوم،ج 2،ص81) اُجرت ایک آدمی کی اور کام دو آمیوں جتنا! حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں عربی جوانوں کے ساتھ فصل کاٹنے میں مصروف تھا، مجھے کٹائی کی اتنی اجرت ملا کرتی جتنی ان میں سے کسی ماہر کو ملتی تھی، میں نے اپنے آپ سے کہا: میں ان ماہرین جیسی طاقت نہیں رکھتا اور نہ ہی اچھی طرح فصل کاٹ سکتا ہوں چنانچہ میں ان سے الگ ہو جاتا حتّٰی کہ جب وہ اپنے بستروں پر سو جاتے تو میں دَرانْتی لے کر فصل کی کٹائی کرتا رہتا اور صبح تک مناسب کٹائی کر چکا ہوتا، میں انہیں آپس میں سرگوشیاں کرتے ہوئے سنتا، وہ کہہ رہے ہوتے: ہم اتنے کام کی طاقت نہیں رکھتے، یہ تو دن رات کٹائی کرتا ہے جبکہ اُجرت ایک آدمی کے برابر ہی لیتا ہے۔(حلیۃ الاولیاء،ج7،ص436) دورانِ کام مال کی نگرانی! آپ ایک مرتبہ انگور کے باغ کی نگرانی کر رہے تھے، یزید نام کا ایک شخص آپ کے پاس سے گزرا اور بولا: ہمیں ان انگوروں میں سے کچھ دو۔ آپ نے فرمایا: مجھے اس کے مالک نے اجازت نہیں دی۔ یہ سُن کر اس نے اپنا چابک لہرایا اور آپ کو بالوں سے پکڑ کر چابک آپ کے سَر پر مارنے لگا، آپ نے اپنا سَر جھکا لیا اور فرمایا: مارو اس سر پر جو طویل عرصے سے اللہ پاک کی نافرمانی میں مبتلا ہے۔ راوی کا بیان ہے:یہاں تک کہ وہ آپ کو مار مار کر تھک گیا۔(حلیۃ الاولیاء،ج 7،ص437) بغیر اُجرت بھی لوگوں کا کام کردیتے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم جب عشا کی نماز پڑھ لیتے تو لوگوں کے گھروں کے سامنے کھڑے ہوکر بآوازِ بلند فرماتے: کیا کوئی غلّہ پسوانا چاہتا ہے؟ تو کوئی عورت یا بوڑھا ٹوکری نکال کر رکھ دیتا، آپ اپنے دونوں پاؤں کے درمیان چکی رکھ لیتے اور اس وقت تک نہ سوتے جب تک وہ غلّہ بِلا اُجرت پیس کر نہ دے دیتے، پھر اپنے ساتھیوں کے پاس لوٹ آتے۔ (حلیۃ الاولیاء،ج 7،ص430)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی


Share