اعتکاف ایک روحانی انقلاب

تفسیر قراٰنِ کریم

اعتکاف ایک روحانی انقلاب

*مفتی محمد قاسم عطّاری

ماہنامہ فیضان مدینہ اپریل2023

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

 ( وَعَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ ( ۱۲۵ )  ) ترجمۂ کنزالعرفان : اور ہم نے ابراہیم و اسماعیل کو تاکید فرمائی کہ میرا گھر طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے خوب پاک صاف رکھو۔ ( پ01 ، البقرۃ : 125 ) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

تفسیر : حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما الصلوٰۃ والسّلام کو خانۂ کعبہ اور مسجد ِحرام شریف کو حج ، عمرہ ، طواف ، اعتکاف کرنے والوں اور نمازیوں کے لیے پاک وصاف رکھنے کا حکم دیا۔ یہی حکم تمام مسجدوں کے متعلق بھی ہے کہ وہاں گندگی اور بدبودار چیز نہ لائی جائے ، یہ سنت ِانبیاء ہے۔ آیت کے الفاظ سے ظاہر ہوا کہ مسجد کے مقاصد میں سے اعتکاف کی عبادت بھی شامل ہے اور یہ کہ اعتکاف گزشتہ امتوں میں بھی رائج تھا۔

اعتکاف کا لغوی وشرعی معنی : لغوی اعتبار سے کسی چیز کی جانب اپنی توجہ مبذول کرنا اور بطورِ تعظیم اُسی کو لازم پکڑ لینا ”اعتکاف “ ہے اور شرعی نقطہ نظر سے مسجد میں ترجمۂ کنزالعرفان تعالیٰ کی عبادت كی نیت سے ٹھہرنا اعتکاف ہے۔ ( مفردات امام راغب ، ص 579 )

اعتکاف کا حکم : ماہِ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف ”سنت مؤکَّدۃعلی الکفایۃ“ہے ، یعنی اگر شہر یا محلہ میں کسی ایک نے کرلیا ، تو سب مطالبہ سے بری الذمہ ہو جائیں گے اور اگر کسی نے بھی نہ کیا تو سب گناہ گار ہوں گے۔اعتکاف کاایک حکم قرآن مجید میں یوں بیان فرمایاگیا ہے :  ( وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَۙ-فِی الْمَسٰجِدِؕ- )  ترجمہ : اور عورتوں سے ہم بستری نہ کرو جبکہ تم مسجدوں میں اعتکاف سے ہو۔ ( پ02 ، البقرۃ : 187 )  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اعتکاف سُنَّتِ نبوی ہے ، چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی  اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم رمضان کا آخری عشرہ اعتکاف میں گزارا کرتے تھے۔ ( مسلم ، ص461 ، حدیث : 2782 ) اور فرمایا کہ جب آخری عشرہ آتا تو رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم خوب تیاری فرماتے ، تمام رات خود بھی بیدار رہ کر عبادتِ الٰہی میں مشغول رہتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار رکھتے۔ ( بخاری ، 1/663 ، حدیث : 2024 ) مزید فرمایا کہ نبیِّ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم رمضان کے آخری دس دنوں میں عبادتِ الٰہی میں جو محنت فرماتے ، اس کے علاوہ میں اتنی محنت نہیں فرماتے تھے۔ ( مسلم ، ص462 ، حدیث : 2788 ) اورمسند احمد میں ہے کہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم رمضان کے پہلے بیس دنوں میں عبادت بھی فرماتے مگر کچھ آرام بھی کرتے ، لیکن جب آخری عشرہ شروع ہو جاتا تو پہلے سے بھی بڑھ کر عبادت کرتے اور کمر باندھ لیتے۔ ( مسند احمد ، 9/481 ، حدیث : 25191 )

اعتکاف ثواب کا خزانہ ہے ، چنانچہ سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث روایت ہے کہ جس نے رمضان میں دس دنوں کا اعتکاف کیا ، تو گویا اس نے دو حج اور دو عمرے کیے۔ ( شعب الایمان ، 3/425 ، حدیث : 3966 ) اور نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جو شخص ترجمۂ کنزالعرفان کی رضا کے لئے ایک دن اعتکاف کرتا ہے ، ترجمۂ کنزالعرفان تبارک و تعالیٰ اُس کے اور دوزخ کے درمیان تین خندقوں کا فاصلہ کردیتا ہے ، ہر خندق مشرق سے مغرب کے درمیانی فاصلے سے زیادہ لمبی ہے۔ ( شعب الایمان ، 3/424 ، حدیث : 3965 )

اعتکاف کے فوائد و مقاصد :

 اعتکاف کا بہت بڑا مقصد اور فائدہ تو گناہوں سے دوری اور عبادت میں مشغولی ہے اور یہ فضیلت خود حدیث میں موجود ہے ، چنانچہ نبیِّ اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : معتکف تمام گناہوں سے رکا رہتا ہے اور اُسے عملاً نیک اعمال کرنے والے کی طرح مکمل نیکیاں عطا کی جاتی ہیں۔ ( ابن ماجہ ، 2/365 ، حدیث : 1781 ) معتکف یہ ذہن میں رکھے کہ اعتکاف کا سب سے بنیادی مقصد اپنے آپ کو عبادت ِالٰہی ، نوافل ، تلاوت ، ذکر ، درود اور مجاہدہ و مراقبہ میں مشغول رکھنا اور یاد ِالٰہی سے غافل کرنے والے ہر عمل سے خود کو دور کرلینا ہے ، جسے قرآنی الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں :  ( وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ ( ۸ )  ) ترجمہ : اور اپنے رب کا نام یاد کرو اور سب سے ٹوٹ کر اُسی کے بنے رہو۔ ( پ29 ، المزمل : 08 ) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  گویا اعتکاف میں انسان تمام مخلوق سے بطورِ خاص قلبی اور حتی الامکان ظاہری تعلق ختم کر کے اپنے خالق ومالک سے رابطہ جوڑ لے۔ اس سارے عمل کا نتیجہ یہ ہو کہ معتکف کے دل میں محبتِ الٰہی پیدا ہو ، تلاوتِ قرآن کی حلاوت نصیب ہو ، فکرِ آخرت بیدار ہو ، نمازوں کا شوق بڑھے ، جماعت میں شِرکت کی عادت بنے ، فضول گوئی کی جگہ خاموشی آجائے اور خاموشی سے زیادہ تلاوت و ذکر و درود وسلام کی کثرت معمول بن جائے ، ضروری دینی علم حاصل ہو ، عبادت کا مستقل شوق پیدا ہو اور دل گناہوں سے بیزار ہوجائے۔

اعتکاف اور روحانیت :

اعتکاف روحانیت کا خزانہ اورباطن میں انقلاب برپا کرنے والی عبادت ہے۔ زمانہِ اعتکاف میں خدا سے قلبی وروحانی تعلق جوڑنا بہت آسان ہے۔ دورانِ اعتکاف تہجد ، اِشراق ، چاشت ، اَوَّابین ، صلوٰۃ التوبہ ، نوافلِ وضو ، تحیۃ المسجد ، تراویح ، مراقبہ ، تلاوت ، تسبیحات اور مسنون اوراد و وَظائف میں مشغول رہنے ، نیز صبح و شام کی مسنون دعائیں مانگنے کی سعادت ، قلب و روح کی صفائی میں نہایت مُؤثِّر ہے۔ رات کا سجود و قیام ، دن کی حالتِ صیام ، نمازوں کے بعد تلاوت کا اہتمام ، اکثر اوقات میں تسبیح و درود کا اِلتزام ، گریہ نیم شبی اور آہِ سحر گاہی کی دولت اِن دنوں میں بآسانی حاصل ہوجاتی ہے۔ اعتکاف حقیقت میں خلوت ( گوشہ نشینی  ) کی ایک صورت ہے ، اسی خلوت کے لیے بزرگانِ دین نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ جنگلوں ، پہاڑوں اور ویرانوں میں گزارا۔ یہ خلوت بذاتِ خود مقصود نہیں ، لیکن بہت سے فوائد اِسی خلوت پر مدار رکھتے ہیں۔ ہمارے کثرتِ کار اور افراتفری کے زمانے میں عمومی طور پر طویل خلوت نہیں ملتی ، لیکن اعتکاف کی صورت میں یہ نعمت کچھ دنوں کے لیے نصیب ہوجاتی ہےاور اِس طرح عبادت و تلاوت و ذکرو درود اور اُمُورِ آخرت کی فکر کے لیے تنہائی میسر آتی ہے نیز گناہوں سے دور رہنے کا موقع ملتا ہے۔ معتکِف لوگوں کی طرف سے پہنچنے والی برائی ، بداخلاقی اور لڑائی جھگڑے سے بچا رہتا ہے اور لوگ اس کے شر سے محفوظ رہتے ہیں ، یوں معتکف حقوق العباد ضائع کرنے سے بچ جاتا ہے۔

 عبادت میں خشوع ، یکسوئی اور ”توجُّہ الی اللہ“ نہایت مفید اورعبادت کے بنیادی مطلوب آداب میں سے ہیں ، اعتکاف کی صورت میں جو خلوت نصیب ہوتی ہے اُس میں کامل توجہ اور مکمل اِنہماک والے آداب بجا لانا آسان ہوتاہے ، مزید برآں ، اعتکاف میں عام زندگی کی جلوتوں سے زیادہ عبادت کا وقت ملتا ہے اور یہ مسلسل محنت ، عبادت پر اِستقامت کا ذریعہ بنتی ہے۔

اولیاء کرام کا اعتکاف ورمضان :

سلف صالحین ، بزرگانِ دین اور اولیاء کرام رحمہم اللہ اجمعین دل و زبان سے یادِ الٰہی میں مشغول رہنے کے باوجودترقی ِ معرفت ، لذتِ عبادت ، ذوقِ تلاوت ، حلاوتِ طاعَت کے لیے ماہِ رمضان میں اعتکاف کرتے ، چنانچہ فقہِ مالکی کے پیشوا ، امام مجتہد ، سیدنا امام مالک رحمۃُ اللہ تعالیٰ علیہ کا مستقل معمول تھا کہ جیسے ہی ماہِ رمضان شروع ہوا ، وہ اپنی تدریسی مصروفیات ختم کرکے تمام وقت تلاوتِ قرآن میں مشغول رہتے۔ یونہی امام ، محدث ، مجتہد ، حضرت سفیان ثوری رحمۃُ اللہ تعالیٰ علیہ رمضان میں دیگر جملہ عبادات چھوڑ کر صرف اور صرف کلامِ الٰہی کی قراءت کرتے۔تابعی جلیل ، امامِ تفسیر ، حضرت قتادہ رحمۃُ اللہ علیہ دورانِ اعتکاف آخری عشرہ میں ہر رات مکمل قرآنِ حکیم تلاوت فرمایا کرتے۔ ( لطائف المعارف ، ص318 ) اِسی طرح امام غزالی رحمۃُ اللہ علیہ نے بغداد چھوڑنے کے بعدبیت المقدس کے”قُبَّۃُ الصَخْرۃ“ میں عرصہ دراز تک اعتکاف کیا اور تلاوت و ذکر و تسبیح و عبادت و شب بیداری و فکر آخرت کے ساتھ ساتھ اُمّت پر عظیم احسان کرتے ہوئے عظیم کتاب ”احیاء علوم الدین“ تصنیف فرمائی۔   ( احیاء العلوم مترجم ، 1/31 )

الغرض خدا کے پاک بندے ہمیشہ سے اعتکاف کرتے اور اس سے عظیم روحانی و اُخروی خزانے حاصل کرتے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور صحابہ و اولیاء علیہم الرضوان کے صدقے ہمیں حلاوت ِ عبادت سے لبریز اعتکاف کی سعادت عطا فرمائے۔

 اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* نگرانِ مجلس تحقیقات شرعیہ ، دارالافتاء اہل سنّت ، فیضان مدینہ کراچی


Share

Articles

Comments


Security Code