اللہ کی نشانیاں

تفسیر قراٰنِ کریم

اللہ کی نشانیاں

*مفتی محمد قاسم عطّاری

ماہنامہ فیضان مدینہ جولائی2023

ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآىِٕرَ اللّٰهِ وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ لَا الْهَدْیَ وَ لَا الْقَلَآىِٕدَ وَ لَاۤ آمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رِضْوَانًاط )  ترجمہ : اے ایمان والو ! اللہ کی نشانیاں حلال نہ ٹھہرالو اور نہ ادب والے مہینے اور نہ حرم کو بھیجی گئی قربانیاں اور نہ  ( حرم میں لائے جانے والے وہ جانور ) جن کے گلے میں علامتی پٹے ہوں اور نہ ادب والے گھر کا قصد کرکے آنے والوں  ( کے مال و عزت )  کوجو اپنے رب کا فضل اور اس کی رضا تلاش کرتے ہیں۔  ( پ6 ، المائدۃ : 2 )  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

تفسیر :

اس آیت میں اللہ کی نشانیوں کی قدر کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ اِن نشانیوں میں خدا کے احکام و فرائض بھی داخل ہیں اور خدا سے قرب کا تعلق رکھنے والی شخصیات و مقامات و اوقات بھی شامل ہیں۔ ان میں جو چیزیں اللہ کی نشانیاں قرار پاجائیں اُن کے احترام کا حکم ہے۔ اللہ کی نشانیوں کی تعظیم ، اللہ تعالیٰ سے نسبت و تعلق کی بِنا پر ہے ، گویا اِن کی تعظیم خدا ہی کی تعظیم ہے اور تعظیم کا یہ حکم بہت سی آیات میں دیا گیا ہے چنانچہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتا ہے : ( وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآىٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ(۳۲)) ترجمہ : اور جواللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔ ( پ17 ، الحج : 32 ) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)   اللہ کی نشانیوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت رکھنے والی بہت سی  چیزیں داخل ہیں ، مثلاً  ( 1 ) اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں تمام عبادات داخل ہیں۔ ( 2  ) ان نشانیوں سے  حج کے مَناسِک و طریقے بھی مراد ہیں۔  ( 3 ) ان سے بَدَنہ یعنی وہ اونٹ اور گائے مراد ہیں ، جنہیں قربانی کے لیے حرم میں بھیجا جائے اور اُن کی تعظیم یہ ہے کہ فربہ ، خوبصورت اور قیمتی لیے جائیں۔  ( تفسیرکبیر ، الحج : 32 ، 8 / 223 )  یونہی ” شَعَآىِٕرِ اللّٰهِ “ سے دین کی نشانیاں مراد ہیں ، خواہ وہ مکانات ہوں جیسے کعبہ ، عرفات ، مُزدلفہ ، تینوں جَمرات  ( جن پر رمی کی جاتی ہے ) ، صفا ، مروہ ، منیٰ ، مساجد یا وہ شعائر ” زمانے “ ہوں ، جیسے رمضان ، حُرمت والے مہینے ، عیدالفطر وعیدالاضحیٰ ، یومِ جمعہ ، ایامِ تشریق یا وہ شعائر کوئی دوسری علامات ہوں ، جیسے اذان ، اقامت ، نمازِ باجماعت ، نمازِ جمعہ ، نماز عیدَین ، ختنہ یہ سب شعائر ِدین ہیں۔ ( تفسیر بغوی ، البقرۃ ، تحت الآیۃ : 158 ، 1 / 91 )

یہ حقیقت ہے کہ جس چیز کو صالحین سے نسبت ہو جائے وہ چیز عظمت والی بن جاتی ہے اور یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کی عزت افزائی ہے جیسے صفا مروہ پہاڑ ، حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قدم کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی نشانی بن گئے اور ربِّ کریم نے فرما یا :  ( اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآىِٕرِ اللّٰهِ ) ترجمہ : بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں سے ہیں۔ ( پ 2 ، البقرة : 158 ) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)   اسی کی دوسری عظیم مثال ” مقام ِ ابراہیم “ ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :  ( وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّىؕ      ) ترجمہ : اور  ( اے مسلمانو ! ) تم ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ ۔ ( پ 1 ، البقرة : 125 )  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  مقامِ ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ الصّلوٰۃُ وَالسَّلام نے کعبہ معظمہ کی تعمیر فرمائی اور اس میں آپ کے قدم مبارک کا نشان تھا ، اسے نماز کا مقام بنانا مستحب ہے۔ ایک اور مقام پرخدائی حرمتوں کی تعظیم کے متعلق فرمایا :  (  وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖؕ-) ترجمہ : اور جو اللہ کی حرمت والی چیزوں کی تعظیم کرے تو وہ اس کے لیے اُس کے رب کے نزدیک بہتر ہے۔ ( پ 17 ، الحج : 30 ) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)    اِس تعظیم پر آخرت میں ثواب ملے گا۔

شعائر اللہ کی بے حرمتی :

شعائر اللہ کی تعظیم کا حکم اور بے حرمتی سے منع کیا گیا ہے ، لہٰذا جیسے تعظیم پر عظیم ثواب ، دل کا تقویٰ ، خدا کا قرب اور اللہ کی رضا نصیب ہوتی ہے ، اِسی طرح بے حرمتی اور توہین پر ظلمت و فسادِ قلب ، غضبِ خداوندی اور ہلاکت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ، چنانچہ انبیاءِ کرام علیہم الصّلوٰۃُوالسّلام کی گستاخی کرنے والا کافر ، صحابہ و اہل ِ بیت رِضوانُ اللہ علیہم اجمعین کا گستاخ گمراہ ، اولیاءِ کرام کی توہین کرنے والےبدبخت و محروم اور مسجد و کعبہ و مکہ مکرمہ کی توہین کرنے والا بھی دنیا و آخرت کی ہلاکت کا شکار ہے۔ تائید کے لیے یہ حدیث مبارک ملاحظہ کریں۔ نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا ’’میری اُمّت کے لوگ  ( تب تک )  ہمیشہ بھلائی پر ہوں گے ، جب تک وہ مکہ کی تعظیم کاحق ادا کرتے رہیں گے اور جب وہ اِس حق کوضائع کردیں گے توہلاک ہوجائیں گے۔

 ( ابن ماجہ ،  3 / 519 ، حدیث : 3110 )  

 مزید فرمایا :   ( وَ لَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ  ) اور نہ حرمت والے مہینوں کو  ( حلال قرار دویعنی ان کی بے حرمتی نہ کرو ) ۔ (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

حرمت و احترام والے مہینے چار ہیں ، رجب ، ذوالقعدہ ، ذوالحجہ اور محرم۔ زمانہ جاہلیت میں بھی کفا ر اِن کا ادب کر تے تھے اور اسلا م نے بھی اِن کا احترام باقی رکھا۔ اَوَّلاً اسلام میں ان مہینو ں میں جنگ حرام تھی ، اب ہر وقت جہاد ہوسکتا ہے ، لیکن ان مہینوں کا دیگر انداز میں احترام بدستور  باقی ہے ، لہٰذا آج بھی اِن مہینوں میں عبادت کی کثرت اور گناہوں سے بچنے میں زیادہ کوشش کرنی چاہیے۔ ذوالقعدہ ، ذوالحجہ اور محرم موجودہ زمانے میں بھی حاجیوں کے سفر اور ادائے حج میں گزرتے ہیں ، جبکہ رجب المرجب میں عمرے کا معمول بھی جاری ہے ، اگرچہ فی زمانہ رمضان المبارک میں عمرہ کرنے والوں کی تعداد رجب سے زیادہ ہوگئی ہے۔

اِن حرمت والے مہینوں میں ذوالحجہ و محرم کی جداگانہ بہت فضیلت ہے کہ ذوالحجہ کے پہلے نو دنوں کے روزوں کا بے حد ثواب ہے ، چنانچہ حدیثِ مبارک میں فرمایا گیا : جن دنوں میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے ، اُن میں سے کوئی دن ذو الحجہ کے دس دنوں سے زیادہ پسندیدہ نہیں ، ان میں سے  ( دس ذو الحجہ کے علاوہ )  ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزوں اور ( دس ذو الحجہ سمیت ) ہررات کا قیام لیلۃُ القدر کے قیام کے برابر ہے۔  ( ترمذی ، 2 / 192 ، حدیث : 758 )  روزوں کے علاوہ بھی ہر نیک عمل کا ثواب شروع کے دس دنوں میں بڑھ جاتا ہے ، چنانچہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : اِن دنوں میں عمل کو سات سو گنا بڑھا دیا جاتاہے۔  ( شعب الایمان ، 3 / 356 ، حدیث : 3758 )  ذوالحجہ کی شروع کی دس راتوں کی قرآن میں قسم بیان فرمائی ، چنانچہ سورۃ الفجر میں ہے :  ( وَ الْفَجْرِۙ(۱) وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ(۲) (ترجمہ : صبح کی قسم اور دس راتوں کی۔ ( پ 30 ، الفجر : 1.2 )  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  مزید دس ذوالحجہ کی قربانی کی عظمت تو مسلمانوں کا بچہ بچہ جانتا ہے۔

حرمت والے مہینوں میں سے محرم الحرام کی  اپنی عظمت ہے کہ اس کا دسواں دن ، تاریخ ِ عالَم کے عظیم واقعات پر مشتمل ہے اور اِس تاریخ کو حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے فرعون سے نجات پانے کی خوشی میں نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے روزہ رکھا اور روزہ رکھنے کی ترغیب دی ، چنانچہ مسلم شریف میں ہے کہ جب حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مدینۂ منورہ تشریف لائے ، تو آپ نے یہودیوں کو عاشوراء کے دن کا روزہ رکھتے دیکھ کر پوچھا کہ تم اس دن روزہ کیوں رکھتے ہو ؟ انہوں نے کہا : یہ ایسا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السّلام اور بنی اِسرائیل کو فرعون اور اس کی قوم پر غلبہ عطا فرمایا تھا ، لہٰذا ہم تعظیماً اس دن کا روزہ رکھتے ہیں ، اس پر نبیِّ رحمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ ہم موسیٰ علیہ السّلام سے تمہاری نسبت زیادہ قریب ہیں ، چنانچہ آپ نے بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ ( مسلم ، ص441 ، حدیث : 2656 ) پھر یہی دس تاریخ ، امام ِ عالی مقام ، شہزادہِ گُلگوں قبا ، راکبِ دوشِ مصطفیٰ ، سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور آپ کے ساتھیوں کی تاریخ ساز شہادت کا دن بنی اور اِس نسبت سے رہتی دنیا تک عزیمت و استقامت اور صبر و استقلال کی نشانی بن گئی۔

مزید فرمایا :  ( وَلَا الْهَدْیَ وَلَا الْقَلَآىِٕدَ ) اور نہ حرم کی قربانیاں اور نہ علامتی پٹے والی قربانیاں  ( حلال جانو یعنی ان کی حرمت کا لحاظ کرو ) ۔ (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

 عرب کے لوگ قربانیوں کے گلے میں حرم شریف کے درختوں کی چھال وغیرہ سے ہار بُن کر ڈالتے تھے تاکہ دیکھنے والے جان لیں کہ یہ حرم کو بھیجی ہوئی قربانیاں ہیں اور ان سے چھیڑ خانی ، لوٹ مار اور تنگ نہ کریں۔ حرم شریف کی اُن قربانیوں کے احترام کا حکم دیا گیا ہے۔ نیز حاجیوں کےلئے اِن قربانیوں کے احترام میں یہ بھی داخل ہے کہ حج کے موقع پر جو جانور قربان کیا جائے ، وہ عمدہ ، موٹا ، خوبصورت اور قیمتی ہو ، بلکہ امام محمد غزالی رحمۃُ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ بزرگانِ دین حج کے موقع پر خریدے جانے والے قربانی کے جانور اور عید کی قربانی کے جانور کی قیمت میں کمی کروانا ، پسند نہیں کرتے تھے ، کیونکہ  قربانی میں زیادہ قیمت والا جانور زیادہ نفیس ہوتا ہے۔  ( احیاء علوم الدین ، 1 / 353 )  حج و قربانی کے جانور خریدتے وقت قیمت کم نہ کروانا بہتر ہے جبکہ بازار کی حقیقی قیمت سے زیادہ فرق نہ ہو۔

فرمایا :  ( وَ لَا آمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ  ) اور نہ ادب والے گھر کا قصد کرکے آنے والوں  ( کے مال و عزت )  کو ( پامال کرو ) ۔  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

ادب والے گھر کا قصد کرکے آنے والوں سے مراد حج و عمرہ کرنے کے لیے آنے والے ہیں اور حکم دیا گیا کہ جو حج کے ارادے سے نکلا ہو ، اُسے کچھ نہ کہاجائے ، بلکہ خدا کے گھر آنے والے خدا کے مہمانوں کی عزت کی جائے ، ان سے لڑنا ، انہیں بُرا بھلا کہنا ، اِن پر چیخنا چِلانا ، دھکے مارنا ، پکڑ دھکڑ کرنا ، بداخلاقی سے پیش آنا ، خود کو بَرتر اور اِن مہمانوں کو حقیر سمجھنا ، اِن کے سفر کو عبادت کی بجائے کمائی کا ذریعہ بنالینا ، مناسکِ حج و عمرہ و زیارات کی ادائیگی میں آسانی کی بجائے تنگی اور سہولت کی بجائے مشکلات کھڑی کرنا وغیرہ تمام چیزیں حکمِ قرآنی کے خلاف ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو اپنی نشانیوں کی تعظیم سے لبریز فرمائے اور ہمیں دلوں کا تقویٰ عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*  نگرانِ مجلس تحقیقات شرعیہ ، دارالافتاء اہل سنّت ، فیضان مدینہ کراچی


Share

Articles

Comments


Security Code