خریدار کے ساتھ ناانصافی

تاجروں کے لئے

خریدار کے ساتھ ناانصافی

*مولانا سیّد عمران اختر عطّاری مدنی

ماہنامہ فیضانِ مدینہ نومبر 2023

اگر ہم آج کل کے اپنے معاشی حالات (Economic conditions) کا جائزہ لیں اور پھر معاشی بدحالی (Economic crisis) کی وجوہات پر قراٰن و حدیث کی روشنی میں غور کریں تو ہمیں پتا چلے گا کہ آج ہماری زندگیوں سے جو راحت وسکون اُٹھ گیا ہے،ہماری آمدنیوں سے جو خیر و برکت نکل گئی ہے اور افرادی و قومی ہر اعتبار سے ہمارے معاشی حالات جو بگڑتے جارہے ہیں، دوسری وجوہات کے علاوہ اس کی ایک اہم اور بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم لوگ کاروبار اور لین دین میں ناپ تول میں کمی بیشی سے کام لیتے ہیں، ناپ تول میں کمی کوئی نئی بات نہیں بلکہ صدیوں سے کاروباری لوگ اس بُرائی میں پڑے ہیں مگر یہ بھی سچ ہے کہ بدقسمتی سے آج کل ناپ تول کی ہیرا پھیری میں جتنی تیزی آچکی ہے اور بازاروں میں جتنے طریقے اپنائے جارہے ہیں اتنے پہلے کبھی نہیں تھے، حالانکہ مسلمان ہونے کے ناطے ہم پر اللہ رسول کے احکامات ماننا اور ان پر عمل کرنا ضروری بھی ہے اور اسی میں ہماری دینی و دنیاوی کامیابی کی ضمانت بھی، قراٰنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ انصاف کے ساتھ ناپ تول کرنے کا ارشاد فرمایا، سورۂ رحمٰن میں اللہ پاک کا فرمان ہے:(وَالسَّمَآءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِیْزَانَۙ(۷) اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ(۸) وَاَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ(۹))

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور آسمان کو اللہ نے بلند کیا اور ترازو رکھی کہ تولنے میں نا انصافی نہ کرو اور انصاف کے ساتھ تول قائم کرو اور وزن نہ گھٹاؤ۔(پ 27، الرحمٰن:7تا9)

حدیثِ پاک میں ہے: قیامت میں کم تولنے والے کا چہرہ سیاہ، زبان توتلی اور آنکھیں نیلی ہوں گی۔ اس کی گردن میں آگ کا ترازو ڈال کر دو پہاڑوں کے درمیان پچاس ہزار سال تک اسے عذاب دیا جائے گا، کہا جائے گا کہ یہاں سے یہاں تک تول۔(قرۃ العیون، ص391)

صحیح ناپ تول کی اتنی تاکید بھی ہے، غلط ناپ تول پر طرح طرح کے عذابوں کی وعید بھی ہے نیز ملکی سطح پر اَوزان و پیمائش کا محکمہ بھی قائم ہے مگر اس کے باوجود ناپ تول کی چور بازاریوں میں کمی کے بجائے روز بروز زیادتی ہی ہورہی ہے آئیے اس کی بازاروں میں رائج کچھ صورتیں ملاحظہ کیجئے:

(1)باتوں میں لفظ میٹر کہنا یا چیز کی قیمت میٹر کے حساب سے بتانا مگر ناپتے وقت گز سے ناپنا حالانکہ گز 36 انچ کا جبکہ میٹر 39 انچ کا ہوتا ہے (2)گز کو ناپنے کے لئے 36 انچ سے اور میٹر کو ناپنے کیلئے 39 انچ سے کم لمبائی والا آلہ استعمال کرنا جیساکہ بعض دکانداروں نے یہ طریقہ اپنا رکھا ہے (3)اینٹ، سِلپ، بھیم اور ٹائلز وغیرہ کی پیمائش (Measurement) میں دھوکاکرنا (4)کم وزن والے باٹ استعمال کرنا جیساکہ بعض دکاندار ایسے باٹ رکھتے ہیں جن کے کنارے وغیرہ جھڑے ہوئے یا اپنی مرضی سے بڑی ہوشیاری سے جھڑوائے گئے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے باٹ کا وزن چند گرام کم ہو چکا ہوتا ہے۔ بعض دکانوں اور ٹھیلوں پر ایسے باٹ دکھائی دیتے ہیں جنہیں الیکٹرک ٹیپ یا پلاسٹک شاپر سے چُھپادیا گیا ہوتا ہے، گاہک کو نہ تو اس کےچُھپائے جانے کی وجہ معلوم ہوتی ہے اور نہ ہی یہ پتا چلتا ہے کہ باٹ پورا ہے یا پھر وزن ہلکا کرنے کے لئے مشین وغیرہ کے ذریعے کٹواکر جھڑوایا گیا ہے(5)باٹ کی جگہ چیز تولنے کیلئے پتھر یا اینٹ استعمال کرنا، گاہک نہیں جانتا کہ جس وزن کے لئے یہ اینٹ یا پتھر بطورِ باٹ استعمال کیا جارہا ہے یہ اس وزن کے باٹ کے برابر ہے یا کم(6)باٹ تو پورا ہو لیکن تولنے میں کسی بھی طرح سے ہیرا پھیری اور بے ایمانی کرنا مثلاً چیز کو زور سے یا اونچائی سے ترازو میں ڈال کر فوراً ہی اٹھا لینا(7)ترازو کے پلڑوں میں فرق رکھنے اور سامان والے پلڑے کو پہلے ہی وزنی رکھنے کیلئے مختلف حربے استعمال کرنا، مثلا ًسامان والے پلڑے کے نیچے مقناطیس (Magnet) چپکا دینا یا پھر بھاری برتن رکھ دینا اور اس ہیرا پھیری کو گاہک کی نظر سے چھپانے کے لئے باٹ والے پلڑے میں پہلے ہی سے باٹ رکھ دینا وغیرہ(8)کپڑا یا اِلاسٹک ناپتے وقت لچک دار کپڑے کو کھینچ کر ناپنا، اسی طرح بجلی کا تار، یا پانی کا پائپ وغیرہ گز یا میٹر کے اسکیل کے بجائے اپنے کاؤنٹر یا ٹیبل پر گز یا میٹر سے کم نشان لگا کر ان کے مطابق کم ناپ کر دینا(9)ایسے غلط، چورسائز، غیر معیاری و غیر قانونی پیمائشی فیتے (Measuring tapes)استعمال کرنا جن کی لمبائی کم ہوتی ہے ان کے ذریعے چند میٹرز، گز یا فٹ ناپے جائیں تو بظاہر کچھ انچ کی کمی ہوتی ہے مگر چوڑائی وغیرہ ملا کر مجموعی طور پر اچھی خاصی کمی ہوجاتی ہے (10)دودھ، کوکنگ آئل، مٹی کا تیل، مائع کیمیکلز، بلیچ، پیٹرول وغیرہ کو ماپنے کے پیمانے میں ہیرا پھیری کرنا جیساکہ ایسی کُپّی یا پیمانہ استعمال کرنا جس کی اندر کی سطح یا تلا باہر سے دکھائی دینے والے تلے سے اوپر ہوتا ہے یا پھر اندرونی پھیلاؤ اس کی اصل جسامت سے کم ہوتا ہے (11)وزن کے بجلی والے ترازو (Electric Scale)کی سیٹنگ یا میٹر میں تبدیلی کرکے کم تول کر دینا یا ان میں تبدیلی تو نہ کرنا مگر یہ ترازو دکان کے اندر یا پھر کاؤنٹر پر ہی ایسی جگہ رکھنا کہ تول کے وقت گاہک دیکھ ہی نہ سکے جیساکہ بعض دکانوں پر ایسا دیکھنے کو ملتا ہے۔

یہ تو ناپ تول میں کمی کی بعض وہ صورتیں تھیں جن کا تعلق ترازو، پیمانے، باٹ، پیمائشی فیتے (Measuring tape) یا پھر ناپ تول کے انداز میں ہیرا پھیری کرنے سے ہے مگر ان کے علاوہ آج کل ناپ تول میں ڈنڈی مارنے کی بہت زیادہ استعمال ہونے والی ایک صورت ملاوٹ بھی ہے، ملاوٹ بھی درحقیقت ناپ تول میں کمی ہی کی ایک صورت ہے جس میں گاہک کو اس کی مانگی ہوئی چیز تو کم ہی ملتی ہے مگر اسی کمی کا وزن دوسری چیز سے پورا کردیا جاتا ہے مثلاً گاہک پچیس کلو یا پچاس کلو چاول وغیرہ کی کچھ بوریوں کا آرڈر دے تو بیوپاری (Merchant) ہر بوری میں دو تین کلو چا ول کم کرکے اس کمی کو پتھر کی کنکریوں کے ذریعے پورا کردے، تَھوک کے حساب سے جہاں خرید و فروخت ہوتی ہے وہاں بڑے پیمانے پر اصل چیز میں کمی کرکے اس کمی کو ملاوٹ کے ذریعے پورا کرنے کا رواج بہت بڑھ چکا ہے اور پھر جب یہ چیزیں چھوٹی دکانوں تک پہنچتی ہیں تو ہرہر گاہک کو اس کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہےگویا ایسے بیو پاری اگرچہ خود کو ہوشیار اور سیانا سمجھ رہے ہوتے ہیں مگر بے چارے بہت سارے بندوں کے حقوق کا بوجھ اپنے کندھوں پر لے رہے ہوتے ہیں،جس کا حساب قیامت کے دن دینا ان کیلئے واقعی بہت مشکل ہوگا، آئیے ملاوٹ کے ذریعے ناپ تول میں کمی کرنے کی بھی چند مثالیں ملاحظہ کیجئے:

(1)گھی میں ناقص تیل کی ملاوٹ(2)دالوں، چاولوں اور مختلف اناجوں میں پتھر کی کنکریاں یا دیگر اجزا ملا کر تول دینا(3)کالی مرچ میں پپیتے کے بیجوں کی ملاوٹ (4)دودھ میں پانی، اراروٹ یا مختلف نقصان دہ کیمیکلز کی ملاوٹ(5)پانی کو گوشت اور مختلف سبزیوں کے ساتھ تول کر پانی بھی گوشت اور سبزی کے بھاؤ بیچنا(6)مرچوں میں سرخ مٹی کی ملاوٹ کرنا (7)پسے ہوئے دھنیے میں لکڑی کے برادے کی ملاوٹ (8)اینٹوں کی بناوٹ میں سیمنٹ کی مقدار کم کرکے گاہک کی نظر میں اس کمی کو چُھپانے کیلئے کلر کی ملاوٹ تاکہ دیکھنے میں لگے کہ سیمنٹ زیادہ مقدار میں ہے (9)زندگی بچانے والی دواؤں میں ملاوٹ کرنا۔

غرض! اب ہول سیل مارکیٹوں میں کئی چیزیں ایک نمبر دو نمبر اور تین نمبر وغیرہ کہہ کر الگ الگ کوالٹی میں بیچی جا رہی ہیں، بعض صورتوں میں دکاندار کو خریداری کے وقت چیز کی کوالٹی کا ہلکا ہونا معلوم تو ہوتا ہے مگر وہ جان بوجھ کر ہلکی کوالٹی سستے داموں صرف یہ سوچ کر خرید لیتا ہے کہ اپنی دکان پر یہ دونمبر چیز ہی ایک نمبر چیز کی قیمت میں دوسرے گاہکوں کو بیچ دوں گا۔

اللہ پاک ہمیں دین کے تمام احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، دوسروں کی ناانصافیوں سے اور دوسروں کے ساتھ ناانصافیاں کرنےسے بچائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃُ المدینہ، ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی


Share

Articles

Comments


Security Code