حضرت اُمِّ سنان اسلمیہ رضی اللہُ عنہا

تذکرۂ صالحات

حضرت اُمِّ سِنان اَسْلَمِیَّہ رضی اللہ عنہا  

*مولانا وسیم اکرم عطّاری مدنی

ماہنامہ فیضانِ مدینہ جون2023

جن محترم صحابیات پر رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خاص کرم نوازیاں تھیں ، انہی میں سے ایک عظیم صحابیہ حضرت اُمِّ سِنان اسلمیہ رضی اللہ عنہا بھی ہیں۔)[1](

خاندان آپ کا تعلق قبیلۂ بنو اسلم سے تھا۔یہ وہ قبیلہ ہے جسے رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ( اسلام لانے پر ) سلامتی کی دعا سے نوازا تھا۔  )[2](  آپ کی ایک بیٹی کا نام ثُبَیْتَہتھا۔)[3](

ہجرت و بیعت آپ نے ہجرت بھی کی اور نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بیعت کرنے کا شرف بھی پایا۔)[4](چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں آقا کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوئی۔  )[5](

بارگاہِ رسالت میں حاضری ایک بار حضرت اُمِّ سِنان رضی اللہ ُعنہا نے بارگاہِ اقدس میں حاضر ہو کر عرض کی : یا رسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! مجھے آپ کی بارگاہِ اقدس میں آتے ہوئے حیا آتی ہے ، کیونکہ میں آپ کی پاک بارگاہ میں اپنی کسی حاجت کی وجہ سے ہی حاضر ہوتی ہوں ، تو حضور نے فرمایا : اگر تم ( سُوال کرنے سے ) بے پروائی اختیار کر لو تو تمہارے لئے بہتر ہے۔  )[6](

بی بی صفیہ کی شادی میں شرکت جب حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اُمُّ المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے شادی ہوئی تو حضرت اُمِّ سِنان رضی اللہ عنہا بھی شادی میں شریک تھیں چنانچہ فرماتی ہیں کہ میں نے اُمُّ المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی شادی میں شریک ہو کر انہیں کنگھی کی اور خوشبو لگائی۔)[7](

غزوات میں طبی خدمات حضرت اُمِّ سِنان رضی اللہ عنہا کا شمار دورِ رسالت کی ان خواتین میں ہوتا تھا جو طبی معاملات  ( Medical Matters )  کو بخوبی جانتی تھیں اور غزوات میں زخمی ہونے والے اصحابِ رسول کی مرہم پٹی وغیرہ کی غرض سے شریک ہوتی تھیں۔ جیسا کہ آپ خود فرماتی ہیں : میں ایک دوا کے ذریعے زخمی صحابہ کا علاج کرتی تھی تو وہ صحتیاب ہو جاتے تھے۔)[8](نیز طبقات ابنِ سعد میں ہے کہ جب رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے غزوۂ خیبر کے لئے نکلنے کا ارادہ فرمایا تو حضرت اُمِّ سِنان اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے حاضرِ خدمت ہو کر عرض کی : یا رسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! میں پیاسوں کو پانی پلانے ، مریضوں اور زخمیوں کا علاج کرنے اور سُواریوں کی نگہبانی کرنے کے لئے آپ کے ساتھ اس غزوے میں شریک ہونا چاہتی ہوں۔تو رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : اللہ پاک کی برکت سے نکلو ! کیونکہ تمہاری سہیلیوں نے بھی مجھ سے اس بارے میں گفتگو کی تھی تو میں نے انہیں بھی اجازت عطا کر دی۔اگر تم چاہو تو اپنی قوم کے ساتھ چلی جاؤ اور چاہو تو ہمارے ساتھ چلو ! میں نے عرض کی : آپ کے ساتھ چلنا چاہتی ہوں۔تو حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھے اپنی زوجہ اُمُّ المؤمنین اُمِّ سَلَمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ چلنے کا حکم ارشاد فرمایا۔)[9](

اہم وضاحت یاد رہے ! غزوات میں زخمی صحابہ کی مرہم پٹی کرنے والی صحابیات طیبات شرعی حدود و قیودات کا مکمل لحاظ رکھتی تھیں ، جیسا کہ علّامہ قرطبی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں :  ( غزوات میں شریک ) خواتین زخموں کے لئے دوا سازی کا فریضہ سر انجام دیتیں اور اس دوران نا محرموں کو چھوتی نہ تھیں۔ پھر یہ خواتین یا تو عمر رسیدہ ہوتیں تو انہیں اپنے چہرے کھولنا جائز تھا یا جوان ہوتیں تو وہ با حجاب ہوتی تھیں۔)[10](

حضرت اُمِّ سِنان پر عطائے مصطفےٰ فتحِ خیبر کے بعد رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت اُمِّ سِنان رضی اللہ عنہا کو مالِ فَئے  )[11](میں سے یہ چیزیں عطا فرمائیں : منقش نگینے ، چاندی کا زیور ، سوتی ، یمنی اورمخملی چادریں اور تانبے کی دیگچی۔اس کے علاوہ غزوۂ خیبر کے موقع پر جس اونٹ پر حضرت اُمِّ سَلَمہ اورحضرت اُمِّ سِنان رضی اللہ عنہا سوار تھیں مدینے پہنچنے پر وہ اونٹ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت اُمِ سِنان رضی اللہ عنہا کو عطا فرما دیا ، اس پر انہوں نے اللہ پاک کی حمد و ثنا بیان کی۔)[12](

روایتِ حدیث آپ سے آپ کی بیٹی ثُبَیْتَہ اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہم نے احادیث روایت کی ہیں۔)[13](

اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔

 اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النّبیّٖن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* شعبہ فیضانِ صحابیات و صالحات ، المدینۃ العلمیہ    Islamic Research Center



[1] الاصابہ ، 8 / 411

[2] بخاری ، 2 / 478 ، حدیث : 3514ماخوذاً

[3] اسد الغابہ ، 7 / 378

[4] طبقات ابنِ سعد ، 8 / 227

[5] طبقات ابن سعد ، 8 / 227

[6] معجم کبیر ، 25 / 173

[7] طبقات ابنِ سعد ، 8 / 96

[8] المغازی للواقدی ، 2 / 687

[9] طبقات ابنِ سعد ، 8 / 227

[10] التراتیب الاداریۃ ، 2 / 147

[11] کفارسے لڑائی کے بعد جومال لیا جاتاہے جیسے خراج اور جزیہ وغیرہ اسے مال فئے کہتے ہیں۔ ( بہارشریعت ، 2 / 434 )

[12] المغازی للواقدی ، 2 / 687

[13] اسد الغابہ ، 7 / 378۔


Share

Articles

Comments


Security Code