ALLAH Walon ki Batain Jild 5
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
  • فرض علوم
  • تنظیمی ویب سائٹ
  • جامعۃ المدینہ
  • اسلامی بہنیں
  • مجلس تراجم
  • مدرسۃ المدینہ
  • احکامِ حج
  • کنزالمدارس بورڈ
  • مدنی چینل
  • دار المدینہ
  • سوشل میڈیا
  • فیضان ایجوکیشن نیٹ ورک
  • شجرکاری
  • فیضان آن لائن اکیڈمی
  • مجلس تاجران
  • مکتبۃ المدینہ
  • رضاکارانہ
  • تنظیمی لوکیشنز
  • ڈونیشن
    Type 1 or more characters for results.
    ہسٹری

    مخصوص سرچ

    30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

    ALLAH Walon ki Batain Jild 5 | اللہ والوں کی باتیں جلد ۵

    اللہ والوں کی باتیں جلد ۵
                
    تابعین کےاَقوال واَحوال اورزُہدوتقوٰی کابیان حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد : 5) ترجمہ بنام اللہوالوں کی باتیں مُؤَلِّف امام اَ بُونُـعَیْم اَحمدبن عبداللہ اَصْفَہَانی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (اَلْمُتَوَفّٰی۴۳۰ ھ) پیش کش : مجلس اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَہ (شعبہ تراجِمِ کُتُب ) ناشِر مکتبۃُ المدینہ بابُ المدینہ کراچی اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

    اس کتاب کو پڑھنے کی17 نیّتیں

    فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ : نِیَّةُ الْمُؤْمِنِ خَیْرٌ مِّنْ عَمَلِہٖیعنی مسلمان کی نیّت اس کے عمل سے بہتر ہے۔(المعجم الکبيرللطبرانی، ۶/۱۸۵، حديث : ۵۹۴۲) دومَدَنی پھول : (۱)بِغیراچّھی نیّت کےکسی بھی عمل خیرکا ثواب نہیں ملتا۔ (۲)جتنی اچّھی نیّتیں زِیادہ، اُتناثواب بھی زِیادہ۔ (۱)ہر بارحمد وصلوٰۃ اورتَعَوُّذوتَسْمِیّہ سے آغاز کروں گا۔(اسی صَفْحَہ پر اُوپر دی ہوئی دو عَرَبی عبارات پڑھ لینے سے اس پر عمل ہوجائے گا)۔(۲)رِضائے الٰہی کے لئے اس کتاب کا اوّل تا آخِر مطالَعہ کروں گا۔ (۳)حتَّی الْوَسْع اِس کا باوُضُو اورقبلہ رُو مُطالَعَہ کروں گا۔ (۴)قرآنی آیات اوراَحادیث ِ مبارَکہ کی زِیارت کروں گا۔(۵)جہاں جہاں’’اللّٰہ‘‘ کا نام پاک آئے گا وہاں عَزَّوَجَلَّ اورجہاں جہاں’’سرکار‘‘ کا اِسْمِ مبارَک آئے گا وہاںصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّماورجہاں جہاں کسی صحابی یا بزرگ کا نام آئے گا وہاں رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ پڑھوں گا۔(۶)رضائے الٰہی کے لئے علم حاصل کروں گا (۷)اس کتاب کا مطالعہ شروع کرنے سے پہلے اس کے مؤلف کو ایصال ثواب کروں گا۔ (۸)(اپنے ذاتی نسخے پر)عِندَالضرورت خاص خاص مقامات انڈر لائن کروں گا۔ (۹)(اپنے ذاتی نسخے کے )’’یادداشت‘‘والے صَفْحَہ پر ضَروری نِکات لکھوں گا۔ (۱۰)اولیا کی صفات کواپناؤں گا۔(۱۱)اپنی اصلاح کے لئے اس کتاب کے ذریعے علم حاصل کروں گا۔(۱۲)دوسروں کویہ کتاب پڑھنے کی ترغیب دلاؤں گا۔(۱۳)اس حدیثِ پاک’’تَھَادَوْاتَحَابُّوْا‘‘ایک دوسرے کو تحفہ دو آپس میں محبت بڑھے گی۔(مؤطاامام مالک، ۲/ ۴۰۷، حديث : ۱۷۳۱)پرعمل کی نیت سے(ایک یا حسب ِ توفیق)یہ کتاب خریدکر دوسروں کوتحفۃًدوں گا۔ (۱۴)اس کتاب کے مطالَعہ کا ثواب ساری اُمّت کو ایصال کروں گا۔ (۱۵)اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کے لئے روزانہ فکر ِ مدینہ کرتے ہوئے مَدَنی انعامات کا رسالہ پر کیا کروں گا اور ہرمدنی(اسلامی)ماہ کی10تاریخ تک اپنے یہاں کے ذمہ دارکو جمع کروا دیا کروں گا۔(۱۶)عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلوں میںسفر کیا کروں گا۔ (۱۷)کتابت وغیرہ میں شَرْعی غلَطی ملی تو ناشرین کو تحریری طور پَر مُطَّلع کروں گا(ناشِرین وغیرہ کو کتابوں کی اَغلاط صِرْف زبانی بتاناخاص مفید نہیں ہوتا)۔ المد ینۃُ العِلمیہ از : شیخ طریقت، امیرِ اہلسنّت ، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطّارقادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی اِحْسَا نِہٖ وَ بِفَضْلِ رَسُوْلِہٖ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتبلیغ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک’’دعوتِ اسلامی‘‘نیکی کی دعوت، اِحیائے سنّت اور اشاعت ِ علم شریعت کو دنیا بھر میں عام کرنے کاعزمِ مُصمّم رکھتی ہے، اِن تمام اُمور کو بحسن خوبی سر انجام دینے کے لئے متعدد مجالس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جن میں سے ایک مجلس’’اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَہ‘‘بھی ہے جودعوتِ اسلامی کے عُلما ومفتیانِ کرامکَثَّرَھُمُ اللّٰہُ السَّلَامپرمشتمل ہے، جس نے خالص علمی، تحقیقی او راشاعتی کام کا بیڑا اٹھایا ہے۔ اس کے مندرجہ ذیل چھ شعبے ہیں : (۱)شعبہ کتب اعلیٰحضرت (۲)شعبہ تراجم کتب (۳)شعبہ درسی کُتُب (۴)شعبہ اصلاحی کتب (۵)شعبہ تفتیش کتب (۶)شعبہ تخریج ’’اَلْمَدِ یْنَۃُ الْعِلْمِیَہ‘‘کی اوّلین ترجیح سرکارِ اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، عظیم البَرَکت، عظیمُ المرتبت، پروانۂ شمعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین و مِلَّت، حامی سنّت ، ماحی بِدعت، عالِم شَرِیْعَت، پیر ِ طریقت، باعث ِ خَیْر و بَرَکت، حضرتِ علاّمہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رَضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکی گِراں مایہ تصانیف کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق حتَّی الْوَسْع سَہْل اُسلُوب میں پیش کرنا ہے۔ تمام اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں اِس عِلمی ، تحقیقی اور اشاعتی مدنی کام میں ہر ممکن تعاون فرمائیں اورمجلس کی طرف سے شائع ہونے والی کُتُب کا خود بھی مطالَعہ فرمائیں اور دوسروں کو بھی اِس کی ترغیب دلائیں۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کی تمام مجالس بَشُمُول’’اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَہ‘‘کودن گیارہویں اوررات بارہویں ترقّی عطا فرمائے اور ہمارے ہر عمل خیر کو زیورِ اِخلاص سے آراستہ فرماکر دونو ں جہاں کی بھلائی کا سبب بنائے۔ہمیں زیرِ گنبد ِخضرا شہادت، جنّت البقیع میں مدفن اور جنّت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رمضان المبارک ۱۴۲۵ھـ پہلے اسے پڑھ لیجئے! اِس پُرفتن دور میں بدامنی وبے چینی کاپورے عالَم پر تسلُّط ہے، انسان اپنی بدعملیوں کےباعث انتہائی کرب وپریشانی میں مبتلاہے۔اس مصیبت کی سب سے بڑی اور حقیقی وجہ خوفِ خداکا فُقدان اور اِتِّباعِ رسول سےروگردانی ہے۔حضورخَاتَمُ النَّبِیِّیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کےبعدکوئی نیانبی نہیں آئے گا۔ہاں اولیائےکرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکاسلسلہ جاری ہے۔اس امت میں ایسےایسےنفوسِ قدسیہ پیدا ہوئےجن کا وجود پیارےآقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی کامل اتباع اورمجاہدہ وعبادت کی بدولت ہمارے لئےمشعلِ راہ ہے۔ اللہ والوں کی باتیں، ان کےاَخلاق اوران کی سیرت کا پڑھناپڑھانا، سنناسنانااوراسےاپنانا مسلمانوں کے دین و دنیا کو سنوارنے کے لئے ایک کامیاب طریقہ ہے۔یقیناًان کی سیرتوں اور تذکروں کامطالعہ نورِ ایمان کی روشنی میں اضافےکاسبب بنتااورراہِ حق کے متلاشیوں کوصراطِ مستقیم کی بابر کت اورروشن شاہراہ پر گامزن رکھتا ہے۔ پھر دین ودنیاکی وہ کامیابی نصیب ہوتی ہےجس کی تمناہر مسلمان کے دل میں ہوتی ہے۔ان اللہ والوں نے اپنی زندگیاں کس طرح گزاریں؟ان کے شب وروز کیسےبسرہوتےرہے؟ان کی خَلْوَت وجَلْوَت کا انداز کیا تھا؟ان باتوں کا جواب سیرت وتَصَوُّف کی کتابوں میں موجود ہے۔اسے نگاہِ شوق سے پڑھ کراوردل کےکانوں سے سن کراپنا دستورِعمل بنالیا جائےتویقیناًہماری ساری بدامنی وبے چینی اورکرب وپریشانی دور ہوجائے گی اور رنج ومصائب میں گھری دنیا، حقیقی مسرتوں اور سچی خوشیوں سے مالا مال ہوجائے گی۔ جلیل القدرمُحَدِّث حضرتِ سیِّدُناامام حافظابونُعَیْماَحمدبنعبداللہاصفہانی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی۴۳۰ھ)اپنےعہدکےعظیم مُحَدِّث تھے۔مُجَدِّدِاَعظم، اَعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےایک مقام پر مُحَدِّثِیْنِ کِرام کاذکرکرتے ہوئےآپ کو”امام محدث جلیل القدر“فرمایا۔(1)ابونُعَیْم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جہاں اوربہت سےموضوعات پر قلم اُٹھایا ہے وہیں آپ نےاللہ والوں کی باتوں، ان کےاَخلاق اورحالاتِ مبارکہ نیزان سےمروی اَحادیْثِ طیبہ کوجمع کرکےمسلمانوں کوایک”روحانی تحفہ“بنام ”حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَـقَاتُ الْاَصْفِیَاء “عطافرمایا۔یہ ایسی شاندارکتاب ہےجس کے بارے میں مُحَدِّثِ ذِیشان حضرتِ سیِّدُناشاہ عبْدُالعزیز مُحَدِّثِ دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتےہیں : ازنوادر کُتب اوکتاب حلیۃ الاولیاست کہ نظیر آں دراسلام تصنیف نشدہ(یعنی )”حِلْیَۃُ الْاَوْلِیا“ان(یعنی امامابونُعَیْمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ)کی تصانیف میں ایسے نوادرات میں سےہےجس کی مثل اسلام میں آج تک کوئی کتاب تصنیف نہ ہوئی۔(2) کتاب کی افادیت کےپیشِ نظرشیخ طریقت، امیراہلسنّت، بانِیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمدالیاس عطّاؔرقادری رضویدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے اپنی چہیتی مجلس”اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَہ“کےشعبہ تراجِمِ کُتُب (عربی سے اُردو) کواس کےاردو ترجمہ کی ذمہ داری سونپی۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ!چارجلدیں بنام”اللہ والوں کی باتیں“ زیورِطبع سےآراستہ ہوکرمنظرعام آچکی ہیں۔یہ پانچویں جلدکا ترجمہ ہے۔یہ جِلد42بزرگوں کےتذکرے پرمشتمل ہےجن میں9کوفی تابعین، 8کوفی تبع تابعین اور25شامی تابعین کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامشامل ہیں۔ اس جلدپرترجمہ، تقابل، نظرثانی، پروف ریڈنگ اورتخریج وغیرہ کے کام میں شعبہ کے تمام ہی اسلامی بھائی شریک رہے بالخصوص 5اسلامی بھائیوں نےبھرپور کوشش فرمائی : (۱)…ابوواصف محمدآصف اقبال عطاری مدنی(۲)…ابومحمدمحمدعمران الٰہی عطاری مدنی(۳)…ابوالقیس محمداویس عطاری مدنی(۴)…ابوباقرمحمدعامرعطاری مدنی(۵)…محمدخرم عطاری مدنی سَلَّمَہُمُ الْغَنِی۔اس کتاب کی شرعی٫ تفتیش دارالافتااہلسنت کےنائب مفتی حافظ محمدحسّان رضاعطاری مَدَنیاورمُتَخَصِّص اسلامی بھائی محمدکفیل عطاری مدنی زِیْدَعِلْمَہُمَانےفرمائی ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں دعاہےکہ اپنی دنیاوآخرت سنوارنےکےلئےہمیں اس کتاب کوپڑھنے، اس پرعمل کرنےاوردوسرےاسلامی بھائیوں بالخصوص مفتیانِ عِظام اورعُلَمائےکرام کی خدمتوں میں تحفۃً پیش کرنےکی سعادت عطافرمائےاورہمیں اپنی اورساردی دنیاکےلوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنےکےلئے مَدَنی اِنعامات پرعمل کرنےکی توفیق اورمَدَنی قافلوں میں سفر کرنے کی سعادت عطافرمائےاوردعوتِ اسلامی کی تمام مجالس بشمول مجلس اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَہکودن پچسویں اوررات چھبیسویں ترقّی عطافرمائے! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ شعبہ تراجِم کُتُب (مجلس اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَۃ)

    حضرتِ سیِّدُنامُحَمَّد بن سُوْقَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ

    حضرتِ سیِّدُناابُوعبدُاللہمحمدبن سُوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبھی تابعین کرام میں سےہيں۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بہت زیادہ خوفِ خدا والے اور نرمی میں سبقت كرنے والے ہیں، معرفت کے ساتھ آپ کا خوف بڑھتا اور نرمی کے ساتھ آپ کی سبقت بڑھتی تھی۔ عُلَمائےتَصَوُّف فرماتےہیں : خوفِ خدا زیادہ ہونےاورنرمی میں سبقت کرنے کا نام تَصَوُّف ہے۔

    خوفِ خدا والے کی دوصفات

    (6099)…حضرتِ سیِّدُنا ابواسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو فرماتے سنا : بےشک خوفِ خدا رکھنے والا مومن موٹا نہیں ہوتا(3)اور (خوف خدا کے سبب) اس کا رنگ تبدیل ہوجاتا ہے۔

    تین کے علاوہ ہر بات فضول

    (1006)…حضرتِ سیِّدُنا یعلیٰ بن عبید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ ہم حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا : میں تمہیں وہ بات بتاتا ہوں جس کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے نفع پہنچایا امید ہے تمہیں بھی نفع پہنچائے۔ ہم لوگ حضرتِ سیِّدُنا عطاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا : تم سے پہلے کے لوگ فضول بات کو نا پسندکرتے اور تین باتوں کےعلاوہ ہربات کو فضول شمار کرتے تھے(۱)…قرآنِ کریم کی تلاوت (۲)…نیکی کا حکم دینا یا برائی سے منع کرنا اور (۳)…اپنی حاجت بیان کرنا جہاں بغیر بولے حاجت پوری نہ ہو۔ کیاتم ان فرامین باری تَعَالٰی کے بارے میں نہیں جانتے؟ وَ اِنَّ عَلَیْكُمْ لَحٰفِظِیْنَۙ(۱۰) كِرَامًا كَاتِبِیْنَۙ(۱۱) (پ۳۰، الانفطار : ۱۰، ۱۱) ترجمۂ کنز الایمان : بے شک تم پر کچھ نگہبان ہیں معزّز لکھنے والے۔ اور اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ(۱۷) مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ(۱۸) (پ۲۶، قٓ : ۱۷، ۱۸) ترجمۂ کنز الایمان : ایک دہنے بیٹھا اور ایک بائیں کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو۔ کیا تمہیں حیا نہیں آتی کہ تم میں سےکسی کا نامَۂ اعمال دن کے آخری حصے میں کھولا جائے اور اس میں دن کا اکثر حصہ ایسا گزرا ہو جس میں اس کی دنیاوی کوئی غرض ہو نہ آخرت کی۔ حضرتِ سیِّدُناامام ابوبکربن شیبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی روایت میں آخری الفاظ یوں ہیں : اس کے نامَۂ اعمال میں دن کا ابتدائی حصہ زیادہ تَر اُس چیز سے پُر ہو جس کا تعلق نہ اس کے دین سے ہے نہ دنیا سے۔

    دونصیحت آموزباتیں

    (6101)…حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن اشعث اور حضرتِ سیِّدُنا فُضیل بن عِیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کا بیان ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سُوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : دو باتیں ایسی ہیں کہ اگر ہمیں صرف ان کے سبب عذاب دیا جائے تو ہم اس کے مستحق ہیں(۱)…کسی کودنیامیں زیادہ دیا جائے تو وہ خوش ہوجاتا ہے جبکہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ دین میں اس کی مثل زیادہ دیئے جانے پر خوش ہوا ہو (۲)…کسی کی دنیا میں کمی کی جائے تو وہ غمگين ہوجاتا ہے حالانکہ کبھی دیکھنے میں نہیں آیا کہ وہ اپنے دین میں اتنی ہی کمی ہونے پرغمگين ہوا ہو۔

    بکثرت آنسو بہانے والے

    (6102)…حضرتِ سیِّدُنا عبْدُالرحمٰن بن محمدمُحارِبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں کہ جب جمعہ کا دن آتا تو حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اور حضرتِ سیِّدُنا ضِرار بن مُرّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک دوسرے کو تلاش کرتے، جب دونوں ملتے تو بیٹھ کر روتے رہتے۔ (6103)…جعفرالاحمرکابیان ہے کہ ہمارے چار اصحاب بہت زیادہ رویا کرتے تھے : (۱)…حضرت سیِّدُنا مُطرِّف بن طَریف (۲)…حضرت سیِّدُنامحمدبن سوقہ(۳)…حضرت سیِّدُناعبْدُالملِک بن اَبجراور(۴)…ابوسِنان حضرت سیِّدُناضِرار بن مرہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی۔

    نیکیوں میں بڑھ جانےوالے

    (6104)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثَوری
    عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے بیان کیا کہ اہل کوفہ میں سے پانچ افراد روز ہی نیکیوں میں بڑھ جاتے ہیں پھر آپ نے حضرتِ سیِّدُنا ابنِ ابجر، حضرتِ سیِّدُنا ابوحیان تیمی، حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ، حضرتِ سیِّدُنا عَمْر وبن قیس اور ابوسنان حضرتِ سیِّدُنا ضِرار بن مرّہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکا ذکر کیا۔

    طالِبِ رِضائےالٰہی

    (6105)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثَوری
    عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے ایک غلام نےکہا : میرے ساتھ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس چلئے کیونکہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا طلحہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو یہ کہتے سنا ہے کہ میں نے کوفہ میں دو ہی افراد کو رِضائے الٰہی کا طالب پایا، ایک حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ اور دوسرے حضرتِ سیِّدُنا عبدالجبار بن وائل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا۔ (6106)…حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر بن عیاش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے : حضرتِ سیِّدُنا ابواسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق محراب میں بیٹھے تھے اور قریب ہی حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی تشریف فرما تھے، آپ نے حضرتِ سیِّدُنا ابواسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق سے کچھ کہا تو دونوں نے گفتگو کرنا اور رونا شروع کردیا۔

    ایک لاکھ درہم کا صدقہ

    (6107)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان
    عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کابیان ہے کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے علاوہ کوئی ایسا نہ دیکھا جس کے سبب اہل کوفہ سے بلائیں دور کی جاتی تھیں، اُن کو اپنے والد سے وراثت میں ایک لاکھ درہم ملے توانہوں نے وہ تمام کے تمام صدقہ کردیئے۔ (6108)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اُن لوگوں میں سے تھے جن کے ذریعے شہروالوں سے بلائیں دور کی جاتی ہیں، ان کے پاس ایک لاکھ بیس ہزاردرہم تھے انہوں نے وہ سارے صدقہ کردئیے۔

    سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا تقو ٰی

    (6109)…حضرتِ سیِّدُنا مسعود بن سَہل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سُوقہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے پاس جمع شدہ مال کو شمار کیا تو وہ ایک لاکھ درہم تھے، پھر فرمانے لگے : میں نے ایسی کوئی بھلائی جمع نہیں کی جسے میں باقی رکھوں تو وہ بڑھتی رہے اور میں اس کے لئے بڑھتا رہوں۔ راوی کہتے ہیں : ابھی ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ آپ کے پاس اس میں سے صرف سو درہم باقی رہ گئے۔ راوی مزید بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرتِ سیِّدُنا غزوان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے تول کے حساب سے ریشمی کپڑا خریدا۔ انہوں نے آپ کو مطلوبہ مقدار میں کپڑا تو ل کر دے دیا۔ جب آپ نے کپڑا دوبارہ تولا تووہ تین سو دینار کی مالیت زائد تھا۔ چنانچہ آپ نے حضرتِ سیِّدُنا غزوان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے فرمایا : میں نے تم سےجتنا کپڑاخریداتھایہ اس سے کچھ زائد ہے لہٰذا زائد کپڑا تمہیں واپس لوٹاتا ہوں۔ اس پر دونوں حضرات بحث ومباحثہ کرنے لگے، حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ انہیں زیادتی لوٹانا چاہتے تھے اور وہ اسے قبول کرنے سے انکاری تھے۔ حضرتِ سیِّدُنا غزوان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے کہا : حضور! اگر یہ میرا ہے تو آپ کا ہوا اور اگر آپ کا ہے تو وہ آپ ہی کا ہے۔

    وِراثت کا تمام مال صدقہ

    (6110)…حضرتِ سیِّدُنا ابوالاَحْوص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد کے ایک لاکھ درہم کے وارث ہوئے تو آپ سے کہا گیا : حلال کے ایک لاکھ درہم جمع نہیں ہوا کرتے۔ حضرتِ سیِّدُنا ابوالاحوص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے وہ تمام مال صدقہ کردیا حتّٰی کہ آپ قاضِیِ وقت حضرتِ سیِّدُنا ابن ابولیلیٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے زکوٰۃ لےکر گزارہ کیا کرتے تھے۔(4)

    کوفہ کے سب سے افضل بزرگ

    (6111)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ہمیں حدیث بیان کی ہے اور میں نے کوفہ میں ان سے افضل بزرگ نہیں دیکھے، ان کے پاس مال تھا تو وہ ہمیشہ حج کیا کرتے اور غزوَہ میں شریک ہوا کرتے تھے۔

    80مرتبہ مکّہ مکرمہ کی حاضری

    (6112)…حضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم فرماتے ہیں کہ میں حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے جنازہ میں شریک ہوا تھا، وہ حج و عمرہ کے لئے 80مرتبہ مکّہ مکرمہ حاضر ہوئے۔ (6113)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مقروض ہونے کے باوجود حج کے لئے تشریف لے جایا کرتے۔ کسی نے کہا : ”آپ حج کرتے ہیں حالانکہ آپ پر قرض ہوتا ہے؟“فرمایا : ”حج قرض کو زیادہ ادا کرنے والا ہے(یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی برکت سے قرض کی ادائیگی کے اسباب پیدا فرمادےگا)(5)۔“ اسی طرح کا واقعہ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن مُنکَدِر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے میں بھی منقول ہے۔

    مہمان کے ساتھ حُسنِ سلوک

    (6114)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن منکدر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کوفہ میں حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آئے تو آپ نے اُنہیں جانور کی سواری کروائی۔ لوگوں نے حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے سوال کیا : ”اے ابوعبداللہ! آپ کے نزدیک کون سا عمل زیادہ پسندیدہ ہے؟“ فرمایا : ”مومن کے دل میں خوشی داخل کرنا۔“ لوگوں نے پھر پوچھا : ”کوئی عمل ہے جس سے لذت حاصل کی جائے؟“ فرمایا : ”لوگوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنا۔“

    سوال کرنے سے پہلےکیوں نہ دے دیا

    (6115)…حضرتِ سیِّدُنا مہدی بن سابق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِق بیان کرے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بھتیجے نے ان سے کچھ مانگا تو وہ رونے لگے۔ بھتیجے نے کہا : ”چچا جان!خدا کی قسم!اگر مجھے معلوم ہوتا کہ میرے سوال کرنے سے آپ کو رَنج پہنچے گا تو میں سوال نہ کرتا۔“آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : ”میں تمہارے سوال کی وجہ سے نہیں رویا بلکہ میں تو اس لئے رویا ہوں کہ تمہارے سوال کرنے سے پہلے ہی میں نے تمہیں کیوں نہ دے دیا؟“

    دنیا کی رنگینی عارضی ہے

    (6116)…حضرتِ سیِّدُنا یعلیٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اس حال میں دیکھا کہ آپ کے سامنے ایک طشت ہے، آپ آٹا گوند رہے ہیں، آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور فرما رہے ہیں : ”جب میرا مال کم ہوگیا تو میرے دوست احباب مجھ سے دور ہوگئے۔“ (6117)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان بن عُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : ہم حضرتِ سیِّدُناعون بن عبداللہ(6) کے ساتھ کوفہ کے ایک محل میں داخل ہوئے تو میں نے عرض کی : ”آپ نے ہمیں دیکھا تھا جب ہم حجاج کے دور میں اس مکان میں قید کئے گئے تھے، ہم مرعوب، خوف زدہ اور بےحد غمگين تھے۔“آپ نے فرمایا : ”تم تو ایسے چل رہے ہو جیسے تکلیف پہنچے پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو یاد کیا ہی نہیں، اس مکان میں جاؤ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا کرو اور اس نے جو نعمت دی ہے اس پر اس کی حمد وشکر بجالاؤ۔“

    سیِّدُنا محمد بن سوقہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کےدواقوال

    (6118)…حضرتِ سیِّدُنامحمدبن سُوقَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا : ”جب تم چھینک سُنوتو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمدبجالاؤ اگرچہ تمہارے اور چھینکنے والے کے درمیان سمندر کا فاصلہ ہو۔“ (6119)…حضرتِ سیِّدُنا محمدبن سوقہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا : ”جو شخص اپنے بھائی کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے فائدہ پہنچاتا ہے تو اس کی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کا ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے۔“
    1 فتاوٰی رضویہ مخرجہ، ۲۱/ ۴۴۰ 2 فتاوٰی رضویہ مخرجہ، ۵/ ۵۳۸، بحوالہ بُستان المحدثین مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی، ص۱۱۵ '> 1 '> 1 '> 1 ƒ 1 Œ

    کتاب کا موضوع

    کتاب کا موضوع

    صراط الجنان

    موبائل ایپلیکیشن

    معرفۃ القرآن

    موبائل ایپلیکیشن

    فیضانِ حدیث

    موبائل ایپلیکیشن

    پریئر ٹائمز

    موبائل ایپلیکیشن

    ریڈ اینڈ لسن

    موبائل ایپلیکیشن

    اسلامک ای بک لائبریری

    موبائل ایپلیکیشن

    نعت کلیکشن

    موبائل ایپلیکیشن

    بہار شریعت

    موبائل ایپلیکیشن