مشہور کہاوت ہے:”جو دوسروں کے لیے گڑھا کھودتا ہے، وہ خود اس میں جا گرتا ہے۔“حسد کرنے والی خود اس کی آگ میں جلتی ہے۔غیبت کرنے والی خود اپنی آخرت تباہ کرتی ہے۔
دینِ اسلام نے بھی ظاہری پاکیزگی کی ترغیب دی ہے، لیکن اسلام کی تعلیمات صرف جسم اور لباس کی صفائی تک محدود نہیں بلکہ انسان کے ظاہر کے ساتھ اس کے باطن کی پاکیزگی پر بھی توجہ دلاتی ہیں۔
انسان کی زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی؛ کبھی خوشی اس کا استقبال کرتی ہے تو کبھی آزمائش اسے گھیر لیتی ہے۔ ایسے وقت میں انسان کو کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی بات سنے،
دوسروں کے ساتھ اچھائی صرف مال خرچ کرنے یا کسی کی مالی مدد کرنے کا نام نہیں،بلکہ نرمی سے بات کرنا،خوش اخلاقی سے پیش آنا،کسی کی پریشانی دور کرنا،معاف کرنا،عیب پوشی کرنا اور مسکرا کر ملنا بھی اچھائی کی مختلف صورتیں ہیں۔