اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِ ط
مُرغا اذان کیوں دیتا ہے؟ ( )
شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ(۱۳ صَفحات) مکمل پڑھ لیجیے اِنْ شَآءَ اللّٰہ معلومات کا اَنمول خزانہ ہاتھ آئے گا۔
فرمانِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم:جو مجھ پر اىک بار دُرُودِ پاک پڑھتا ہے اللہ پاک اُس کے لىے اىک قیراط اَجر لکھتا ہے اور قیراط اُحد پہاڑ جتنا ہے۔ ( )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
سوال:مُرغا صبح کے وقت اذان کیوں دیتا ہے؟ نیز کیا گھر میں مُرغیاں پالنا جائز ہے ؟
جواب:مُرغا فرشتوں کو دیکھ کر اذان دیتا ہے۔( ) اس وقت اللہ پاک سے اس کی رَحمت کا سُوال کرنا چاہیے۔اس وقت یہ دُعا بھی پڑھ سکتے ہیں:اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ وَرَحْمَتِکَ اے اللہ میں تجھ سے تیرے فضل اور تیری رَحمت کا سُوال کرتا ہوں۔( ) گھر میں مُرغیاں پالنا جائز ہے۔ یاد رَکھیے!مُرغا ہو یا مُرغی یا پھر چوزے اِن تمام کی بیٹ اسی طرح نجاستِ غلیظہ ہے جیسے اِنسان کا پیشاب نجاستِ غلیظہ ہے۔( )
سوال:کیا سورۂ یٰسٓ کو قرآنِ پاک کا دِل کہا گیا ہے؟ (نجىب بن ناصر، آسٹرىلىا )
جواب:جی ہاں!حدیثِ پاک میں سورۂ یٰسٓ کو قرآنِ پاک کا دِل کہا گیا ہے۔ ( )
سوال:کیاغسلِ میت میں اِستعمال ہونے والا صابن یا اس کے علاوہ دِیگر بچی ہوئی چیزوں کو پھینک دینا اِسراف ہے؟نیز کیا میت کو سُرمہ لگا سکتے ہیں ؟
جواب:میت سے چھو جانے والی چیزیں خراب نہیں ہو جاتیں۔ یہ اِستعمال کی چیزیں ہیں انہیں پھینک دینا اِسراف ہے۔ پہلے کے دور میں میت کو غسل دینے کے لیے مٹی کے گھڑے لائے جاتے تھے پھر انہیں توڑ دیتے تھے،اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ نے اِس سے منع فرمایا ہے۔ ( ) جس گھر میں میت ہوتی ہے یا جس گاڑی یا ڈولی میں میت کو رکھا جاتا ہے، میت کی گھڑی اور اس کی جیب سے نکلنے والی رَقم کیا اِن تمام چیزوں کو بھی پھینک دیتے ہیں؟ جب یہ تمام چیزیں رکھ لیتے ہیں،انہیں نہیں پھینکتے تو دِیگر چیزوں کو بھی نہ پھینکا جائے۔ رہی بات میت کو سُرمہ لگانے کی تو سُرمہ لگانا زینت میں آتا ہے اور میت کو زینت کرنا جائز نہیں ہے۔ ( )
سوال : کیا باپ اپنے صاحبِ اِستطاعت بیٹے کا فطرہ ادا کر سکتا ہے؟
جواب:جی ہاں! صاحبِ اِستطاعت بیٹے کا فطرہ باپ دے سکتا ہے۔ ( )
سوال: گھڑی کس ہاتھ میں باندھنی چاہیے؟
جواب: گھڑی تو ابھی کی اِیجاد ہے۔ بہر حال جو کام صاحبِ اِکرام ہو وہ سیدھی جانب سے ہی شروع کرنا چاہیے۔ میں پہلے گھڑی اُلٹے ہاتھ میں باندھا کرتا تھا ،چند سال پہلے رَمَضانُ المبارک مىں کسی نے اس کے متعلق توجہ دِلائی تھی تو اسى دِن سےمیں نے سىدھے ہاتھ میں گھڑی باندھنی شروع کر دى تھی ۔
سوال:اگر کوئی شخص بُری صحبت میں مبتلا ہواورسمجھانے سے بھی نہ سمجھتا ہوتو گھر والے اُسے بُری صحبت سے کیسے محفوظ رکھیں؟
جواب:سمجھانا چاہیے اورسمجھانے کے ساتھ ساتھ دُعا بھی کرنی چاہیے۔نیز بُری صحبت میں وہ کیوں گیا اس کے اَسباب پر بھی غور کرنا چاہیے۔آج کل سمجھانے کا اَنداز یہ ہے کہ سمجھاتے ہوئے گالیاں دی جاتی ہیں، ذَلیل کیا جاتا ہے اور بات بات پر جھاڑا بلکہ مارا بھی جاتا ہے اور طرح طرح کی بَدعائیں بھی دی جاتی ہیں۔ اگر کوئی ماں باپ کو تنگ کرتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے:تیرے ساتھ یوں ہو جائے گا،تیرا ستیا ناس ہو جائے گا۔کسی بزرگ کے پاس جا کر سب کے سامنے کہتے ہیں:یہ ہمیں ستاتا ہے اسے سمجھائیں۔ محلے میں بھی کہتے ہوں گے: میرا بیٹا بہت بگڑا ہوا ہے۔امام صاحب کے پاس بھی جاکر کہتے ہوں گے:دُعا کریں میرا بیٹا بھی آپ جیسا ہو جائے۔ یہ باتیں کسی نہ کسی طرح بیٹے کو پہنچتی ہوں گی اور باہر دوست اسے محبت دیتے ہوں گے تو اس کے ذہن میں یہ خیال آئے گا کہ میرے باپ نے مجھے محلے میں بَدنام کر دیا ہے۔ فلاں فلاں کے سامنے مجھے بےعزت کر دیا ہے،اِس طرح تو وہ مزید باغی ہو جائے گا۔ ایسا سمجھانا کوئی فائدہ نہیں دیتا۔پیار و محبت سے سمجھائیں، گھر میں دَرس دیں اور رو رو کر اللہ پاک سے دُعا کرتے رہیں اِنْ شَآءَ اللّٰہ بیٹا بری صحبت سے باز آجائے گا۔