Book Name:Hazrat Essa Ki Mubarak Zindagi
بات چیت کرنے کی بقیہ سنتیں اور آداب
* جب تک دوسرا بات کر رہا ہو ،اطمینان سے سنئے، اس کی بات کاٹ کراپنی بات شرو ع کر دینا سنّت نہیں۔ * زیادہ باتیں کرنے اور بار بار قہقہہ لگانے سے ہیبت جاتی رہتی ہے۔*کسی سے جب بات چیت کی جائے تو اس کا کوئی صحیح مقصدبھی ہونا چاہیے اور ہمیشہ مخاطب کے ظرف اور اس کی نفسیات کے مطابق بات کی جائے۔*بدزبانی اور بے حیائی کی با تو ں سے ہر وقت پرہیز کیجئے گالی گلوچ سے اجتناب کر تے رہئے اور یاد رکھئے کہ کسی مسلمان کو بِلا اجازتِ شَرعی گالی دینا حرام ِقَطعی ہے۔([1]) اور بے حیائی کی بات کرنے والے پر جنّت حرام ہے۔حُضُور تا جدارِ مدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا: اس شخص پر جنّت حرام ہے جو فُحش گوئی (بے حیائی کی بات ) سے کام لیتا ہے۔([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سُنّتوں بھرے اجتماع کے شیڈول کےمطابِق”منافقت سے بچنے کی دعا“یادکروائی جائےگی۔وہ دُعایہ ہے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشِّقَاقِ وَ النِّفَاقِ وَسُوءِ الْاَخْلَاقِ۔ (ابو داود، ۲/۱۳۰، حدیث:۱۵۴۶)
ترجمہ:اے ہمارے رب ہمیں ۔ (فیضانِ دعا، ص ۲۸۸)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد