Book Name:Tazeem-e-Mustafa Ma Jashne Milad Ki Barakaten
حُضُورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تَعْظِیم بَخْشِش کا سبب بن گئی
حضرت وَہْب بن مُنَبِّہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ سے روایت ہے کہ بَنی اِسْرائِیْل میں ایک ایسا شَخْص تھا جس نے اپنی زِنْدگی کے دو سو(200)سال،اللہ پاک کی نافرمانی میں گُزارے ،اسی نافرمانی کے عالَم میں اس کی موت واقع ہو گئی،بَنی اِسْرائِیْل نے اس کے مُردَہ جِسم کو ٹانگ سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے گَندَگی کے ڈھیر پر پھینک دیا،اللہ پاک نے اپنے نبی حضرت مُوسیٰعَلَیْہِ السَّلام کی طرف وَحْی بھیجی کہ اس کو وہاں سے اُٹھاؤاوراس کے کفن دفن کا انتظام کرکے اس کی نَمازِجنازہ پڑھو۔حضرت مُوسیٰ عَلَیْہِ السَّلام نے لوگوں سے اس کے مُتعلِّق پُوچھا،تو اُنہوں نے اس کے بَد کردار ہونے کی گواہی دی ، حضرت مُوسیٰ عَلَیْہِ السَّلام نے اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کی:’’یارَبّ کریم !بَنی اِسْرائِیْل تو اِس کے بَدکردار ہونے کی گواہی دے رہے ہیں کہ اس نے اپنی زِنْدگی کے دو سو (200) سال تیری نافرمانی میں گُزارے ہیں؟‘‘اللہپاک نے حضرت مُوسیٰ عَلَیْہِ السَّلام کی طرف وَحْی فرمائی کہ یہ ایسا ہی بَد کردار تھا،مگر اس کی یہ عادت تھی کہ جب کبھی تَورات شریف پڑھنے کے لئے کھولتااورمحمدکے اسمِ گرامی کی طرف دیکھتاتواس کو چُوم کر اپنی آنکھوں سے لگا لیتا اور اُن پر دُرُود پڑھاکرتا،پس میں نے اس کے اس عَمل کی قَدر کی اوراس کے گُناہوں کو مُعاف فرماکر اس کا نکاح سترّ(70)حُوروں کے ساتھ کردیا۔(حِلیۃ الاولیاء، ۴/۴۵، حدیث:۴۶۹۵)
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو!اس ایمان اَفروزحِکایت نے اَہْلِ اِیمان کے دِل ودِماغ کو خوشبودار کردیا، ذرا سوچئے!وہ شخص جولمبے عرصے تک گُناہوں میں مبُتلا رہااوراس دوران نیکیوں کے قریب بھی نہ گیا، لیکن نامِ مُصْطَفٰے کی تعظیم کے سبب اسے یہ اِنْعام ملا کہ حضرت مُوسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ پاک کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اس کے کفن دفن کااِنْتِظام فرمایا، اس کےپچھلے تمام گُناہ مُعاف کر دئیے گئے اوروہ