Book Name:Sikhne Sikhane Ke Halqon Ka Jadwal
(3):اقامت اور جماعت کے درمیان فاصلہ نہ ہونا ۔([1])
وضاحت: یعنی جُونہی اِقَامت مکمل ہوئی، مُکَبِّر (اِقامت کہنے والے) نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہکہہ دیا،اب فورًا بغیر وقفہ کئے جماعت شروع کر دینا،یہ سُنّت ہے۔ ہاں! صفیں سیدھی کروانا،بعض دفعہ امام صاحِب صفیں دُرست کرنے کا اِعْلان کرتے ہیں، مثلاً ؛ اپنی ایڑیاں کندھے ایک سیدھ میں کرکے صفیں سیدھی کر لیجئے! وغیرہ۔ اِقَامت ہو جانے کے بعد اس طرح اِعْلَان کرنا بالکل جائِز بلکہ احادیث سے ثابت ہے۔([2])
(4):جمعہ کی دُوسری اذان خطیب صاحِب کے سامنے (یعنی رُو بَرُو کھڑے ہو کر) دینا سُنّت ہے۔([3])
وضاحت :یاد رکھئے! اذان چاہے خطبے سے پہلے والی ہو یا پنج وقتہ نمازوں کی، کوئی بھی اذان مسجد کے اندر دینا خِلافِ سُنّت ہے۔ پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰصَلَّی اللہُ عَلَیْہ وَآلہ وَسَلَّم سے ایک بار بھی ثابت نہیں ہے کہ آپ نے مسجد کے اندر اذان دِلوائی ہو۔ لہٰذا مسجد کے اندر اذان دینے سے پرہیز کرنا چاہئے! عمومًا مسجدوں میں اسپیکر کا کمرہ علیحدہ ہوتا ہے، وہاں ہی اذان دینی چاہئے۔ جمعہ کی دوسری اذان سے متعلق لوگوں کا ذہن ہوتا ہے کہ خطیب کے بالکل پاس، منبر کے سامنے کھڑے ہو کر دیتے ہیں، یہ بھی خِلافِ سُنّت ہے، اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ خطیب صاحِب کی سیدھ میں چلتے جائیں، جہاں مسجد کا صحن ختم ہوا، جوتے رکھنے یا وُضُو وغیرہ کی جگہ شروع ہو گئی، وہاں کھڑے ہو کر اذان دیجئے۔([4])
نوٹ:اذان واقامت کے متعلق تفصیلی معلومات کے لئے شیخِ طریقت امیرِ اہلسنت مولانا محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہمُ الْعَالِیَہ کا رسالہ * فیضان اذان اور مکتبۃ المدینہ کی کتاب * بہارِ شریعت ، جلد : 1 ،حصہ :3،صفحہ:457 تا 475پڑھئے۔