Book Name:Sikhne Sikhane Ke Halqon Ka Jadwal
(2):کَفُّ الْاَذٰی (کو تکلیف سے بچانا) ۔
وضاحت:یہ راستے کا دوسرا حق ہے، اس کے 2 معنیٰ ہو سکتے ہیں: (1):راستے میں کسی کو تکلیف نہ پہنچائیے! مثلاً ایسی جگہ نہ بیٹھئے کہ گزرنے والوں بالخصوص خواتین کو پریشانی ہو، راستہ بند مت کیجئے! اپنا سامان راستے پر یُوں نہ رکھئے کہ تکلیف کا سبب بنے، راستے میں شور نہ مچائیے! چیخ چِلّا کر باتیں مت کیجئے! غرض ہر وہ انداز جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچ سکتی ہو، اس سے بچئے! (2):راستے میں تکلیف دِہ چیز مثلاً کانٹا، روڑا، پتھر، کانچ، کیلے کا چھلکا وغیرہ نظرآئے تو ہٹا دیجئے! راستے میں کہیں گڑھا ہو، گٹر وغیرہ کا ڈھکن کُھلا دیکھیں تو اسے یا تو کسی طرح ڈھک دیں یا کوئی مناسب اہتمام کر دیجئے! تاکہ گزرنے والے اس میں گِرنے یا چوٹ لگنے وغیرہ سے بچ جائیں۔ گڑھے کے اِرْد گرد کوئی رکاوٹ کھڑی کر دینا بھی فائدے مند ہے۔ ممکن ہو تو متعلقہ ادارے والوں کو اطلاع کر دیجئے تاکہ وہ بروقت گڑھا یا گٹر وغیرہ بند کر سکیں۔
(3): رَدُّ السَّلَام ِ(سلام کا جواب دینا) ۔
وضاحت: یہ راستے کا تیسرا حق ہے۔ خیال رہے! سلام کرنا سُنّت اور اس کا جواب اتنی آواز میں دینا کہ سامنے والا سُن لے، یہ واجب ہے۔ ([1]) راستے کا حق تو یہی ہے کہ کوئی سلام کرے تو جواب دیا جائے، البتہ ہمیں چاہئے کہ سُنّت اپنانے اور زیادہ نیکیاں کمانے کے لئے سلام میں پہل کیا کریں، راستے میں گزرنے والا ہر مسلمان، چاہے جان پہچان والا ہے یا نہیں ہے، اسے سلام کیجئے! صحابئ رسول حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ عنہما کی عادتِ کریمہ تھی کہ آپ حضرت طفیل بن اُبَی بن کعب رَضِیَ اللہُ عنہکو ساتھ لے کر روزانہ بازار جاتے اور چکّر لگا کر واپس تشریف لے آتے، نہ کچھ خریدتے، نہ بھاؤ (ریٹ) وغیرہ پوچھتے۔ ایک دِن حضرت طفیل بن ابی بن کعب رَضِیَ اللہُ عنہ نے اس کی حکمت پوچھی تو فرمایا: بازار میں لوگ زیادہ ہوتے ہیں، لہٰذا میں انہیں سلام کر کے ثواب کمانے جاتا ہوں۔ ([2])