Book Name:Sikhne Sikhane Ke Halqon Ka Jadwal
عرض کیا گیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم! اس کے بغیر تو ہمارا گزارا نہیں ۔ فرمایا: اگر بیٹھنا ضروری ہے تو راستے کو اس کا حق دو...!! سُوال ہوا: راستے کا حق کیا ہے؟ فرمایا: (1):غَضَّ البَصَر ِ(نگاہیں نیچی رکھنا) (2):کَفَّ الْاَذٰی ( تکلیف سے بچانا)(3):رَدَّ السَّلام ِ (سلام کا جواب دینا) (4):وَاَمْرً بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَہْیاً عَنِ الْمُنْکَرِ (نیکی کا حکم دینا اور بُرائی سے منع کرنا) ۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! اِسْلام کا حُسْن ہے کہ اس پیارے دِین نے بندوں کے حقوق تو بتائے ہی ہیں، ساتھ ہی ساتھ دیگر چیزوں مثلاً جانوروں اور راستے کے حقوق بھی سکھائے ہیں۔ روایات میں راستے کے 15 حقوق بیان ہوئے ہیں، ان میں سے 4 حُقُوق ہم آج سیکھیں گے:
(1):غَضُّ الْبَصَرِ (نگاہیں نیچی رکھنا)
وضاحت :راہ چلتے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھتے رہنے کو پریشان نظری کہتے ہیں، یہ بُری عادَت ہے، اس کے سبب گُنَاہوں میں پڑ جانے کا خوف رہتا ہے، ایک بزرگ رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ نے ایک بار آسمان کی طرف نِگاہ اُٹھائی، کوئی خاتُون اپنے گھر کی بالکونی میں کھڑی تھی، اچانک اُس پر نگاہ پڑ گئی، اُن بزرگ نے پکّی نیت کر لی کہ آئندہ کبھی آسمان کی طرف نِگاہ نہیں اُٹھاؤں گا۔([2]) ہمیں بھی چاہئے کہ اپنی نگاہیں جُھکا کر رکھا کریں، خصوصًا جب راستے پر ہوں، کہیں دُکان وغیرہ پر بیٹھے ہوں یا چل رہے ہوں، بَس میں ہوں یا رکشے وغیرہ پر ہوں، نگاہیں جُھکا کر رکھیں۔ پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی پیاری ادا ہے کہ آپ کی نگاہیں زیادہ تَر زمین کی طرف رہتی تھیں۔ ([3])