ALLAH Pak Ke 3 Huqooq (Qist 1)

Book Name:ALLAH Pak Ke 3 Huqooq (Qist 1)

ہے۔  پتا چلا: اللہ پاک کے عِلاوہ کسی کو اِلٰہ ماننا  شِرْک ہے، اللہ پاک کی عطا سے کسی کو مدد گار ماننا، مشکل کُشَا ماننا، حاجت روا ماننا ہر گز شِرْک نہیں ہے* اِلٰہ کسے کہتے ہیں؟ یہ بھی سمجھ لیجئے! اِلٰہ کا معنیٰ ہے: واجب الوجود و مُستَحِقِ عِبَادت۔ یعنی  وہ ذات جس کا ہونا ضروری ہے، کسی لحاظ سے کسی کا محتاج نہیں، صِرْف وہی عِبَادت کے لائق ہے([1]) *پیارے اسلامی بھائیو! شرک کفر کی بدترین صُورتوں میں سے ایک ہے۔ ([2]) قرآنِ کریم میں ہے:

اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ(۱۳)  (پارہ:21،سورۂ لقمان:13)

ترجمۂ کنزالعرفان: بیشک شِرْک یقینًا بڑا ظلم ہے۔

ہم سب الحمد للہ! مسلمان ہیں۔ اللہ پاک ہمیں مرتے دَم تک شرک و کفر کی بُو سے بھی دُور اور محفوظ رکھے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ  خَاتَمِ النَّبِیّٖن  صَلَّی اللہُ عَلَیْہ  وَآلہ وَسَلَّم  

تیسراحق :اللہ پاک کی رضا پر راضی رہنا 

وضاحت :یہ اللہ پاک کے حقوق میں سے تیسرا حق ہے۔ راضِی بہ رضا کا معنی ہے: جو کچھ اللہ پاک چاہے،  اپنا دِل بھی اسی کو پسند کرے، اس کے خِلاف کی خواہش نہ رکھے ([3])*مثلاً آدمی غریب ہے، یقیناً غربت بھی اللہ پاک کے فیصلے اور حکم ہی سے ہے، لہٰذا بندہ اسی پر راضِی اور خُوش ہو جائے۔ یہ اللہ پاک کی رضا میں راضِی رہنا ہے۔ حضرت ابو علی دَقَّاق  رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ  فرماتے ہیں: رِضا یہ نہیں ہے کہ بندے کو تکلیف محسوس ہی نہ ہو بلکہ رِضا یہ ہے کہ بندہ اللہ پاک کے فیصلے پر اعتراض  نہ کرے۔([4]) حدیثِ قدسی میں ہے، اللہ پاک فرماتا ہے: پَس جو میری تقدیر پر راضی نہ ہو  اور میری (دی ہوئی) مصیبت پر صبر نہ کرے ،اسے چاہئے کہ میرے سِوا کوئی اَور رَبّ تلاش کر لے۔([5])


 

 



[1]...اصول الرشاد ،صفحہ:45،ملخصًا۔

[2]... فتاوی رضویہ ،جلد:21،صفحہ:264۔

[3]...فضائل دعا،صفحہ:249،ملخصًا۔

[4]...رسالہ قشیریہ، رضا کا بیان، صفحہ:228 ۔

[5]...معجم کبیر ،جلد:22، صفحہ:321، حدیث:807۔