سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی

Image
مذکورہ حدیث میں لِوَاءُ الْحَمْد یعنی حمد کا جھنڈا رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس ہونے کا بیان ہے ، اس کی شرح و تفصیل میں مفسرِ شہیر حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں
Image
مقصد کسی بھی نوعیت کا ہو اس میں کامیابی کے لئے مستقل کوششیں ضروری ہیں ، جتنا بڑا مقصد اتنی بڑی اسٹرگل ، بعض اوقات مقصد کے حصول کے راستے میں اتنی رُکاوٹیں آتی ہیں
Image
مفتی احمدیار خان رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ” اَولیٰ “ کے ایک معنیٰ ” زیادہ لائق “ کے بھی ہیں یعنی حضور علیہ السّلام جان سے بھی زیادہ اطاعت کے لائق ہیں۔
Image
جیسا کہ خود حضور ِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے : میری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ جلائی اور جب اس آگ نے اِردگِرد کی جگہ کو روشن کر دیا
Image
رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یہ مبارک فرمان کچھ الفاظ کے فرق سے مختلف مواقع پر ارشاد فرمایا ہے ، بعض روایات میں ” اخشاكم “ کا لفظ بھی آیا ہے
Image
ولید بن مغیرہ نے حبیبِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بُرابھلا کہا تو ربِّ کریم نے اپنے محبوب کا اتنا اکرام فرمایا کہ ولیدبن مغیرہ کے رد میں قراٰنِ کریم کی کئی آیات نازل فرمادیں
Image
کسی کے نزدیک جب کوئی فرد معزّز ہوتا ہے تو یقیناً وہ اس کے ساتھ احسان و بھلائی کا معاملہ کرتا اور اسے عزت و اختیارات دیتا ہے ، اس کی عزّت و حرمت کی حفاظت کرتا ہے۔
Image
رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے جُو دو سخا کا ایک عظیم پہلو غَنا یعنی بے نیازی تھا۔ آپ مال جمع نہیں رکھتے تھے یہی وجہ تھی کہ کبھی آپ پر زکوٰۃ فرض نہ ہوئی
Image
گزشتہ ماہ کے مضمون میں آپ نے پڑھا کہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قاسمِ نعمت اور صاحبِ جُود و سخاوت ہونے کے موضوع کو چار حصوں میں تقسیم کیا جاسکتاہے