Yadgari e Ummat Per Lakhon Salam

Book Name:Yadgari e Ummat Per Lakhon Salam

فِرِشتو!ٹھہرو۔وہ عرض کریں گے:ہم مُقَرَّرکردہ فِرِشتے ہیں،جس کام کا ہمیں اللہ پاک نےحکم دیا ہے، اس کی نافرمانی نہیں کرتے،ہم وہی کرتے ہیں،جس کا ہمیں حکم ملا ہے۔جب میں افسردہ  ہو جاؤں گا اور اپنی داڑھی مُبارک کوبائیں ہاتھ سےپکڑ کر عرش کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتےہوئے عرض کروں گا: اے میرے ربِّ کریم!کیا تُو نےمجھ سے وعدہ نہیں فرمایاکہ تُو مجھے میری اُمَّت کے بارے میں رُسوا نہ فرمائےگا۔عرش سےپکارآئے گی:اے فرِشتو!محمد(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ)کی مانو اور اِس شخص کو لَوٹا دو۔ پھر میں اپنی جھولی سےسفید کاغذ نکالوں گا اور اُسےمِیزان کے سیدھے پَلڑےمیں ڈال کر کہوں گا: ’’بِسْمِ اﷲ“تو وہ نیکیوں والا پلڑا بُرائیوں والے پَلڑے سے بھاری ہوجائے گا۔ آوازآئےگی:خوش بَخْت ہے،سعادت یافتہ ہوگیا ہے اور اس کا مِیزان (نیکیوں کاپلڑا) بھاری ہوگیا ہے۔اِسےجَنَّت میں لے جاؤ۔ وہ بندہ کہےگا:اے میرے ربِّ کے فِرِشتو!ٹھہرو،میں اِس بندےسےبات تو کرلوں،جو اپنے رَبّ کریم کے حُضُور بڑی عزّت رکھتاہے۔ پھر وہ کہےگا:میرے ماں باپ آپ پرفِدا ہوں،آپ کا چہرۂ انور کتنا حسین ہے اور آپ کی صورت کتنی خُوبصُورت ہے،آپ نے میری غلطیوں کو مُعاف فرمایا اور میرے آنسوؤں پر رَحْم فرمایا، (آپ کون ہیں؟)۔تو میں اس سے کہوں گا:میں تیرا نبی محمد(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ہوں اوریہ تیرا وہ دُرُودہے جو تُو مجھ پربھیجتا تھا، اس نےتجھ کو پورافائدہ پہنچایا جتنی تجھے اس کی ضرورت تھی۔ (موسوعۃ ابن ابی الدنیا فی حسن الظن باللّٰہ، ۱/۹۱،حدیث:۷۹)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب!                                                صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

پیارےاسلامی بھائیو!بیان کردہ  ایمان افروز واقعے سے کئی نکات معلوم ہوئے مثلاً نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللہ کریم کی عطا سے غیب کا علم رکھتے ہیں،جو کچھ ہو رہا ہے اور جو کچھ آئندہ ہونے والا ہے بلکہ قیامت میں جو کچھ ہوگا تمام باتوں کا عِلْم اللہ کریم نے آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کوعطا فرمادیا ،چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے غیب کی خبر دیتے ہوئے حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام  کے بارے میں بتادیا کہ