Book Name:Yadgari e Ummat Per Lakhon Salam
قیامت کے دن وہ عرش کے قریب کشادہ میدان میں تشریف فرما ہوں گے،دو سبز کپڑے زیبِ تن کئےہوں گے،اپنی اولاد کو بھی دیکھیں گے حتّٰی کہ نبی ِانور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ایک اُمّتی کو دوزخ میں جاتے ہوئے ملاحظہ کرکے نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اس کی جانب متوجہ کرکے اس کی مدد کریں گے۔
یہ بھی پتہ چلا کہ بارگاہِ الٰہی میں پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا کتنا عالی شان مقام ہے، یقیناً یہ اللہ پاک کا کرم ہے۔
یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا عرش کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرنا، بارگاہِ الٰہی میں عرض کرنے کے لیے ہے، یہ نہیں کہ مَعَاذَ اللہ ،اللہ پاک عرش پر ہوگا اور آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اُسے اشارہ کر یں گے کیونکہ اللہ پاک تو مکان و سمت(Direction ) سے پاک ہے،اُس کاکلام بھی آواز سے پاک ہے، وہ ایسا ہے جیسا اُس کی شان کو لائق ہے۔
اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوا!دُرُودِ پاک پڑھنے کی بہت برکتیں ہیں،درودِ پاک پڑھنے والے جس طرح دنیا میں اس کی برکتوں سے فیض یاب ہوتے ہیں،اِنْ شَآءَ اللہ قیامت کے دن بھی ایسوں کے وارے نیارے ہوجائیں گے،لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم بھی رسولِ پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پاک بارگاہ میں اُٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے الغرض ہر وَقْت(Every time)دُرُودِ پاک کے نذرانے پیش کرتے رہیں ،اِنْ شَآءَ اللہ دُرُودِ پاک کی بَرَکت سےدنیا بھی سنور جائے گی اور آخرت بھی سنور جائے گی۔
اس واقعے سےایک بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ نبیِّ رحمت صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنے اُمّتیوں سے بہت ہی زیادہ مَحَبَّت فرماتے ہیں،قیامت میں جب ہر طرف نَفْسی نَفْسی کا عالَم ہوگا،وہ دن جس کے بارے میں اللہ پاک اپنے پاکیزہ کلام قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷) (پ۳۰،عبس:۳۴تا۳۷)
تَرْجَمَۂ کنز العرفان:اس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا۔اور اپنی ماں اور اپنے باپ اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔ ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایک ایسی فکر ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا کردے گی۔