Book Name:Imdaad e Mustafa Kay Waqiaat
بخاری شریف میں یہ روایت بھی ہے کہ اُنگلیوں سے پانی کے چشمے جاری کر کے چودہ سو (1400)یا اِس سے بھی زائد اَفراد کوسیراب کردیا۔(بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ الحدیبیۃ،۳ /۶۹، حدیث:۴۱۵۲ ،۴۱۵۳ ماخوذاً)
مکۂ پاک سے مدینۂ طیّبہ کی طرف ہجرت کرتے ہوئے جب اَمِیْرُالمؤمنین حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نبیِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کےساتھ غار کی طرف چلے،تو وہاں پہنچنے پر امیرُالمؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے عرض کی:یَارَسُوْلَاللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ! جب تک میں اندر نہ جاؤں آپ داخل نہ ہوں، اگر اس میں کوئی نقصان دہ چیز ہوگی تو آپ سے پہلے مجھ تک پہنچے گی۔پھر آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اندر گئے اورغار صاف کیا۔ غار میں چاروں طرف سوراخ تھے جنہیں آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے اپنے تہبند کے ٹکڑے کرکے بھردیا۔ دو سوراخ رہ گئے ،ان پر آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے اپنا پاؤں رکھ دیا اور عرض کی:یَارَسُوْلَاللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ! اندرتشریف لے آئیے۔آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ داخل ہوئے اور امیرُالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی گود میں سر مبارَک رکھ کر آرام فرمانےلگے، امیرُالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کو سوراخ میں سے کسی زہریلی چیز نے ڈَس لیا۔مگر حضور نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نیند میں خلل آجانے کے خوف سے انہوں نے ذ را بھی حرکت تک نہ کی، مگر آنسو ٹپک پڑے جو رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مبارَک چہرے کو چُومنے لگے، آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ جاگ گئے اور فرمایا:ابوبکر! تمہیں کیا ہوا ؟ عرض کی:کسی(سانپ)نےڈَس لیا،آپ پر میرے ماں باپ قربان!سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے متاثرہ جگہ پر تھوک شریف لگایا تو وہ بالکل ٹھیک ہوگیا۔(جامع الاصول،الکتاب السابع فی الغدر،الباب الرابع،الفرع الثانی فی فضائل الرجال علی الانفراد،۸/ ۴۵۸، حدیث: ۶۴۲۶)