Book Name:Imdaad e Mustafa Kay Waqiaat
حضور اقدس صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے استعمال نہ کئے جائیں۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا !حضور پُر نور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ کا ادب ربِّ کریم خود سکھاتا ہے اور تعظیم کے متعلق احکام کو خود جاری فرماتا ہے۔ (تفسیر صراط الجنان،۱/۱۸۱بتغیر)
پیارےاسلامی بھائیو! ہمیں چاہیے کہ ہم بھی نبیِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اس طرح سے پکارا کریں، مثلاًیَارَسُوْلَاللہ ،یَا حَبِیبَ اللہ، یَا نَبِيَّ اللہ، یَانُورَاللہ،جیسا کہ
اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتے ہیں:اللہ پاک نے فرمایا:
لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ- (پ ۱۸، النور:۶۳)
ترجَمَۂ کنزُالعرفان(اے لوگو!) رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا(معمولی)نہ بنالو جیسے تم میں سے کوئی دوسرے کو پکارتا ہے۔
کہ اے زید،اے عمْرو۔ بلکہ یوں عرض کرو: یَارَسُولَ اللہ،یَانَبِیَّ اللہ،یَاسَیِّدَالْمُرْسَلِیْن،یَاخَاتَمَ النَّبِیِّیْن ،یَاشَفِیْعَ الْمُذْنِبِیْنصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ۔(فتاویٰ رضویہ، ۳۰/۱۵۶)
غَیْرُ اللہ سے مدد مانگنا کیسا؟
پیارےاسلامی بھائیو!یادرکھئے!حقیقی مددگار صرف اور صرف اللہ پاک ہی کی ذات ہے۔ جیسا کہ اللہ کریم قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ(۴) (پ۱، الفاتحۃ:۴)
ترجَمَۂ کنزُالعرفان:ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔
تفسیر صراط الجنان میں اس آیتِ کریمہ کے تحت لکھا ہے:حقیقی مدد کرنے والا بھی تُو ہی ہے۔تیری اجازت و مرضی کے بغیر کوئی کسی کی کسی قسم کی ظاہری،باطنی،جسمانی روحانی،چھوٹی بڑی