Book Name:Ramadan ul Mubarak Ke 4 Huqooq
فرمانِ مصطفےٰ صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم
میری اُمّت جب تک ماہِ رمضان کا حق ادا کرتی رہے گی، ہر گز رُسْوا نہ ہو گی۔پوچھا گیا: ماہِ رمضان کا حق ضائع کرنا کیا ہے؟ فرمایا: اِس مہینے کی حُرْمت پامال کرنا (یعنی گُنَاہوں میں پڑنا)۔ مزید فرمایا: ماہِ رمضان سے متعلق ڈرو...!! بیشک اِس میں نیکیوں کی قَدْر اتنی بڑھ جاتی ہے کہ اس کے عِلاوہ مہینوں میں اتنی نہیں بڑھتی، یہی معاملہ گُنَاہوں کا بھی ہے۔ ([1])
پیارے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا؛ ماہِ رمضان کی بے قدری رُسوائی کا سبب ہےاور اِس کے حقوق ادا کرنا عزّت و عظمت کا ذریعہ ہے، ہمیں چاہئے کہ اِس مبارَک مہینے کی قدر کریں، اس کے حقوق پُورے پُورے ادا کیا کریں۔
رمضان شریف کے بہت سارے حقوق ہیں، ان میں سے 4 حُقُوق آج ہم سننے اور سیکھنے کی سعادت حاصِل کریں گے۔
پہلا حق :روزہ رکھنا
وضاحت: ماہِ رمضان کی خاص پہچان ہی روزہ ہے۔ اللہ پاک فرماتا ہے:
فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُؕ- (پارہ:2،البقرہ:185)
تَرْجَمَۂِ کَنْزُالْعِرفَان: تَو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے تَو ضرور اس کے روزے رکھے۔
یاد رکھ لیجئے! ہر مسلمان عاقِل بالغ پر رمضان شریف کے روزے فرض ہیں۔([2])شرعِی اجازت کے بغیر ایک بھی روزہ چھوڑنا گُنَاہِ کبیرہ حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے۔([3]) لہٰذا رمضان شریف کے سارے کے سارے روزے پابندی کے ساتھ رکھئے!