Book Name:Ramadan ul Mubarak Ke 4 Huqooq
لہٰذا بِالعموم پوری زندگی، خصوصًا ماہِ رمضان میں * بدنگاہی * جھوٹ * غیبت * چغلی * وعدہ خِلافی * ناپ تول میں کمی * سُودی لَیْن دَین وغیرہ وغیرہ گُنَاہوں سے بچتے رہئے!
چوتھا حق :مَوَاسَات (یعنی ہمدردی اور خیرخواہی کرنا)
وضاحت:یہ بھی رمضان شریف کا ایک اَہَم حق ہے کہ اس مہینے میں دوسروں کے ساتھ خاص طَور پر ہمدردی اور بھلائی کی جائے۔ حدیثِ پاک میں ماہ ِرمضان کو شَہْرُ الْمَوَاسَاۃِ یعنی ہمدردی و خیرخواہی کا مہینا کہا گیا ہے۔([1]) لہٰذا اس مبارَک مہینے میں * خُوب صدقہ و خیرات کیجئے! * غریبوں، مسکینوں، بےسہاروں، غم کے ماروں کی مدد کیجئے! * بھوکوں کو کھانا کھلائیے! * غریب روزے رکھ پائیں، ان کے لئے راشن کا اہتمام کر دیجئے! * غریبوں کی آبادیوں میں خُود جا کر یا ملازِم وغیرہ کو بھیج کر راشن تقسیم کروائیے! * دوستوں، پڑوسیوں، اہلِ محلہ اور عزیز رشتے داروں پر بھی ثواب کی نیّت سے خُوب خرچ کیجئے! اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم!بہت ثواب نصیب ہو گا۔ حضرت عبد اللہ بن عبّاس رَضِیَ اللہُ عنہ فرماتے ہیں: ماہِ رمضان میں سرکارِ عالی وقار، مکی مدنی تاجدار صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ہر سائِل کو عطا فرماتے تھے(یعنی آپ صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کا دریائے سخاوت خُوب جوش پر ہوتا)۔ ([2])
واہ کیا جود وکرم ہے شہ بطحا تیرا نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
سیکھنے سِکھانے کے حلقوں میں یاد کروائی جانے والی دعا
اَللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ
ترجمہ : اے اللّٰہ! میں نے تیرے لئے روزہ رکھااور تیرے ہی دیئے ہوئےرزق سے افطارکیا۔([3])