حدیث شریف اور اس کی شرح

Image
عُلما کا حق نہ پہچاننے والا ہم میں سے نہیں!عُلَمائے کرام کا احترام کرنا اور ان کے حقوق کی رعایت کرنا ، یہ اللہ پاک کی دی ہوئی توفیق و ہدایت سے ہی ممکن ہے اور یہ دونوں کام نہ کرنا
Image
اللہ پاک کی ہم پر خصوصی کرم نوازی ہے کہ اُس نے ہمیں مصطفےٰ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا اُمّتی بنایا ، اللہ نے رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے طفیل اُمّتِ مصطفےٰ
Image
جواب : جَہالت کے دور سے چلتا آرہا ہے کہ عوام ماہِ صَفَرُ الْمُظَفَّر کو منحوس سمجھتے ہیں ، حالانکہ پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا ہے : ” وَلَا صَفَرَ یعنی اور صَفَر کوئی چیز نہیں ہے۔
Image
یہ آزمائشیں ہیں جواِن صبرواستقامت کی پیکرشخصیات کونمایاں کرتی ہیں ، مشکلات میں اِن حضرات کی زبان پرشکوےشکایات نہیں ہوتے بلکہ حکمت بھرے سنہرے الفاظ ہوتے ہیں ،
Image
اِس حدیثِ پاک میں رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دل کی سختی کے دو علاج عطافرمائے ہیں ، علاج کی خوب صورتی پر غور کرنے سے یہ بات سامنےآتی ہے
Image
ہر ہر نعمت کا شکرکرنا تو بہت دور ، بندہ تو تمام نعمتوں کو شمار بھی نہیں کرسکتا۔ یہ بھی اللہ کا کرم ہے کہ وہ رحمٰن و رحیم ربّ ادائے شکر میں ہونے والی کوتاہیوں پرگرفت نہیں فرماتا
Image
خوشیاں بانٹنے میں بےشمار حکمتیں اور فوائد ہیں، اس کے مفید اَثرات پورے معاشرے پر اَثر انداز ہوتے ہیں، مثلاً: (1)مسلمان بھائی کی پریشانی دور ہوتی ہے
Image
اللہ پاک کے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کن بلند مرتبہ لوگوں کو دیکھنے سے منع فرمایا؟ اور کن کم رُتبہ افرد کی طرف نظر کرنے کا ارشاد فرمایا؟
Image
تم قیامت کے دن الله كی بارگاہ میں لوگوں میں بدترین دو منہ والے کو پاؤ گے ، جو اِن کے پاس اور منہ سے جائے اور اُن کے پاس اور منہ سے۔