ننھےمیاں کی کہانی

Image
ننھے میاں کی نعت ختم ہوئی تو طلبہ کے ساتھ ساتھ ٹیچرز کی طرف سے بھی ما شآءَ اللہ کی آوازیں آئیں۔ اب تقریر (Speech) کی باری تھی تو دسویں کلاس کے غلام رسول بھائی ڈائس پر آگئے
Image
جب سے ربیعُ الاول کا چاند نظر آیا تھا ننھے میاں کی خوشی دیکھنے والی تھی ، ایسا لگتا تھا جیسے بہت بڑا انعام ملنے کے دن قریب سے قریب آ رہے ہوں اور بات تھی
Image
دراصل ٹیچر فاروق کا اس اسکول میں آج پہلا دن تھا ، تبھی وہ بچّوں کی ٹوٹل مصروفیات کو بڑے غور سے دیکھ رہے تھے اچانک انہوں نے دیکھا کہ ایک بچہ آرام سے چلتے ہوئے واٹر کولر کے پاس آیا
Image
جی ہاں ، آئیں میں آپ کو حضرت سیّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہُ عنہ کی سخاوت کا ایک واقعہ سناتی ہوں : آپ کو پتا ہے پہلے لوگ کنووں (Wells) سے پانی حاصل کرتے تھے
Image
اَمّی پیسے دیجئےنا ، مجھے آئس کریم کھانی ہے۔ ننھے میاں نے اَمّی سے پیسےمانگے تو اَمّی نے کہا : بیٹا! ابھی دو گھنٹے پہلے تو آپ نے آئس کریم کھائی ہے۔
Image
امّی جان مسکراتے ہوئے کہنے لگیں : یہ بتا دیا تو سرپرائز کیسے رہا ، آپ جلدی سے پراٹھا اور آملیٹ ختم کر کے اسکول جائیں ، واپسی پر آپ کا سرپرائز آپ کو خود مل جائے گا۔
Image
ننھے میاں دادا کے ساتھ مغرب کی نماز کے بعد بازار گئے۔ بازار میں دادا ایک مرغی والے کی دکان پر پہنچے ، ریٹ لسٹ پڑھنے کے بعد پنجرے میں موجود ایک مرغی
Image
چھوٹے ماموں جان کے گھر کی پچھلی طرف زمین پردونوں ماموؤں نے مشترکہ باغ بنایا ہوا تھا، ننھے میاں باغ پہنچے تو مالی بابا گلابوں والی کیاری میں گوڈی کر رہے تھے،
Image
گاڑی گاؤں میں داخل ہو چکی تھی اور آہستہ آہستہ سرسبز کھیتوں کے درمیان بنی کچی سڑک پر چل رہی تھی ، دونوں طرف دور دور تک کھیت اور باغات ہی دکھائی دے رہے تھے ،