حضرت سیّدنا عثمان بن مظعون رَضِی اللہُ تَعَالٰی عنْہ

ہجرتِ حبشہ کے سالارِ قافلہ

 جب کفارِ مکہ نے مسلمانوں کو جبر وتشدد کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا جينا دوبھر کرديا تو بارگاہِ رسالت سے صحابہ کرام عَلَيْہِمُ الرِّضْوَان کو ايک پُر امن ملک حبشہ کی جانب ہجرت کی اجازت عطا ہوئی لہذاايک روايت کے مطابق اعلانِ نبوت کے پانچویں سال گیارہ مرد اور چار خواتین نے ہجرت کی سعادت پائی اِس قافلے کے سالار جلیل القدر صحابی حضرت عثمان بن مظعون رَضِيَ اللہُ تَعَالٰي عَنْہُ تھے۔ (طبقاتِ ابن سعدج1، ص159، حلیۃ الاولياء،ج1، ص149 ماخوذاً) کفارِمکہ نے شرکائے قافلہ کو گرفتار کرنا چاہا ليکن نورِ ايمان سے مُنَوّر یہ مقدس حضرات کشتی پر سوار ہو کر روانہ ہو چکے تھے۔ یہ  مہاجرين حبشہ پہنچ کر امن و امان کے ساتھ عبادتِ الٰہی ميں مصروف ہو گئے۔

مکہ واپسی

 چند دِنوں کے بعد اچانک يہ خبر پھيل گئی کہ کفارِ مکہ مسلمان ہو گئے جسے سن کر چند نفوسِ قُدسيہ مکہ لوٹ آئے مگر يہاں آ کر پتا چلا کہ خبر غلط تھی،بعض پھر حبشہ چلے گئے اور کچھ مکہ ہی ميں روپوش ہو گئے مگر کفارِ مکہ نے انہيں ڈھونڈ نکالا اور تکالیف دینی شروع کردیں۔ (سيرت مصطفیٰ،127) حضرت عثمان بن مظعون رَضِيَ اللہُ تَعَالٰي عَنْہُ نے حبشہ سے واپس آکر ولید بن مُغَیرہ کی امان حاصل کرلی جس کی وجہ سے کفارِ مکہ کی ہمت نہ ہوئی کہ آپ کی طرف آنکھ اُٹھا کر ديکھتے۔

 مشرک کی امان میں رہنا گوارا نہ کیا

 آپ رَضِيَ اللہُ تَعَالٰي عَنْہُ نےجب  دیکھا کہ میں تو امان پاکر راحت و آرام سے اپنے صبح وشام گزار رہا ہوں لیکن دیگر صحابہ کرام عَلَيْہِمُ الرِّضْوَان سخت تنگی اور مصیبت سے دوچار ہیں تو فرمايا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! مجھے یہ زیب نہیں دیتا کہ میں ایک مشرک کی امان میں رہ کر راحت و آرام پاؤں اور ميرے رُفقا مصیبت و مشقت اُٹھائيں، چنانچہ آپ رَضِيَ اللہُ تَعَالٰي عَنْہُ وليد بن مغيرہ کے پاس گئے اور فرمايا: میں تیری امان تجھے لوٹاتا ہوں ، اُس نے پوچھا: کيا میری قوم کے کسی فرد نے تمہیں تکلیف پہنچائی ہے ؟ آپ رَضِيَ اللہُ تَعَالٰي عَنْہُ نے فرمايا: نہیں! بلکہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ پر راضی ہوں اور مجھے اس کے علاوہ کسی کی پناہ پسند نہیں۔ ولید بن مغیرہ نے کہا: جس طرح میں نے تمہیں اعلانیہ امان دی تھی اُسی طرح تم اعلان کر کے میری اَمان لوٹاؤ، چنانچہ ایک مجمع میں آپرَضِيَ اللہُ تَعَالٰي عَنْہُ نے فرمايا: ولید بن مغیرہ اپنی امان کو پورا کرنے والا ہے لیکن مجھے پسند نہیں کہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی کی امان میں رہوں لہٰذا میں اس کی امان اسے واپس کرتا ہوں، اس کے بعد کُفّار کی جانب سے آپ رَضِيَ اللہُ تَعَالٰي عَنْہُ پر ظلم و ستم کا ایک نیا باب کھل گیا یہاں تک کہ آپ رَضِيَ اللہُ تَعَالٰي  عَنْہُ کی ایک آنکھ کو سخت نقصان پہنچا، يہ ديکھ کر ولید بن مغیرہ نے کہا: اگر تم میری امان میں رہتے تو یہ تکلیف نہ پہنچتی، مگر آپ رَضِيَ اللہُ تَعَالٰي عَنْہُ کے پایۂ اِسْتِقْلال میں ذرا لغزش نہ آئی اور فرمایا: میری دوسری آنکھ آرزو کر رہی ہے کہ اسے بھی راہِ خدا میں یہ تکلیف پہنچے،اور رہی بات امان کی!تو میں اُس کی اَمان میں ہوں جو تجھ سے زيادہ عزت و قدرت والا ہے۔ (حلیۃ الاولياء،ج1، ص147 تا 149ماخوذاً)

 مختصر تعارف اورفضائل و معمولات

 آپ رَضِيَ اللہُ تَعَالٰي عَنْہُ  کی کنیت ابُو السَّائِب ہے ، 13 مردوں کے بعد اسلام قبول کرنے کی سعادت پائی، (سیر اعلام النبلاء ،ج3، ص99)حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کے رِضاعی بھائی ہیں،(مراٰۃ المناجیح،ج 2، ص447) اُمُّ المؤمنين حضرت حفصہ بنت ِ عمر رَضِيَ اللہُ تَعَالٰي عَنْہُمَا کے ماموں جان (طبقاتِ ابن سعد،ج8،ص65) جبکہ حضرت خَولہ بنت حکیم رَضِيَ اللہُ تَعَالٰي عَنْہَا کے خاوند تھے، یاد رہے کہ یہ وہی حضرت خولہ بنت حکیم ہیں جنہوں نے رحمتِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہ وَاٰلِہِ وَسَلَّم اور حضرت عائشہ صدیقہ رَضِيَ اللہُ تَعَالٰي عَنْہَاکے رشتے کی بات چلائی تھی۔(مسند امام احمد،ج 10، ص29، حدیث:25827) آپ اصحابِ صُفّہ میں سے تھے (مرقاۃالمفاتيح،ج4،ص192، تحت حديث: 1711) سرورِ کونین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نے آپ کا نام اَلسَّلَفُ الصَّالِح(نیک بزرگ) رکھا۔ (معرفۃ الصحابہ،ج3،ص364)آپ رَضِيَ اللہُ تَعَالٰي عَنْہُ احکاماتِ الٰہیہ کی بجا آوری میں پيش پيش رہا کرتے، عزت و عظمت والے اوصاف سے اپنے کردار کو زینت بخشتے اور عبادت و رياضت کے نور سے اپنی ساعتوں کو مُنَوَّر کيا کرتے تھے، دن میں روزہ  رکھتے تو رات بھر اپنے رَبّ تعالٰی کی عبادت کیا کرتے تھے۔ (حلیۃ الاولياء،ج1،ص151، رقم:338)مسجد ِنبوی شریف کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہوا تو آپ رَضِيَ اللہُ تَعَالٰي عَنْہُ بڑی عُمدَگی اور تیزی کے ساتھ اینٹیں اُٹھا اُٹھا کر لاتے، پھر فارغ ہوکراپناجائزہ ليتے اور کپڑوں پر لگی مٹی کو جھاڑ دیا کرتے۔ (سبل الھدی والرشاد ، 3/336) سادَگی کایہ عالَم تھا کہ ایک مرتبہ آپ رَضِيَ اللہُ تَعَالٰي عَنْہُ جابجا چمڑے کے پیوند لگی ہوئی پرانی چادر پہن کر مسجد میں داخل ہوئے جسے دیکھ کر نبیّ کریم صَلَّي اللہُ تَعَالٰي عَلَيْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم اورصحابۂ کِرام عَلَيْہِمُ الرِّضْوَان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔(حلیۃ الاولياء،ج1، ص150، رقم:335 ملخصاً)

کبھی شراب نہ پی

 آپ رَضِيَ اللہُ تَعَالٰي عَنْہُ نے قبولِ اِسلام سے پہلے ہی اپنے اوپر شراب حرام کر رکھی تھی اور اِس بات کا عہدکر رکھا تھا کہ کبھی کوئی ایسی چیز نہ پیوں  گا جس سے عقل زائل ہو اور کم تر لوگ مذاق اڑائیں۔ (الاستیعاب،ج 3، ص166) آپ رَضِيَ اللہُ تَعَالٰي عَنْہُ رمضان المبارک  سن 2 ہجری میں ہونے والے غزوۂ بدر میں مجاہدانہ شان سے شريک ہوئے اور غازی بن کر لوٹے۔

 وصال مبارک

ایک قول کے مطابق شعبان المعظم سن3 ہجری میں آپ اپنے محبوب ِحقیقی عَزَّ وَجَلَّ سے جا ملےاور ہر قسم کے غم سے نجات يافتہ ہوگئے۔ (الجامع الاصول،ج13، ص314) وِصال کے بعد نبی کریم صَلَّي اللہُ تَعَالٰي عَلَيْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے آپ کے رُخسار کا بوسہ لیا اور رونے لگے يہاں تک کہ جانِ عالم صَلَّي اللہُ تَعَالٰي عَلَيْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کی چشمانِ کرم سے مبارک آنسو بہہ کر آپ کے رخسار پر گرنے لگے۔ (ابن ماجہ،ج 2، ص198، حديث: 1456)یہ دیکھ کر صحابہ کرام عَلَيْہِمُ الرِّضْوَان  بھی اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکے اور بے اختيار رونے لگے پھرغمگین دلوں کے چین صَلَّي اللہُ تَعَالٰي عَلَيْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: اے ابوسائب! تم اس دنیا سے یوں چلے گئے کہ تم نے اس کی کسی چیز سے کچھ نہ لیا۔ (حلیۃ الاولياء،ج1، ص150، رقم :333 ماخوذا)نبیِّ رحمت صَلَّي اللہُ تَعَالٰي عَلَيْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے آپ کی نمازِ جنازہ ادا فرمائی۔ (ابن ماجہ،ج 2، ص220، حديث:1502) آپ رَضِيَ اللہُ تَعَالٰي عَنْہُ پہلے صحابی ہیں جن کی جنت البقیع میں تدفین ہوئی۔ (مصنف ابن ابی شيبہ،ج8، ص357، رقم:291) تدفین کے بعد پيارے آقا صَلَّي اللہُ تَعَالٰي عَلَيْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے ايک شخص کو ايک بڑا پتھرلانے کا حکم ديا لیکن وہ اکیلا اُس پتھر کو اُٹھا نہ سکا یہ دیکھ کر رسول اللہ صَلَّي اللہُ تَعَالٰي عَلَيْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم اُدھر تشريف لے گئے اور اپنی آستینیں چڑھا کر اس پتھر کو اُٹھایا پھر اپنے رحمت بھرے ہاتھوں سے آپ رَضِيَ اللہُ تَعَالٰي عَنْہُ کی قبر پر اسے نصب فرماديا تاکہ اس پتھر کے سبب قبر کی پہچان رہے اور خاندانِ نبوت سے وِصال فرمانے والے افرادکواس قبرکے قريب دفن کيا جائے۔ (ابوداؤد، ج3، ص285، حديث:3206،ملخصاً ،مرقاۃ المفاتيح،ج 4، ص192، تحت حديث:1711)حکیم الامّت مفتی احمد يار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ثابت ہوا کہ اگر کسی خاص قبر کا نشان قائم رکھنے کے لئے قبر کچھ اونچی کردی جائے یا پتھر وغيرہ سے پختہ کردی جائے تو جائز ہے تاکہ معلوم ہوکہ یہ کسی بزرگ کی قبر ہے۔ (جاء الحق ،ص 230)بعد میں رحمت ِ عالم نورِ مجسم صَلَّي اللہُ تَعَالٰي عَلَيْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمنے اپنے فرزند حضرت ابراہیمرَضِيَ اللہُ تَعَالٰي عَنْہُ (طبقات ابن سعد،ج1، ص113)اور صاحب زادی حضرت بی بی زینب رَضِيَ اللہُ تَعَالٰي عَنْہَا کو آپ ہی کے پہلو میں دفن فرمايا۔(مسند امام احمد،ج1، ص511، حديث: 2127) مہاجر صحابہ عَلَيْہِمُ الرِّضْوَان میں سے کسی کا انتقال ہوتا اور بارگاہِ رسالت میں عرض کی جاتی کہ ہم انہیں کہاں دفن کریں؟تو حکم ارشاد ہوتا: ہمارے پيش رَو(یعنی آگے گزرنے والے) عثمان بن مظعون کے قریب۔ (مستدرک،ج4، ص191، حديث:4919) حضرت اُمِّ علاء رَضِيَ اللہُ تَعَالٰي عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضرت عثمان بن مظعون رَضِيَ اللہُ تَعَالٰي عَنْہُ نے ہمارے گھرمیں وفات پائی تھی،  رات کو میں نے خواب میں حضرت عثمان بن مظعون رَضِيَ اللہُ تَعَالٰي عَنْہُ کے لئے ایک چشمہ دیکھا جس کا پانی رواں دواں تھاجب میں نےیہ بات رسول اللہ صَلَّي اللہُ تَعَالٰي عَلَيْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کو بتائی توآپ  نےارشادفرمايا:یہ ان کاعمل ہے۔ (بخاری،ج2،ص208،حديث:2687)


Share