Qafilah

Book Name:Qafilah

طائف کے بدمعاشوں ، غلاموں اور بچوں کو اُبھارا کہ یہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم    کے ساتھ بُرا سلوک کریں۔وہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم    کے نرم و نازک جسمِ اطہر پر پتھر برسانے لگے۔حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ دوڑ دوڑ کر حضور صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم    پر آنے والے پتھروں کو اپنے بدن پر لیتے  اور اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم    کے جسم ِ اطہر   کو پتھروں سے بچاتے ۔جب ان بدبختوں نے ظلم کی انتہا کردی تو حضور پاک صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم    انگور کے ایک باغ میں تشریف لے گئے ۔ یہ باغ مکہ کے ایک مشہور کافر عُتْبَہ بن ربیعہ کا تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم   کو دیکھ کر عتبہ بن ربِیعہ اور اس کے بھائی شَیْبَہ بن ربِیعہ نے حضور صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم    کو اپنے باغ میں ٹھہرایا اور اپنے عیسائی غلام عَدّاس کے ہاتھ سے آپ کی خدمت میں انگور کا  ایک خوشہ بھیجا۔حضور صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم    نے بسم اللہ پڑھ کر خوشہ کو ہاتھ لگایا تو عَدّاس تعجب سے کہنے لگا کہ یہاں کے لوگ تو یہ کلمہ نہیں بولا کرتے، حضور صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم    نے اس سے پوچھا کہ تمھارا وطن کہاں ہے ؟ عدّاس نے کہا کہ میں شہر نِیْنَویٰ کا رہنے والا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم    نے فرمایا کہ وہ حضرت یونُس بن مَتّٰی علیہ السّلام  کا شہر ہے وہ بھی میری طرح اللہ پاک کے نبی تھے یہ سن کر عدّاس آپ کے ہاتھ پاؤں چومنے لگا اور فوراً ہی آپ کا کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا۔([1])

پیارے اسلامی بھائیو! راہِ خدا میں سفر کرنا سنّتِ انبیا ہے کہ کئی  انبیا کرام علیہمُ السّلامنے  دعوت وتبلیغ کے لئے  راہِ خدا میں سفر کیا اور اللہ پاک کے آخری نبی  صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم    نے صحابہ کرام علیہمُ الرّضوان  میں سےبھی  بعض کو تنہا اور بعض کو باقاعدہ ایک جماعت کے ساتھ


 

 



[1]... سیرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم   ، ص144 ملتقطاً وبتغیر قلیل