Book Name:Buri Sohbat Ka Wabal
امیرِ اَہلسُنّت حضرت علّامہ مَوْلانا محّمد الیاس عطّار قادِرِی دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ”نیکی کی دعوت“کے صفحہ نمبر 290 پر لکھتے ہیں:پنجابکے ایک محلّے میں ایک عجیب و غریب بدبُومحسوس ہونے لگی، عَلاقے والوں کی خوب جُستجو کے بعد کہیں جا کر بدبُو کا سُراغ مِلا،وہ بدبُو ایک بند گھر سے آرہی تھی۔ چُنانچِہ پولیس کو اطِّلاع دی گئی۔جب پولیس والے لوگوں کی موجودگی میں تالا توڑ کر گھر کے اندر داخِل ہوئے تو یہ دیکھ کر سب کے رونگٹے کھڑے ہوگئے کہ وہاں چارپائی پر ایک جوان آدمی کی لاش پڑی تھی ،اس کے بعض حصّے گل سَڑ چکے تھے اور ان میں کیڑے رِینگ رہے تھے۔یہ منظر دیکھ کر بچّوں سمیت کئی افراد بے ہوش ہوگئے۔تحقیق کرنے پرپتا چلا کہ یہ نوجوان محنت مزدوری کرنے کے لئے اِس عَلاقے میں آیا تھا،کرائے کے مکان میں رِہائش پذیر تھا اور بعض جُواریوں سے اس کی دوستی تھی۔ایک دن یہ نوجوان اپنے دوستوں سے جُوےمیں بَہُت ساری رقم جیت گیا،ہارے ہوئے جواری دوستوں نے ہاری ہوئی رقم لُوٹنے کے لئے اس کے گلے میں پھندا کَسا اور بجلی کے کرنٹ لگا لگا کر موت کے گھاٹ اُتار دیا، پھر اسے بے گوروکفن چھوڑ کر تالا لگا کر فرار ہوگئے۔(نیکی کی دعوت ، ص۲۹۰)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمّد
پیارے اسلامی بھائیو! آپ نے سُنا کہ بُری صحبت (Company) میں اُٹھنا بیٹھنا کس قدر ہلاکت و بربادی کا سبب اور بُری صحبت میں رہنے والے نادانوں کا کس قدر بھیانک اَنْجام ہوتا ہے۔بِلا شُبہ بُری صحبت انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی،بُرے لوگوں کی صحبت میں بیٹھنا