Buri Sohbat Ka Wabal

Book Name:Buri Sohbat Ka Wabal

ہمیشہ فائدہ پہنچتا رہے گا اور صرف خوشبو پالینا اَدنیٰ نفع ہے۔خیال رہے! ابُوجہل وغیرہ دشمنانِ رسول،حضور(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ)کے پاس حاضر ہوئے ہی نہیں،وہاں حاضری مَحَبَّت سے حاصل ہوتی ہے۔(حدیثِ پاک کے اس حصے”اور وہ دوسرا تیرے کپڑے جلادے گا یاتُو اس سے بدبوپائے گا“کی وضاحت میں مفتی صاحب فرماتے ہیں:)اس فرمانِ عالی کا مقصد یہ ہے کہ حتَّی الْامکان بُری صحبت سے بچو کہ یہ دِین و دنیا برباد کردیتی ہے اور اچھی صحبت اختیار کرو کہ اس سے دِین و دُنیا سنبھل جاتے ہیں۔ سانپ کی صحبت جان لیتی ہے،بُرے یار کی صحبت ایمان برباد کردیتی ہے۔(مرآۃ المناجیح،۶/۵۹۱)

بُری صحبت بربادیِ ایمان کا سبب ہے

   حضرت  علامہ محمد بن احمد ذَہبی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہ فرماتے ہیں:ایک شخص شرابیوں کی صُحبت میں بیٹھتا تھا  جب اُس کی موت کا وقت قریب آیا تو کسی نے کَلِمہ شریف کی تلقین کی تو کہنے لگا:تم بھی پیو اور مجھے بھی پلاؤ۔مَعَاذَ اللہ بِغیر کَلِمہ پڑھے مرگیا (جب شرابیوں کی صُحبت کا یہ حال ہے تو شراب پینے کا کیا وَبال ہو گا !)ایک شطرنج کھیلنے والے کو مرتے وقت کَلِمہ شریف کی تلقین کی گئی تو کہنے لگا: شاھَکَ (یعنی تیرا بادشاہ) یہ کہنے کے بعد اُس کا دم نکل گیا۔ (کتابُ الکبائر،ص ۱۰۳ملخصاً)

 پیارے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا!اچھی صحبت اپنانے میں فائدہ ہی فائدہ ہے جبکہ  بُروں کی صحبت اختیار کرنے میں دِین و دنیا     کا سراسر نُقصان ہی نُقصان ہے کہ بُری صحبت انسان کے ایمان کو بھی برباد کرڈالتی ہے،عموماًلوگ جان لیوا،خوفناک اور زہریلے جانوروں،کیڑے مکوڑوں اور وحشت ناک چیزوں سے تو ڈرتے ہیں اور ان سے بچنے میں