Book Name:Haftawar Madani Muzakra
یحیٰ، امام عبد الرحمٰن، امام وکیع ، امام اِبنِ عُیینہ، امام ابو داوٗد، اور امام عبد الرزاق رحمۃُ اللہِ علیہم۔([1])
اے عاشقانِ رسول! ہمارے اسلاف کا دین کی خدمت کا جذبہ مرحبا صد مرحبا کہ انہوں نے قرآن وحدیث کی تعلیمات کو سیکھنے اور عام کرنے میں نہ دن دیکھا نہ رات، نہ گرمی کی تپش کو آڑ بننے دیا نہ سردی کی شدت کو بس انہیں فروغِ دین کا شوق تھا کہ کسی طرح امت تک دین پہنچ جائے،انہوں نے مذاکرۂ علم کی محافل کو آباد کیا ۔
اسی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے عالمِ اسلام کی عظیم علمی و رحانی شخصیت پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت حضرت علامہ مولانامحمد الیاس قادری دامت برکاتہم العالیہ بھی مدنی مذاکرہ فرماتے ہیں جس میں آپ مسلمانوں کی دینی، فکری، اعتقادی اور روحانی تربیت کے پہلوؤں کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے مختلف سوالات کے جوابات ارشاد فرماتے ہیں۔ہمیں چاہیے کہ ہم اس طرح کی محافل میں ذوق وشوق سے جائیں، صرف خود ہی نہیں بلکہ دیگر افراد کو بھی اپنے ساتھ لے کر جائیں کہ حضرت شیخ ابو طالب مکی رحمۃُ اللہِ علیہ علم القلوب میں ایک روایت ذکر کرتے ہیں کہ نبیِ پاک صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم نے فرمایا: جس نے علم کی مجلس کو پایا گویااُس نے میری مجلس کو پایا اور جس نے میری مجلس کو پایا بروزِقیامت اُس کے لیے کسی عذاب کی سختی نہیں ہوگی۔([2])
اے علم کے طلبگار اسلامی بھائیو!علما کی یہ مجالس یقیناً بہت سے برکات و فوائد کا مجموعہ ہوتی ہیں جیسا کہ حضرت فقىہ ابواللىث سمرقندى رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہىں کہ جو شخص عالم کى مجلس مىں جائے اُس کو سات فائدے حاصل ہوتے ہىں اگرچہ اُس سے استفادہ (یعنی اپنی کوشش سے کوئی فائدہ حاصل) نہ کرے۔
(1) طلبہ میں شمار کیا جاتا ہے(2) جب تک اُس مجلس میں رہتا ہے گناہوں اور فسق و فجور