Book Name:Haftawar Madani Muzakra
ہم اپنا محاسبہ کریں کہ کئی طرح کی آسانیاں ہونے کے باوجود ہم اس طرح کی محافل میں نہیں جاتے، کچھ سیکھنے کی کوشش تک نہیں کرتے جبکہ ہمارے اسلاف ایسی محافل کو منعقد کرنے یا اس میں شرکت کرنے میں آنے والی مشکلات کو برداشت کرتے ، نیند قربان کر دیتے اور بھوکے رہ کر بھی علم کی محفل قائم کرتے چنانچہ
پانچ دن کی بھوک اور علمی مذاکرہ
فقہ حنفی کے بہت بڑے امام قاضئ القضاۃ امام ابو یوسف رحمۃُ اللہ علیہ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ جب فقہاء کرام کے ساتھ علمی مذاکرہ فرمایا کرتے تھے تو خوب چستی اورتوانائی کا مظاہرہ فرماتے تھے اورخوب ہشاش بشاش نظر آتے ۔ایک مرتبہ ان کے داماد بھی ان کے مذاکرہ میں موجود تھے، وہ آپ کو دیکھ کر فرمانے لگے کہ میں حیران ہوں کہ یہ پانچ دن سے بھوکے ہیں لیکن اس کے باوجود اتنے ہشاش بشاش نظر آرہے ہیں۔ ([1])
حضرت علی بن مدینی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک رات مسجدحرام شریف میں حضرت وکیع اور حضرت عبد الرحمن رحمۃُ اللہِ علیہما آپس میں مذاکرہ فرمانے لگے تو ساری رات گزر گئی یہاں تک کہ مؤذِّن نے صبح کی اذان بھی دے دی۔ ([2])
شوقِ مذاکرہ کہیں عقل نہ لے جائے
حضرت علی بِن مدینی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: 6 بندوں کو علمی مذاکرے کا اتنا شوق تھا کہ یوں محسوس ہوتا جیسےمذاکرہ کرتے کرتے ان کی عقل ہی چلی جائے گی۔ وہ 6 عظیم ہستیاں یہ ہیں: امام