Book Name:Aaqa Ka Safar e Meraj
کہتےہیں،اُس پرحُضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَمعراج میں بھی سُوار ہوئے اور قِیامت میں بھی سُوار ہوں گے۔خیال رہے کہ ہر نبی کا جنّت میں ایک بُراق ہوگا سُواری کے لئے مگر حُضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا بُراق سب سے اعلیٰ ہوگا، وہ یہی بُراق ہے۔
حکیمُ الاُمّت حضرت مفتی احمدیارخان نعیمیرَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ مزیدفرماتے ہیں:(حُضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:)میں خود سُوار نہ ہوا بلکہ سُوار کیا گیا،جبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلام نےحُضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَکو سُوار کیا،رِکاب جنابِ جبریل عَلَیْہِ السَّلام نے تھامی اور لگام میکائیل عَلَیْہِ السَّلام نے پکڑی، اِس شان سے دُولہا کی سُواری چلی۔خیال رہےکہ حُضورِ انورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کا بُراق پر سُوار ہونا اِظہارِ شان کےلئے تھا جیسے دُولہا گھوڑے پر ہوتے ہیں، بَراتی پیدل اور گھوڑا آہستہ آہستہ چلتا ہے،بُراق کی یہ رفتار بھی آہستہتھی۔(مرآۃ المناجیح،۸/ ۱۳۷ ملخصاً)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو!رسولِ پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےجہاں اللہ پاک کی دیگر کئی بڑی بڑی نشانیوں کو دیکھا،وہیں اِس مبارَک سفر (Journey)کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےربِّ کریم کی ایک عظیمُ الشّان نشانی یعنی جنّت اور وہاں موجود نعمتوں کو بھی اپنی مبارک آنکھوں سے مُلاحَظہ فرمایا ۔آئیے!سُنتے ہیں کہ نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے وہاں کیا کیا مُلاحَظہ فرمایا،چنانچہ
حضرت ابو بُرَیْدَہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُسےروایت ہے،رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرْشاد