Raste Ke 4 Huqooq Qist 02

Book Name:Raste Ke 4 Huqooq Qist 02

(3): تَغِيْثُوْا الْمَلْهُوفَ(یعنی حاجت مند کی مدد کرنا )  (4): تَھْدُوا الضَّالَ (یعنی بھٹکے ہوئے کو راستہ دیکھانا)  بھی ہے ۔ ([1])

راستے کے حقوق

پیارے اسلامی بھائیو! اِسْلام کا حُسْن ہے کہ اس پیارے دِین نے بندوں کے حقوق تو بتائے ہی ہیں، ساتھ ہی ساتھ دیگر چیزوں مثلاً جانوروں اور راستوں کے حقوق بھی سکھائے ہیں۔ روایات میں راستے کے 14 حقوق بیان ہوئے ہیں، ان میں سے مزید   4 حُقُوق آج ہم سیکھیں گے۔آئیے !پہلے سیکھئے ہوئے حقوق کی دہرائی کر لیتے ہیں: (1):غَضُّ الْبَصَرِ (یعنی نگاہیں نیچی رکھنا) (2):کَفُّ الْاَذٰی (یعنی تکلیف نہ دینا) (3):رَدُّ السَّلامِ (یعنی سلام کا جواب دینا) (4): اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَرِ (یعنی نیکی کا حکم دینا اور بُرائی سے منع کرنا) ۔

مزید 4 حقوق جو ہم نے آج سیکھنے ہیں ،وہ یہ ہیں :

(1):حُسْنُ الْکَلَامِ (اچھی گفتگو کرنا)

وضاحت : *راستے میں شور مچانے *مذاق مسخری کرنے*اونچے اونچے قہقہے لگانے *چلّا چلّا کر ایک دوسرے کو  پکارنے *چیخ چلّا کر گفتگو کرنے *بازاری انداز میں گفتگو کرنے سے بچئے !کہ نبی کریم، رؤف ورحیم  صَلَّی اللہُ عَلَیْہ  وَآلہ وَسَلَّم کبھی بھی اس طرح گفتگو نہیں فرماتے تھے، آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہ  وَآلہ وَسَلَّم کی گفتگو شریف میں آواز نہ زیادہ بلند ہوتی نہ اتنی دھیمی کہ سامنے والوں کو سننے میں دشواری ہو۔ ہم جہاں بھی ہوں راستے میں ہوں یا گھر میں ہر جگہ اچھے انداز میں ہی گفتگو کرنی چاہئے!حدیث پاک میں ہے: حُسْنُ الْكَلام  (اچھی گفتگو کرنا )جنت میں لے جاتا ہے ۔([2])

(2):تَشْمِیْتُ الْعَاطِسِ  اِذَا حَمِدَ  (چھینک کا جواب دینا) ۔

وضاحت:جب كسی مسلمان کو چھینک آئے ،چھینکنے والا اَلْحَمْدُ لِلہِ کہے تو  اس کا جواب فوراً اور  اتنی آواز


 

 



[1]...ابو داود،کتاب الادب ،بابا فی الجلوس الطریقات،صفحہ:757،حدیث:4817۔

[2]...معجم کبیر ،جلد:9،صفحہ:238،حدیث:17920،ملخصًا۔