Raste Ke 4 Huqooq Qist 02

Book Name:Raste Ke 4 Huqooq Qist 02

لباسِ خضر میں یہاں سیکڑوں راہزن بھی پھرتے ہیں

گر جینے کی خواہش ہے تو پہچان پیدا کر

وضاحت : یعنی راہنما اور خیر خواہ کی شکل میں ڈاکو بھی ہو سکتا ہے، لہٰذا جینے کے لئے آدمی کی پرکھ کرنا بھی ضرور سیکھ لیجئے!

(4): تَھْدُوا الضَّالَ (یعنی بھٹکے ہوئے کو راستہ دیکھانا)

وضاحت: مثلاً *کسی نے راستہ پوچھا، اسے راستہ بتا دینا*ایسی جگہ ہے کہ عمومًا لوگ دھوکا کھا جاتے ہیں، راہ بُھول جاتے ہیں، وہاں راستے کی نشاندہی کرنے والی کوئی علامت لگا دینا، مثلاً  *.بند گلی  کی نکر پر کہیں واضِح  جگہ لکھ دینا کہ آگے گلی بند ہے *.یونہی راستے میں کہیں گڑھا ہے *. کسی وجہ سے راستہ بند ہے، ادھر جاتے ہوئے کو بتا دینا کہ بھائی! دھیان سے جانا، آگے گڑھا ہے، وغیرہ راستہ بتانے کی مختلف صُورتیں ہیں، یہ سب راستے کے حقوق میں شامِل ہیں۔ حدیثِ پاک میں ہے: تیرا بُھولے شخص کو راستہ بتا دینا بھی صدقہ ہے۔([1])

نوٹ: کوئی گُنَاہ کے اَڈّے کا راستہ پوچھے اور معلوم ہے کہ وہاں جا کر گُنَاہ کرے گا، مثلاً کسی نے شراب خانے کا راستہ پوچھا اور کسی طرح اندازہ ہو رہا ہے کہ وہاں جا کر شراب پئے گا،  ایسے کو راستہ بتانا گُنَاہ پر مدد کرنا ہے اور گُنَاہ پر مدد بھی گُنَاہ ہے۔ لہٰذا ایسوں کو راستہ مت بتائیے۔

دہرائی

آج ہم نے راستے کے 4 حقوق سیکھے: (1):حُسْنُ الْکَلَامِ (اچھی گفتگو کرنا ) (2): تَشْمِیْتُ الْعَاطِسِ (یعنی چھینک کا جواب دینا)(3): تَھْدُوا الضَّالَّ (بھٹکے ہوئے کو راستہ دکھانا)(4): تَغِيْثُوا الْمَلْهُوفَ(حاجت مند کی مدد کرنا )  ۔

نوٹ:راستے کے حقوق کے متعلق تفصیلی معلومات کے لئے  شیخِ طریقت امیرِ اہلسنت مولانا محمد الیاس


 

 



[1]...ترمذی، کتاب البر والصلۃ ،باب ماجاء فی الصنائع المعروف ،صفحہ:478،حدیث:1956۔