چوک درس

سَلَف صَالحین رحمہمُ اللہُ المُبِین کے زمانے میں لوگ نیکی کی  دَعوت پر لَـبَّیْك کہتے اور حُصولِ عِلمِ دین کے لئے کوشش کرتے بھی نظر آتے تھے، مگر افسوس!آج  مسلمان عِلْمِ دین سے دُوری کے سبب گناہوں میں غَرْق ہیں،مساجِد ویران ہیں،عِلْمِ دِین کے حلقوں میں رونق تَو دورکی بات! فرض نَماز بَاجماعت ادا کرنے والوں کی تعداد بھی بَہت کم ہو چکی ہے، ان حالات کے پیشِ نظر کوئی ایسا طریقہ اپنانے کی ضرورت تھی  جس سے مسلمان نَماز اور عِلمِ دین کے حلقوں میں شرکت کے لئے مساجد کا رخ کریں، چنانچہ بُزُرگانِ دین کی یاد تازہ کرتے ہوئے مسجِد بھرو تحریک ”دعوتِ اسلامی“ چوک دَرْس کے ذریعے اس نیک مقصد کے حُصول کیلئے کَوشاں ہے، چوک دَرْس دعوتِ اسلامی کے ذیلی حلقے  کے 12 مَدَنی کاموں میں سے روزانہ کا ایک اَہَم مَدَنی کام ہے جس سے مراد وہ مَدَنی دَرْس ہے جو مسجِد اور گھر کے عِلاوہ کسی بھی مَقام (چوک، بازار، اسکول، کالج، اِدارے وغیرہ) پر دیا جاتا ہے۔ (چوک درس کے متعلق مزید تفصیل جاننے کے لئے مکتبۃ المدینہ کا 32 صفحات پر مشتمل رسالہچوک درس“ پڑھئے)

چوک دَرْس کے چند فوائد٭ چوک درس نیکیاں بڑھانے کا ذریعہ ہے جیسا کہ مروی ہے:نیکی کی راہ دِکھانے والا نیکی کرنے والے کی طرح ہوتا ہے۔(ترمذی،ج 4،ص305، حدیث:2679) ٭نیکیوں پر اِستقامت ملتی ہے، یوں  کہ جب کسی کو نیکی کی دعوت دیں تو خود اس نیکی پر اِستِقَامت پانا بھی آسان ہو جاتا ہے٭چوک دَرْس چونکہ ذِکْرُ اللہ کی ہی صورت ہے، لِہٰذا جتنی دیر بازار میں چوک درْس دیں گے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُتنی دیر تک دیگر فضائل کے عِلاوہ بازار میں ذِکْرُ اللہ کرنے کا ثواب بھی حاصِل ہوگا ٭چوک درس مساجِد کی آبادکاری کا بھی ذریعہ ہے ٭چوک درس میں چونکہ مشقت زیادہ ہوتی ہے،اس لئے اس میں ثواب کی بھی زیادہ اُمید ہے جیساکہ مروی ہے:افضل عبادت وہ ہے جس میں زَحمت(مُشَقَّت) زیادہ ہو۔ (کشف الخفاء،ج1،ص141،حدیث:459)٭چوک درس دیتے ہوئے کبھی کبھار ناگوار جملے بھی سُننا پڑتے ہیں، اس وقت  اگر مبَلِّغ صَبْر سے کام لے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ صبر کا عظیم ثواب پائے گا٭ جب کسی بَارَوْنق مَقام پر چوک درس کی ترکیب بنائی جاتی ہے تو چوک درس سے پہلے اور بعد میں شُرَکائے دَرْس کو بَاہَم سَلام و مُصَافَحہ والی سنّت پر عمل کے ثواب کے ساتھ ساتھ بازار میں سلام کرنے کے فضائل و برکات بھی حاصِل ہوتے ہیں ٭چوک درس دعوتِ اِسلامی کے تعارُف و تشہیر اور نیک نامی کا بھی ایک بہترین ذریعہ ہے٭َدَنی درس دینے کی ترغیب دلاتے ہوئے شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتےہیں:کاش! اسلامی بھائی مسجد، گھر، بازار، چوک، دکان وغیرہ میں اور اسلامی بہنیں گھر میں روزانہ دو۲ دَرس دینے یا سننے کا معمول بنا کر خوب خوب ثواب لوٹیں اور ساتھ ہی ساتھ اِس دُعائے عطّاؔرکے بھی حق دار بن جائیں: یاربِّ محمّد عَزَّوَجَلَّ! جو اسلامی بھائی یا اسلامی بہن روزانہ دو۲دَرس دیں یا سنیں ان کو اور مجھے بے حِساب بخش اور ہمیں ہمارے مَدَنی آقا صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کے پڑوس میں اکھٹا رکھ۔

جو دے روز دو۲ ’’درسِ فیضانِ سنّت“

 میں دیتا ہوں اُس کو دُعائے مدینہ


Share

Articles

Comments


Security Code