Book Name:Kamalat e Mustafa
بہت سارے تنّور چاہئیں جیساکہ آج کل شادیوں کی دعوتوں میں دیکھا جاتا ہے۔*حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے عصا(لاٹھی)سے پانی کے 12 چشمے پتھر (Stone)سے پھُوٹے،یہاں حضورِاکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے تُھوک شریف سے ہانڈی سے بوٹیوں (اور) شوربے کے چشمے پُھوٹے۔(مرآۃُ المناجیح ،۸/۱۷۷تا۱۷۹ملخصاً)
سرکار کی آمد مرحبا* دلدار کی آمد مرحبا* آقا کی آمد مرحبا
*مرحبا یا مُصْطَفٰے*مرحبا یا مُصْطَفٰے*مرحبا یا مُصْطَفٰے*مرحبا یا مُصْطَفٰے
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!آئیے!اب معجزہ کی تعریف سُنتے ہیں،چنانچہ
حکیمُ الاُمّت حضرت مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ معجزے کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:وہ کام جس کے مقابلے سے بلکہ اس کی سمجھ سے مخلوق عاجز(بے بس)ہو اسے ”معجزہ“ کہتے ہیں۔ شریعت کی اصطلاح میں معجزہ ہر وہ عجیب و غریب خلافِ عادت کام ہے جو نُبُوَّت کا دعویٰ کرنے والے کے ہاتھ پر ظاہر ہو۔دعویِ نُبُوَّتسے پہلے جو(خلافِ عادت کام)نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہو اسے”اِرہاص“کہتے ہیں۔ اَوْلِیَاءُاللہ(رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن)کے ہاتھ پر جو عجیب بات ظاہر ہو،اُسے”کرامت“کہتے ہیں ۔عام مؤمنین کے ہاتھ پر اگر کبھی کوئی عجیب بات ظاہر ہو،اُسے ”مَعُوْنَتْ“کہتے ہیں۔ اور غیر مسلم کے ہاتھ سے جو عجوبہ(عجیب و غریب کام ) ظاہر ہو اسے ”اِسْتِدْرَاج“ کہتے ہیں۔مفتی صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ مزید فرماتے ہیں: سارے نبیوں کے معجزے قصّے (Parables) بن گئے، ہمارے