Book Name:Har Simt Chaya Noor Hay
(3)حضرت ابوسعید خُدری رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے،ایک مرتبہ حضرت قتادہ بن نعمان رَضِیَ اللہُ عَنْہ نےحضور انور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی۔ رات سخت اندھیری تھی اور آسمان پر گھٹا چھائی ہوئی تھی۔ روانگی کے وَقْت نبیِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنے دستِ مبارَک سے انہیں درخت کی ایک شاخ عطا فرمائی اور ارشاد فرمایا:تم بغیر کسی خوف کے اپنے گھر جاؤ!یہ شاخ تمہارے ہاتھ میں ایسی روشن ہو جائے گی کہ 10 آدمی تمہارے آگے اور 10آدمی تمہارے پیچھے اس کی روشنی میں چل سکیں، جب تم گھر پہنچو گے تو ایک کالی چیز کو دیکھو گے اس کو مار کر گھر سے نکال دینا۔ چنانچہ ایسا ہی ہواکہ جیسے ہی حضرت سیدنا قتادہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کاشانۂ نُبُوَّت سے نکلے وہ شاخ روشن ہوگئی اور وہ اسی کی روشنی میں چل کر اپنے گھر پہنچ گئے،دیکھا کہ وہاں ایک کالی چیز موجود ہے لہٰذاآپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے فرمانِ نُبُوَّت کے مطابق اس کو مار کر گھر سے باہر نکال دیا۔(مسند احمد،مسندابی سعید الخدری، حدیث:۱۱۶۲۴، ۴/۱۳۱)
(4)حضرت عائِذ بن سعید جَسْرِیرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ رسولِ پاک صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ میرے چہرے پر اپنا مبارَک ہاتھ پھیر دیجئے اور بَرَکت کی دعا فرمائیے۔حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایسا ہی کیا(یعنی اُن کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور بَرَکت کی دعا فرمادی)اُسی وَقْت سے حضرت عائِذ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کا چہرہ ترو تازہ اور نورانی رہا کرتا تھا۔
(الاصابہ فی تمییز الصحابہ،عائذ بن سعید ،۳/۴۹۳،رقم ۴۴۶۲)(سیرتِ رسولِ عربی،ص۲۶۵)