Book Name:Har Simt Chaya Noor Hay
(5)حضرت ابو سِنان عبدی صباحیرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے چہرےپر نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنا دستِ مبارک پھیرا،ان کی عمر 90 سال ہوچکی تھی مگر ان کا چہرہ بجلی کی طرح چمکتا تھا۔(الاصابہ فی تمییز الصحابہ،ابو سنان العبدی ثم الصباحی ،۷/۱۶۴،رقم۱۰۰۶۶)
سرکار کی آمد …مرحبا سردار کی آمد …مرحبا آمنہ کے پھول کی آمد …مرحبا
رسولِ مقبول کی آمد …مرحبا پیارے کی آمد …مرحبا اچھے کی آمد … مرحبا
سچے کی آمد …مرحبا سوہنے کی آمد …مرحبا موہنے کی آمد …مرحبا
مُختار کی آمد …مرحبا پُرنور کی آمد …مرحبا سراپا نور کی آمد …مرحبا
مرحبا یا مصطفی مرحبا یا مصطفی مرحبا یا مصطفی مرحبا یا مصطفی
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
اےعاشقانِ صحابہ و اَہلِ بیت!غور کیجئے! جو نورانی آقا کسی کے چہرے پر دستِ اقدس پھیردیں تو وہ روشنی دینے لگ جائے، جو نورانی آقا چھڑیوں اور شاخ پر توجہ فرما دیں تو وہ بلبوں کی طرح روشن ہو جائیں تو ایسے نورانی آقا کی اپنی نورانیت کا کیا عالَم ہوگا۔ ان واقعات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ذات بظاہر تو بَشَرِیَّت تھی مگر حقیقت میں آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سر اپا نور ہی نور تھے،جیساکہ
منقول ہے:پیدائش سے کچھ دن پہلے ہاتھی والوں کے ہلاک ہونے کا واقعہ پیش آنا،فارس میں ایک ہزار سال سے بھڑکتی ہوئی آگ کا ایک لمحہ میں بجھ جانا، کسریٰ کے محل کا زلزلہ اور اس کے چودہ(14) کنگروں کا