Har Simt Chaya Noor Hay

Book Name:Har Simt Chaya Noor Hay

کی بَشَرِیَّت کا انکار ہرگز ہرگز نہیں کیا سکتا۔سرکارِ اعلیٰ حضرت،امام اَحمد رَضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ  فرماتے ہیں: تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بَشَرِیَّت کا مُطَلْقاً(بالکل )انکار کفر ہے۔(فتاویٰ رضویہ،۱۴ /۳۵۸)

آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نورانیت  سے متعلق آیاتِ کریمہ

یادرہے!قرآنِ پاک میں بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نورفرمایا گیا ہے۔چنانچہ اللہکریم پارہ 6سورۃ المآئدۃ کی آیت نمبر 15 میں ارشاد فرماتا ہے:

قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ(۱۵) ۶، المآئدہ: ۱۵)

تَرْجَمَۂ کنزُالعِرفان:بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آگیا اور ایک روشن کتاب۔

تفسیر”خزائن العرفان“میں ہے:(اس آیت میں )سیدِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نور فرمایا گیا کیونکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ(کے وسیلے)سے تاریکیٔ کفر(کفر کی سیاہی) دُور ہوئی اور راہِ حق واضح ہوئی۔ (تفسیر خزائن العرفان،پارہ ۶،المائدۃ:۱۵،ص۲۱۳)اس آیتِ کریمہ کے تحت حضرت  امام ابوجعفر محمد بن جَریرطَبَری،امام ابو محمد حسین بَغَوِی، امام فخرُا لدِّین رازی،امام ناصر الدین عبدُاللہ بن عمر بَیْضاوِی،علامہ ابوالبرکات عبدُاللہ نَسَفِی، علامہ ابوالحسن علی بن محمد خازِن،امام جلالُ الدین سُیُوطی شافِعی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ  عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سمیت بہت سے مُفَسِّرِیْن رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ  عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے فرمایا:آیتِ کریمہ میں موجود لفظ ”نُور“سے مراد نبیِ پاک صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَکی ذاتِ مُقدَّسہ ہے۔(ماہنامہ فیضانِ مدینہ، دسمبر۲۰۱۷،ص۸ملخصاً)

جبکہ پارہ 22، سورۃُ الْاَحزاب آیت 45اور46میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۴۵) وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا(۴۶) ۲۲،الاحزاب:۴۵-۴۶)