Zimmadari Ke Fawaid

Book Name:Zimmadari Ke Fawaid

قبیلۂ اَوْسْ کے سردار حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ بہت ہی بہادر اور بااثر شخص تھے۔ حضرت مُصْعَب بِن عُمَیْر رضی اللہ عنہ نے جب ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی تو انہوں نے پہلے تو اسلام سے نفرت و بیزاری ظاہر کی مگر جب حضرت مُصْعَب بِن عُمَیْر رضی اللہ عنہ نے ان کو قرآنِ مجید پڑھ کر سنایا تو ایک دم اُن کا دل پسیج (نرم پڑ)گیا اور اس قدر متاثر ہوئے کہ سعادتِ ایمان سے سرفراز ہو گئے([1])اور خود اسلام قبول کرتے ہی یہ اعلان فرما دیا کہ میرے قبیلے کا جو مرد یا عورت اسلام سے منہ موڑے گا میرے لئے حرام ہے کہ میں اس سے کلام کروں ۔ آپ کا یہ اعلان سنتے ہی قبیلے کا ایک ایک بچہ دولتِ اسلام سے مالا مال ہوگیا۔ اس طرح آپ کا مسلمان ہو جانا مدینہ منورہ میں اشاعتِ اسلام کے لیے بہت ہی بابرکت ثابت ہوا۔([2])

پیارے اسلامی بھائیو! ذمہ داری چاہے دینی کام کی ہو یا دنیاوی کام کی اگر اسے بخوبی نبھایا جائے تو یقیناً اس سے کثیر فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اس کا اندازہ  اسی واقعے سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت مُصْعَب بِن عُمَیْر رضی اللہ عنہ جن کو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں مسلمانوں کو اسلام کی تعلیم دینے اور غیر مسلموں میں اسلام کی تبلیغ کرنے کے لئے بھیجا تھا ، انہوں نے اپنی اس ذمہ داری کو بخوبی نبھایا اور گھر گھر جا کر نیکی کی دعوت دی اور ان کی نیکی کی دعوت ہی کی بدولت ابتداءً  قبیلے کا سردار اور پھر اس کے کہنے پر پورا قبیلہ مسلمان ہوا ۔

پیارے اسلامی بھائیو! ذمہ داری ایک امانت ہے اور امانتوں کے پورا کرنے کو اللہ


 

 



([1])...سیرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم، ص 152 ، بتغیر قلیل

([2])...اسد الغابۃ، سعد بن معاذ، 2/461 ، ملخصاً ومفہوماً