Book Name:Zimmadari Ke Fawaid
سے محروم کرنا ہے۔ ہماری یہ ضِد ہونی چاہئے کہ ’’ میں دعوتِ اسلامی اور مدنی مرکز کی دی ہوئی ذمہ داری“از خود نہیں چھوڑوں گا۔([1])*اگر نگران، تربیت یافتہ اسلامی بھائیوں کوذمہ داری دیں گے تو بہتر نتا ئج حاصل ہوں گے۔([2]) *اگر ہمیں بڑی ذمہ داری مل گئی ہے تو ماتحتوں پر توجہ دینا،ان کا خیال رکھنا ہماری تنظیمی ذمہ داری ہے۔([3]) *ہر ذمہ دار کو چاہئے کہ ذمہ داری کے تقاضے پورے کرنے کے لئے اَسلاف کی سِیرت کا مطالعہ اور شرعی و تنظیمی رہنمائی حاصل کرتا رہے۔مدنی مرکز کی طرف سے جو ذمہ داری ہمیں دی گئی ہے اسے پورا کرنا اور اس کی کارکردگی بروقت اپنے نگران کو دینا بھی ہماری تنظیمی ذمہ داری ہے۔([4]) *دعوتِ اسلامی کے تمام ذِمّہ داران تمام مُعاملات(شرعی،تنظیمی اور ذاتی) میں خوب مُحتاط رہیں۔([5]) *دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں کی ذِمہ داری کا حق ، حقیقی معنوں میں مُتّقی ہی نبھا سکتا ہے۔([6]) *ذمہ داری آنے سے غور و فکر کی صلاحیت میں اضافہ اور سوچنے کا معیار بڑھ جاتا ہے۔([7])*ذمہ داری، بڑھنے سے حساسیت بڑھنی چاہئے۔([8]) *ہمیں ذمہ داری دینی کام میں ترقی کے لئے دی گئی ہے۔ ([9])
اللہ پاک ہمیں اخلاص کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔آمین