Book Name:Alaqai Dora
پیارے آقا صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم پہلے پہل وحی نازل ہونے کے بعدخفیہ طور پر دینِ حق کی تبلیغ فرماتے رہے، حتی کہ سورہ حِجْر کی درج ذیل آیتِ مبارکہ نازل ہوئی :
فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ(۹۴) (پ 14،الحجر:94)
ترجَمۂ کنز العرفان: پس وہ بات اعلانیہ کہہ دو جس کاآپ کو حکم دیا جارہاہے اور مشرکوں سے منہ پھیر لو۔
علامہ محمد بن جریر طبری رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم اور آپ کے اصحاب باہر نکل آئے اور علانیہ تبلیغ کرنے لگے۔ “ ([1])
حضور صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم کا علاقائی دورہ
اس حکم کے بعد نبیِ پاک صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم تبلیغ کے لئے مکہ کی گلیوں، بازاروں اور دور دراز کے علاقوں میں تشریف لے جاتے اور وہاں جا کر دینِ حق کی تبلیغ کرتے، حتی کہ مختلف قبائلِ عرب کے پاس جا کر بھی انہیں نیکی کی دعوت پیش فرمایا کرتےجیسا کہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ قبیلہ کِنْدَہ میں دعوت ِدین کی تبلیغ کے لئے تشریف لے گئے،اسی طرح قبیلہ کَلْب اور بَنُو حنیفہ کے لوگوں کو بھی جا کر اسلام کی دعوت دی۔([2])
حضرت ربیعہ بن عباد الدیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اسلام لانے سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم کو ذو المجاز نامی بازار میں یہ فرماتے ہوئےدیکھا”اے لوگو!