Faizan e Syeda Khatoon e Jannat

Book Name:Faizan e Syeda Khatoon e Jannat

رحمت کے اس عظیم ُالشّان مہینے میں بھی اللہ پاک اور رسولِ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا والے کام کرنے سے دور ہیں۔ دو جہان کے سلطان، شہنشاہِ کون ومکانصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: میری اُمَّت ذلیل ورُسوا نہ ہو گی جب تک وہ ماہِ رمضان کا حق ادا کرتی رہے گی۔ عرض کی گئی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! رمضان کے حق کو ضائع کرنے میں ان کا ذلیل ورُسْوا ہونا کیا ہے؟ فرمایا: اس ماہ میں ان کا حرام کام کرنا۔ پھر فرمایا: جس نے اس ماہ میں زِنا کیا یا شراب پی تو اگلے رمضان تک اللہ پاک اور جتنے آسمانی فرشتے ہیں سب اس پر لعنت کرتے رہیں گے، اگر یہ شخص اگلا ماہِ رمضان پانے سے پہلے ہی مر گیا تو اس کے پاس کوئی ایسی نیکی نہ ہو گی، جو اسے جہنّم کی آگ سے بچا سکے۔ پس تم ماہِ رمضان کے معاملے میں ڈرو کیونکہ جس طرح اس ماہ میں اور مہینوں کے مقابلے میں نیکیاں بڑھا دِی جاتی ہیں، اسی طرح گُنَاہوں کا بھی مُعَامَلہ ہے۔([1])

اللہ پاک ہم سب کو ماہِ رمضان اچھے انداز میں،  رضائے الٰہی والے کام کرتے ہوئے، لمحے لمحے کی قدر کرتے ہوئے، نیکیوں میں، عبادتوں میں، ذِکْر وفِکْر میں، قبر کو یاد کرتے ہوئے، مدینے کی یادیں دِل میں بسائے ہوئے، حُسْنِ اَخْلاق کا مُظَاہَرہ کرتے ہوئے، والدین کا ادب کرتے ہوئے، عزیز رشتے داروں کے ساتھ بھلائی کرتے ہوئے، پڑوسیوں کے حقوق ادا کرتے ہوئے، غریبوں کی مدد کرتے ہوئے گزارنے اور فیضانِ رمضان سے خوب جھولیاں بھرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔


 

 



[1]...معجم صغیر، جلد:9، صفحہ:60، حدیث:1488۔