Book Name:Faizan e Syeda Khatoon e Jannat
غَیْرِہٖ“ یعنی پھر بندہ اپنے رَبّ سے نہ اپنے لئے کچھ مانگتا ہے نہ اس کے عِلاوہ کسی سے کوئی حاجت رکھتا ہے بلکہ اللہ پاک جس حال میں رکھے اسی میں خوش رہتا ہے۔شیخ سلطان باہو رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ مزید فرماتے ہیں: جو لوگ فقر کے اس انتہائی رُتبے پر پہنچے ہیں اُن میں ایک بڑا نام خاتون ِجنّت حضرت فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کا ہے۔([1])
حضرت فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کا جذبہ خیر خواہی
امامِ حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سیِّدہ خاتون جنّت رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کے بڑے شہزادے ہیں، آپ فرماتے ہیں: میں نے اپنی والِدَہ محترمہ کو دیکھا، رات کو مسجدِ بیت کی محراب (یعنی گھر میں نماز پڑھنے کی مخصوص جگہ) میں نماز پڑھتی رہتیں یہاں تک کہ نمازِ فجر کا وَقْت ہو جاتا۔([2])
امامِ حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ مزید فرماتے ہیں: والِدہ محترمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا مسلمان مردوں و اور عورتوں کے لئے بہت دُعائیں کرتیں مگر اپنے حق میں کچھ نہ مانگتیں۔ میں نے عرض کیا: امی جان! کیا سبب ہے کہ آپ اپنے لئے کوئی دُعا نہیں کرتیں؟ فرمایا: بیٹا! اَلْجَوَارُ ثُمَّ الدَّار پہلے پڑوس پھر گھر ۔([3])
سُبْحٰنَ اللہ! اے عاشقانِ رسول ! اس حِکایت سے2 مدنی پھول معلوم ہوئے:
(1):پہلا مدنی پھول یہ کہ اس حکایت کی روشنی میں حضرت خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کے فقر کا عالَم دیکھئے! *حضرت خاتونِ جَنّت رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کا گھر مُبَارَک ظاہِری نگاہوں سے سادہ سا دِکھائی دیتا تھا، *آپ کے کپڑوں پر پیوند ہوا کرتے تھے، *جنّت کی ملکہ ہو کر