Faizan e Syeda Khatoon e Jannat

Book Name:Faizan e Syeda Khatoon e Jannat

سیدہ فاطمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کا مختصر تعارف

اے عاشقان رسول ! بیان کی گئی حِکایت پر غور کریں! مَاشَآءَ اللہ! شہزادئ مصطفےٰ، سیدہ فاطمہرَضِیَ اللہُ عَنْہَا کی شان کیسی بلند ہے کہ فرشتے ان کی خدمت کے لئے حاضِر ہوتے ہیں۔   

سیّدۂ کائنات، سیِّدہ فاطمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا ہمارے آقا ومولیٰ مُحَمَّد مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی شہزادی ہیں، ایک قول کے مُطَابِق آپ  اِعْلانِ نبوت کے پہلے سال جب نبیِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عُمْر مُبَارَک 41 سال تھی، مکَّہ مُکَرَّمَہ میں پیدا ہوئیں اور ایک قول کے مُطَابِق آپ کی وِلادتِ باسعادت اِعْلانِ نبوت سے 5 سال پہلے ہوئی۔([1]) آپ  رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کا نامِ  پاک ”فاطمہ“ اللہ پاک نے رکھا۔ چنانچہ حدیثِ پاک میں ہے: بے شک میری بیٹی کا نام اللہ پاک نے فاطمہ رکھاکیونکہ اسے اللہ پاک  نے جہنّم سے دُور کر دیا ہے۔([2]) اور ایک حدیث شریف میں ہے:اس كا نام فاطمہ رکھا گیا کیونکہ اللہ پاک نے اسے اور اس سے عقیدت رکھنے والوں کو دوزخ سے آزاد کیا ہے۔ ([3])

”بتول“ اور ”زہراء“ سیِّدہ فاطمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کے مشہور القاب ہیں، مشہور مفسرِ قرآن، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ  فرماتے ہیں:  چونکہ آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا دُنیا میں رہتے ہوئے بھی دُنیا سے الگ تھیں لہٰذا ”بتول“ لقب ہوا۔([4])  ایک اور مقام پر مفتی صاحِب رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے لکھا: آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا جَنّت کی کلی تھیں حتی کہ آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کی کبھی ایسی کیفیت نہ ہوئی جس سے خواتین دوچار ہوتی ہیں اور آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کے جسم سے جنّت کی


 

 



[1]...شَرْح الزَّرْقَانی، الفصل الثانی، جلد:4، صفحہ:331۔

[2]...سَبْلُ الْہُدی، ابواب:فضائل آل رسول، الباب التاسع، جلد:11، صفحہ:52۔

[3]...َکنْزُ الْعُمَال، کتاب:الفضائل، جزء:12، صفحہ:50، حدیث:34222۔

[4]...مرآۃالمناجیح،8/452، ملتقطاً.