Book Name:Parda Poshi
کوئی نہائے تو اسے چاہیے کہ وہ پردہ کرلیا کرے۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم نےیہاں اُس شخص کی پردہ پوشی فرمائی یعنی لوگوں کو جاکر یہ نہیں بتایا کہ میں نے فلاں شخص کو یوں نہاتے ہوئے دیکھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلمنے اس کو صیغۂ راز میں رکھ کر صحابہ کرام علیہمُ الرّضوان کی تربیت فرمائی۔ اس روایت سے یہ بھی معلوم ہو اکہ پردہ پوشی صفتِ الٰہی ہے کہ رب تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں اور عیبوں پر پردہ ڈالے ہوئے ہے ۔
پیارے اسلامی بھائیو! ہر وہ شخص جس کے دِل میں ایمان کا نور موجود ہے، وہ عزت کا حق دار ہے چنانچہ اللہ پاک قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ (پ 28 ، منٰفقون:8)
ترجمۂ کنزالایمان: اور عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کے لیے ہے۔
تفسیر صراط الجنان میں ہے : مؤمن کی عزّت دائمی ہے، فانی نہیں، اسی لئے مؤمن کی لاش اور قبر کی بھی عزّت کی جاتی ہے۔ جو مؤمن کو ذلیل سمجھے، وہ اللہ پاک کے نزدیک ذلیل ہے، غریب مسکین مومن عزت والا ہے جبکہ مالدار کافر بد تر ہے۔([2])
نبی کریم صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم نے کعبہ شریف کو مخاطب کر کے فرمایا: اے کعبہ تُو کیسا پاکیزہ ہے! تیری خوشبو کیسی پاکیزہ ہے! تُو کیسا عظیم ہے! تیری عزّت بھی کتنی بلند ہے! اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد ( صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم ) کی جان ہے، بےشک ایک مؤمن