Book Name:Parda Poshi
چاہیے اور احسن انداز میں اصلاح کی ترکیب بنادینی چاہیے۔([1])
* دوسروں کی خوبیوں پر نظررکھیں اوراپنےعیبوں کو نہ بُھولیں ،دوسروں کے عیب دیکھنا اوراپنے عیبوں پر نظرنہ رکھنا نادانی ہے،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دوسرےکی آنکھ کاتِنکاتوتمہیں نظرآجاتاہے(یعنی ذراذراسی بات میں اس کا عیب بیان کرتاپھرتاہے)مگراپنی آنکھ کاشَہتیر(یعنی اپنابہت بڑاعیب بھی) نظرنہیں آتا۔(ذم الغیبۃ لابن ابی الدنیا،90،غیبت کی تباہ کاریاں ،83) ([2])
* اسلامی بھائیوں کے عیبوں پر نظرکرنے کے بجائے خوبیوں کو دیکھئے۔ ([3])
* کسی مسلمان کی عزّت خراب کرنا گناہ اور گھناؤنا جُرم ہے ،اگرہم کسی کی عزّت بڑھا نہیں سکتے تو گھٹائیں تو نہیں۔بعض لوگ اپنی اولاداورکچھ نادان اپنے والدین کی برائیاں کرکے ان کی عزّت خراب کررہے ہوتے ہیں ،یہ زیادہ بُراہے۔([4])
* مسلمانوں کے عیب تلاش کرنے کی ٹوہ میں پڑے رہنا جائزنہیں۔([5])
* لوگوں کی چھپی ہوئی باتیں اورعیب جاننے کی کوشش کرناتجسس کہلاتاہے،یہ باطنی بیماری ہے، اس سے اپنے آپ کوبچاناچاہئے ۔([6])